Masood InsightMasood Insight

اللہ کی بنی آدم کو متقی بننے کی نصیحت

اللہ کی بنی آدم کو متقی بننے کی نصیحت

مُؤَلِّف : ڈاکٹر مسعود طارق

اے بنی آدم ! ہم نے تم پر لباس اتارا ہے تاکہ تمہارے ستر کو چھپائے اور حفاظت کا ذریعہ ہے اور تقویٰ کا لباس۔ یہ خَيْر والا ہے۔ (26-7) نیکی یہی نہیں ہے کہ تم اپنے چہرے مشرق کی طرف یا مغرب کی طرف کرلو بلکہ نیکی یہ ہے کہ الله پر اور آخرت کے دن پر اور فرشتوں پر اور کتاب پر اور نبیوں پر ایمان لاؤ۔ اور اس کی محبت میں قربت والے لوگوں کو اور یتیموں کو اور مسکینوں کو اور مسافروں کو مال دو۔ اور مانگنے والوں پر اور گردنوں کے چھڑانے میں خرچ کرو۔ اور صلاۃ قائم کرو اور زکوٰۃ دو۔ اور جب عہد کرلو تو اس کو پورا کرو۔ اور تنگدستی میں اور جسمانی تکلیف میں اور معرکہ کارزار کے وقت صبر کرو۔ یہی صادق لوگ ہیں۔ اور یہی متقی لوگ ہیں۔ (177-2)

جب ان لوگوں سے پوچھا جاتا ہے جو متقی ہیں کہ تمہارے رب نے کیا نازل کیا ہے؟ تو وہ کہتے ہیں کہ خَيْر۔ ان لوگوں کے لیے جنہوں نے احسن کام کیے ان کے لیے اس دنیا میں بھی حَسَنَة ہے اور آخرت کا گھر تو بہت ہی خَيْر والا ہے اور متقیوں کے لیے ہے۔ (30-16) بیشک سبا کے لیے ان کی بستی میں ایک نشانی تھی دو باغ تھے دائیں جانب اور بائیں جانب۔ کھاؤ اس رزق میں سے جو تمہارے رب نے دیا ہے اور اس کا شکر ادا کرو۔ شہر پاکیزہ ہے اور رب غَفُور ہے۔ (15-34) مگر وہ منہ موڑ گئے تو ہم نے ان پر زور کا سیلاب بھیج دیا اور ہم نے ان کے باغوں کو دو ایسے باغوں سے بدل دیا جن میں کڑوے کسیلے پھل تھے اور جھاؤ کے درخت اور چند بیری کی جھاڑیاں تھیں۔ (16-34) ہم نے ان کو یہ بدلہ ان کے کفر کی وجہ سے دیا تھا اور ہم سوائے کفر کرنے والوں کے سزا نہیں دیتے۔ (17-34) اور ہم نے انکے اور ان بستیوں کے درمیان جن کو ہم نے برکت عطا کی تھی ایسی بستیاں بسا دی تھیں جو نمایاں نظر آتی تھیں اور ہم نے ان میں چلنے پھرنے کا اندازہ مقرر کردیا تھا۔ ان میں رات دن بےخوف و خطر چلو پھرو۔(18-34) تو انہوں نے دعا کی کہ اے ہمارے رب ! ہمارے سفر کے درمیانی فاصلے لمبے کردے اور اس طرح انہوں نے اپنے نفسوں پر ظلم کیا تو ہم نے ان کو کہانیاں بنا کر رکھ دیا اور ہم نے ان کو ریزہ ریزہ کرکے منتشر کردیا۔ بیشک اس واقعہ میں بہت سی نشانیاں ہیں ہر اس شخص کے لیے جو صابر اور شاکر ہو۔ (19-34)

اے بنی آدم ! جب تمہارے پاس رسول آئیں جو تمہیں میں سے ہوں گے تمہیں میری آیات پڑھ کر سنائیں تو جو شخص تقویٰ اختیار کرے گا اور اپنی اصلاح کرلے گا تو ان کے لیے کوئی خوف نہیں ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ (35-7) اور جنہوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا اور ان سے تکبر کیا وہی لوگ أَصْحَابُ النَّار ہیں۔ جو اس میں ہمیشہ رہیں گے (36-7) ہاں جس نے اپنے عہد کو پورا کیا اور تقویٰ اختیار کیا تو الله متقیوں سے محبت کرتا ہے۔ (76-3) سو جہاں تک تمہارے بس میں ہو الله سے ڈرتے رہو اور سنو اور اطاعت کرو اور خرچ کرو یہ تمہارے نفس کے لیے بہتر ہے اور جو شخص اپنے نفس کی شہوت سے بچایا گیا تو وہی فلاح پانے والوں میں سے ہے۔(16-64) ان کے ہمیشہ رہنے کے لیے جنّت ہے جس میں وہ داخل ہوں گے۔ ان کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں وہاں ان کے لیے وہ ہوگا جو وہ چاہیں گے۔ اسی طرح متقیوں کو اللہ بدلہ دیتا ہے۔ (31-16)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *