
سخت جھگڑالو اور فساد پھیلانے والے انسان
انسانوں میں سے کوئی شخص تو ایسا ہے کہ اس کی باتیں تم کو دنیا کی زندگی کے اعتبار سے پسند آتی ہیں اور وہ اس پر الله کو گواہ ٹھہراتا ہے جو اسکے دل میں ہے حالانکہ وہ سخت جھگڑالو ہے۔(204-2) اور جب جاتا ہے تو دوڑتا پھرتا ہے زمین میں تاکہ اس میں فساد پھیلائے اور کھیتی کو اور نسل کو تباہ و برباد کردے حالانکہ الله فساد کو پسند نہیں کرتا (205-2) اور جب اس سے کہا جاتا ہے کہ الله سے ڈرو تو اس کو غرورِ نفس گناہ پر آمادہ کرتا ہے سو کافی ہے اس کے لیے جَهَنَّم اور وہ بہت ہی برا ٹھکانہ ہے۔ (206-2)
ایسے لوگوں میں کونسی خامیاں ہوتی ہیں؟
قارون موسٰی کی قوم میں سے تھا اور اس نے ان کے خلاف سرکشی کی اور ہم نے اسے اتنے خزانے دے رکھے تھے کہ اُن کی کنجیاں ایک طاقتور جماعت کے لیے بھی اٹھانا مشکل تھا۔ ایک دفعہ اس سے اس کی قوم نے کہا کہ نہ اترا بیشک الله اترانے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ (76-28) اس نے کہا: حقیقت یہ ہے کہ یہ سب کچھ مجھے اس علم کی بنا پر دیا گیا ہے جو مجھے حاصل ہے۔ کیا وہ نہیں جانتا کہ الله یقینا” اس سے پہلے بہت سی قوموں کو ہلاک کر چکا ہے جس کے لوگ اس سے قوت میں کہیں زیادہ تھے اور جمیعت کے لحاظ سے بھی بہت زیادہ تھے اور ہلاکت کے وقت مجرموں سے ان کے گناہوں کے بارے میں پوچھا نہیں جاتا۔ (78-28) پھر ایک دن وہ اپنی قوم کے سامنے بڑے ٹھاٹھ سے نکلا تو وہ لوگ کہنے لگے جو دنیا کی زندگی کے طالب تھے کہ کاش ہمیں بھی حاصل ہوتا جیسا کچھ قارون کو دیا گیا ہے یقینا” وہ تو بڑا ہی نصیب والا ہے۔(79-28) اور وہ لوگ جنہیں علم دیا گیا تھا کہنے لگے کہ تم پر افسوس ہے الله کا ثواب خَيْر والا ہے اس شخص کے لیے جو ایمان لائے اور صالح عمل کرے اور یہ نعمت نہیں ملتی مگر صبر کرنے والوں کو۔(80-28) آخر کار ہم نے اسے بھی اور اس کے گھر کو بھی زمین میں دھنسا دیا۔ پھر الله کے سوا اس کے لیے کوئی جماعت نہ تھی جو اس کی مدد کرتی اور نہ وہ خود بھی اپنی مدد آپ کرنے والوں میں سے ہو سکا۔ (81-28) اور پھر صبح کے وقت وہ لوگ جو کل تک اُس کے رتبے کی تمنا کر رہے تھے کہنے لگے افسوس ! ہم بھول گئے تھے کہ الله اپنے بندوں میں سے جس کے لیے چاہے رزق کشادہ کرتا ہے اور جسے چاہے نپا تُلا دیتا ہے اور اگر الله نے ہم پر احسان نہ کیا ہوتا تو ہم کو بھی دھنسا دیتا۔ افسوس ! ہم بھول گئے تھے کہ کافر فلاح نہیں پایا کرتے۔ (82-28)
ایسے لوگوں کو کیا کرنا چاہیے؟
اے انسانوں ! اپنے رب سے تعلق قائم کرو جس نے تم کو واحد نفس سے تخلیق کیا اور اسی میں سے تمہارے جوڑے تخلیق کیے اور اسی میں سے کثرت سے مرد اور عورتیں پھیلا دیے۔ سو تعلق قائم رکھو الله سے جس سے مدد طلب کرتے ہو اور خونی رشتہ داروں سے۔ بیشک الله تم پر ہر وقت نگراں ہے۔ (1-4) الله حکم دیتا ہے عدل کا اور احسان کا اور دیتے رہنے کا قرابت داروں کو اور منع کرتا ہے فحاشی سے اور منکر کاموں سے اور سرکشی سے اور تم کو نصیحت کرتا ہے تاکہ تم یاد رکھو۔ (90-16) اور جو الله نے تجھے دے رکھا ہے اس میں سے آخرت کا گھر طلب کر اور دنیا میں سے اپنا حصہ فراموش نہ کر اور بھلائی کر جیسے الله نے تیرے ساتھ بھلائی کی ہے اور زمین میں فساد مچانے کی کوشش نہ کر۔ بیشک الله فساد کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ (77-28) مثال ان لوگوں کی جو اپنا مال الله کی راہ میں خرچ کرتے ہیں ایسی ہے جیسے ایک دانہ اگائے سات بالیں اور ہر بالی میں سو دانے ہوں اور الله جس کے لیے چاہتا ہے زیادہ کرتا ہے اور اللہ وَاسِعٌ عَلِيم ہے۔ (261-2) جو لوگ اپنا مال الله کی راہ میں خرچ کرتے ہیں پھر اس کے بعد وہ نہ اس خرچ کا احسان جتاتے ہیں اور نہ اذیت دیتے ہیں۔ ان کا اجر ان کے رب کے پاس ہے اور ان کے لیے کوئی خوف نہیں ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ (262-2) تم لوگوں سے بات کرتے ہوئے اپنے گال مت پُھلاؤ اور زمین میں اکڑ کر مت چلو۔ بیشک الله ہر اس شخص کو پسند نہیں کرتا جو خود پسند اور فخر کرنے والا ہو۔ (18-31) ایک معروف قول اور در گذر کرنا زیادہ خَيْر والا ہے اس صدقہ سے جس کے دینے کے بعد اذیت دی جائے اور الله غَنِيٌّ حَلِيم ہے۔ (263-2) تو کیا تم سے توقع کی جا سکتی ہے کہ جب تم جاؤ گے تو زمین میں فساد مچاؤ گے اور آپس میں قطع رحمی کرو گے؟ (22-47) یہی ہیں وہ لوگ جن پر الله نے لعنت کی ہے اور انہیں بہرا کردیا ہے اور ان کی آنکھوں کو اندھا کردیا ہے۔ (23-47) وہ لوگ جو کفر کی راہ میں بھاگ دوڑ کر رہے ہیں بیشک یہ الله کو ذرا بھی نقصان نہیں پہنچا سکیں گے۔ الله کا ارادہ یہ ہے کہ ان کے لیے آخرت میں کوئی حصہ نہ رکھے اور ان کے لیے عَذَابٌ عَظِيم ہے۔ (176-3) شیطان نے انکو قابو میں کرلیا ہے اور الله کی یاد انکو بھلا دی ہے۔ یہی لوگ شیطان کی جماعت ہیں۔ جان لو کہ شیطان کی جماعت خسارے میں رہنے والی ہے۔ (19-58)
ایسے لوگوں کا حال و احوال کیا ہوتا ہے؟
وہ لوگ جو الله سے کیے گئے عہد کو میثاق کرنے کے بعد بھی توڑتے ہیں اور اللہ کے اس حکم کو قطع کرتے ہیں جوکہ ان کو ملانے کے لیے ہے اور زمین میں فساد مچاتے ہیں۔ یہی لوگ خسارے میں ہیں۔ (27-2) وہ لوگ جو الله سے کیے گئے عہد کو میثاق کرنے کے بعد بھی توڑتے ہیں اور اللہ کے اس حکم کو قطع کرتے ہیں جوکہ ان کو ملانے کے لیے ہے اور زمین میں فساد مچاتے ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جن پر اللَّعْنَة ہے اور ان کے لیے سُوءُ الدَّار ہے۔ (25-13) ان لوگوں کی یہی سزا ہے جو جنگ کرتے ہیں الله سے اور اس کے رسول سے اور بھاگ دوڑ کرتے ہیں زمین میں فساد مچانے کی کہ قتل کیے جائیں یا سولی چڑھائے جائیں یا کاٹے جائیں ان کے ہاتھ اور پاؤں مخالف سمتوں سے یا نکال دیئے جائیں ملک سے۔ یہ ان کے لیے دنیا میں ذلت و خواری ہے اور ان کے لیے آخرت میں عَذَابٌ عَظِيم ہے۔ (33-5) کیا تم نے نہیں دیکھا کہ تمہارے رب نے عاد کے ساتھ کیا برتاؤ کیا؟ (6-89) جو ارم کہلاتے تھے اور دراز قد تھے۔ (7-89) وہ کہ تمام ملک میں ان جیسے پیدا نہیں ہوئے تھے۔ (8-89) اور ثمود کے ساتھ جو وادی میں سخت چٹانوں کو تراشتے تھے۔ (9-89) اور فرعون کے ساتھ جو خیمے اور میخیں رکھتا تھا۔ (10-89) یہ لوگ ملک میں سرکش ہو رہے تھے (11-89) اور ان میں سے اکثر فساد پھیلاتے تھے (12-89) تو تمہارے رب نے ان پر عذاب کا کوڑا نازل کیا۔ (13-89) بیشک تمہارا رب گھات لگائے ہوئے ہے۔ (14-89) انسانوں کے ہاتھوں کی کمائی کی وجہ سے خشکی اور تری میں فساد پھیل رہا ہے اس لیے انہیں ان کے بعض اعمال کا ذائقہ چکھائے تاکہ شاید وہ باز آجائیں۔ (41-30) جو زمین میں فساد مچاتے ہیں اور اصلاح نہیں کرتے۔ (152-26)
ایسے لوگوں کا آخرت میں کیا انجام ہوگا؟
کیا ہم ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور انہوں نے صالح عمل کیے ان لوگوں کی طرح کردیں گے جو زمین میں فساد کرتے ہیں یا ہم متقیوں کو فاجروں کی طرح کر دیں گے؟ (28-38) وہ آخرت کا گھر ہم اُن لوگوں کے لیے خاص کردیں گے جو زمین میں بڑا بننے اور فساد کرنے کا ارادہ نہیں رکھتے اور بھلا انجام تو متقیوں ہی کا ہے۔ (83-28) وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا اور لوگوں کو الله کی راہ سے روکتے رہے ہم انہیں دوسرے عذاب سے بڑھ کر زیادہ عذاب دیں گے اس بنا پر کہ وہ فساد برپا کرتے تھے۔ (88-16) الله نے ان کے دلوں اور کانوں پر مہر لگا دی ہے اور ان کی آنکھوں پر پردہ ہے اور ان کے لیے عَذَابٌ عَظِيم ہے۔ (7-2)
Leave a Reply