
سندھ اور پنجاب میں اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں کا سیاسی کردار (1947–2025)
ڈاکٹر مسعود طارق
آزاد سیاسی محقق
کراچی ‘ پاکستان
drmasoodtariq@gmail.com
تاریخ: 30 مئی 2025
——————————————–
خلاصہ
یہ تحقیقی مقالہ پاکستان میں اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں کی اسٹریٹیجک سیاسی تحریک اور ان کے سندھ و پنجاب میں نسلی تنازعات کو ھوا دینے والے کردار کا تجزیہ کرتا ھے۔
مقالہ میں 1947 سے لے کر حال تک کی تاریخی و سماجی اور سیاسی صورتحال کا جائزہ لیا گیا ھے۔ جس میں اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں کی سیاسی وابستگیوں میں آنے والی تبدیلیوں اور ان کی نسلی صف بندیوں—خاص طور پر سندھیوں ‘ پنجابیوں ‘ پٹھانوں اور بلوچوں—پر اثرات کا تجزیہ کیا گیا ھے۔
آبادیاتی اعداد و شمار ‘ سیاسی تاریخ اور علمی حوالہ جات کی مدد سے یہ مقالہ یہ دلیل پیش کرتا ھے کہ؛ اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں کی مختلف قومی تحریکوں میں بار بار کی جانے والی سیاسی صف بندیاں ‘ نسلی تقسیم اور علاقائی عدم استحکام کا باعث بنی ھیں۔
یہ مقالہ تجویز کرتا ھے کہ؛ یہ صف بندیاں خود رو نہیں تھیں۔ بلکہ اکثر سیاسی منصوبہ بندی کے تحت کی گئیں۔ تاکہ لسانی قوم پرستی کی قدرتی نشوونما کو روکا جا سکے جبکہ اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں کی بالادستی برقرار رکھی جائے۔
——————————————–
فہرست مضامین
1۔ تعارف
2۔ ابتدائی پاکستان میں مھاجر بالادستی
3۔ سندھ میں مھاجر تحریک اور لسانی تنازعات
4۔ پنجاب کی خاموش ناراضگی اور ثقافتی بے دخلی
5۔ MQM ‘ لسانی قوم پرستی اور لسانی سیاست کا عسکری رخ
6۔ عصرِ حاضر کی صورتِ حال اور لسانی تصادم کے نئے مراکز کا ظہور
7۔ پنجاب میں MPPM کے مشابہ حکمت عملی کا اعادہ: PTI اور نئے اتحاد
8۔ آبادیاتی جائزہ: 2017 کی مردم شماری میں اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر
9۔ اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں کی سیاسی وابستگیاں (1947–2025)
10۔ ریاستی حکمت عملی اور میڈیا کا کردار
11۔ نتیجہ
——————————————–
1۔ تعارف
1947 کی تقسیم کے دوران اور بعد میں اردو بولنے والے ھندوستانی مسلمانوں کی پاکستان منتقلی نے ایک نوزائیدہ ریاست میں پیچیدہ آبادیاتی ‘ سیاسی اور لسانی حالات کو جنم دیا (Ansari 2011)۔
اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر جو بنیادی طور پر کراچی ‘ حیدرآباد ‘ لاھور اور راولپنڈی جیسے شھری مراکز میں آباد ھوئے۔ اپنے بیوروکریسی کے تجربے ‘ شھری تعلیمی اداروں اور سول و ملٹری اشرافیہ میں غلبہ حاصل کر لینے کے باعث تیزی سے بااثر بن گئے (Alavi 1988؛ Talbot 1998)۔
تاھم ‘ ان کا سیاسی سفر اسٹریٹیجک صف بندیوں کے ایک ایسے تسلسل کی نشاندھی کرتا ھے۔ جس نے سندھ اور پنجاب میں لسانی تعلقات پر گہرے اور دیرپا اثرات مرتب کیے۔
پنجابی پاکستان کی سب سے بڑی لسانی آبادی ھیں۔ لیکن قیام پاکستان کے بعد سے وہ زیادہ تر زراعت ‘ تجارت ‘ دکان داری ‘ سرکاری و نجی ملازمتوں ‘ ھنرمندی کے شعبوں اور مویشی پالنے و سنبھالنے تک محدود رھے۔ پنجابیوں نے کبھی سیاست کا کھیل نہ سیکھا اور نہ کھیلا (Shaikh 2009)۔
