Masood InsightMasood Insight

اللہ کی طرف سے انسانوں کی مختلف قسموں کے بارے میں آگاہی

اللہ کی طرف سے انسانوں کی مختلف قسموں کے بارے میں آگاہی

مُؤَلِّف : ڈاکٹر مسعود طارق

کیا تم نہیں دیکھتے کہ الله آسمان سے پانی برساتا ہے پھر ہم اس کے ذریعہ سے طرح طرح کے پھل نکالتے ہیں ان کے رنگ مختلف ہوتے ہیں اور پہاڑوں میں سفید اور سرخ دھاریاں ہیں کہ ان کے رنگ مختلف ہیں اور گہرے سیاہ بھی ہیں۔ (27-35) انسانوں اور جانوروں اور چارپایوں کے بھی مختلف رنگ ہیں۔ اسی طرح ہے بس الله سے تو اس کے وہ بندے ڈرتے ہیں جو علم رکھتے ہیں۔ بیشک الله عَزِيزٌ غَفُور ہے۔ (28-35)

کیا تم نہیں دیکھتے کہ بیشک یہ اللہ ہی ہے کہ جسے سجدہ کرتے ہیں وہ سب جو آسمانوں میں ہیں اور وہ بھی جو زمین میں ہیں اور سورج اور چاند اور ستارے اور پہاڑ اور درخت اور جانور اور بہت سے انسان بھی اور بہت سے ایسے ہیں کہ ان کے لیے عذاب لازم ہوچکا ہے اور جسے الله ذلیل کردے تو اس کے لیے کوئی عزت دینے والا نہیں ہے۔ بیشک الله کرتا ہے جو چاہتا ہے۔ (18-22)

ہم نے تم میں سے ہر ایک کے لیے ایک شریعت اور ایک طریقہء کار بنا دیا ہے۔ اگر الله چاہتا تو تم کو ایک ہی اُمّت بنا دیتا لیکن چونکہ اس نے جو تمہیں دیا ہے اس سے تمہاری آزمائش کرنی ہے سو الخَيْرَات میں سبقت لے جاؤ۔ تم سب کو الله کی طرف لوٹ کر جانا ہے پھر وہ تم کو ان باتوں سے آگاہ کرے گا جن میں تم اختلاف کرتے رہے۔ (48-5) جو لوگ الله کی کتاب پڑھتے ہیں اور صلاۃ قائم کرتے ہیں اور جو رزق ہم نے ان کو دیا ہے اس میں سے پوشیدہ اور ظاہر خرچ کرتے ہیں وہ ایسی تجارت کی توقع رکھتے ہیں کہ جس میں ہرگز خسارہ نہیں ہے۔ (29-35) اس لیے کہ الله ان کو ان کے اجر پورے پورے دے گا اور زیادہ دے گا انہیں اپنے فضل سے۔ بیشک وہ غَفُور اور شَكُور ہے۔ (30-35)

یہ جو ہم نے کتاب میں سے تمہاری طرف وحی کیا ہے یہی حق ہے جو ان کتابوں کی تصدیق کرتا ہوا آیا ہے جو اس سے پہلے موجود تھیں۔ بیشک الله اپنے بندوں کے حال سے پوری طرح باخبر ہے اور ہر چیز پر نگاہ رکھنے والا ہے۔ (31-35) سو ہم نے ان لوگوں کو کتاب کا وارث بنایا جنہیں ہم نے اپنے بندوں میں سے منتخب کیا تھا لیکن ان میں سے کوئی تو اپنے نفس پر ظلم کرنے والے ہیں اور ان میں سے کچھ میانہ رو ہیں اور کچھ ان میں سے الله کی اجازت سے نیکی کے کاموں میں سبقت لے جانے والے ہیں۔ یہی بہت بڑا فضل ہے۔ (32-35)

(الف) کوئی ان میں سے اپنے نفس پر ظلم کرنے والے ہیں۔ (مِنْهُمْ ظَالِمٌ لِّنَفْسِهِ)

