Masood InsightMasood Insight

باتیں گھڑ کر الله کے راستے سے گمراہ کرنے والے انسان

باتیں گھڑ کر الله کے راستے سے گمراہ کرنے والے انسان

مُؤَلِّف : ڈاکٹر مسعود طارق

انسانوں میں سے کوئی شخص ایسا بھی ہے جو غافل کرنے والی باتیں گھڑ کر لاتا ہے تاکہ لوگوں کو بے سمجھے بوجھے الله کے راستے سے گمراہ کرے اور اس کا مذاق اڑائے۔ انہی لوگوں کے لیے عَذَابٌ مُّهِين ہے۔ (6-31) اور جب اس کے سامنے ہماری آیات پڑھی جاتی ہیں تو تکبر کرتے ہوئے رخ پھیر لیتا ہے گویا کہ اس نے سنا ہی نہیں جیسے کہ اس کے کانوں میں بہرہ پن ہے۔ اسے عَذَابٌ أَلِيم کی خوشخبری دے دو۔ (7-31)

ایسے لوگوں میں کونسی خامیاں ہوتی ہیں؟

ہم نے رسولوں کو تو بشارت دینے کے لیے اور متنبہ کرنے کے لیے بھیجا مگر جو کافر ہیں وہ باطل باتیں بناکر بحث کرتے ہیں تاکہ اس سے حق کو نیچا دکھائیں اور انہوں نے میری آیات کو اور ان تنبیہات کو جو انہیں دی گئی ہیں مذاق بنا لیا ہے۔ (56-18) تمہارا معبود تو اکیلا الله ہے تو جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ان کے دل انکار کر رہے ہیں اور وہ تکبر کر رہے ہیں۔(22-16) جب ان سے پوچھا جاتا ہے کہ کیا ہے یہ جو تمہارے رب نے نازل کیا ہے تو کہتے ہیں کہ پہلے لوگوں کے قصے کہانیاں ہیں۔ (24-16) ہم نے اس قرآن میں انسانوں کے لیے طرح طرح کی مثالیں بیان کی ہیں لیکن انسان اکثر چیزوں میں تنازعہ کھڑا کردیتا ہے۔ (54-18) ہمیں معلوم ہے جو کچھ یہ لوگ کہتے ہیں اور تم ان پر جبر کرنے والے نہیں ہو۔ سو تم قرآن سے اس کو نصیحت کرتے رہو جو ہمارے وعید کا خوف رکھتا ہو۔ (45-50) اور جب یہ لوگ تمہارے پاس آتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم ایمان لے آئے حالانکہ وہ کفر لے کر آتے ہیں اور اسی کو لیکر جاتے ہیں اور جن باتوں کو یہ چھپائے ہوئے ہیں الله کو ان کا علم ہے۔ (61-5) اور تم دیکھتے ہو کہ ان میں اکثر گناہ والے کام کرنے اور دشمنی ڈلوانے اور حرام کھانے کے لیے دوڑ دھوپ کر رہے ہیں۔ بیشک وہ عمل بہت ہی برے ہیں جو یہ کرتے ہیں۔ (62-5) بھلا ان کے مشائخ اور علماء انہیں گناہ کی بات کہنے سے اور حرام کھانے سے منع کیوں نہیں کرتے؟ بیشک وہ کام بہت ہی برے ہیں جو یہ کرتے ہیں۔ (63-5) جو لوگ آخرت کی نسبت دنیا کو پسند کرتے ہیں اور لوگوں کو الله کی راہ سے روکتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ وہ ٹیڑھا ہو جائے۔ یہ لوگ گمراہی میں دور نکل گئے ہیں۔ (3-14)

ایسے لوگوں کو کیا کرنا چاہیے؟

اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! الله سے ڈرو اور ہمیشہ سچی بات کہا کرو۔ (70-33) وہ تمہارے لیے تمہارے اعمال درست کردے گا اور تمہارے گناہ تم کو معاف کردے گا اور جس نے الله کی اور اس کے رسول کی اطاعت کی تو بلاشبہ اس نے بڑی عظیم کامیابی حاصل کی۔ (71-33) اور میرے بندوں سے کہو ! وہ ایسی باتیں کہا کریں جو احسن ہوں۔ کیونکہ شیطان ان کے درمیان تنازعہ ڈلوا دیتا ہے۔ کچھ شک نہیں کہ شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے۔(53-17) اور اگر شیطان کی طرف سے تمہارے دل میں کسی طرح کا وسوسہ پیدا ہو تو الله سے پناہ مانگو۔ بیشک وہ سَمِيعٌ عَلِيم ہے۔ (200-7) جو لوگ متقی ہیں انہیں جب شیطان کی طرف سے کوئی برا خیال چھو جاتا ہے تو وہ چوکنے ہوجاتے ہیں اور دل کی آنکھیں کھول کر دیکھنے لگتے ہیں۔(201-7) جبکہ مومن تو وہ لوگ ہیں کہ جب الله کا ذکر کیا جاتا ہے تو ان کے دل لرز جاتے ہیں اور جب ان کے سامنے اللہ کی آیات پڑھی جاتی ہیں تو ان کا ایمان مزید بڑھا دیتی ہیں اور وہ اپنے رب پر توکل رکھتے ہیں۔ (2-8) حقیقت یہ ہے کہ جھوٹ وہ لوگ گھڑتے ہیں جو الله کی آیات پر ایمان نہیں لاتے اور یہی لوگ جھوٹے ہیں۔ (105-16) اور جب تم ایسے لوگوں کو دیکھو جو ہماری آیات کے بارے میں بیہودہ بکواس کر رہے ہوں تو ان سے الگ ہوجاؤ یہاں تک کہ وہ کسی اور بات میں مصروف ہوجائیں اور اگر شیطان تمہیں بھلا دے تو یاد آنے کے بعد ایسے ظالم لوگوں کے ساتھ نہ بیٹھو۔ (68-6) اور ہرگز نہ سمجھیں وہ لوگ جنہوں نے کفر اختیار کیا ہے کہ یہ جو ہم ان کو مہلت دے رہے ہیں یہ ان کے لیے بہتر ہے یہ ہمارا ان کو مہلت دینا محض اس لیے ہے کہ وہ گناہوں میں خوب اضافہ کرلیں اور ان کے لیے عَذَابٌ مُّهِين ہے۔ (178-3)