اس کے برعکس اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر بیوروکریسی ‘ صحافت اور سیاست میں کلیدی کردار ادا کرتے ھوئے شھری پالیسی سازی پر حاوی رھے (Alavi 1988)۔ یوں پاکستان میں سیاست کا کھیل درحقیقت اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں نے کھیلا۔
چونکہ تعلیم ‘ صحت ‘ صنعت ‘ تجارت ‘ سیاست ‘ صحافت کی سہولتیں بڑے شھروں میں ھی ملتی ھیں۔ ملک کے بڑے شھروں میں رھنے والے ملک کی پالیسی بنایا کرتے ھیں۔ ملک کے بڑے شھروں کو کنٹرول کرنے کا مطلب ملک کو کنٹرول کرنا ھے۔ ملک کو کنٹرول کرنے کے لیے میڈیا کو کنٹرول کرنا اور جلسے جلوس کرنا ضروری ھے (Verkaaik 2004)
——————————————–
2۔ ابتدائی پاکستان میں مھاجر بالادستی
قیامِ پاکستان کے وقت پاکستان کی سیاسی اور انتظامی اشرافیہ کی اکثریت اردو بولنے والے شمالی ھندوستانی مسلم پس منظر سے تعلق رکھتی تھی۔ نو قائم شدہ ریاستِ پاکستان ‘ خصوصاً سندھ میں ‘ مقامی اشرافیہ کی عدم موجودگی کے باعث ریاستی ڈھانچہ جلد ھی اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں کے زیرِ اثر آ گیا (Jalal 1990)۔
کراچی ‘ جسے وفاقی دارالحکومت قرار دیا گیا۔ اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں کی بنیادی آماجگاہ بن گیا۔ یہ مھاجر برصغیر کے مسلمانوں میں سب سے زیادہ خواندہ ‘ برطانوی ھند کے انتظامی تجربے کے حامل اور نوآبادیاتی طرزِ حکمرانی سے ثقافتی طور پر مانوس تھے (Ahmed 1998)۔
اس ابتدائی بالادستی کو اس حقیقت نے مزید مستحکم کیا کہ؛ اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں نے بالخصوص شھری سندھ میں نقل مکانی کر جانے والے ھندوؤں کی چھوڑی ھوئی جائیدادوں پر قبضہ کر لیا۔ تعلیم ‘ ذرائع ابلاغ اور سول سروس پر ان کا کنٹرول انہیں مقامی سندھی آبادی کے مقابلے میں ایک نمایاں برتری فراھم کرتا تھا ‘ جس کی قیادت زیادہ تر دیہی ‘ جاگیردار اور کم شھری نوعیت کی تھی (Talbot 2009)۔
پنجاب میں اگرچہ اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر عددی اعتبار سے اکثریت میں نہیں تھے۔ تاھم وہ لاھور ‘ راولپنڈی ‘ فیصل آباد ‘ گوجرانوالہ ‘ سیالکوٹ ‘ سرگودھا ‘ ملتان اور بہاولپور جیسے شہروں میں اھم بیوروکریٹک عہدوں پر فائز رھے اور انہوں نے زبان کی پالیسیوں اور ریاستی بیانیے پر گہرا اثر ڈالا (Khan 2010)۔
——————————————–
3۔ سندھ میں مھاجر تحریک اور لسانی تنازعات
پاکستان کے بدلتے ھوئے سیاسی منظرنامے اور ابھرتے ھوئے علاقائی مطالبات کے دوران 1969 میں اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں نے سندھ میں مھاجر ‘ پنجابی ‘ پٹھان متحدہ محاذ (MPPM) کی تشکیل میں کلیدی کردار ادا کیا۔ اگرچہ یہ اتحاد بظاھر ایک کثیرالنسلی شھری اتحاد تھا۔ لیکن دراصل اسے سندھی قوم پرستی ‘ بالخصوص سندھی زبان کی سرکاری حیثیت کے مطالبے کے خلاف بنایا گیا تھا (Shaikh 2009)۔
یہ محاذ اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر نواب مظفر حسین کی قیادت میں قائم کیا گیا۔ جس کا مقصد اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں ‘ پنجابیوں اور پٹھانوں کو سندھیوں کے خلاف متحد کرنا تھا۔ 1969 سے 1986 تک مھاجر ‘ پنجابی ‘ پٹھان متحدہ محاذ (MPPM) نے جلسوں ‘ جلوسوں ‘ مظاھروں ‘ ھنگاموں ‘ جلاؤ ‘ گھیراؤ ‘ دنگا ‘ فساد کے ذریعے سندھ میں اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں کی سیاسی و سماجی برتری قائم رکھنے کی کوشش کی (Ansari 2011)۔
1972 کے لسانی فسادات سندھ میں بین النسلی تنازع کی اولین اور پرتشدد مثالوں میں سے ایک تھے۔ جب سندھی زبان بل منظور کیا گیا — جس کے تحت سندھی کو صوبے کی سرکاری زبان قرار دیا گیا — تو کراچی اور حیدرآباد کی اردو بولنے والی آبادی نے اس قانون کے خلاف شدید احتجاج کیا۔ ان کے نزدیک یہ قانون ان کی ثقافتی شناخت اور انتظامی اثر و رسوخ کے لیے وجودی خطرہ تھا (Ahmed 1998)۔
سندھی قوم پرستوں اور مھاجر نوجوان گروھوں کے درمیان جھڑپوں کے نتیجے میں درجنوں افراد ھلاک ھوئے اور نسلی تقسیم مزید گہری ھو گئی۔ اس دور میں مھاجر ‘ پنجابی ‘ پٹھان متحدہ محاذ (MPPM) کی جانب سے کی جانے والی احتجاجی مہموں نے نہ صرف بین النسلی تشدد کو بڑھایا۔ بلکہ سندھی نوجوانوں کو شدت پسندی کی طرف بھی راغب کیا۔ جس کے نتیجے میں جی ایم سید کی قیادت میں 1972 میں “جئے سندھ محاذ” کا قیام عمل میں آیا (Ansari 2011, 139–142)۔
یہ تصادم سندھی معاشرے سے پنجابیوں اور پٹھانوں کی بیگانگی کا سبب بنا۔ جس کے نتیجے میں وہ سندھ کے سماجی و سیاسی دھارے میں طویل مدت تک ضم نہ ھو سکے۔ سندھ ‘ جو تقسیمِ ھند کے بعد نسبتاً ایک کثیر النسلی صوبہ رھا تھا۔ اب شہری مراکز—خصوصاً کراچی اور حیدرآباد—میں بڑھتی ھوئی لسانی تقسیم کا مشاھدہ کرنے لگا۔ (Shaikh 2009)۔
——————————————–
4۔ پنجاب کی خاموش ناراضگی اور ثقافتی بے دخلی
اگرچہ اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں اور پنجابیوں کے درمیان کھلا تصادم سندھ کی طرح واضح طور پر سامنے نہیں آیا۔ لیکن شھری پنجاب ‘ خاص طور پر لاھور میں ایک خاموش اور طویل المدتی ثقافتی بے دخلی کا عمل ضرور وقوع پذیر ھوا۔
ریاست کی جانب سے اردو کو قومی زبان کے طور پر فروغ دینے کا منصوبہ — جو اردو بولنے والی ھندوستانی مھاجر اشرافیہ کے زیرِ اثر تھا — پنجابی زبان اور ثقافت کو منظم انداز میں حاشیے پر دھکیلنے کا سبب بنا (Khan 2010)۔
اردو کو جدت ‘ قوم پرستی اور سماجی ترقی کی علامت کے طور پر پیش کیے جانے سے تعلیمی اداروں ‘ ذرائع ابلاغ اور اعلیٰ طبقے کے حلقوں میں پنجابی زبان بتدریج مٹتی چلی گئی۔
اکثریتی قوم ھونے کے باوجود پنجابیوں کو یہ سکھایا گیا کہ؛ اردو نہ صرف اتحاد کی علامت ھے بلکہ شائستگی اور مہذب ھونے کی نشانی بھی ھے — اور اس عمل نے بالواسطہ طور پر ان کی اپنی لسانی اور ثقافتی شناخت کے زوال میں کردار ادا کیا (Zaidi 2015)۔
اس رجحان نے پنجابی دانشوروں اور قوم پرستوں کے اندر ایک خاموش ناراضی کو جنم دیا۔ جن میں سے کچھ نے بعد میں پنجابی ادب ‘ موسیقی اور تعلیم کے احیاء کے لیے چلنے والی تحریکوں میں شمولیت اختیار کی۔
——————————————–
5۔ MQM ‘ لسانی قوم پرستی اور لسانی سیاست کا عسکری رخ
1980 کی دھائی کے آخر تک مھاجر قومی موومنٹ (MQM) سندھ میں ایک مضبوط سیاسی قوت بن چکی تھی۔ جو کراچی اور حیدرآباد کے شھری علاقوں میں اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں کی نمائندگی کرتی تھی۔
مھاجر قومی موومنٹ (MQM) نے مھاجر حقوق کے تحفظ کے لیے ایک علیحدہ انتظامی اکائی (جسے اکثر “شہری سندھ” کہا جاتا ھے) کے قیام کی وکالت کی (Gayer 2014)۔
