
اللہ کی طرف سے جِنّات کے بارے میں آگاہی
یہ حقیقت ہے کہ ہم نے انسان کو کھنکھناتے سڑے گارے سے تخلیق کیا (26-15) اور اس سے بھی پہلے بے دھوئیں کی آگ سے جِن کو ہم نے تخلیق کیا تھا (27-15) اور جِنّوں اور انسانوں کو میں نے اس لیے تخلیق کیا ہے کہ صرف میری عبادت کریں۔ (56-51) اے جِنّوں کے اور انسانوں کے گروہو ! اگر تم میں اسطاعت ہے کہ آسمان اور زمین کے کناروں میں سے نکل سکتے ہو تو نکل جاؤ۔ لیکن سُلْطَان کے بغیر تم نکل نہیں سکتے۔ (33-55)
ہم نے اس قرآن میں انسانوں کے لیے طرح طرح کی مثالیں بیان کی ہیں لیکن اکثر انسانوں نے ماننے سے انکار کردیا۔ (89-17) کہو ! اگر کہیں تمام جِن اور انسان مل کر اس بات کی کوشش کریں کہ اس قرآن کے مثل کوئی چیز لے آئیں تو وہ اس کے مثل نہ لاسکیں گے اگرچہ وہ سب ایک دوسرے کے مددگار بھی ہوجائیں۔ (88-17)
جب ہم نے جِنّوں میں سے ایک جتھے کو تمہاری طرف متوجہ کیا تاکہ وہ قرآن سنیں۔ پھر جب وہ حاضر ہوئے تو انہوں نے کہا کہ خاموش ہوجاؤ۔ جب تلاوت ختم ہوئی تو وہ اپنی قوم کی طرف خبردار کرنے کے لیے واپس گئے۔ (29-46) انہوں نے کہا کہ اے ہماری قوم ! ہم نے ایک کتاب سنی ہے جو موسیٰ کے بعد نازل ہوئی ہے۔ وہ اس کی تصدیق کرتی ہے جو اس سے پہلے آچکا ہے اور وہ حق کی طرف اور مُّسْتَقِيم راہ کی طرف ہدایت دیتی ہے۔ (30-46)
اے ہماری قوم ! الله کی طرف بلانے والے کی دعوت قبول کرلو اور اس پر ایمان لے آؤ۔ الله تمہاری کوتاہیوں کو معاف کردے گا اور تم کو عَذَابٍ أَلِيم سے بچالے گا۔ (31-46) اور جو الله کی طرف بلانے والے کی دعوت قبول نہیں کرے گا تو وہ اللہ کو زمین میں عاجز نہیں کرسکے گا اور نہ اس کے سوا اس کے سرپرست ہوں گے۔ ایسے لوگ کھلی گمراہی میں ہیں۔ (32-46)
کہو کہ میرے پاس وحی آئی ہے کہ جِنّوں میں سے ایک جتھے نے سنا تو کہنے لگے کہ ہم نے ایک عجیب قرآن سنا (1-72) جو راہِ راست کی طرف ہدایت دیتا ہے سو ہم اس پر ایمان لے آئے اور ہم اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہیں بنائیں گے۔ (2-72)
اور یہ کہ ہمارے رب کی شان بہت اعلیٰ ہے اور اس نے کسی کو بیوی اور اولاد نہیں بنایا۔(3-72)
اور یہ کہ ہمارے بیوقوف لوگ الله کے بارے میں غلط باتیں کہتے ہیں۔ (4-72)
اور ہمارا گمان تھا کہ انسان اور جِن الله کے بارے میں جھوٹ نہیں بول سکتے۔(5-72)
اور یہ کہ انسانوں میں سے کچھ لوگ تھے جو جِنّوں میں سے کچھ لوگوں کی پناہ مانگا کرتے تھے جس سے ان کا زیادتی کرنا بڑھ گیا۔(6-72)
اور ہم یہ گمان کرتے تھے جیسا کہ تم گمان کرتے ہو کہ الله کسی ایک کو بھی مرنے کے بعد دوبارہ نہیں اٹھائے گا۔ (7-72)