1۔ بغیر علم کے الله کے بارے میں بحث کرنے والے انسان۔

انسانوں میں سے کچھ ایسے ہیں جو الله کے بارے میں بغیر علم کے بحث کرتے ہیں حالانکہ نہ انہیں ہدایت ملی ہے اور نہ انکے پاس روشن کتاب ہے۔ (8-22) اکڑائے ہوئے اپنی گردنوں کو تاکہ لوگوں کو الله کے راستے سے گمراہ کریں۔ ایسوں کے لیے دنیا میں رسوائی ہے اور قیامت کے دن ہم انہیں عَذَابَ الْحَرِيق چکھائیں گے۔ (9-22)

2۔ باتیں گھڑ کر الله کے راستے سے گمراہ کرنے والے انسان۔

انسانوں میں سے کوئی شخص ایسا بھی ہے جو غافل کرنے والی باتیں گھڑ کر لاتا ہے تاکہ لوگوں کو بے سمجھے بوجھے الله کے راستے سے گمراہ کرے اور اس کا مذاق اڑائے۔ انہی لوگوں کے لیے عَذَابٌ مُّهِين ہے۔ (6-31) اور جب اس کے سامنے ہماری آیات پڑھی جاتی ہیں تو تکبر کرتے ہوئے رخ پھیر لیتا ہے گویا کہ اس نے سنا ہی نہیں جیسے کہ اس کے کانوں میں بہرہ پن ہے۔ اسے عَذَابٌ أَلِيم کی خوشخبری دے دو۔ (7-31)

3۔ الله سے اور ایمان والوں سے دھوکہ بازی کرنے والے انسان۔

انسانوں میں سے کچھ ایسے ہیں جو کہتے ہیں کہ ہم الله پر اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتے ہیں حالانکہ وہ ایمان نہیں رکھتے۔ (8-2) یہ الله سے اور ایمان والوں سے دھوکہ بازی کر رہے ہیں جبکہ نہیں دھوکا دے رہے مگر اپنے ہی نفس کو لیکن انہیں اس کا شعور نہیں۔ (9-2) ان کے دلوں میں ایک مرض ہے۔ لہٰذا الله نے ان کا مرض مزید بڑھا دیا اور اس جھوٹ کے سبب جو وہ بولتے ہیں ان کے لیے عَذَابٌ أَلِيم ہے۔ (10-2)

4۔ سخت جھگڑالو اور فساد پھیلانے والے انسان۔

انسانوں میں سے کوئی شخص تو ایسا ہے کہ اس کی باتیں تم کو دنیا کی زندگی کے اعتبار سے پسند آتی ہیں اور وہ اس پر الله کو گواہ ٹھہراتا ہے جو اسکے دل میں ہے حالانکہ وہ سخت جھگڑالو ہے۔ (204-2) اور جب جاتا ہے تو دوڑتا پھرتا ہے زمین میں تاکہ اس میں فساد پھیلائے اور کھیتی کو اور نسل کو تباہ و برباد کردے حالانکہ الله فساد کو پسند نہیں کرتا (205-2) اور جب اس سے کہا جاتا ہے کہ الله سے ڈرو تو اس کو غرورِ نفس گناہ پر آمادہ کرتا ہے سو کافی ہے اس کے لیے جَهَنَّم اور وہ بہت ہی برا ٹھکانہ ہے۔ (206-2)

(ب) کچھ ان میں سے میانہ رو ہیں۔ (مِنْهُم مُّقْتَصِدٌ)

1۔ جس پر اپنے آباؤ اجداد کو پایا اس کی پیروی کرنے والے انسان۔

انسانوں میں سے کچھ ایسے ہیں جو الله کے بارے میں بغیر علم کے اور بغیر ہدایت کے اور بغیر روشنی دکھانے والی کتاب کے بحث کرتے ہیں۔ (20-31) اور جب اُن سے کہا جاتا ہے کہ اس کی پیروی کرو جو اللہ نے نازل کیا ہے تو وہ کہتے ہیں کہ نہیں بلکہ ہم اس کی پیروی کریں گے جس پر ہم نے اپنے آباؤ اجداد کو پایا۔ کیا پھر بھی اگر شیطان انہیں عَذَابِ السَّعِير کی طرف بلا رہا ہو؟ (21-31)

