
زندگی کا کھیل کیسے شروع ہوا؟
انسان کی تخلیق سے پہلے اللہ کی فرشتوں کو ہدایت
ہم نے انسان کو مٹی کے جوہر سے تخلیق کیا۔ (12-23) اور انسان کی تخلیق کی ابتدا مٹی سے شروع کی۔ (7-32) جب تیرے رب نے فرشتوں سے کہا کہ میں مٹی سے بشر تخلیق کرنے والا ہوں۔ (71-38) جب میں اسے مکمل کردوں اور اس میں اپنی روح میں سے پھونک دوں تو تم اسکے آگے سجدہ کرتے ہوئے مسجود ہو جانا۔ (72-38) جب تیرے رب نے فرشتوں سے کہا کہ میں کھنکھناتے سڑے گارے سے بشر تخلیق کرنے والا ہوں۔ (28-15) جب میں اسے مکمل کردوں اور اس میں اپنی روح میں سے پھونک دوں تو تم اسکے آگے سجدہ کرتے ہوئے مسجود ہو جانا (29-15) تو سب کے سب فرشتے سجدے میں مسجود ہو گئے (30-15) سوائے ابلیس کے۔ اس نے سجدہ کرنے والوں میں شامل ہونے سے انکار کر دیا۔ (31-15) اللہ نے فرمایا کہ اے ابلیس! تجھے کیا ہوا کہ تو سجدہ کرنے والوں میں شامل نہ ہوا؟ (32-15) اس نے کہا کہ میں ایسا نہیں ہوں کہ ایسے بشر کو سجدہ کروں جسے تو نے کھنکھناتے سڑے گارے سے پیدا کیا ہے۔ (33-15)
آدمؑ کو خلیفہ بنانے سے پہلے اللہ کا فرشتوں کو حکم اور فرشتوں کا سوال
جب تیرے رب نے فرشتوں سے کہا کہ میں زمین میں خلیفہ بنانے والا ہوں تو انہوں نے کہا کہ کیا تو زمین میں اس کو مقرر کرے گا جو اس میں فساد برپا کرے گا اور کشت و خون کرے گا جبکہ ہم حمد کے ساتھ تیری تسبیح کرتے ہیں اور تیری تقدیس کرتے ہیں۔ اللہ نے فرمایا کہ میں وہ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے۔ (30-2) ہم نے اپنی اس امانت کو آسمانوں کے اور زمین کے اور پہاڑوں کے سامنے پیش کیا تو انہوں نے اس کو اٹھانے سے انکار کردیا اور اس سے ڈر گئے مگر انسان نے اس کو اٹھا لیا۔ (72-33) ہم نے آدم کو سب اسماء سکھائے پھر اس کو فرشتوں کے سامنے پیش کیا اور فرمایا کہ اگر تم سچے ہو تو مجھے یہ اسماء بتاؤ۔ (31-2) انہوں نے کہا کہ تو پاک ہے۔ ہمیں علم نہیں مگر اسی قدر جتنا تو نے ہمیں سکھایا۔ بیشک تو ہی الْعَلِيمُ اور الْحَكِيمُ ہے۔ (32-2) الله نے فرمایا کہ اے آدم ! تم ان کو یہ اسماء بتاؤ۔ پھر جب آدم نے ان کو یہ اسماء بتادیے تو اللہ نے فرمایا کہ کیا میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ بیشک میں ہی جانتا ہوں آسمانوں کے اور زمین کے سب راز اور جانتا ہوں جو تم ظاہر کرتے ہو اور وہ بھی جو تم پوشیدہ کرتے ہو۔ (33-2)
ابلیس کے آدمؑ کو سجدہ نہ کرنے پر اللہ اور ابلیس کے درمیان مکالمہ
سب کے سب فرشتوں نے سجدہ کیا (73-38) سوائے ابلیس کے۔ اس نے تکبر کیا اور کافروں میں سے ہوگیا۔ (74-38) الله نے فرمایا کہ اے ابلیس ! کس نے تجھے سجدہ کرنے سے منع کیا جس کو میں نے اپنے ہاتھوں سے تخلیق کیا؟ کیا تو نے تکبر کیا یا تو اونچے درجے والوں میں سے ہے؟ (75-38) اس نے کہا کہ میں اس سے بہتر ہوں۔ تو نے مجھے آگ سے تخلیق کیا اور اِسے مٹی سے تخلیق کیا۔ (76-38) الله نے فرمایا کہ یہاں سے نکل جا تو رَجِيمٌ ہے (77-38) اور تجھ پر يَوْمِ الدِّينِ تک میری لعنت رہے گی۔ (78-38) اس نے کہا کہ اے میرے رب ! مجھے يَوْمِ يُبْعَثُونَ تک مہلت دی جائے۔ (79-38) الله نے فرمایا کہ بیشک تو ان میں سے ہے جنہیں مہلت دی گئی ہے (80-38) اس دن تک جس کا وقت مقرر ہے۔ (81-38) اس نے کہا کہ مجھے تیری عزت کی قسم میں ان سب کو بہکا کر رہوں گا (82-38) سوائے تیرے ان بندوں کے جو الْمُخْلَصِينَ ہیں۔ (83-38) الله نے فرمایا کہ یہ حق ہے اور میں حق ہی کہا کرتا ہوں (84-38) کہ میں تجھ سے اور ان میں سے جو تیری پیروی کریں گے سب سے جہنم کو بھروں گا (85-38) اور جنت متقیوں کے لیے قریب کردی جائے گی (90-26) اور جہنم گمراہوں کے لیے کھول دی جائے گی (91-26) اور ان سے کہا جائے گا کہ وہ کہاں ہیں جن کی تم عبادت کرتے تھے؟ (92-26) الله کے سوا۔ کیا وہ تمہاری مدد کرسکتے ہیں یا اپنی مدد کرسکتے ہیں؟ (93-26) پھر وہ بھی اور سب گمراہ بھی اس میں اوندھے منہ ڈال دیے جائیں گے۔ (94-26)
اللہ کی آدمؑ کو ابلیس کے بارے نصیحت اور جنت ‘ جنات ‘ انسان بارے بنیادی معلومات
جب ہم نے فرشتوں سے کہا تھا کہ آدم کو سجدہ کرو تو سب نے سجدہ کیا سوائے ابلیس کے۔ اس نے انکار کیا۔ (116-20) تو ہم نے کہا تھا کہ اے آدم ! یہ تیرا اور تیری بیوی کا دشمن ہے سو تمہیں جنت سے نکلوا نہ دے اور تم مشقت میں پڑجاؤ۔ (117-20) جبکہ یہاں تم نہ بھوکے رہتے ہو نہ ننگے رہتے ہو۔ (118-20) اور یہ بھی کہ یہاں تم نہ پیاسے رہتے ہو اور نہ دھوپ ستاتی ہے۔ (119-20) اور یہ حقیقت ہے کہ ہم نے انسان کو کھنکھناتے سڑے گارے سے تخلیق کیا (26-15) اور اس سے بھی پہلے ہم نے بےدھوئیں کی آگ سے جن کو تخلیق کیا تھا۔ (27-15) اور انسان کو وہ علم سکھایا جس کا اس کو علم نہ تھا۔ (5-96) اور جنوں اور انسانوں کو میں نے اس لیے تخلیق کیا ہے کہ صرف میری عبادت کریں۔ (56-51)
ابلیس کا احتجاج اور اللہ کی طرف سے ابلیس کو اختیار اور اختیار دینے کی وجہ
جب ہم نے فرشتوں سے کہا تھا کہ آدم کو سجدہ کرو تو سب نے سجدہ کیا سوائے ابلیس کے۔ اس نے کہا کہ کیا میں سجدہ کروں اس کو جسے تونے مٹی سے تخلیق کیا ہے؟ (61-17) کہنے لگا کہ آپ اسے دیکھیں جس کو آپ نے مجھ پر فضیلت دی ہے؟ اگر يَوْمِ الْقِيَامَةِ تک مجھے مہلت دیں تو میں تھوڑے سے لوگوں کے سوا اسکی اولاد کو قابو میں کرلوں گا۔ (62-17) الله نے فرمایا ! جا۔ جو ان میں سے تیری پیروی کرے گا تو تمہاری جزا جہنم ہی ہوگی بھرپور جزا۔ (63-17) اور ان میں سے جس کو بہکا سکے اپنی آواز سے بہکاتا رہ اور ان پر اپنے سواروں اور پیادوں کو چڑھا کر لاتا رہ اور ان کے مال اور اولاد میں شریک ہوتا رہ اور ان سے وعدے کرتا رہ اور شیطان لوگوں سے صرف دھوکے کے وعدے کرتا ہے۔ (64-17) جو میرے بندے ہیں ان پر تیرا اختیار نہیں چلے گا اور ان کے لیے تیرے رب کا وکیل ہونا کافی ہے۔ (65-17) اور بلاشبہ ابلیس نے ان پر اپنا گمان سچ ثابت کردیا اور انہوں نے اس کی پیروی کی سوائے ایک گروہ کے جو مومنوں کا تھا۔ (20-34) اور اسے ان پر اختیار نہ تھا مگر ہم معلوم کرنا چاہتے تھے کہ کون آخرت پر ایمان رکھتا ہے اور ان میں سے کون اس کے بارے میں شک میں مبتلا ہے اور تیرا رب ہر چیز پر نگراں ہے۔ (21-34) اور جب تیرے رب نے بَنِي آدَمَ میں سے ان کی نسل کو ان کی پشتوں میں سے نکالا تھا تو ان کو خود ان کے نفسوں کے اوپر گواہ بنایا تھا کہ؛ کیا نہیں ہوں میں تمہارا رب؟ انہوں نے کہا تھا کہ؛ جی ہاں۔ ہم گواہی دیتے ہیں۔ اس لیے کہ کہیں تم قیامت کے دن کہو کہ ہم تو اس بات سے بے خبر تھے۔ (172-7) یا تم کہو کہ شرک تو ہم سے پہلے ہمارے آباؤ اجداد نے کیا تھا اور ہم ان کے بعد ان کی نسل میں سے تھے۔ تو کیا پھر تو ان افعال کی وجہ سے جو اہل باطل کرتے رہے ہمیں ہلاک کرے گا؟ (173-7)