اور یہ کہ ہم نے آسمان کو ٹٹولا تو اس کو مضبوط چوکیداروں اور انگاروں سے بھرا پایا۔ (8-72)
اور یہ کہ ہم اس میں سن گن لینے کی جگہوں پر بیٹھا کرتے تھے۔ لیکن اب کوئی سننے کی کوشش کرتا ہے تو وہ اپنے لیے ایک انگارا تیار پاتا ہے۔ (9-72)
اور یہ کہ ہم نہیں جانتے کہ جو زمین میں ہیں ان کے ساتھ برائی کرنے کا ارادہ کیا گیا ہے یا ان کے رب نے ان کو راہِ راست دکھانے کا ارادہ کیا ہے۔ (10-72)
اور یہ کہ ہم میں سے کچھ صالح ہیں اور ہم میں سے کچھ اور طرح کے ہیں۔ ہم مختلف طریقوں میں بٹے ہوئے ہیں۔(11-72)
اور یہ کہ ہم گمان کرتے ہیں کہ ہم زمین میں اللہ کو عاجز نہیں کرسکتے اور نہ بھاگ کر اس کو عاجز کرسکتے ہیں۔ (12-72)
اور یہ کہ جب ہم نے ہدایت سنی تو اس پر ایمان لے آئے۔ سو جو اپنے رب پر ایمان لائے گا تو اس کو حق تلفی کا یا زیادتی کا خوف نہیں ہوگا۔ (13-72)
اور یہ کہ ہم میں سے کچھ الْمُسْلِمُون ہیں اور ہم میں سے کچھ حق سے منحرف ہیں۔ سو جو فرمانبردار ہوئے تو انہوں نے راہِ راست ڈھونڈلی۔ (14-72) اور جو حق سے منحرف ہوئے تو وہ جَهَنَّم کے لیے ایندھن بن گئے۔ (15-72)
بیشک ہم نے داؤد اور سلیمان کو علم عطا کیا تھا اور انہوں نے کہا کہ الله ہی کے لیے حمد ہے جس نے اپنے بہت سے الْمُؤْمِنِين بندوں پر ہمیں فضلیت دی۔ (15-27) اور داؤد کے وارث سلیمان بنے اور کہا کہ اے انسانوں ! ہمیں پرندوں کی بولیوں کا علم سکھایا گیا ہے اور ہمیں ہر طرح کی چیزیں عطا کی گئی ہیں۔ بیشک یہ الْفَضْلُ الْمُبِين ہے۔ (16-27) اور سلیمان کے لیے جِنّوں اور انسانوں اور پرندوں میں سے اس کے تمام لشکر جمع کیے گئے پھر ان کی درجہ بندی کی گئی۔(17-27)
حتیٰ کہ جب وہ چیونٹیوں کی وادی میں پہنچے تو ایک چیونٹی نے کہا کہ اے چیونٹیو ! اپنے اپنے مسٰاکن میں داخل ہو جاؤ کہیں ایسا نہ ہو کہ سلیمان اور اس کے لشکر تمہیں کچل ڈالیں اور انہیں محسوس بھی نہ ہو۔ (18-27) تو وہ اس کی بات سن کر مسکراتے ہوئے ہنس پڑے اور کہنے لگے کہ اے میرے رب! مجھے توفیق عطا فرما کہ میں تیری نعمتوں کا شکر ادا کرتا رہوں ان نعمتوں کا جو تونے مجھ پر اور میرے والدین پر کی ہیں اور میں ایسے صالح عمل کروں کہ تو ان سے خوش ہوجائے اور تو مجھے اپنی رحمت سے اپنے الصَّالِحِين بندوں میں داخل فرما۔ (19-27)