2۔ہر شیطان کے مرید کی پیروی کرنے والے انسان۔

انسانوں میں سے کچھ ایسے ہیں جو الله کے بارے میں بغیر علم کے بحث کرتے ہیں اور پیروی کرتے ہیں ہر شیطان کے مرید کی۔ (3-22) اس کے بارے میں لکھ دیا گیا ہے کہ جو اس کو سرپرست بنائے گا تو وہ اسے گمراہ کردے گا اور اسے عَذَابِ السَّعِير کا راستہ دکھائے گا۔ (4-22)

3۔ اے ہمارے رب ! ہمیں دنیا ہی میں دے دے کہنے والے انسان۔

انسانوں میں سے کچھ ایسے ہیں جو کہتے ہیں اے ہمارے رب ! ہمیں دنیا ہی میں دے دے اور ایسے شخص کے لیے آخرت میں کوئی حصہ نہیں۔ (200-2)

4۔ الله کے سوا دوسروں کو الله کا ہمسر بنانے والے انسان۔

انسانوں میں سے کچھ ایسے ہیں جو الله کے سوا دوسروں کو الله کا ہمسر بنا لیتے ہیں اور ان سے ایسی محبت کرتے ہیں جیسی محبت الله سے ہونی چاہیے۔ جبکہ ایمان والے تو شدت کے ساتھ الله سے ہی محبت کرتے ہیں۔ مگر کاش ! سوجھ جائے ان ظالم لوگوں کو جو بات عذاب کے وقت دیکھیں گے کہ بے شک ساری کی ساری قوت الله ہی کے پاس ہے اور یہ کہ بیشک الله عذاب دینے میں بہت سخت ہے۔ (165-2)

(پ) کچھ ان میں سے الله کی اجازت سے نیکی کے کاموں میں سبقت لے جانے والے ہیں۔

(مِنْهُمْ سَابِقٌ بِالْخَيْرَاتِ بِإِذْنِ اللَّهِ)

1۔ کنارے پر رہ کر الله کی عبادت کرنے والے انسان۔

انسانوں میں سے کچھ ایسے ہیں جو کنارے پر رہ کر الله کی عبادت کرتے ہیں۔ پھر اگر ان کو کوئی خَيْر پہنچے تو اس کی وجہ سے مطمئن ہوجاتے ہیں اور اگر انہیں کوئی فِتْنَة پہنچتا ہے تو اپنے منہ کے بل الٹا پھر جاتے ہیں۔ انہوں نے دنیا کا اور آخرت کا خسارہ کرلیا۔ یہی الْخُسْرَانُ الْمُبِين ہے۔ (11-22)

2۔ الله کی راہ میں انسانوں کے ستانے کو عذاب کی مانند سمجھنے والے انسان۔

انسانوں میں سے کچھ ایسے ہیں جو کہتے ہیں کہ ہم الله پر ایمان لائے پھر جب انہیں الله کی راہ میں ستایا گیا تو وہ انسانوں کے ستانے کو الله کے عذاب کی مانند سمجھنے لگتے ہیں اور اگر تمہارے رب کی طرف سے مدد آ پہنچتی ہے تو کہتے ہیں کہ ہم تو تمہارے ہی ساتھ تھے۔ کیا اللہ کو پوری طرح ان باتوں کا علم نہیں ہے جو سب دنیا والوں کے سینوں میں ہیں؟(10-29)

3۔ حَسَنَة کی طلب اور عَذَابَ النَّار سے بچنے کی دعا کرنے والے انسان۔

بعض ایسے ہیں جو کہتے ہیں اے ہمارے رب ! ہم کو دنیا میں بھی حَسَنَة عطا فرما اور آخرت میں بھی حَسَنَة بخشنا اور ہمیں عَذَابَ النَّار سے بچا کر رکھنا۔ (201-2) یہی لوگ ہیں کہ انکے لیے انکی کمائی کا حصہ ہے اور الله جلد حساب چکانے والا ہے۔ (202-2)

4۔ الله کی خوشنودی کے لیے اپنا نفس کھپا دینے والے انسان۔

انسانوں میں ہی سے کوئی ایسا بھی ہے جو الله کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے اپنا نفس کھپا دیتا ہے اور الله اپنے بندوں پر بہت مہربان ہے۔ (207-2)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *