
رزق کو کشادہ اور نپا تُلا کون کرتا ہے؟
الله ہی اپنے بندوں میں سے جس کے لیے چاہے رزق کشادہ کرتا ہے اور جسے چاہے نپا تُلا دیتا ہے۔ بلاشبہ الله کو ہر چیز کا علم ہے۔ (62-29) آسمانوں اور زمین کی کنجیاں اسی کے پاس ہیں۔ وہ جس کے لیے چاہے رزق کشادہ کرتا ہے اور جسے چاہے نپا تُلا دیتا ہے۔ بلاشبہ وہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے۔ (12-42)
الله اپنے بندوں میں سے جس کے لیے چاہے رزق کشادہ کرتا ہے اور جسے چاہے نپا تُلا دیتا ہے۔ (82-28) اور الله نے تم میں سے بعض کو بعض پر رزق میں فضیلت دی ہے تو جن لوگوں کو فضیلت دی گئی ہے وہ اپنا رزق اپنے مَلَكَتْ أَيْمَانُهُم کو تو دے نہیں دیتے تاکہ وہ اس میں برابر ہوجائیں۔ تو کیا پھر یہ لوگ اللہ کی نعمتوں کا انکار کرتے ہیں؟(71-16)
جب انسان کو کوئی تکلیف چھو بھی جاتی ہے تو ہمیں پکارنے لگتا ہے۔ پھر جب ہم اس کو اپنی طرف سے نعمت بخشتے ہیں تو کہتا ہے کہ یہ تو مجھے میرے علم کی وجہ سے ملا ہے۔ نہیں بلکہ یہ آزمائش ہے مگر ان میں سے اکثر کو علم نہیں ہے۔ (49-39) جو لوگ ان سے پہلے تھے وہ بھی یہی کہا کرتے تھے تو جو کچھ وہ کیا کرتے تھے ان کے کچھ بھی کام نہ آیا۔ (50-39) پھر اپنے کیے کے برے نتائج ان کو بھگتنے پڑ گئے اور ان میں سے وہ لوگ جو ظلم کر رہے ہیں ان کو بھی ان کے کیے کے برے نتائج عنقریب بھگتنے پڑیں گے اور یہ کسی طرح بھی عاجز نہیں کرسکتے۔ (51-39) کیا ان کو معلوم نہیں کہ الله ہی جس کے لیے چاہے رزق کشادہ کرتا ہے اور جسے چاہے نپا تُلا دیتا ہے۔ بیشک اس میں ایمان لانے والے لوگوں کے لیے نشانیاں ہیں۔ (52-39)
ہم نے جب بھی کسی بستی میں کوئی متنبہ کرنے والا بھیجا تو وہاں کے خوشحال لوگوں نے کہا کہ جو تم دے کر بھیجے گئے ہو ہم ان باتوں کا انکار کرتے ہیں۔ (34-34) اور انہوں نے کہا کہ ہم بہت سا مال اور اولاد رکھتے ہیں اور ہم کو عذاب نہیں دیا جائے گا۔ (35-34) کہو کہ میرا رب جس کے لیے چاہے رزق کشادہ کرتا ہے اور جسے چاہے نپا تُلا دیتا ہے لیکن اکثر انسانوں کو علم نہیں ہے۔ (36-34)
جب ان سے کہا جاتا ہے کہ الله نے جو رزق تم کو دیا ہے اس میں سے خرچ کرو۔ تو کہتے ہیں وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا ہے ان سے جو ایمان لائے ہیں کہ کیا ہم انہیں کھلائیں کہ اگر اللہ چاہتا تو خود انہیں کھلا دیتا؟ یقینا” تم تو کھلی گمراہی میں مبتلا ہو۔ (47-36) الله جس کے لیے چاہے رزق کشادہ کرتا ہے اور جسے چاہے نپا تُلا دیتا ہے اور وہ دنیا کی زندگی پر اتراتے ہیں حالانکہ دنیا کی زندگی آخرت کے مقابلے میں بہت تھوڑا فائدہ ہے۔ (26-13)
تم آنکھ اٹھاکر اس کی طرف نہ دیکھو جو ساز و سامان ہم نے ان میں سے مختلف قسم کے لوگوں کو دیا ہے جو دنیا کی زندگی کی شان و شوکت ہے تاکہ ہم اس سے ان کی آزمائش کریں اور تیرے رب کا دیا ہوا رزق خَيْر والا اور باقی رہنے والا ہے۔ (131-20) کہو کہ میرا رب اپنے بندوں میں سے جس کے لیے چاہے رزق کشادہ کرتا ہے اور نپا تُلا کرتا ہے اور جو کوئی بھی چیز تم خرچ کر دیتے ہو تو وہ اس کی جگہ اور دیتا ہے اور وہ خَيْرُ الرَّازِقِين ہے۔ (39-34)
کیا اُنہوں نے نہیں دیکھا کہ الله ہی جس کے لیے چاہے رزق کشادہ کرتا ہے اور جسے چاہے نپا تُلا دیتا ہے۔ بیشک اس میں ایمان لانے والے لوگوں کے لیے نشانیاں ہیں۔ (37-30) سو قربت والے لوگوں کو ان کا حق دو اور مسکینوں کو اور مسافروں کو۔ اس میں خَيْر ہے ان لوگوں کے لیے جو الله کی خوشنودی کا ارادہ رکھتے ہیں اور یہی لوگ فلاح پانے والے ہیں۔ (38-30)
قربت والے لوگوں کو ان کا حق دو اور مسکینوں کو بھی اور مسافروں کو بھی اور اسراف نہ کرو (26-17) کہ اسراف کرنے والے شیطانوں کے بھائی ہیں اور شیطان اپنے رب سے کفر کرنے والا ہے۔ (27-17) اور نہ اپنا ہاتھ اپنی گردن کے ساتھ باندھ کر رکھو اور نہ اسے بالکل کھلا چھوڑ دو کہ پھر تم ملامت زدہ اور حسرت میں مبتلا ہوکر بیٹھ رہو۔ (29-17) بیشک تیرا رب جس کے لیے چاہے رزق کشادہ کرتا ہے اور نپا تُلا کرتا ہے۔ وہ اپنے بندوں سے خَبِيرًا بَصِير ہے۔ (30-17)
Leave a Reply