سلیمان نے پرندوں کا جائزہ لیا تو کہا؛ کیا سبب ہے کہ ہُدہُد کو نہیں دیکھ رہا ہوں؟ کیا وہ کہیں غائب ہوگیا ہے؟(20-27) میں اسے سزا دوں گا سخت ترین سزا یا اسے ذبح کردوں گا یا اسے میرے سامنے واضح دلیل پیش کرنی ہوگی۔(21-27) پھر تھوڑی ہی دیر کے بعد وہ آ موجود ہوا اور کہنے لگا کہ؛ میں نے وہ بات معلوم کی ہے جس بات کا آپ کو علم نہیں ہے اور میں آپ کے پاس سبا سے ایک یقینی خبر لے کر آیا ہوں۔ (22-27) میں نے ایک عورت کو دیکھا ہے جو ان کی حکمراں ہے اور اسے ہر چیز میں سے دیا گیا ہے اور اس کا تخت بہت بڑا ہے۔ (23-27) اور میں نے اس کو اور اس کی قوم کو دیکھا کہ وہ الله کے بجائے سورج کو سجدہ کرتے ہیں اور ان کے لیے شیطان نے ان کے اعمال خوشنما بنادیے ہیں اور ان کو راہِ راست سے روک رکھا ہے اس لیے وہ ہدایت نہیں پاتے (24-27) کہ اس الله کو سجدہ کیوں نہیں کرتے جو آسمانوں کے اور زمین کے اندر سے چھپی چیزیں نکالتا ہے اور اس کو معلوم ہے جو تم خفیہ رکھتے ہو اور جو تم اعلانیہ کرتے ہو۔ (25-27) وہ اللہ ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔ وہ الْعَرْشِ الْعَظِيم کا رب ہے۔ (26-27)
سلیمان نے کہا ہم دیکھیں گے کہ تونے سچ کہا ہے یا تو جھوٹ بولنے والوں میں سے ہے۔ (27-27) میرا یہ خط لے جا اور اسے ان لوگوں کی طرف ڈال دینا پھر ان کے پاس واپس جانا اور دیکھنا کہ وہ کیا کرتے ہیں۔ (28-27) ملکہ نے کہا کہ اے دربار والو ! میری طرف ایک نہایت اہم خط بھیجا گیا ہے۔ (29-27) یہ سلیمان کی طرف سے ہے اور یہ اس طرح ہے کہ الله کے نام سے جو الرَّحْمَنِ الرَّحِيم ہے (30-27) تم سرکشی نہ کرو اور مُسْلِم ہو کر میرے پاس آؤ۔ (31-27) کہا کہ اے دربار والو ! میرے اس معاملے میں مجھے مشورہ دو۔ میں کوئی معاملہ طے نہیں کرتی ہوں جب تک تم صلاح نہ دو۔ (32-27) وہ بولے کہ ہم بڑی قوت والے اور بہت زیادہ جنگجو ہیں اور حکم دینے کا اختیار آپ کے پاس ہے سو آپ خود دیکھ لیں کہ آپ کو کیا فیصلہ کرنا ہے۔ (33-27)
اس نے کہا کہ بادشاہ جب کسی بستی میں داخل ہوتے ہیں تو اس کو تباہ کر دیتے ہیں اور وہاں کے عزت والے خاندانوں کو ذلیل کر دیا کرتے ہیں اور ایسا ہی فعل یہ بھی کریں گے۔ (34-27) اور میں ان کی طرف ہدیہ کے ساتھ سفیر بھیج رہی ہوں پھر دیکھتی ہوں کہ سفیر کیا جواب لاتا ہے۔ (35-27) پھر جب وہ سفیر سلیمان کے پاس پہنچا تو سلیمان نے کہا کہ؛ کیا تم مال سے میری مدد کرنا چاہتے ہو؟ جبکہ الله نے جو کچھ مجھے عطا کیا ہے وہ اس سے خَيْر والا ہے جو اس نے تمہیں دیا ہے۔ اس لیے تم ہی اپنے اس ہدیہ سے خوش ہوتے رہو۔(36-27) ان کے پاس واپس جاؤ ہم ان پر ایسے لشکر لے کر آئیں گے جس کا وہ مقابلہ نہیں کرسکیں گے اور ہم ان کو ذلیل کرکے وہاں سے نکال دیں گے اور وہ خوار ہوں گے۔(37-27)
