
اللہ کی طرف سے انسان کی نفسیات کے بارے میں آگاہی
جب ہم انسان کو اپنی رحمت کا مزہ چکھاتے ہیں تو اس سے خوش ہوجاتا ہے اور اگر اسے اس کے اپنے ہی کرتوتوں کے نتیجے میں کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو ایسی حالت میں انسان سب احسانوں کو بھول جاتا ہے۔ (48-42) کچھ شک نہیں کہ انسان بڑا ظالم اور کفر کرنے والا ہے۔ (34-14)
جب ہم انسان کو نعمت دیتے ہیں تو منہ پھیر لیتا ہے اور پہلو پھیر کر چل دیتا ہے اور جب اسے کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو پھر وہ لمبی لمبی دعائیں کرنے لگتا ہے۔ (51-41) بلا شبہ انسان کم حوصلہ پیدا کیا گیا ہے۔ (19-70) جب اسے تکلیف پہنچتی ہے تو گھبرا جاتا ہے۔ (20-70) انسان دل کا بہت تنگ ہے۔ (100-17) جب خوشحالی حاصل ہوتی ہے تو بخیل بن جاتا ہے۔ (21-70)
انسان بھلائی کی دعائیں مانگنے سے نہیں تھکتا اور اگر اسے کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وہ مایوس اور دل شکستہ ہوجاتا ہے۔ (49-41) اور جونہی تکلیف کے بعد جو اسے پہنچی ہوتی ہے ہم اسے اپنی رحمت کا مزہ چکھاتے ہیں تو وہ کہتا ہے کہ یہ تو میرا حق تھا اور میں نہیں خیال کرتا کہ قیامت آئے گی اور اگر میں اپنے رب کی طرف لوٹایا بھی گیا تو میرے لیے اس کے ہاں بھی خوشحالی ہوگی۔ (50-41) انسان ارادہ رکھتا ہے کہ آئندہ بھی بدکاری کرتا رہے۔ (5-75)
جب انسان کو کوئی تکلیف چھو بھی جاتی ہے تو ہمیں پکارنے لگتا ہے۔ پھر جب ہم اس کو اپنی طرف سے نعمت بخشتے ہیں تو کہتا ہے کہ یہ تو مجھے میرے علم کی وجہ سے ملا ہے۔ (49-39) بیشک انسان کھلا احسان فراموش ہے۔ (15-43)
اگر ہم انسان کو اپنی رحمت میں سے مزہ چکھاتے ہیں پھر وہ اس سے چھین لیتے ہیں تو وہ مایوس ہو کر کفر کرنے لگتا ہے۔ (9-11) اور اگر کسی تکلیف کے بعد جو اسے پہنچی ہوتی ہے ہم نعمتوں کا مزہ چکھائیں تو کہتا ہے کہ سب برائیاں مجھ سے دور ہوگئیں اور وہ اترانا اور فخر جتانا شروع کردیتا ہے۔ (10-11) انسان ہر چیز سے بڑھ کر جھگڑالو ہے۔ (54-18)
جب انسان کو تکلیف پہنچتی ہے تو لیٹا اور بیٹھا اور کھڑا ہم کو پکارتا ہے۔ پھر جب ہم اس تکلیف کو اس سے دور کر دیتے ہیں تو اس طرح گزر جاتا ہے گویا تکلیف کے وقت جو اسے پہنچی تھی اس نے کبھی ہمیں پکارا ہی نہ تھا۔ (12-10) بیشک انسان سرکش ہو جاتا ہے۔ (6-96) جب وہ خود کو بے نیاز دیکھتا ہے۔ (7-96)
جب انسان کو تکلیف پہنچتی ہے تو اپنے رب کو پکارتا ہے اس کی طرف رجوع کرتا ہے۔ پھر جب وہ اس کو اپنی طرف سے کوئی نعمت دیتا ہے تو یہ پہلے جس سے نجات کے لیے دعا کرتا تھا اس کو بھول جاتا ہے اور الله کے ہمسر ٹھہرانے لگتا ہے تاکہ وہ اس کو اللہ کی راہ سے بھٹکادیں۔ (8-39) انسان ہے ہی کفر کرنے والا۔ (67-17)
انسان کو جب اس کا رب آزماتا ہے تو اس کو عزت بخشتا ہے اور اس کو نعمتیں دیتا ہے تو کہتا ہے کہ میرے رب نے مجھے بہت عزت بخشی ہے۔ (15-89) لیکن جب وہ اسے آزمائش میں ڈالتا ہے اور اس پر اس کے رزق میں تنگی کردیتا ہے تو کہتا ہے کہ میرے رب نے مجھے ذلیل کردیا۔ (16-89) انسان ہلاک ہو جائے وہ کیسا ناشکرا ہے؟ (17-80)
جب ہم انسان کو نعمت دیتے ہیں تو منہ پھیر لیتا ہے اور پہلو پھیر کر چل دیتا ہے اور جب اسے کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو مایوس ہوجاتا ہے۔ (83-17) بیشک انسان اپنے رب کا احسان ناشناس ہے۔ (6-100) اور بیشک اس حقیقت پر وہ خود گواہ ہے۔ (7-100) اور بیشک وہ مال سے شدید محبت کرنے والا ہے۔ (8-100)
انسانوں کے لیے محبت ان کے نفس کی خواہشات کی عورتوں سے اور بیٹوں سے اور بڑے بڑے ڈھیروں سے سونے اور چاندی کے اور منتخب گھوڑوں سے اور مال مویشی سے اور کھیت کھلیان سے بڑی خوشنما بنادی گئی ہے۔ یہ سب دنیا کی زندگی کا ساز و سامان ہے اور الله کے پاس بہت اچھا ٹھکانا ہے۔ (14-3)
Leave a Reply