تاھم ‘ MQM کی جارحانہ بیان بازی اور پرتشدد طرزِ سیاست نے دیگر لسانی گروھوں—خاص طور پر سندھیوں اور پختونوں—کو بدظن کیا اور ریاستی آپریشنز کو دعوت دی (Nasr 1994)۔
مھاجر قومی موومنٹ (MQM) کے عروج نے سندھی قوم پرست جماعتوں کو بھی دوبارہ فعال ھونے پر مجبور کیا۔ جنہوں نے نوآبادیاتی ناانصافی اور قیامِ پاکستان کے بعد محرومی جیسے تاریخی بیانیوں کو اپنے مطالبات کے لیے نئے سرے سے استعمال کیا۔
پنجاب میں MQM کے عروج اور اس کی پنجابی اکثریتی فوج و اسٹیبلشمنٹ پر تنقید نے لسانی بیانیوں کو مزید پیچیدہ بنا دیا۔ کیونکہ اس سے پاکستان کے طاقت کے ڈھانچے میں موجود دراڑیں تو بے نقاب ھوئیں۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ حقیقت بھی چھپ گئی کہ خود مھاجر بھی ماضی میں کافی مراعات یافتہ تھے (Ahmed 1998)۔
——————————————–
6۔ عصرِ حاضر کی صورتِ حال اور لسانی تصادم کے نئے مراکز کا ظہور
21ویں صدی میں کراچی ایک غیر مستحکم کثیر النسلی شھر بن چکا ھے۔ جہاں مھاجر ‘ سندھی ‘ پنجابی ‘ پٹھان اور بلوچ آبادیوں کے درمیان سیاسی کنٹرول کے لیے شدید مقابلہ جاری ھے۔
شھر کی حالیہ تاریخ میں شھری تشدد ‘ بھتہ خوری کے نیٹ ورک اور سیاسی ٹارگٹ کلنگز نمایاں رھی ھیں۔ اگرچہ MQM کا اثر و رسوخ کم ھو چکا ھے۔ لیکن وہ محرومیاں جنہوں نے اس کی طاقت کو جنم دیا تھا۔ آج بھی حل طلب ھیں (Gayer 2014)۔
پنجاب میں ایک خاموش ثقافتی احیاء جاری ھے۔ تعلیمی اقدامات ‘ سول سوسائٹی گروہ اور نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی تحریکیں پنجابی زبان اور تاریخ کو دوبارہ اپنانے میں مصروف ھیں اور دھائیوں پر محیط اردو مرکزیت پر مبنی ریاستی بیانیے کو چیلنج کر رھی ھیں۔
پنجابی ماھرین تعلیم میں اس بات کا بڑھتا ھوا ادراک پایا جاتا ھے کہ ان کی ثقافتی پسپائی صرف اندرونی غفلت کا نتیجہ نہیں تھی۔ بلکہ یہ ان ساختیاتی پالیسیوں کا بھی اثر تھی جو اردو بولنے والی اشرافیہ کی ابتدائی بالادستی سے جڑی ھوئی تھیں (Zaidi, 2015; Pasha, 2018)۔
——————————————–
7۔ پنجاب میں MPPM کے مشابہ حکمت عملی کا اعادہ: PTI اور نئے اتحاد
اگست 2016 میں جب MQM پر ریاست مخالف سرگرمیوں کے باعث پابندی لگی تو اردو بولنے والی ھندوستانی مھاجر اشرافیہ نے پاکستان تحریک انصاف (PTI) کی حمایت شروع کر دی۔ پٹھان سیاسی رھنما عمران خان کی قیادت میں پنجاب میں رھنے والے اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں ‘ پٹھانوں اور بلوچوں کو پنجابیوں کے ساتھ محاذآرائی شروع کرنے کے لیے متحرک کیا جانے لگا۔
سندھ میں MQM کے زوال کے بعد اردو بولنے والی ھندوستانی مھاجر اشرافیہ نے پنجاب میں مھاجر ‘ پنجابی ‘ پٹھان متحدہ محاذ (MPPM) کے مشابہ حکمت عملی اپنائی۔ پنجاب میں رھنے والے اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں کے ذریعے پاکستان تحریک انصاف (PTI) کو سپورٹ کرنا شروع کردیا۔ پٹھانوں اور بلوچوں کو ساتھ ملا کر اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں نے PTI کو لاھور ‘ راولپنڈی اور پنجاب کے دیگر بڑے شھروں میں منظم کرنا شروع کردیا۔ (Shah 2021)۔
پاکستان تحریک انصاف (PTI) کی حمایت دراصل اردو بولنے والی ھندوستانی مھاجر اشرافیہ کی پنجاب میں مقامی پنجابی سیاسی قیادت کو کمزور کرنے کی ایک حکمت عملی تھی۔ 2016 سے 2024 کے دوران لاھور ‘ راولپنڈی اور پنجاب کے دیگر بڑے شھروں میں احتجاج ‘ ریلیاں اور بدامنی اس کوشش کا حصہ تھیں کہ پنجاب میں پنجابی سیاسی اثر و رسوخ کو محدود کیا جا سکے۔
اردو بولنے والی ھندوستانی مھاجر اشرافیہ نے سندھ میں مھاجر ‘ پنجابی ‘ پٹھان متحدہ محاذ (MPPM) کے پلیٹ فارم پر مھاجروں ‘ پنجابیوں ‘ پٹھانوں کو سندھیوں کے خلاف متحرک کیا تھا اور قیادت اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر نواب مظفر حسین نے کی تھی۔ جبکہ پنجاب میں پاکستان تحریک انصاف (PTI) کے پلیٹ فارم پر پٹھانوں ‘ بلوچوں ‘ مھاجروں کو پنجابیوں کے خلاف متحرک کیا اور قیادت پٹھان عمران خان سے کروائی۔ لیکن اس نے پنجاب میں پنجابی قوم پرستی کی لہر کو جنم دیا—ایک رجحان جسے قیام پاکستان کے بعد ریاستی سطح پر مسلم قوم پرستی کے نام پر دبا دیا گیا تھا۔
پاکستان میں پنجابی یا سندھی رھنماؤں کی قیادت تسلیم کرنا کبھی بھی اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں کے سماجی مزاج اور سیاسی مفادات کے مطابق نہیں رھا ھے۔ اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں کی یہ سیاسی حکمت عملی رھی ھے کہ؛ وہ پنجابی یا سندھی قیادت کے ساتھ صرف اس صورت میں صف بندی کرتے ھیں۔ جب اسے سیاسی طور پر فائدہ مند سمجھتے ھیں۔ یہ ایک تاریخی سیاسی حقیقت ھے (Alavi 1988)۔
اردو بولنے والی ھندوستانی مھاجر اشرافیہ نے سندھ میں سندھیوں کے خلاف آزمائی گئی مھاجر ‘ پنجابی ‘ پٹھان متحدہ محاذ (MPPM) والی حکمت عملی پنجاب میں پنجابیوں کے خلاف اپنائی۔ شھری علاقوں میں بین النسلی اتحاد قائم کیے ‘ مقبول سیاسی جماعتوں جیسے PTI سے مفاھمت کی اور بلاواسطہ طور پر پنجاب میں پنجابی اکثریت کے سیاسی اثر و رسوخ کو کمزور کرنا شروع کردیا۔
لہٰذا سندھ میں اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں کے پنجابی اور پٹھان اتحادیوں کے ساتھ سندھیوں کی طرف سے شروع ھونے والی محاذآرائی کی طرح پنجاب میں بھی اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں کے پٹھان اور بلوچ اتحادیوں کے ساتھ پنجابیوں کی طرف سے محاذآرائی شروع ھوگئی۔ اس نے پنجاب میں پٹھانوں اور بلوچوں کو سیاسی نقصان پہنچانا شروع کردیا۔ جوکہ اردو بولنے والی ھندوستانی مھاجر اشرافیہ کی سیاسی چالوں اور پنجابیوں کے قوم پرستی والے ردِعمل کے تصادم میں پھنس چکے تھے (Shah 2021)۔
تازہ تجزیے بتاتے ھیں کہ؛ عمران خان اور PTI نے MQM کے شھری علاقوں کو متحرک رکھنے والے حربوں؛ مقبول بیانیہ ‘ ریاستی اداروں سے ٹکراؤ اور سڑکوں پر احتجاج کو بڑی حد تک اپنا لیا ھے۔ اس سے سوال پیدا ھوتا ھے کہ PTI کیا MQM کی شھری سیاست کے احتجاجی ماڈل کا تسلسل بن چکی ھے یا ارتقا ھے—لیکن اب پاکستان کی سطح پر اور پشتون چہرے کے ساتھ (Fair 2022)۔
اس زاویے سے دیکھا جائے تو عمران خان صرف ایک مقبول سیاسی رھنما نہیں بلکہ ایک گہرے سیاسی منصوبے کا مہرہ ھے۔ جو پنجاب میں بدامنی کرنے کے لیے اردو بولنے والی ھندوستانی مھاجر اشرافیہ کے ھاتھوں استعمال ھو رھا ھے۔ پنجاب میں پنجابی اکثریت کو زیر اثر رکھنے کے لیے پٹھان اور بلوچ اقلیتوں کا سیاسی استعمال “تقسیم کرو اور حکومت کرو” کی پالیسی کی یاد دلاتا ھے۔ جیسا کہ نوآبادیاتی اور بعد از نوآبادیاتی سیاست میں رائج تھا۔
——————————————–
8۔ آبادیاتی جائزہ: 2017 کی مردم شماری میں اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر
2017 کی مردم شماری میں اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر کل آبادی کا تقریباً 7.08 فیصد تھے۔ ان کی صوبہ وار تقسیم درج ذیل تھی:
پنجاب: 5,356,464
کراچی: 5,278,245
دیہی سندھ: 3,431,356
خیبر پختونخوا: 274,581
اسلام آباد: 244,966
بلوچستان: 99,913
سابق فاٹا: 24,465
(پاکستان بیورو آف سٹیٹسٹکس 2017)
یہ اعداد و شمار ظاھر کرتے ھیں کہ اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر پاکستان کے شھری ‘ سیاسی اور بیوروکریٹک مراکز میں اسٹریٹیجک پوزیشن میں ھیں۔
2017 کی مردم شماری کے مطابق پاکستان کے ان پانچ شھروں کی آبادی دو ملین سے زیادہ تھی؛
کراچی: 14,916,456
لاھور: 11,126,285
فیصل آباد: 3,204,726
راولپنڈی: 2,098,231
گوجرانوالہ: 2,027,001
ان شھروں کی کل آبادی 33.3 ملین تھی۔ جن میں؛
15 ملین پنجابی تھے۔
10 ملین اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر تھے۔
5 ملین سندھی ‘ بلوچ ‘ براھوئی و دیگر نسلی گروہ تھے۔
3.3 ملین پٹھان تھے۔
کراچی پر مکمل کنٹرول کے علاوہ لاھور— جو پاکستان کا دوسرا سب سے بڑا شھر ھے— یو پی اور سی پی سے آنے والی مذھبی و فرقہ وارانہ لہروں کا مرکز ھے۔ یہ شھر مذھبی انتہا پسندی کے خلاف ترقی پسند تحریکوں کا مرکز بھی رھا۔ جنہوں نے “ترقی پسندی” کے پردے میں اردو زبان کے فروغ کو جارحانہ انداز میں اپنایا (Talbot 1998)۔
——————————————–
9۔ اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں کی سیاسی وابستگیاں (1947–2025)
اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں کی سیاسی وابستگیاں ‘ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں طاقت کے مراکز سے بدلتی صف بندیوں کا مظہر ھیں:
1۔ 1947–1951: لیاقت علی خان کی پیروی ‘ جو پاکستان کا پہلا وزیر اعظم اور اردو بولنے والا ھندوستانی مھاجر رھنما تھا۔ اس کے قتل کے بعد اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں کے اثر و رسوخ میں کمی آئی۔
2۔ 1951–1986: مولانا ابو الاعلیٰ مودودی اور جماعت اسلامی کی حمایت ‘ جو فوجی حکمرانی کے دور میں اسلام ازم کی طرف جھکاؤ ظاھر کرتی ھے۔
3۔ 1986–2000: الطاف حسین اور مھاجر قومی موومنٹ (MQM) کی حمایت ‘ جو شھری سندھ میں مھاجر شناخت کا سیاسی اظہار بنی۔
4۔ 2000–2018: پرویز مشرف کی حمایت ‘ جو ایک اردو بولنے والا مھاجر آمر فوجی حکمران تھا۔
5۔ 2018–2025: عمران خان اور PTI کی حمایت ‘ کیونکہ مھاجر قیادت کا فقدان ھے۔ اس لیے پٹھان رھنما کے ساتھ سیاسی وابستگی اختیار کی گئی۔
یہ تمام مراحل ایک سوچے سمجھے سیاسی عمل کی عکاسی کرتے ھیں۔ جس میں علاقائی یا لسانی مفاھمت کے بجائے قومی طاقت کے مراکز سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کی گئی۔ ان وابستگیوں نے بار بار سندھ اور پنجاب میں لسانی مسائل کو شدت دی (Shah 2021)۔
یہ وابستگیاں ایک عملی اور اکثر موقع پرستانہ طرزِ عمل کی نشان دھی کرتی ھیں۔ جس میں اردو بولنے والی ھندوستانی مھاجر اشرافیہ بار بار غالب سیاسی تحریکوں کے ساتھ اس لیے اتحاد کرتی ھے تاکہ ادارہ جاتی اثر و رسوخ حاصل کیا جا سکے۔ چاھے اس کے نتیجے میں بین النسلی ھم آھنگی کو نقصان ھی کیوں نہ پہنچے (Shaikh, 2009)۔
——————————————–
10۔ ریاستی حکمت عملی اور میڈیا کا کردار