ایسے لوگوں کا حال و احوال کیا ہوتا ہے؟

کیا تم نے نہیں دیکھا ان کو جنہوں نے ایسے لوگوں کو دوست بنایا جن پر الله کا غضب ہے۔ وہ تم میں سے نہیں ہیں اور نہ ان میں سے اور جانتے بوجھتے جھوٹ پر قسمیں کھاتے ہیں۔ (14-58) الله نے ان کے لیے عَذَابًا شَدِيد مہیا کر رکھا ہے۔ یقینا” وہ عمل بہت ہی برے ہیں جو وہ کرتے ہیں۔ (15-58) اور جب ہماری آیات میں سے کوئی شے ان کے علم میں آتی ہے تو وہ اس کا مذاق اڑاتے ہیں ایسے لوگوں کے لیے عَذَابٌ مُّهِين ہے۔ (9-45) انہوں نے اپنی قسموں کو ڈھال بنا رکھا ہے اور اس طرح وہ الله کی راہ سے روکتے ہیں اور ان کے لیے عَذَابٌ مُّهِين ہے۔ (16-58) جس دن الله ان سب کو دوبارہ اٹھائے گا تو اس کے سامنے قسمیں کھائیں گے اس طرح جیسے تمہارے سامنے قسمیں کھاتے ہیں اور سمجھیں گے کہ اس طرح کچھ کام بن جائے گا۔ (18-58) وہ لوگ جو الله کی آیات پر ایمان نہیں لاتے الله ان کو ہدایت نہیں دیتا اور ان کے لیے عَذَابٌ أَلِيم ہے۔ (104-16) ہر جھوٹے گناہگار شخص کے لیے تباہی ہے۔(7-45) جو الله کی آیات سنتا ہے جو اس کے سامنے پڑھی جاتی ہیں پھر بھی تکبر کے ساتھ اڑا رہتا ہے گویا کہ اس نے سنی ہی نہیں سو ایسے شخص کو عَذَابٌ أَلِيم کی خوشخبری دے دو۔ (8-45)

ایسے لوگوں کا آخرت میں کیا انجام ہوگا؟

جنہوں نے اپنے دین کو کھیل اور تماشا بنا لیا تھا اور ان کو دنیا کی زندگی نے فریب میں مبتلا کر رکھا تھا۔ سو آج ہم انہیں اسی طرح بھلا دیں گے جیسے وہ اپنے اس دن کی پیشی کو بھولے رہے اور جیسے وہ ہماری آیات کا انکار کرتے تھے (51-7) اور کہے گا رسول اے میرے رب ! میری قوم نے اس قرآن کو نشانہء تضحیک بنا لیا تھا اور اسے چھوڑ رکھا تھا۔ (30-25) یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے رب کی آیات کو اور اس کے سامنے پیش ہونے کو جھٹلایا تھا تو ان کے اعمال ضائع ہوگئے چنانچہ ہم قیامت کے دن ان کو کوئی وزن نہ دیں گے۔ (105-18) یہ جَهَنَّم ان کا بدلہ ہے ان کے کفر کرنے کی وجہ سے اور انہوں نے میری آیات اور رسولوں کا مذاق اڑایا تھا۔ (106-18) ان پر ان کے اعمال کی برائیاں کھل جائیں گی اور ان پر وہی چیز مسلط ہوجائے گی جس کا وہ مذاق اڑایا کرتے تھے (33-45) اور کہا جائے گا کہ آج اسی طرح ہم تمہیں بھلائے دیتے ہیں جیسے تم اپنے اس دن کی پیشی کو بھول گئے تھے اور تمہارا ٹھکانا آگ ہے اور تمہارا کوئی مددگار نہیں ہوگا۔ (34-45) تمہارا یہ انجام اس بنا پر ہے کہ تم نے الله کی آیات کو مذاق بنا لیا تھا اور تم کو دنیا کی زندگی نے دھوکے میں ڈال دیا تھا۔ سو اس دن نہ وہ آگ میں سے نکالے جائیں گے اور نہ ان کی توبہ قبول کی جائے گی۔ (35-45) بیشک وہ لوگ جنہوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا اور ان سے تکبر کیا ان کے لیے آسمان کے دروازے نہ کھولے جائیں گے اور نہ وہ جنّت میں داخل ہوں گے جب تک کہ اونٹ سوئی کے ناکے میں سے نہ نکل جائے اور مجرموں کو ہم ایسا ہی بدلہ دیا کرتے ہیں۔ (40-7) وہ لوگ جو الله کے بارے میں جھگڑا کرتے ہیں اس کے بعد بھی کہ اس کی دعوت پر لبیک کہا جاچکا ہے ان کے رب کے نزدیک ان کا جھگڑا لغو ہے اور ان پر غضب ہے اور ان کے لیے عَذَابًا شَدِيد ہے۔ (16-42)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *