
اللہ کی طرف سے انسان کی تخلیق کے بارے میں آگاہی
ہم نے انسان کو مٹی کے جوہر سے تخلیق کیا (12-23) اور انسان کی تخلیق کی ابتدا مٹی سے شروع کی (7-32) اور ہم نے انسان کو کھنکھناتے سڑے ہوئے گارے سے تخلیق کیا۔ (26-15) انسان کو جمے ہوئے خون سے تخلیق کیا۔ (2-96) ہم نے انسان کو نطفہٴ مخلوط سے تخلیق کیا تاکہ اسے آزمائیں اسی لیے ہم نے اس کو سننے والا اور دیکھنے والا بنایا ہے۔ (2-76) انسان کو وہ علم سکھایا جو وہ نہیں جانتا تھا۔ (5-96)
انسان کی تخلیق میں جلد بازی رکھی گئی ہے۔ میں تم کو عنقریب اپنی نشانیاں دکھاؤں گا لہٰذا تم جلدی نہ کرو۔ (37-21) ہم نے اپنی امانت کو آسمانوں کے اور زمین کے اور پہاڑوں کے سامنے پیش کیا تو انہوں نے اس کو اٹھانے سے انکار کردیا اور اس سے ڈر گئے مگر انسان نے اس کو اٹھا لیا۔ یہ بڑا ظالم اور بڑا جاہل ہے۔ (72-33)
ہم نے بنی آدم کو بڑی عزت بخشی اور انہیں خشکی میں اور دریا میں سواریاں دیں اور ان کو پاکیزہ چیزوں سے رزق دیا اور ان پر اپنا فضل کرکے اپنی بہت سی مخلوقات پر فضیلت دی۔ (70-17) اور اگر تیرا رب چاہتا تو انسانوں کو ایک ہی امت بنا دیتا لیکن وہ ہمیشہ باہم اختلاف کرتے رہیں گے۔ (118-11) سوائے انکے جن پر تیرے رب کی رحمت ہے۔ اور اسی کے لیے اس نے ان کو تخلیق کیا ہے اور تیرے رب کی یہ بات پوری ہوگئی کہ میں جَهَنَّم کو جِنّوں سے اور انسانوں سے سب سے بھروں گا۔ (119-11)
البتہ جس نے توبہ کی اور ایمان لایا اور صالح عمل کیے تو ایسے لوگ جنّت میں داخل ہوں گے اور ان کے ساتھ ذرا ظلم نہ کیا جائے گا۔ (60-19) سدا بہار جنّت جس کا رحمٰن نے اپنے بندوں سے بن دکھائے وعدہ کیا ہے۔ بیشک اس کا وعدہ پورا ہوکر رہنے والا ہے۔ (61-19) وہ اس میں سلامتی کے کلام کے سوا کوئی بیہودہ کلام نہ سنیں گے اور وہاں صبح و شام ان کا رزق ان کو ملے گا۔ (62-19) یہی وہ جنّت ہے جس کا ہم اپنے بندوں میں سے ان لوگوں کو وارث بنائیں گے جو متقی ہوں گے۔ (63-19)
ہم ہی نے انسان کو تخلیق کیا اور جو وسوسے اس کے نفس میں پیدا ہوتے ہیں ہم ان کو جانتے ہیں اور ہم اس کی رگِ جان سے بھی اس کے زیادہ قریب ہیں۔ (16-50) ہم نے انسان کو مشقت کی حالت میں رہنے والا بنایا ہے۔ (4-90)
ہم نے بہت سے جِن اور انسان جَهَنَّم ہی کے لیے پیدا کیے ہیں۔ ان کے دل تو ہیں مگر ان سے سوچنے سمجھنے کا کام نہیں لیتے اور ان کی آنکھیں تو ہیں مگر ان سے دیکھتے نہیں اور ان کے کان تو ہیں مگر وہ ان سے سنتے نہیں۔ یہ لوگ چارپایوں کی طرح ہیں بلکہ ان سے بھی زیادہ گمراہ ہیں۔ یہی لوگ ہیں جو غفلت میں پڑے ہوئے ہیں۔ (179-7)
یہ اس لیے کہ انہوں نے دنیا کی زندگی کو آخرت کے مقابلے میں پسند کرلیا اور حق کا انکار کرنے والے لوگوں کو الله ہدایت نہیں دیتا۔ (107-16) یہ وہ لوگ ہیں کہ الله نے ان کے دلوں پر اور کانوں پر اور آنکھوں پر مہر لگادی ہے اور یہی لوگ ہیں جو غفلت میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ (108-16) لازما” یہی لوگ آخرت میں خسارے میں رہنے والے ہیں۔ (109-16) یہ لوگ دنیا کی زندگی کا صرف ظاہری پہلو جانتے ہیں اور آخرت سے بالکل ہی غافل ہیں۔ (7-30)
ہم نے انسان کو بہترین ساخت پر تخلیق کیا۔ (4-95) پھر ہم نے اس کو بدل کر نیچے زوال والوں میں کردیا۔ (5-95) مگر ان لوگوں کے لیے جو ایمان لائے اور صالح عمل کرتے رہے ان کے لیے بے انتہا اجر ہے۔ (6-95)
ہم نے ہر انسان کے اعمال کو اسکی گردن میں لٹکا دیا ہے اور ہم اس کو دکھانے کے لیے قیامت کے دن نکالیں گے جسے وہ ایک کھلی کتاب کی مانند لکھا ہوا دیکھے گا۔ (13-17)
کہا جائے گا کہ اپنی کتاب پڑھ لے۔ آج کے دن اپنے نفس کا حساب کرنے کے لیے تو خود ہی کافی ہے۔ (14-17)
اس وقت بھی دو لکھنے والے اس کے دائیں طرف اور بائیں طرف بیٹھے لکھ رہے ہیں۔ (17-50) وہ کہنے کے لیے کوئی لفظ نہیں نکالتا کہ اس کے قریب ہی ایک نگراں لکھنے کے لیے تیار رہتا ہے۔ (18-50)
Leave a Reply