ریاستی ادارے ‘ خاص طور پر عسکری اور انٹیلیجنس حلقے ‘ اکثر اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں کو Strategic Assets کے طور پر دیکھتے رھے۔ جنہیں مقامی قومیتوں کے خلاف ایک توازن قائم رکھنے کے لیے استعمال کیا جاتا رھا۔ پنجاب میں اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں اور غیر پنجابی آبادیوں کو پنجابی قوم پرستی کے بڑھتے ھوئے رجحان کے خلاف بطور “بفر” استعمال کرنے کی کوشش کی گئی۔ یہی پالیسی سندھ اور بلوچستان میں بھی آزمائی گئی۔ جس سے وھاں کے سیاسی تناؤ میں اضافہ ھوا۔
ریاستی میڈیا اور سوشل میڈیا نیٹ ورکس کے ذریعے اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر حلقوں کو پنجاب میں پنجابی قوم پرستی ‘ پنجابی زبان اور پنجابی ثقافت کے احیاء کے خلاف ایک متبادل بیانیہ فراھم کیا جاتا رھا۔ ان بیانیوں میں پنجابی ثقافت کو تنگ نظری یا علیحدگی پسندی کے ساتھ جوڑ کر پیش کیا جاتا رھا۔ تاکہ اردو قومی شناخت کو ایک “قومی وحدت” کے طور پر غالب رکھا جا سکے۔ اس حکمت عملی کا مقصد نہ صرف مقامی قوم پرستی کو دبانا رھا بلکہ ان حلقوں کو ریاست کے قریب رکھنا بھی رھا۔ تاکہ ممکنہ سیاسی بغاوت یا الگ شناخت کے رجحان کو روکا جا سکے۔
——————————————–
11۔ نتیجہ
اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں کی 1947 کے بعد سے سیاسی تحریکیں ایک سوچے سمجھے منصوبے کی عکاسی کرتی ھیں۔ جس کا مقصد شھری علاقوں میں بالادستی حاصل کرنا تھا — اور یہ حکمتِ عملی عموماً وقتی اتحادوں ‘ بیانیے کی تشکیل اور بیوروکریسی میں جڑیں بنانے کے ذریعے حاصل کی گئی۔ یہ حکمتِ عملی ‘ لسانی ھم آھنگی اور مقامی نمائندگی کو بڑھانے کے بجائے ‘ لسانی تقسیم کو مزید گہرا کرتی چلی گئی۔ جس سے مسلسل عدم استحکام اور تصادم کی فضا پیدا ھوئی۔
اس حکمتِ عملی کے نتیجے میں سندھ اور پنجاب جیسے صوبوں میں مقامی نسلی آبادیوں کو منظم طریقے سے پسماندہ کیا گیا۔ ان کی خودمختاری متاثر ھوئی اور جمہوری توازن بگڑ گیا۔ بیوروکریسی ‘ میڈیا اور تعلیمی اداروں پر غیر متناسب اثر و رسوخ کے ذریعے اردو بولنے والی ھندوستانی مھاجر اشرافیہ نے پاکستان کے سب سے زیادہ لسانی طور پر متنوع علاقوں میں سیاسی توازن کو نقصان پہنچایا۔
اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر — جو کبھی پاکستان کی بیوروکریسی ‘ میڈیا اور علمی اشرافیہ کی ریڑھ کی ھڈی سمجھے جاتے تھے—کے کردار کا تنقیدی جائزہ لینا ناگزیر ھے۔ اگرچہ پاکستان کی ابتدائی ترقی میں ان کی خدمات ناقابلِ تردید ھیں۔ لیکن وہ مراعات بھی حقیقت ھیں جو انہیں حاصل رھیں (Jalal, 1990)۔
پاکستان کے لسانی تنازعات کو سمجھنے کے لیے ضروری ھے کہ؛ ھم اُس سادہ بیانیے سے آگے بڑھیں جو صرف پنجابی فوج یا سندھی جاگیردار اشرافیہ کو موردِ الزام ٹھہراتا ھے۔ پائیدار حل اس وقت تک ممکن نہیں جب تک ماضی کی تاریخی ناانصافیوں کو صاف صاف تسلیم نہ کیا جائے اور لسانی مساوات ‘ تاریخی انصاف اور جامع طرزِ حکمرانی پر مبنی ٹھوس اصلاحات نہ کی جائیں۔ اگر اس سمت میں کوئی تبدیلی نہ آئی تو پاکستان میں دیرپا ھم آھنگی کا خواب ایک غیر یقینی امکان ھی بنا رھے گا۔
——————————————–
References
Ahmed, Feroz. Ethnicity and Politics in Pakistan. Karachi: Oxford University Press, 1998.
