
حَسَنَة کی طلب اور عَذَابَ النَّار سے بچنے کی دعا کرنے والے انسان
بعض ایسے ہیں جو کہتے ہیں اے ہمارے رب ! ہم کو دنیا میں بھی حَسَنَة عطا فرما اور آخرت میں بھی حَسَنَة بخشنا اور ہمیں عَذَابَ النَّار سے بچا کر رکھنا۔ (201-2) یہی لوگ ہیں کہ انکے لیے انکی کمائی کا حصہ ہے اور الله جلد حساب چکانے والا ہے۔ (202-2)
ایسے لوگوں کی خصوصیات کیا ہونی چاہئیں؟
الله سے ڈرو اور آپس کے تعلقات درست کرلو اور اطاعت کرو الله کی اور اس کے رسول کی اگر تم مومن ہو۔ (1-8) نیکی یہی نہیں ہے کہ تم اپنے چہرے مشرق کی طرف یا مغرب کی طرف کرلو بلکہ نیکی یہ ہے کہ الله پر اور آخرت کے دن پر اور فرشتوں پر اور کتاب پر اور نبیوں پر ایمان لاؤ۔ اور اس کی محبت میں قربت والے لوگوں کو اور یتیموں کو اور مسکینوں کو اور مسافروں کو مال دو۔ اور مانگنے والوں پر اور گردنوں کے چھڑانے میں خرچ کرو۔ اورصلاۃ قائم کرو اور زکوٰۃ دو۔ اور جب عہد کرلو تو اس کو پورا کرو۔ اور تنگدستی میں اور جسمانی تکلیف میں اور معرکہ کارزار کے وقت صبر کرو۔ یہی صادق لوگ ہیں۔ اور یہی متقی لوگ ہیں۔ (177-2) بھلا تم نے اس شخص کو دیکھا جو دین کو جھٹلاتا ہے؟ (1-107) یہ وہ ہے جو یتیم کو دھکے دیتا ہے (2-107) اور مسکین کو کھانا کھلانے پر زور نہیں دیتا۔ (3-107) تو تباہی ہے ایسی صلاۃ والوں کے لیے (4-107) جو اپنی صلاۃ سے غفلت برتتے ہیں۔ (5-107) جو ریا کاری کرتے ہیں (6-107) اور برتنے کی چیزیں عاریتہً نہیں دیتے۔ (7-107)
ایسے لوگوں کو کیا کرنا چاہیے؟
اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! کیا میں تم کو ایسی تجارت بتاؤں جو تم کو عَذَابٌ أَلِيم سے بچادے؟ (10-61) اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! صبر کرو اور صبر پر قائم رہو اور آپس میں رابطہ رکھو اور الله سے ڈرتے رہو تاکہ تم کامیابی حاصل کرسکو۔ (200-3) اور وہ لوگ جو ہماری خاطر جدوجہد کرتے ہیں تو ہم انہیں اپنے راستے کی طرف رہنمائی دیں گے اور یقینا” الله مُحْسِنِين کے ساتھ ہے۔ (69-29) اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! الله سے ڈرتے رہو اور صادق لوگوں کا ساتھ دو۔ (119-9) اور چاہیے کہ تم میں سے ایسے لوگوں کی ایک جماعت رہے جو خَيْر کی طرف دعوت دیتے رہیں اور الْمَعْرُوف کا حکم دیں اور الْمُنكَر سے منع کریں۔ درحقیقت یہی لوگ فلاح پانے والے ہیں۔ (104-3) اے ایمان والو ! الله سے ڈرتے رہو اور ہر نفس کو دیکھنا چاہیے کہ اس نے کل کے لیے آگے کیا بھیجا ہے اور الله سے ڈرتے رہو۔ بیشک الله تمہارے سب اعمال سے باخبر ہے۔ (18-59) ایمان لاؤ تم الله پر اور اس کے رسول پر اور اپنے مال سے اور اپنے نفس سے الله کی راہ میں جدوجہد کرو۔ اگر تم سمجھو تو یہ تمہارے لیے خَيْر ہے۔ (11-61) وہ تمہارے گناہ معاف کردے گا اور تمہیں ایسی جنّتوں میں داخل کرے گا کہ ان میں نہریں بہہ رہی ہیں اور سدا بہار باغات میں پاکیزہ مکانات ہیں۔ یہی بہت بڑی کامیابی ہے۔ (12-61) اور وہ دوسری چیز جس کو تم بہت چاہتے ہو الله کی طرف سے نصرت اور عنقریب حاصل ہونے والی فتح ہوگی اور مومنوں کو بشارت دے دو۔ (13-61) کہہ دو کہ مجھے میرے رب نے صِرَاطٍ مُّسْتَقِيم کی طرف ہدایت دی ہے جو دِينًا قِيَمًا مِّلَّةَ إِبْرَاهِيمَ حَنِيفًا ہے اور وہ مشرکوں میں سے نہ تھے۔ (161-6) کہہ دو کہ میری صلاۃ اور میری قربانی اور میری حیاتی اور میری موت اللہ کے لیے ہے جو رَبِّ الْعَالَمِين ہے۔ (162-6) اس کا کوئی شریک نہیں اور مجھے اسی کا حکم دیا گیا ہے اور میں سب سے پہلے مسلمان ہوں۔ (163-6) کہو کیا میں الله کے سوا کوئی اور رب تلاش کروں؟ حالانکہ وہی تو ہر چیز کا رب ہے اور کوئی نفس نہیں کماتا مگر اس کا ذمہ دار وہ خود ہوتا ہے اور کوئی بوجھ اٹھانے والا دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھاتا پھر تم سب کو اپنے رب کی طرف لوٹ کر جانا ہے پھر وہ تمہیں بتائے گا جن باتوں میں تم اختلاف کیا کرتے تھے۔ (164-6) بیشک حَسَنَات دور کر دیتے ہیں سَـيِّئَات کو۔ یہ ان کے لیے نصیحت ہے جو نصیحت قبول کرنے والے ہیں۔ (114-11)
ایسے لوگوں کا حال و احوال کیا ہوتا ہے؟
جو لوگ ایمان لائے اور ہجرت کی اور الله کی راہ میں اپنے مال سے اور اپنے نفس سے جدوجہد کی۔ الله کے ہاں ان کے بہت بڑے درجے ہیں۔ اور یہی لوگ کامیاب ہونے والے ہیں۔(20-9) بیشک وہ لوگ کہ جن کی فرشتے اس حال میں جان نکالیں گے کہ وہ اپنے نفسوں پر ظلم کر رہے تھے تو ان سے کہیں گے کہ تم کیا کرتے رہے؟ وہ کہیں گے کہ ہم اپنی سر زمین میں کمزور تھے۔ فرشتے کہیں گے کہ کیا الله کی زمین وسیع نہیں تھی کہ تم اس میں ہجرت کر جاتے۔ سو یہی وہ لوگ ہیں کہ ان کا ٹھکانہ جَهَنَّم ہے اور وہ بہت بری جگہ ہے۔ (97-4) مگر وہ کمزور مرد اور عورتیں اور بچے جو نہیں کرسکتے کوئی حیلہ اور نہیں پاتے کوئی راستہ (98-4) سو یہ امید ہے کہ الله انہیں معاف کردے اور الله عَفُوًّا غَفُور ہے۔ (99-4) اور جو شخص الله کی راہ میں ہجرت کرے گا وہ زمین میں بہت سے ٹھکانے اور فراخی پائے گا اور جو شخص اپنے گھر سے الله اور رسول کی طرف ہجرت کرکے نکلا پھر موت نے اس کو آپکڑا تو اس کا اجر الله کے ذمہ ہو گیا اور الله غَفُورًا رَّحِيم ہے۔ (100-4) اور جو لوگ الله کی راہ میں قتل ہوجائیں ان کو مردہ نہ کہو بلکہ وہ تو زندہ ہیں لیکن تمہیں شعور نہیں ہے۔ (154-2)
ایسے لوگوں کا آخرت میں کیا انجام ہوگا؟
مومنوں میں سے گھر بیٹھ رہنے والے جن کو کوئی عذر نہ ہو اور الله کی راہ میں اپنے مال سے اور اپنے نفس سے جدوجہد کرنے والے برابر نہیں۔ اللہ نے درجہ کے اعتبار سے ان کو جو اپنے مال سے اور اپنے نفس سے جدوجہد کرنے والے ہیں بیٹھے رہنے والوں پر فضیلت دی ہے۔ اگرچہ اللہ نے سب سے بھلائی کا وعدہ کر رکھا ہے لیکن اللہ نے مجاہدین کو بیٹھے رہنے والوں پر اجر عظیم سے فضیلت دی ہے۔ (95-4) یعنی اس کی طرف سے بڑے درجے ہیں اور مغفرت ہے اور رحمت ہے اور الله غَفُورًا رَّحِيم ہے۔ (96-4)
Leave a Reply