
اکثر انسانوں کو کن باتوں کا علم نہیں ہے؟
وہ الله ہی ہے جس نے سات آسمان اور اسی کی مانند زمین میں بھی خلق کیا۔ اس کا حکم ان کے درمیان میں نازل ہوتا رہتا ہے تمہیں علم ہونا چاہیے کہ الله ہر چیز پر قَدِير ہے اور الله نے ہر چیز کا اپنے علم سے احاطہ کر رکھا ہے۔ (12-65) الله ہی کے لیے حمد ہے جو آسمانوں کا اور زمین کا بنانے والا ہے فرشتوں کو پیغام رساں مقرر کرنے والا ہے جن کے دو دو اور تین تین اور چار چار پر ہیں۔ وہ اپنی تخلیق میں جیسا چاہے اضافہ کرتا ہے۔ بیشک الله ہر چیز پر قَدِير ہے۔ (1-35) اس کی شان یہ ہے کہ جب وہ کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے تو اس سے کہتا ہے کہ ہوجا تو وہ ہوجاتی ہے۔ (82-36) آسمانوں میں اور زمین میں اسی کی بادشاہی ہے اور اللہ ہی کی طرف سارے معاملات واپس جاتے ہیں۔ (5-57) وہی آسمان سے زمین تک معاملات کی تدبیر کرتا ہے پھر اس کے پاس پہنچتے ہیں ایک ایسے دن میں کہ جس کی مقدار تمہارے شمار کے حساب سے ایک ہزار سال ہے۔ (5-32) اور اسی کے پاس غیب کی کنجیاں ہیں سوائے اس کے انہیں کوئی نہیں جانتا اور اسے علم ہے جو خشکی میں ہے اور جو سمندر میں ہے اور کوئی پتہ نہیں جھڑتا مگر وہ اس کے علم میں ہے اور زمین کے اندھیروں میں نہ کوئی دانہ اور نہ کوئی ہری اور نہ سوکھی چیز ہے مگر كِتَابٍ مُّبِين میں ہے۔ (59-6) آسمانوں اور زمین کا خلق کرنا انسانوں کے خلق کرنے کی نسبت بڑا کام ہے لیکن اکثر انسانوں کو علم نہیں ہے۔ (57-40)
الله آسمانوں کا اور زمین کا نور ہے۔ اس کے نور کی مثال ایسی ہے کہ جیسے ایک طاق ہے جس میں چراغ ہے۔ یہ چراغ ایک فانوس میں ہے۔ یہ فانوس ایسا ہے جیسے موتی کی طرح چمکتا ہوا ستارہ جو زیتون کے مبارک درخت سے روشن کیا جاتا ہے جو کہ نہ مشرق کی طرف ہے نہ مغرب کی طرف۔ قریب ہے کہ اس کا تیل بھڑک اٹھے خواہ آگ اسے نہ بھی چھوئے۔ نور پر نور ہے۔ الله اپنے نور کی طرف ہدایت دیتا ہے جسے چاہتا ہے اور الله انسانوں کے لیے یہ مثالیں بیان کرتا ہے۔ الله ہر چیز کا علم رکھتا ہے۔ (35-24) الله کی تسبیح کرتی ہے جو چیز آسمانوں میں ہے اور زمین میں ہے اور وہ الْعَزِيزُ الْحَكِيم ہے (1-57) آسمانوں میں اور زمین میں اسی کی بادشاہی ہے۔ وہ زندگی دیتا ہے اور موت دیتا ہے اور ہر چیز پر قَدِير ہے۔ (2-57) وہی اول بھی ہے اور آخر بھی اور ظاہر بھی ہے اور باطن بھی اور وہ ہر چیز کا پورا علم رکھتا ہے۔ (3-57) وہی ہے جس نے آسمانوں کو اور زمین کو چھ دنوں میں تخلیق کیا پھر عرش پر جا ٹھہرا۔ اسے علم ہے جو داخل ہوتا ہے زمین میں اور جو اس سے نکلتا ہے اور جو نازل ہوتا ہے آسمان سے اور جو اس کی طرف چڑھتا ہے اور وہ تمہارے ساتھ ہوتا ہے جہاں بھی تم ہو اور الله ان اعمال کو جو تم کرتے ہو دیکھ رہا ہے۔ (4-57) وہ الله ہی ہے جس نے تم کو کمزور حالت میں خلق کیا پھر کمزور حالت کے بعد طاقتور بنادیا پھر طاقتور کے بعد کمزور حالت میں کردیا اور بوڑھا بنادیا۔ وہ خلق کرتا ہے جو وہ چاہتا ہے اور وہ الْعَلِيمُ الْقَدِير ہے۔ (54-30) وہی پہلی دفعہ پیدا کرتا ہے اور وہی دوبارہ کرے گا۔ (13-85) اور وہ الْغَفُورُ الْوَدُود ہے (14-85) ذُو الْعَرْشِ الْمَجِيد ہے۔ (15-85) جو ارادہ کرے کرلیتا ہے۔(16-85) اس سے نہیں پوچھا جاسکتا جو کام وہ کرتا ہے اور وہ پوچھے گا۔ (23-21) بلاشبہ الله اپنے کام کو مکمل کرکے رہتا ہے۔ الله نے ہر چیز کے لیے ایک تقدیر مقرر کر رکھی ہے۔ (3-65) جس نے اپنا چہرہ اللہ کے سامنے جھکا دیا اور وہ مُحْسِن بھی ہو تو بلاشبہ اس نے ایک مضبوط سہارا تھام لیا اور الله ہی کے ہاتھ میں تمام معاملات کا انجام ہے۔ (22-31) الله اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرتا لیکن اکثر انسانوں کو علم نہیں ہے۔ (6-30)
ہم نے ہر اُمت میں رسول بھیجا کہ الله کی عبادت کرو اور طاغوت سے اجتناب کرو۔ پھر ان میں سے کچھ ایسے تھے جن کو الله نے ہدایت دی اور ان میں سے کچھ ایسے تھے جن پر گمراہی مسلط ہوگئی۔ سو زمین میں سیر کرو پھر دیکھو کہ الْمُكَذِّبِين کا انجام کیا ہوا؟ (36-16) یہ اس لیے ہوا کہ الله ہر گز بدلنے والا نہیں ہے کسی نعمت کو جو اس نے کسی قوم کو عطا کی ہو حتیٰ کہ وہ خود نہ بدل ڈالیں جو ان کے نفسوں میں ہے اور الله سَمِيعٌ عَلِيم ہے۔ (53-8) بیشک جانداروں میں سب سے بدتر الله کے نزدیک وہ لوگ ہیں جنہوں نے کفر کیا سو وہ ایمان نہیں لاتے۔ (55-8) یہ لوگ دنیا کی زندگی کا صرف ظاہری پہلو جانتے ہیں اور آخرت سے بالکل ہی غافل ہیں۔ (7-30) کیا اُنہوں نے کبھی اپنے نفسوں پر غور و فکر نہیں کیا کہ الله نے ہی پیدا کیا ہے آسمانوں کو اور زمین کو اور جو کچھ ان کے درمیان ہے مگر حق کے ساتھ اور ایک مقرر وقت تک کے لیے اور واقعہ یہ ہے کہ انسانوں میں سے اکثر لوگ اپنے رب کے سامنے پیش ہونے کے قائل ہی نہیں ہیں۔ (8-30) بلکہ یہ لوگ جو ظالم ہیں علم کے بغیر اپنے نفس کی خواہشات کی پیروی کر رہے ہیں۔ سو اس کو کون ہدایت دے جسے الله نے گمراہ کردیا ہو؟ اس کا کوئی مددگار بھی نہیں ہوسکتا۔ (29-30) اس کے مقرر کیے ہوئے نگراں اس کے آگے سے اور اس کے پیچھے سے لگے ہوئے ہیں جو الله کے حکم سے اس کی دیکھ بھال کرتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ الله کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک کہ وہ اس کو نہ بدلے جو ان کے نفسوں میں ہے اور الله جب کسی قوم کے نقصان کا ارادہ کرتا ہے تو اس کو کوئی ٹال نہیں سکتا اور اس سے مقابلے کے لیے ان کا کوئی سرپرستی کرنے والوں میں سے نہیں ہوسکتا۔ (11-13) تم ان کی ہدایت کے لیے حریص ہو لیکن الله ہدایت نہیں دیا کرتا جس کو اس نے گمراہ کردیا ہو اور ان کا کوئی مددگار بھی نہ ہوگا۔ (37-16) یہ الله کی قسمیں کھاتے ہیں ان کا ایمان ہے کہ اللہ اسے نہیں اٹھائے گا جو مرجاتا ہے۔ کیوں نہیں ! اس کا وعدہ حق ہے لیکن اکثر انسانوں کو علم نہیں ہے۔ (38-16)
کیا انہوں نے زمین میں سے کچھ معبود بنا رکھے ہیں جو ان کو اُٹھا کھڑا کریں گے؟ (21-21) اگر الله کے سوا ان میں کچھ معبود ہوتے تو ان میں فساد برپا ہوجاتا۔ سو اللہ جو رَبِّ الْعَرْش ہے پاک ہے ان باتوں سے جو یہ بیان کرتے ہیں۔ (22-21) تمہارا رب الله ہی ہے جس نے آسمانوں کو اور زمین کو چھ دنوں میں خلق کیا پھر عرش پر جلوہ افروز ہوا۔ وہ دن کو رات پر ڈھانپ دیتا ہے وہ اس کے پیچھے دوڑتی چلی آتی ہے اور سورج اور چاند اور ستارے سب اس کے حکم کے مطابق کام میں لگے ہوئے ہیں۔ خلق کرنا اور کام کرنے کا حکم دینا اسی کا کام ہے۔ بہت بابرکت ہے الله جو رَبُّ الْعَالَمِين ہے۔ (54-7) وہ آسمانوں اور زمین کا موجد ہے اور جب وہ کسی کام کا فیصلہ کرتا ہے تو بس اسے کہتا ہے کہ ہوجا اور وہ ہو جاتا ہے۔ (117-2) کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ ہم زمین کو اس کے اطراف سے کم کرکے اسے گھٹاتے چلے آرہے ہیں اور الله ہی تم کو حکم کرتا ہے اس کے حکم کا رد کرنے والا کوئی نہیں ہے اور وہ جلد حساب لینے والا ہے۔ (41-13) کیا وہ جس نے آسمانوں کو اور زمین کو خلق کیا اس بات پر قادر نہیں ہے کہ ان کو پھر ویسے ہی خلق کرے؟ کیوں نہیں ! وہ الْخَلَّاقُ الْعَلِيم ہے۔ (81-36) وہ پاک ہے جس کے ہاتھ میں ہر چیز کی بادشاہت ہے اور اسی کی طرف تم کو لوٹ کر جانا ہے۔ (83-36) سو تم اپنا چہرہ دینِ حنیفا کی سمت قائم رکھو۔ جو الله کی فطرت ہے اسی پر اُس نے انسانوں کی فطرت بنائی ہے۔ الله کی تخلیق کو تبدیل نہیں کیا جاسکتا۔ یہی قائم رہنے والا دین ہے لیکن اکثر انسانوں کو علم نہیں ہے۔ (30-30)
ہم نے تم کو تمام انسانوں کے لیے بشارت دینے والا اور متنبہ کرنے والا بنا کر بھیجا ہے لیکن اکثر انسانوں کو علم نہیں ہے۔ (28-34) اور یہ کہتے ہیں کہ اگر تم صادق ہو تو یہ وعدہ کب وقوع میں آئے گا؟ (29-34) کہو ! تمہارے لیے اس دن کی معیاد مقرر ہے اس کے آنے میں تم نہ ایک گھڑی پیچھے کرسکتے ہو اور نہ تم آگے بڑھا سکتے ہو۔ (30-34) اور اگر الله انسانوں کو ان کے ظلم کے سبب پکڑنے لگے تو ان میں سے کسی جاندار کو باقی نہ چھوڑے لیکن وہ ان کو ایک مقررہ وقت تک مہلت دیتا ہے پھر جب ان کا مقررہ وقت آجاتا ہے تو تم نہ ایک گھڑی پیچھے کرسکتے ہو اور نہ تم آگے بڑھا سکتے ہو۔ (61-16) الله ہی کے پاس قیامت کا علم ہے اور وہی بارش برساتا ہے اور اسی کو علم ہے کہ رحموں میں کیا ہے اور کوئی نفس نہیں جانتا کہ وہ کل کیا کسب کرے گا اور کوئی نفس نہیں جانتا کہ کس سرزمین میں اُسے موت آئے گی۔ بیشک الله ہی عَلِيمٌ خَبِير ہے۔ (34-31) اور وہی ہے جو رات کو تمہاری جان نکال لیتا ہے اور جانتا ہے وہ کام جو دن میں تم کرتے ہو پھر تمہیں دن میں اٹھا کھڑا کرتا ہے تاکہ زندگی کی معین مدت پوری ہو۔ پھر تمہیں اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے پھر وہ تمہیں بتادے گا جو عمل تم کرتے ہو۔ (60-6) اور وہ اپنے بندوں پر پوری طاقت رکھتا ہے اور تم پر نگرانی کرنے والے بھیجتا ہے۔ یہاں تک کہ جب تم میں سے کسی کی موت آجاتی ہے تو ہمارے فرشتے اس کی جان نکال لیتے ہیں اور وہ کسی طرح کی کوتاہی نہیں کرتے۔ (61-6)
ہم نے جب بھی کسی بستی میں کوئی متنبہ کرنے والا بھیجا تو وہاں کے خوشحال لوگوں نے کہا کہ جو تم کو دے کر بھیجا گیا ہے ہم اس کو نہیں مانتے۔ (34-34) اور انہوں نے کہا کہ ہم مال میں اور اولاد میں زیادہ ہیں اور ہم کو عذاب نہیں ہوگا۔ (35-34) کہو کہ میرا رب جس کے لیے چاہے رزق کشادہ کرتا ہے اور جسے چاہے نپا تُلا دیتا ہے لیکن اکثر انسانوں کو علم نہیں ہے۔ (36-34) آسمانوں اور زمین کی کنجیاں اسی کے پاس ہیں۔ وہ جس کے لیے چاہے رزق کشادہ کرتا ہے اور جسے چاہے نپا تُلا دیتا ہے۔ بلاشبہ وہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے۔ (12-42) زمین پر جانداروں میں سے جو بھی ہے اس کا رزق الله کے ذمہ ہے وہ اس کے رہنے کی جگہ اور اس کے سونپے جانے کی جگہ کا علم رکھتا ہے۔ یہ سب کچھ كِتَابٍ مُّبِين میں ہے۔ (6-11) اور جب ہم ارادہ کرتے ہیں کہ کسی بستی کو ہلاک کریں تو ہم اس کے خوشحال لوگوں کو حکم دیتے ہیں تو وہ اس میں نافرمانیاں کرنے لگتے ہیں۔ سو اس پر قول حق ہوجاتا ہے پھر ہم اسے پوری طرح تباہ و برباد کردیتے ہیں۔(16-17) کوئی مصیبت زمین میں اور تمہارے اپنے نفس پر نہیں پڑتی مگر اس سے پہلے کہ ہم اسے پیدا کریں وہ ایک کتاب میں لکھی جاتی ہے۔ بلاشبہ یہ کام الله کے لیے بہت آسان ہے۔ (22-57) اور تم کو جو کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو وہ تمہارے اپنے ہاتھوں کی کمائی ہوتی ہے اور وہ بہت سے قصور تو معاف ہی کردیتا ہے۔ (30-42) الله کی اجازت کے بغیر کوئی مصیبت نہیں پہنچتی اور جو شخص الله پر ایمان لاتا ہے وہ اس کے دل کو ہدایت دیتا ہے اور الله کو ہر چیز کا علم ہے۔ (11-64) اور اگر الله تم کو کوئی نقصان پہنچائے تو اس کو کوئی دور کرنے والا نہیں ہے مگر وہی اور اگر وہ تمہارے لیے کسی خَيْر کا ارادہ کرے تو اس کے فضل کو روکنے والا کوئی نہیں ہے۔ وہ اسے اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے پہنچاتا ہے۔ وہ الْغَفُورُ الرَّحِيم ہے۔ (107-10) الله انسانوں کے لیے اپنی رحمت میں سے جو کھولتا ہے تو اس کا کوئی روکنے والا نہیں ہے اور جو وہ روک دے تو اس کے بعد اس کا کوئی کھولنے والا نہیں ہے اور وہ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ ہے۔ (2-35)
جب یوسف نے اپنے باپ سے کہا ابا جان ! میں نے دیکھا ہے کہ گیارہ ستارے ہیں اور سورج ہے اور چاند ہے میں انہیں دیکھتا ہوں کہ وہ مجھے سجدہ کر رہے ہیں۔ (4-12) انہوں نے کہا کہ اے بیٹے ! اپنا خواب اپنے بھائیوں سے بیان نہ کرنا ورنہ وہ تیرے ساتھ کوئی چالبازی کرکے رہیں گے۔ بلاشبہ شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے۔ (5-12) تجھے تیرا رب منتخب کرلے گا اور اس کے ساتھ ساتھ تجھے باتوں کی تہہ تک پہنچنا سکھائے گا اور تجھ پر اپنی نعمت پوری کرے گا اور آلِ یعقوب پر جیسے وہ اس سے پہلے تیرے آباؤ اجداد ابراہیم پر اور اسحٰق پر پوری کرچکا ہے۔ تیرا رب عَلِيمٌ حَكِيم ہے۔ (6-12) حقیقت یہ ہے کہ یوسف اور اس کے بھائیوں میں سائلین کے لیے بہت سی نشانیاں ہیں۔ (7-12) جب انہوں نے کہا کہ یوسف اور اس کا بھائی ہمارے باپ کو ہم سے زیادہ محبوب ہیں حالانکہ ہم ایک پورا جتھا ہیں۔ ہمارا باپ صریح غلطی پر ہے۔ (8-12) یوسف کو قتل کردو یا اسے کسی جگہ پھینک دو تاکہ تمہارے لیے تمہارے باپ کی توجہ خالص ہوجائے اور اس کے بعد تم قَوْمًا صَالِحِين ہوجانا۔ (9-12) ان میں سے ایک کہنے والے نے کہا کہ اگر تمہیں کرنا ہے تو تم یوسف کو قتل نہ کرو بلکہ اسے کسی گہرے کنویں میں ڈال دو اسے کوئی آتا جاتا قافلہ نکال لے جائے گا۔ (10-12) انہوں نے کہا اے اباجان ! کیا تم یوسف کے بارے میں ہمارا اعتبار نہیں کرتے حالانکہ ہم اس کے خیرخواہ ہیں۔ (11-12) کل اسے ہمارے ساتھ بھیج دیں تاکہ وہ شکار کرے اور کھیلے کودے اور ہم اس کی حفاظت کریں گے۔ (12-12) یعقوب نے کہا کہ مجھے یہ بات غمگین کرتی ہے کہ تم اسے لے جاؤ اور مجھے خوف ہے کہ کہیں اسے بھیڑیا کھا جائے جبکہ تم اس کی طرف سے غافل ہو۔ (13-12) وہ کہنے لگے کہ ہم ایک جتھا ہیں اگر اسے بھیڑیے نے کھا لیا تب تو ہم خسارے والے ہوں گے۔ (14-12) پھر جب وہ اسے لے گئے اور انہوں نے طے کرلیا کہ اسے گہرے کنویں میں ڈال دیں تو ہم نے اس کی طرف وحی کی کہ تم ان کو ان کی یہ حرکت تنبیہ کے طور پر بتاؤ گے لیکن ان کو سمجھ ہی نہیں آئے گا۔ (15-12) اور وہ عشاء کے وقت اپنے باپ کے پاس روتے ہوئے آئے۔ (16-12) کہا کہ اے ابا جان ! ہم دوڑ میں ایک دوسرے سے آگے نکلنے میں مصروف ہوگئے تھے اور یوسف کو اپنے سامان کے پاس چھوڑ گئے تھے تو اسے بھیڑیے نے کھا لیا اور آپ ہماری بات کو نہیں مانیں گے گو کہ ہم صادق ہی ہوں۔ (17-12) اور وہ اس کی قمیض پر جھوٹ موٹ کا خون لگا لائے۔ یعقوب نے کہا چونکہ تمہارے نفس نے ایک بات گھڑلی ہے۔ اب صبر ہی بہتر ہے اور اللہ ہی سے مدد مانگی جاسکتی ہے اس کے بارے میں جو تم بیان کر رہے ہو۔ (18-12) ایک قافلہ وہاں آیا تو انہوں نے اپنے سقے کو بھیجا اور اس نے ڈول ڈالا۔ کہا خوشخبری ہو یہ تو لڑکا ہے اور انہوں نے اسے پونجی سمجھ کر چھپا لیا اور الله کو اس کا علم تھا جو وہ کر رہے تھے۔ (19-12) اور انہوں نے اس کو تھوڑی سی قیمت پر چند درہموں میں بیچ دیا اور وہ اس سے بیزار سے تھے۔ (20-12) اور مصر میں جس شخص نے اسے خریدا اس نے اپنی بیوی سے کہا کہ اسے اچھی طرح رکھنا کچھ عجب نہیں کہ یہ ہمیں نفع دے یا ہم اسے بیٹا بنالیں۔ اس طرح سے یوسف کے لیے ہم نے اس زمین میں جگہ بنائی تاکہ ہم اس کو باتوں کی تہہ تک پہنچنے کا علم سکھائیں اور الله اپنے کام پر غالب ہے لیکن اکثر انسانوں کو علم نہیں ہے۔ (21-12)
پھر جب وہ اپنی جوانی کی بلاغت کو پہنچ گیا تو ہم نے اسے حکمت اور علم عطا کیا اور اسی طرح ہم الْمُحْسِنِين کو جزا دیتے ہیں۔ (22-12) اور اسے اس نے جس کے گھر میں یہ تھا اپنے نفس پر پھسلایا اور سب دروازے بند کرلیے اور کہنے لگی کہ تم آؤ۔ یوسف نے کہا کہ الله پناہ میں رکھے وہ میرا رب ہے اس نے مجھے بہترین طریقے سے رکھا ہے۔ وہ الظَّالِمُون کو فلاح نہیں دیتا۔ (23-12) اور وہ اس کی طرف بڑھی اور اگر وہ اپنے رب کا برہان نہ دیکھ لیتا تو وہ بھی اس کی طرف بڑھتا۔ ایسا ہی ہوا تاکہ ہم اس سے السُّوء اور الْفَحْشَاء دور کردیں۔ وہ ہمارے الْمُخْلَصِين بندوں میں سے تھا۔ (24-12) وہ دروازے کی طرف بڑھا تو اس نے اس کی قمیض پیچھے سے پھاڑ دی اور دروازے کے پاس اس کا صاحب موجود تھا۔ وہ بولی کہ اس کی کیا سزا ہے جو تیری اہلیہ کے ساتھ بدکاری کا ارادہ کرے سوائے اس کے کہ اس کو قید کردیا جائے یا عَذَابٌ أَلِيم دیا جائے۔ (25-12) یوسف نے کہا کہ یہی مجھ کو اپنے نفس پر پھسلا رہی تھی اور اس کے خاندان میں سے ایک گواہ نے گواہی دی کہ اگر اس کی قمیض آگے سے پھٹی ہے تو یہ سچی اور وہ جھوٹا ہے (26-12) اور اگر اس کی قمیض پیچھے سے پھٹی ہے تو یہ جھوٹی اور وہ سچا ہے۔ (27-12) پھر جب اس کی قمیض کو پیچھے سے پھٹا ہوا دیکھا تو اس نے کہا کہ یہ تمہاری ہی چالبازی ہے۔ تمہاری چالبازی عظیم ہے۔ (28-12) یوسف اس معاملے سے درگزر کر۔ اور تو اپنے قصور کی معافی مانگ۔ تو ہی خطاکار تھی۔ (29-12) اور شہر میں کچھ عورتوں نے کہا کہ اپنے نفس کے لیے عزیز کی بیوی اپنے غلام کے پیچھے پڑی ہوئی ہے۔ وہ اس کی محبت میں جذباتی ہوگئی ہے۔ ہم اس کو صریح گمراہی میں دیکھتی ہیں۔ (30-12) اس نے جب ان کی مکارانہ باتیں سنیں تو ان کے لیے تکیہ دار مجلس آراستہ کی اور انہیں بلانے کے لیے بھیجا اور ان میں سے ہر ایک کو ایک چھری دی اور یوسف سے کہا کہ نکل کر ان کے سامنے آجاؤ۔ پھر جب اس کو دیکھا تو وہ دنگ رہ گئیں اور اپنے ہاتھ کاٹ بیٹھیں اور بولیں حَاشَ لِلّه یہ بشر نہیں ہے۔ یہ کوئی بزرگ فرشتہ ہے۔ (31-12) اس نے کہا کہ یہ وہی ہے جس کے بارے میں تم مجھ پر باتیں بنا رہی تھیں۔ میں نے اس کو اپنے نفس کے لیے پھسلانا چاہا مگر یہ بچا رہا۔ اگر اس نے وہ فعل نہ کیا جو میں اسے کہہ رہی ہوں تو قید کردیا جائے گا اور خوار ہوگا۔ (32-12) یوسف نے کہا کہ؛ اے میرے رب ! مجھ کو قید خانہ زیادہ پسند ہے بنسبت جس کے لیے یہ مجھے بلاتی ہے۔ اگر تو اس کی چالبازیوں کو مجھ سے نہ ہٹائے گا تو میں اس میں پھنس جاؤں گا اور الْجَاهِلِين میں سے ہوجاؤں گا۔ (33-12) تو اس کے رب نے اس کی دعا قبول کرلی اور اس سے اس کی چالبازیوں کو ہٹا دیا۔ بیشک وہ السَّمِيعُ الْعَلِيم ہے۔ (34-12) پھر اس کے بعد بھی کہ وہ نشانیاں دیکھ چکے تھے ان کو سوجھا کہ ایک مدت کے لیے اس کو قید کردیں۔(35-12) اور اس کے ساتھ قید خانے میں دو جوان داخل ہوئے۔ ان میں سے ایک نے کہا کہ میں نے دیکھا ہے کہ شراب نچوڑ رہا ہوں اور دوسرے نے کہا کہ میں نے دیکھا ہے کہ اپنے سر پر روٹیاں اٹھائے ہوئے ہوں پرندے اس میں سے کھا رہے ہیں۔ ہمیں ان کی تعبیر بتائیں۔ ہم آپ کو الْمُحْسِنِين میں سے دیکھتے ہیں۔ (36-12) یوسف نے کہا کہ وہ کھانا تمہارے پاس نہیں آئے گا جو تمہیں ملتا ہے مگر اس سے پہلے کہ وہ تمہارے پاس آئے میں تم کو اس کی تفصیل بتادوں گا۔ یہ ان میں سے ہے جس کا مجھ کو میرے رب نے علم دیا ہے کیونکہ میں نے ان لوگوں کا مذہب چھوڑ دیا ہے جو اللہ پر ایمان نہیں لاتے اور جو آخرت کا بھی انکار کرتے ہیں۔ (37-12) اور میں نے اپنے آباؤ اجداد ابراہیم اور اسحاق اور یعقوب کے مذہب کی پیروی کرلی ہے۔ ہمارا یہ کام نہیں ہے کہ الله کے ساتھ کسی چیز کو شریک ٹھہرائیں۔ یہ ہم پر اور انسانوں پر الله کا فضل ہے لیکن اکثر انسان شکر نہیں کرتے۔ (38-12) اے میرے قید خانے کے صاحبو ! کیا بہت سے متفرق رب اچھے ہیں یا اللہ جو الْوَاحِدُ الْقَهَّار ہے؟ (39-12) تم الله کو چھوڑ کر جن کی عبادت کرتے ہو وہ صرف أَسْمَاء ہیں جو تم نے خود اور تمہارے آباؤ اجداد نے رکھ لیے ہیں۔ اللہ نے ان کے بارے میں کوئی سند نازل نہیں کی ۔ الله کے سوا کسی کی حکومت نہیں ہے۔ اس نے حکم دیا ہے کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو۔ یہی صحیح دین ہے لیکن اکثر انسانوں کو علم نہیں ہے۔ (40-12)
اے میرے قید خانے کے صاحبو ! تم میں سے ایک اپنے آقا کو شراب پلایا کرے گا اور جو دوسرا ہے اسے سولی چڑھا دیا جائے گا پھر پرندے اس کے سر کو کھائیں گے۔ اس کام کا فیصلہ ہوچکا ہے جس کے بارے میں تم پوچھ رہے تھے۔ (41-12) اور اس سے کہا جس کے بارے میں گمان تھا کہ وہ ان دو میں سے نجات پائے گا کہ اپنے آقا سے میرا ذکر کرنا لیکن شیطان نے اس کے آقا سے ذکر کرنا اس کو بھلا دیا سو وہ کئی برس قید خانے میں رہا۔ (42-12) اور بادشاہ نے کہا کہ میں نے دیکھا ہے کہ سات موٹی گائیں ہیں جن کو سات دبلی گائیں کھا رہی ہیں اور سات خوشے سبز ہیں اور دوسرے خشک۔ اے سردارو ! میرے خواب کے بارے میں مجھے بتاؤ اگر تم خوابوں کی تعبیر بتا سکتے ہو۔ ( 43-12) انہوں نے کہا کہ یہ پریشانی والے خواب ہیں اور ہم ایسے خوابوں کی تعبیر کے عالم نہیں ہیں۔ (44-12) اور جس نے ان دو میں سے نجات پائی اور ایک مدت کے بعد اس کو یاد آیا اس نے کہا میں اس کی تعبیر تمہیں بتاؤں گا مجھے جانے دو۔ (45-12) یوسف اے صِدِّيق ! ہمیں تعبیر بتاؤ کہ سات موٹی گائیں ہیں جن کو سات دبلی گائیں کھا رہی ہیں اور سات خوشے سبز ہیں اور دوسرے خشک تاکہ میں لوگوں کے پاس واپس جاؤں اور ان کو بھی معلوم ہوجائے۔ (46-12) اس نے کہا کہ تم سات سال متواتر کھیتی کرتے رہوگے پھر جو فصل تم کاٹو تو اسے اس کے بالوں میں رہنے دینا سوائے تھوڑی مقدار کے جس میں سے تم کھاؤ گے۔ (47-12) پھر اس کے بعد سات سخت سال آئیں گے جو کھا جائیں گے وہ جسے تم نے اس وقت کے لیے جمع کیا ہوگا۔ سوائے اس تھوڑے سے کے جس کو تم نے احتیاط سے رکھا ہوگا۔ (48-12) پھر اس کے بعد ایک سال آئے گا جس میں انسانوں کے لیے بارشیں ہوں گی اور وہ اس میں رس نچوڑیں گے۔ (49-12) بادشاہ نے کہا کہ اسے میرے پاس لاؤ۔ پھر جب شاہی قاصد اس کے پاس آیا تو یوسف نے کہا کہ اپنے آقا کے پاس واپس جاؤ اور اس سے پوچھو کہ ان عورتوں کا کیا حال ہے جنہوں نے اپنے ہاتھ کاٹ لیے تھے۔ میرا رب ان کی چالبازیوں کا علم رکھتا ہے۔ (50-12) بادشاہ نے کہا کہ تمہارا کیا تجربہ ہے جب تم نے یوسف کو اپنے نفس پر پھسلایا۔ سب بول اٹھیں کہ حَاشَ لِلّه اس کی کوئی برائی ہمارے علم میں نہیں آئی۔ عزیز کی عورت نے کہا کہ اب حق کھل کر سامنے آگیا ہے۔ میں نے ہی اس کو اپنے نفس پر پھسلانے کی کوشش کی تھی اور وہ الصَّادِقِين میں سے ہے۔ (51-12) تمہیں علم ہو کہ میں نے تمہاری غیر حاضری میں خیانت نہیں کی تھی اور الله اس کو ہدایت نہیں دیتا جو چالبازی کرکے خیانت کرے۔ (52-12) اور میرا نفس بھی صاف نہیں کیونکہ میرا رب کسی پر رحم نہ کرے تو نفس امارہ برائی پر اکساتا ہے۔ بے شک میرا رب غَفُورٌ رَّحِيم ہے۔ (53-12) بادشاہ نے کہا کہ اسے میرے پاس لاؤ تاکہ اپنے نفس کے لیے اس کو مخصوص کرلوں۔ پھر جب اس سے گفتگو کی تو کہا کہ آج سے تم ہمارے ہاں مِكِين اور أَمِين ہو۔ (54-12) اس نے کہا کہ مجھے زمین کے خزانوں پر مامور کردو میں حَفِيظ بھی ہوں اور عَلِيم بھی ہوں۔ (55-12) اس طرح سے یوسف کے لیے ہم نے اس زمین میں جگہ بنائی تاکہ اس میں وہ جہاں چاہے قابض ہو۔ ہم اپنی رحمت سے جسے چاہیں نوازتے ہیں اور الْمُحْسِنِين کے اجر کو ہم ضائع نہیں کرتے۔ (56-12) اور یقینا” آخرت کا اجر خَيْر والا ہے ان لوگوں کے لیے جو ایمان لاتے ہیں اور تقویٰ اختیار کرتے ہیں۔ (57-12) یوسف کے بھائی آئے جب وہ اس کے ہاں داخل ہوئے تو اس نے ان کو پہچان لیا اور وہ اس کو نہ پہچان سکے۔ (58-12) اور جب ان کا سامان تیار کروایا تو کہا کہ تم میرے پاس اپنے اس بھائی کو لے کر آنا جو باپ کی طرف سے ہے۔ کیا تم نہیں دیکھتے کہ میں غلّہ پورا پورا دیتا ہوں اور میں بہترین مہمان نواز ہوں۔ (59-12) پھر اگر تم اسے میرے پاس نہ لائے تو نہ تمہارے لیے میرے پاس غلّہ ہے اور نہ تم میرے قریب آسکو گے۔ (60-12) انہوں نے کہا کہ ہم اس کے بارے میں اس کے باپ سے تذکرہ کریں گے اور ہم یہ کام کرلیں گے۔ (61-12) اور اس نے اپنے خادموں سے کہا کہ ان کی نقدی ان کے سامان میں رکھ دو تاکہ وہ جب اپنے اہل و عیال میں لوٹ کر جائیں تو اسے پہچان لیں اور وہ پھر واپس آئیں۔ (62-12) پھر جب وہ اپنے باپ کے پاس واپس پہنچے تو کہا کہ اے ابا جان ! ہمیں غلّہ دینے سے منع کردیا گیا ہے اس لیے ہمارے ساتھ ہمارے بھائی کو بھیج دو تاکہ ہم غلّہ لاسکیں اور ہم اس کی حفاظت کے ذمہ دار ہیں۔ (63-12) اس نے کہا کہ میں اس کے بارے میں تمہارا اعتبار نہیں کرتا مگر ویسا ہی جیسا اس سے پہلے اس کے بھائی کے بارے میں تمہارا اعتبار کیا تھا۔ سو الله ہی بہترین محافظ ہے اور وہ أَرْحَمُ الرَّاحِمِين ہے۔ (64-12) اور جب انہوں نے اپنا سامان کھولا تو انہوں نے اپنی نقدی پائی جو ان کی طرف لوٹادی گئی تھی۔ کہا کہ اے ابا جان ! ہمیں اور کیا چاہیے؟ یہ رہی ہماری نقدی جو ہمارے لیے لوٹادی گئی ہے۔ ہم اپنے اہل و عیال کے لیے پھر رسد لے کر آئیں گے اور اپنے بھائی کی حفاظت کریں گے اور ایک اونٹ غلّہ زیادہ لائیں گے۔ یہ غلّہ تھوڑا ہے۔ (65-12) اس نے کہا کہ میں اسے تمہارے ساتھ ہرگز نہیں بھیجوں گا جب تک تم مجھے الله کا عہد نہ دو کہ تم اسے میرے پاس ضرور لے آؤ گے سوائے اس کے کہ تم گھیر لیے جاؤ۔ پھر جب انہوں نے اس کو عہد دے دیا تو اس نے کہا کہ اللہ اس پر وکیل ہے جو قول و قرار ہم کر رہے ہیں۔ (66-12) اور کہا کہ اے میرے بیٹو ! تم ایک ہی دروازے سے داخل نہ ہونا بلکہ مختلف دروازوں سے داخل ہونا اور میں تم کو الله سے کسی چیز میں نہیں بچا سکتا۔ سوائے اللہ کے کسی کا حکم نہیں ہے۔ میں نے اسی پر توکل کی اور الْمُتَوَكِّلُون کو اسی پر توکل کرنی چاہیے۔ (67-12) اور جب وہ داخل ہوئے تو اسی طرح جیسے انہیں ان کے باپ نے حکم دیا تھا۔ یہ ان کو الله سے کسی چیز میں نہیں بچا سکتا تھا مگر یعقوب کے نفس کی حاجت تھی جسے اس نے پورا کیا اور وہ صاحبِ علم تھا اس لیے کہ ہم نے اس کو علم دیا تھا لیکن اکثر انسانوں کو علم نہیں ہے۔ (68-12)
کیا پھر غور کیا ہے تم نے اس شخص کے حال پر جس نے بنا لیا ہے اپنے نفس کی خواہشات کو اپنا معبود اور الله نے علم کے باوجود اس کو گمراہ کردیا ہے اور اسکے کانوں پر اور اسکے دل پر مہر لگا دی ہے اور اسکی آنکھوں پر پردہ ڈال دیا ہے۔ سو کون ہے جو الله کے گمراہ کر دینے کے بعد اسے ہدایت دے؟ کیا تم لوگ کوئی سبق نہیں لیتے؟ (23-45) اور کہتے ہیں کہ ہماری دنیا کی زندگی کے سوا کیا ہے؟ ہم مرتے ہیں اور زندہ رہتے ہیں اور ہمیں زمانہ ہلاک کرتا ہے جبکہ ان کو اس کا کچھ علم نہیں ہے۔ یہ صرف گمان سے کام لیتے ہیں۔(24-45) اور جب ان کو ہماری واضح آیات پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو ان کو حجت ہوتی ہے سو یہ کہتے ہیں کہ اگر تم صادق ہو تو ہمارے باپ دادا کو اٹھا لاؤ۔ (25-45) ان سے کہو کہ الله ہی تمہیں زندگی دیتا ہے پھر تمہیں موت دیتا ہے پھر قیامت کے دن جس میں کوئی شک نہیں ہے تمہیں جمع کرے گا لیکن اکثر انسانوں کو علم نہیں ہے۔ (26-45)
Leave a Reply