Alavi, H. (1988). Pakistan and Islam: Ethnicity and Ideology. Oxford University Press.
Ansari, Sarah. Life after Partition: Migration, Community and Strife in Sindh 1947–1962. Oxford University Press, 2005.
Gayer, Laurent. Karachi: Ordered Disorder and the Struggle for the City. Oxford University Press, 2014.
Jalal, Ayesha. The State of Martial Rule: The Origins of Pakistan’s Political Economy of Defence. Cambridge University Press, 1990.
Kennedy, Charles H. Bureaucracy in Pakistan. Karachi: Oxford University Press, 1987.
Khan, M. A. The Politics of Language in Pakistan. Oxford University Press, 2010.
Nasr, Vali. The Vanguard of the Islamic Revolution: The Jama’at-i Islami of Pakistan. University of California Press, 1994.
Pasha, Hafeez. Growth and Inequality in Pakistan: Agenda for Reforms. Friedrich-Ebert-Stiftung, 2018.
Shah, S. A. (2021). Ethnic Conflict and Political Mobilization in Pakistan. South Asia Journal of Political Science.
Shaikh, F. (2009). Making Sense of Pakistan. Columbia University Press.
Talbot, Ian. Pakistan: A Modern History. Hurst & Company, 2009.
Verkaaik, O. (2004). Migrants and Militants: Fun and Urban Violence in Pakistan. Princeton University Press.
Yusuf, Huma. “Conflict Dynamics in Karachi.” United States Institute of Peace, 2012.
Zaidi, S. Akbar. Issues in Pakistan’s Economy: A Political Economy Perspective. Oxford University Press, 2015.
Newspapers archives: Dawn, The News, Jang, Kawish (1970–2024)
Pakistan Bureau of Statistics: Census Reports (1981, 1998, 2017)
Election Commission of Pakistan: Constituency-level Electoral Data (1988–2018)
——————————————–
مصنف کا تعارف
ڈاکٹر مسعود طارق کراچی سے تعلق رکھنے والے ایک سیاستدان اور سیاسی مفکر ھیں۔ وہ پاکستان مسلم اسٹوڈنٹس فیڈریشن (PMSF) سندھ کے سینئر نائب صدر ‘ میونسپل کارپوریشن حیدرآباد کے کونسلر ‘ وزیر اعلیٰ سندھ کے مشیر اور سندھ کابینہ کے رکن کے طور پر خدمات انجام دے چکے ھیں۔
ان کی تحقیق جنوبی ایشیا کی جغرافیائی سیاست ‘ نوآبادیاتی دور کے بعد ریاستی تشکیل ‘ علاقائی قوم پرستی اور بین النسلی سیاست جیسے موضوعات کا احاطہ کرتی ھے۔ جن میں خاص توجہ پنجاب ‘ پنجابی اور سرد جنگ کی اسٹریٹجک سیاست پر مرکوز ھے۔
اس کے علاوہ ‘ وہ پاکستان کو درپیش سماجی ‘ انتظامی ‘ معاشی اور اقتصادی چیلنجز پر بھی لکھتے ھیں۔ جن کے ساختی اسباب کا تجزیہ کرتے ھوئے پالیسی پر مبنی حل تجویز کرتے ھیں۔ ان کا کام تاریخی تحقیق کے تجزیے سے عصری اسٹریٹجک اور طرز حکمرانی کو ھم آھنگ کرنے کی کوشش ھے۔
Leave a Reply