سلیمان نے کہا کہ اے دربار والو ! تم میں سے اس کا تخت میرے پاس کون لاسکتا ہے؟ اس سے پہلے کہ وہ مُسْلِم ہو کر میرے پاس آئے۔ (38-27) جِنّات میں سے عِفْريت نے کہا کہ؛ میں وہ تخت آپ کے پاس لے آؤں گا اس سے پہلے کہ آپ اپنی جگہ سے اٹھیں کیونکہ میں اس کی طاقت رکھتا ہوں اور امانت دار ہوں۔ (39-27) اس شخص نے کہا جس کے پاس کتاب میں سے علم تھا کہ؛ اس سے پہلے آپ کی پلک جھپکے میں وہ تخت آپ کے پاس لے آتا ہوں۔ چنانچہ جب سلیمان نے اس تخت کو اپنے پاس رکھا ہوا دیکھا تو کہا کہ؛ یہ میرے رب کے فضل میں سے ہے تاکہ وہ مجھے آزمائے کہ میں شکر کرتا ہوں یا میں کفر کرتا ہوں اور جو شکر کرتا ہے تو وہ اپنے نفس کے لیے ہی شکر کرتا ہے اور جو کفر کرتا ہے تو میرا رب غَنِيٌّ كَرِيم ہے۔ (40-27)
سلیمان کے لیے ہوا کو مسخر کردیا تھا اس کا صبح کو چلنا ایک مہینے کی راہ تک تھا اور اس کا شام کے وقت چلنا ایک مہینے کی راہ تک تھا اور ہم نے اس کے لیے تانبے کا چشمہ بہا دیا تھا اور جِنّات میں سے ایسے تھے جو اس کے رب کی اجازت سے اس کے آگے کام کرتے تھے اور ان میں سے جو ہمارے حکم کی سرتابی کرتا تھا تو ہم اسے عَذَابِ السَّعِير میں سے ذائقہ چکھاتے تھے۔(12-34) جو وہ چاہتا تھا اس کے لیے بناتے تھے عالیشان عمارتوں میں سے اور مجسمے اور کٹورے جیسے تالاب اور بھاری دیگیں جو ایک ہی جگہ رکھی رہیں۔ اے داؤد کی اولاد ! شکر والے عمل کرو لیکن میرے بندوں میں سے شکر کرنے والے تھوڑے ہیں۔ (13-34) پھر جب ہم نے اس کے لیے موت کا فیصلہ کیا تو کسی کو اس کی موت کا معلوم نہ ہوا سوائے زمین کے جانور کے جو اس کے عصا کو کھاتا رہا۔ پھر جب وہ گر پڑے تب جِنّات کو معلوم ہوا۔ اگر ان کو غیب کا علم ہوتا تو وہ الْعَذَابِ الْمُهِين میں مبتلا نہ رہتے۔ (14-34)
جب ہم نے فرشتوں سے کہا تھا کہ آدم کو سجدہ کرو تو سب نے سجدہ کیا سوائے ابلیس کے۔ وہ جِنّات میں سے تھا اس نے اپنے رب کے حکم کی نافرمانی کی۔ کیا تم اس کو اور اس کی نسل کو میرے سوا اپنا سرپرست بناتے ہو؟ حالانکہ وہ تمہارے دشمن ہیں۔ ظالموں کے لیے یہ بہت ہی برا بدل ہے۔ (50-18) جنہوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا اور ان سے تکبر کیا وہی لوگ أَصْحَابُ النَّار ہیں۔ جو اس میں ہمیشہ رہیں گے (36-7)
تو اس سے زیادہ ظالم کون ہے جو الله کے بارے میں جھوٹی باتیں گھڑے یا اس کی آیات کو جھٹلائے۔ ایسے لوگوں کو ان کے نوشۃء تقدیر میں سے ان کا نصیب ملے گا۔ یہاں تک کہ جب ان کے پاس ہمارے بھیجے ہوئے جان نکالنے آئیں گے تو وہ کہیں گے کہ جن کو تم الله کے سوا پکارا کرتے تھے وہ کہاں ہیں؟ وہ کہیں گے کہ وہ ہم سے غائب ہوگئے اور خود اپنے نفس کے خلاف گواہی دیں گے کہ واقعی ہم حق کے منکر تھے۔ (37-7) کہا جائے گا کہ تم بھی داخل ہو جاؤ ان گروہوں کے ساتھ جو تم سے پہلے جِنّوں اور انسانوں میں سے دوزخ میں جا چکے ہیں۔ جب بھی کوئی گروہ داخل ہوگا تو وہ اپنے جیسے اور گروہوں پر لعنت بھیجے گا۔ حتٰی کہ جب اس میں سے سب گذر چکیں گے تو بعد میں آنے والے اپنے سے پہلوں کے بارے میں کہیں گے کہ اے ہمارے رب ! یہ ہیں جنہوں نے ہمیں گمراہ کیا تھا لہٰذا تو انہیں دوزخ کا دگنا عذاب دے۔ کہا جائے گا کہ ہر ایک کے لیے دگنا ہی ہے مگر تمہیں علم نہیں (38-7) اور پہلے والے بعد میں آنے والوں سے کہیں گے کہ آخر تمہیں ہم پر کیا فضیلت تھی لہٰذا چکھو اب مزا اس عذاب کا نتیجے میں اس کے جو تم کماتے رہے۔ (39-7) اور کہیں گے جو کافر ہیں کہ اے ہمارے رب ! جِنّوں اور انسانوں میں سے ان کو تو ہمیں دکھا جنہوں نے ہم کو گمراہ کیا تھا تاکہ ہم انہیں اپنے قدموں تلے روند ڈالیں تاکہ وہ ذلیل و خوار ہوں۔ (29-41)
وہ جِنّوں کو الله کا شریک بناتے ہیں حالانکہ اس نے ان کو پیدا کیا اور انہوں نے بغیر علم کے اس کے لیے بیٹے اور بیٹیاں گھڑ لیے ہیں۔ وہ پاک اور بہت اعلیٰ ہے ان باتوں سے جو یہ بیان کرتے ہیں۔ (100-6) اور انہوں نے اپنے اور جِنّات کے درمیان نسبت بنا رکھی ہے۔ حالانکہ جِنّات کو علم ہے کہ وہ الله کے سامنے حساب کے لیے حاضر کئے جائیں گے۔(158-37) جس دن وہ ان سب کو جمع کرے گا تو فرشتوں سے کہے گا کہ؛ کیا یہ لوگ تمہاری عبادت کرتے تھے؟(40-34) وہ کہیں گے کہ؛ تو پاک ہے تو ہی ہمارا سرپرست ہے۔ہمارا ان سے کیا تعلق؟ بلکہ یہ جِنّات کی عبادت کیا کرتے تھے۔ ان میں سے اکثر ان کا کہا مانا کرتے تھے۔(41-34)
اے جِنّوں کے اور انسانوں کے گروہو ! کیا تمہارے پاس تم ہی میں سے رسول نہیں آتے رہے جو تم کو میری آیات سناتے تھے اور تم کو اس دن کے سامنے آموجود ہونے کا انتباہ کرتے تھے؟ وہ کہیں گے کہ ہم خود اپنے نفسوں پر گواہی دیتے ہیں کہ ان کو دنیا کی زندگی نے دھوکے میں ڈال رکھا تھا اور انہوں نے اپنے نفسوں پر گواہی دی کہ وہ کفر کرنے والے تھے۔ (130-6)
جس دن الله کے دشمن دوزخ کی طرف گھیر کر لائے جائیں گے تو ان کی درجہ بندی کی جائے گی۔(19-41) یہاں تک کہ جب وہ اس کے پاس پہنچ جائیں گے تو ان کے کان اور ان کی آنکھیں اور ان کے جسم کی کھالیں ان پر گواہی دیں گے بشمول ان اعمال کے جو وہ کرتے رہے۔ (20-41)
اور وہ اپنے جسم کی کھالوں سے کہیں گے کہ تم نے ہمارے خلاف گواہی کیوں دی؟ وہ کہیں گے کہ اس الله نے ہم کو گویائی دی جس نے ہر چیز کو گویائی دی ہے اور اسی نے تمہیں پہلی بار پیدا کیا تھا اور اسی کی طرف تم لوٹ کر آئے ہو۔ (21-41)
اور تم اس لیے نہیں چھپا کرتے تھے کہ تمہارے کان اور تمہاری آنکھیں اور تمہارے جسم کی کھالیں تمہارے خلاف گواہی دیں گے بلکہ تم یہ گمان کرتے تھے کہ الله کو ان کا علم نہ ہو جو بہت سے اعمال تم کرتے تھے۔ (22-41)
