
اللہ کی بنی آدم کو خرچ کرنے لیکن بے جا نہ اڑانے کی نصیحت
اے بنی آدم ! ہر عبادت کے مقام پر تم اپنی زینت سے آراستہ رہو اور کھاؤ اور پیؤ اور بے جا نہ اڑاؤ کہ الله بے جا اڑانے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ (31-7) اور الله کی عبادت کرو اور اس کا کسی کو بھی شریک نہ بناؤ اور والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کرو اور قربت والے لوگوں اور یتیموں اور مسکینوں اور قربت والے ہمسائیوں اور اجنبی ہمسائیوں اور پاس بیٹھنے والوں اور مسافروں اور اپنے ماتحتوں کے ساتھ بھی۔ بیشک الله ان لوگوں کو پسند نہیں کرتا جو خود پسند اور فخر جتانے والے ہوں۔ (36-4)
بھلا تم نے اس شخص کو دیکھا جو دین کو جھٹلاتا ہے؟ (1-107) یہ وہ ہے جو یتیم کو دھکے دیتا ہے (2-107) اور مسکین کو کھانا کھلانے پر زور نہیں دیتا۔ (3-107) تو تباہی ہے ایسے نمازیوں کے لیے (4-107) جو اپنی نماز سے غفلت برتتے ہیں۔ (5-107) جو ریا کاری کرتے ہیں (6-107) اور برتنے کی چیزیں عاریتہً نہیں دیتے۔ (7-107)
تم ہرگز نیکی کو نہیں پہنچ سکتے جب تک کہ تم ان چیزوں میں سے خرچ نہ کرو جن سے تم محبت کرتے ہو اور تم جو بھی چیز خرچ کرتے ہو تو الله کو اس کا علم ہے۔ (92-3) جو کچھ تم خرچ کرو گے والدین کے لیے اور قربت والے لوگوں کے لیے اور یتیموں کے لیے اور مسکینوں کے لیے اور مسافروں کے لیے وہ تمہارے لیے خیر کا کام ہے اور جو بھی خیر کا کام تم کرو گے تو الله کو اس کا علم ہے۔ (215-2)
صدقات دراصل فقراء اور مساکین اور ان کے لیے کام کرنے والوں اور جن کے دل قابو کرنے ہوں اور گردنوں کے چھڑانے اور قرضداروں کی مدد کرنے اور الله کی راہ میں اور مسافروں کے لیے فرض ہیں اور الله عَلِيمٌ اور حَكِيمٌ ہے۔ (60-9) اگر تم صدقات ظاہر دو تو یہ بھی خوب ہے اور اگر انہیں چھپاؤ اور دو بھی فقرا کو تو وہ تمہارے لیے خیر ہے۔ وہ تمہاری سَيِّئَاتِ میں سے کچھ مٹادے گا اور الله تمہارے عملوں سے باخبر ہے۔ (271-2)
قربت والے لوگوں کو ان کا حق دو اور مسکینوں کو بھی اور مسافروں کو بھی اور بے جا خرچ نہ کرو (26-17) کہ بے جا خرچ کرنے والے شیطانوں کے بھائی ہیں اور شیطان اپنے رب سے کفر کرنے والا ہے۔ (27-17) اور چاہیے کہ خوشحال شخص اپنی وسعت کے مطابق خرچ کرے اور جس شخص کو نپا تلا رزق دیا گیا ہو تو وہ اس میں سے خرچ کرے جتنا الله نے اس کو عطا کیا ہے۔ اللہ کسی نفس پر اس سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا جتنا اس کو عطا کیا ہو۔ الله مشکل کے بعد آسانی کرے گا۔ (7-65)
اگر تم الله کو قرضِ حسنہ دو گے تو وہ تمہارے لیے اسے بڑہاتا چلا جائے گا اور تم کو معاف کردے گا اور الله شَكُورٌ اور حَلِيمٌ ہے۔ (17-64) پوشیدہ اور ظاہر کا جاننے والا الْعَزِيزُ اور الْحَكِيمُ ہے۔ (18-64) جو خود بھی بخل کرتے ہیں اور لوگوں کو بھی بخل کرنے کی ترغیب دیتے ہیں اور اسے چھپاتے ہیں جو الله نے اپنے فضل سے ان کو عطا کیا ہے تو ہم نے ایسے کافروں کے لیے عَذَابًا مُّهِينًا تیار کر رکھا ہے۔ (37-4) اور ان کے لیے بھی جو اپنے مال لوگوں کو دکھانے کی خاطر خرچ کرتے ہیں اور الله پر اور آخرت کے دن پر ایمان نہیں رکھتے تو وہ ہوگیا شیطان کا ساتھی تو وہ بہت ہی برا ساتھی ہے۔ (38-4)
Leave a Reply