اللہ کی طرف سے ابلیس کو دیئے گئے اختیار کے قوائد و ضوابط اور جہنم کا احوال
بیشک ہم نے تمہاری تخلیق کی پھر تمہاری شکل و صورت بنائی پھر فرشتوں سے ہم نے کہا تھا کہ آدم کو سجدہ کرو تو سب نے سجدہ کیا سوائے ابلیس کے۔ وہ سجدہ کرنے والوں میں شامل نہ تھا۔ (11-7) الله نے فرمایا کہ کس نے تجھے سجدہ کرنے سے منع کیا جبکہ میں نے تجھ کو حکم دیا تھا؟ اس نے کہا کہ میں اس سے بہتر ہوں۔ تو نے مجھے آگ سے تخلیق کیا اور اِسے مٹی سے تخلیق کیا۔ (12-7) الله نے فرمایا تو یہاں سے چلا جا اس لیے کہ تجھے شایاں نہیں کہ یہاں غرور کرے پس نکل جا۔ تو ان لوگوں میں سے ہے جو خود اپنی ذلت چاہتے ہیں۔ (13-7) اس نے کہا کہ مجھے يَوْمِ يُبْعَثُونَ تک مہلت دی جائے۔ (14-7) الله نے فرمایا کہ تو ان میں سے ہے جنہیں مہلت دی گئی ہے۔ (15-7)
ابلیس نے کہا چونکہ تونے مجھے بہکایا ہے تو میں تیرے الْمُسْتَقِيمَ راستے پر ان کے لیے ضرور گھات میں لگا رہوں گا۔ (16-7) پھر میں ان کو گھیروں گا انکے آگے سے اور پیچھے سے اور دائیں سے اور بائیں سے اور تو ان میں سے اکثر کو شکر گزار نہیں پائے گا۔ (17-7) الله نے فرمایا کہ یہاں سے نکل جا ذلیل ہوکر اور ٹھکرایا ہوا ہوکر۔ جو ان میں سے تیری پیروی کریں گے تو میں ضرور تم سب سے جہنم کو بھر دوں گا۔ (18-7) الله نے فرمایا کہ تو یہاں سے نکل جا۔ تو رَجِيمٌ ہے (34-15) اور تیرے اوپر يَوْمِ الدِّينِ تک اللَّعْنَةَ ہوگی۔ (35-15) اس نے کہا کہ اے میرے رب ! مجھے يَوْمِ يُبْعَثُونَ تک مہلت دی جائے۔ (36-15) الله نے فرمایا کہ بیشک تو ان میں سے ہے جنہیں مہلت دی گئی ہے (37-15) اس دن تک جس کا وقت مقرر ہے۔ (38-15)
ابلیس نے کہا اے میرے رب ! چونکہ تونے مجھے بہکایا ہے تو میں ضرور ان کے لیے زمین میں زیبائش پیدا کروں گا اور ان سب کو ضرور بہکاؤں گا (39-15) سوائے تیرے ان بندوں کے جو الْمُخْلَصِينَ ہیں۔ (40-15) الله نے فرمایا کہ یہی ہے مجھ تک پہنچنے کا مُسْتَقِيمٌ راستہ۔ (41-15) جو میرے بندے ہیں ان پر تیرا اختیار نہیں چلے گا مگر بہکے ہوؤں میں سے ان پر جو تیری پیروی کریں گے۔ (42-15) اور بیشک ان سب سے جہنم کا وعدہ ہے۔ (43-15) اس کے سات دروازے ہیں۔ ہر ایک دروازے کے لیے ان میں سے حصہ تقسیم شدہ ہے۔ (44-15) اور ابلیس کا لشکر بھی سارے کا سارا۔ (95-26) وہ وہاں کہیں گے جبکہ آپس میں جھگڑ رہے ہوں گے (96-26) کہ الله کی قسم ہم تو یقینا” کھلی گمراہی میں تھے (97-26) کہ ہم تمہیں رب العالمین کے برابر ٹھہراتے تھے (98-26) اور ہم کو ان مجرموں نے ہی گمراہ کیا تھا۔ (99-26) اب ہماری شفاعت کرنے والا کوئی نہیں ہے (100-26) اور نہ کوئی جگری دوست ہے۔(101-26) کاش ! ہمارے لیے پلٹنے کا ایک موقع ہو تو ہم مومنوں میں سے ہوجائیں۔ (102-26)
Leave a Reply