اور یہی تمہارا گمان جو اپنے رب کے بارے میں تم گمان کرتے تھے تمہیں لے ڈوبا اور تم الْخَاسِرِين میں سے ہوگئے۔ (23-41)
اب اگر یہ صبر کریں گے تو ان کے لیے ٹھکانا دوزخ ہے اور اگر یہ توبہ کرنا چاہیں گے تو اب یہ توبہ کرنے کا موقع دیے جانے والوں میں سے نہیں ہیں۔ (24-41)
ہم نے ان پر ایسے ساتھی مسلط کردیے تھے جنہوں نے ان کے لیے وہ آراستہ کر رکھا تھا جو ان کے آگے تھا اور وہ جو ان کے پیچھے تھا اور ان پر بھی وہی قول حق ہوگیا جو جِنّوں اور انسانوں میں سے ان امتوں پر ہوا جو ان سے پہلے گزر چکی تھیں۔ بیشک یہ خسارے میں رہنے والے ہیں۔ (25-41)
اگر ہم چاہتے تو ہر نفس کو ہدایت عطا کردیتے لیکن میری طرف سے وہ قول حق ہوگیا کہ میں جِنّوں اور انسانوں میں سے سب سے جَهَنَّم کو بھروں گا۔ (13-32)
ہم نے بہت سے جِن اور انسان جَهَنَّم ہی کے لیے پیدا کیے ہیں۔ ان کے دل تو ہیں مگر ان سے سوچنے سمجھنے کا کام نہیں لیتے اور ان کی آنکھیں تو ہیں مگر ان سے دیکھتے نہیں اور ان کے کان تو ہیں مگر وہ ان سے سنتے نہیں۔ یہ لوگ چارپایوں کی طرح ہیں بلکہ ان سے بھی زیادہ گمراہ ہیں۔ یہی لوگ ہیں جو غفلت میں پڑے ہوئے ہیں۔ (179-7)
یہ وہ لوگ ہیں کہ ان پر بھی وہی قول حق ہوگیا جو جِنّوں اور انسانوں میں سے ان امتوں پر ہوا جو ان سے پہلے گزر چکی تھیں۔ بیشک یہ خسارے میں رہنے والے ہیں۔(18-46)
ہر ایک کے لیے ان کے اعمال کے مطابق درجے ہیں اور ان کو ان کے اعمال کا پورا بدلہ دیا جائے گا اور ان کے ساتھ ظلم نہیں کیا جائے گا۔(19-46) اور جس دن وہ لوگ دوزخ کے سامنے لا کھڑے کیے جائیں گے جنہوں نے کفر کیا تو کہا جائے گا کہ تم نے اپنی طیب چیزیں دنیا کی زندگی میں ہی ختم کردیں اور ان سے لذتیں حاصل کرچکے سو آج تمہیں بدلے میں عَذَابَ الْهُون دیا جائے گا اس بنا پر کہ تم زمین میں بغیر حق کے تکبر کیا کرتے تھے اور اس بنا پر کہ تم فسق کیا کرتے تھے۔ (20-46)
سو اس دن کسی انسان سے اور نہ کسی جِن سے اس کی اپنی کوتاہیوں کے بارے میں نہیں پوچھا جائے گا۔ (39-55) وہ جو مجرم ہیں ان کو ان کے چہروں ہی سے پہچان لیا جائے گا پھر انہیں ان کی پیشانی کے بالوں سے اور ان کے پاؤں سے پکڑ لیا جائے گا۔ (41-55) یہی وہ جَهَنَّم ہے جسے جھٹلایا کرتے تھے وہ جو مجرم ہیں۔(43-55) وہ اس کے درمیان اور کھولتے ہوئے پانی کے درمیان چکر لگاتے رہیں گے۔ (44-55)
اس کے لیے دو باغ ہیں جو اپنے رب کے سامنے پیش ہونے کا خوف رکھتا تھا۔ (46-55) بہت سی ہری بھری شاخوں والے۔ (48-55) ان میں دو چشمے بہہ رہے ہیں۔ (50-55) ان میں سب پھلوں کی دو دو قسمیں ہیں۔ (52-55) وہ ایسے بچھونوں پر تکیہ لگائے ہوئے بیٹھے ہوں گے جن کے استر دبیز ریشم کے ہیں اور جنّتوں کے میوے ان کے قریب جھک رہے ہوں گے۔ (54-55) اس میں شرمیلی نگاہوں والیاں ہوں گی اس سے پہلے ان کو نہ کسی انسان نے اور نہ کسی جِن نے چھوا ہوگا۔ (56-55) گویا کہ وہ یاقوت اور مرجان ہیں۔ (58-55) احسان کا بدلہ احسان کے سوا کچھ نہیں ہے۔ (60-55)
ان کے علاوہ بھی دو جنّتیں اور ہیں۔ (62-55) دونوں گھنی سرسبز اور شاداب۔ (64-55) ان میں چشمے ابل رہے ہیں۔ (66-55) ان میں پھل اور کھجوریں اور انار ہیں۔(68-55) ان میں نیک سیرت اور خوبصورت عورتیں ہیں۔ (70-55) وہ حوریں ہیں جو خیموں میں ٹھہرائی ہوئی ہیں۔ (72-55) اس سے پہلے ان کو نہ کسی انسان نے اور نہ کسی جِن نے چھوا ہوگا۔(74-55)
اگر تیرا رب چاہتا تو انسانوں کو ایک ہی امت بنا دیتا لیکن وہ ہمیشہ باہم اختلاف کرتے رہیں گے (118-11) سوائے انکے جن پر تیرے رب کی رحمت ہے۔ اور اسی کے لیے اس نے ان کو تخلیق کیا ہے اور تیرے رب کی یہ بات پوری ہوگئی کہ میں جَهَنَّم کو جِنّوں سے اور انسانوں سے سب سے بھروں گا۔(119-11)
اس نے انسان کو ٹھیکری جیسے سڑے ہوئے گارے سے تخلیق کیا (14-55) اور جِنّات کو آگ کے شعلے سے تخلیق کیا۔ (15-55) اور جس دن وہ سب کو جمع کرے گا تو کہے گا کہ اے گروہِ جِنّات ! تم نے انسانوں سے بہت حاصل کیا تو انسانوں میں سے اس کو سرپرست بنانے والے کہیں گے کہ اے ہمارے رب ! ہم ایک دوسرے سے فائدہ اٹھاتے رہے اور ہم اس وقت کو آپہنچے ہیں جو تو نے ہمارے لیے مقرر کیا تھا۔ الله فرمائے گا کہ اب تمہارا ٹھکانہ دوزخ ہے اس میں ہمیشہ رہو گے سوائے اس کے کہ جو الله چاہے۔ بیشک تیرا رب حَكِيمٌ عَليم ہے۔ (128-6)
اس طرح ہم ظالموں کو ایک دوسرے کا ساتھی بنا دیتے ہیں اس کسب کے سبب جو وہ کیا کرتے ہیں۔ (129-6) اور اسی طرح ہم نے ہر نبی کے لیے شیطان صفت انسانوں کو اور جِنّوں کو دشمن بنایا جن میں سے بعض کو بعض غرور والی باتیں کرنے پر اکسانے کے لیے القا کرتے اور اگر تمہارا رب چاہتا تو وہ یہ فعل نہ کرتے سو چھوڑ دو ان کو تاکہ وہ افتراء کرتے رہیں۔ (112-6) تاکہ ان لوگوں کے دل ان کی طرف مائل ہوں جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے اور وہ انہیں پسند کریں اور جو کام وہ کر رہے ہیں وہ بھی وہی کام کرنے لگیں۔ (113-6)
کہو کہ میں پناہ مانگتا ہوں انسانوں کے رب کی۔ (1-114) انسانوں کے بادشاہ کی۔ (2-114) انسانوں کے معبود کی۔ (3-114) وسوسہ ڈالنے والے شر سے جو بار بار پلٹ کر آتا ہے۔ (4-114) جو انسانوں کے سینوں میں وسوسے ڈالتا ہے۔ (5-114) جِنّات میں سے اور انسانوں میں سے۔ (6-114)
Leave a Reply