
لاھور میں پنجابی رائج ھوگئی تو کراچی میں سندھی رائج کرنا آسان ھوجائے گا۔
تاریخ: 12 ستمبر 2025
پنجابی زبان کی پرورش صوفی بزرگوں بابا فرید ‘ بابا نانک ‘ شاہ حسین ‘ سلطان باھو ‘ بلھے شاہ ‘ وارث شاہ ‘ خواجہ غلام فرید ‘ میاں محمد بخش نے کی۔ پنجابی زبان کا پس منظر روحانی ھونے کی وجہ سے پنجابی زبان میں علم ‘ حکمت اور دانش کے خزانے ھیں۔ اس لیے پنجابی زبان میں اخلاقی کردار کو بہتر کرنے اور روحانی نشو نما کی صلاحیت ھے۔
جبکہ اردو کی نہ کوئی ثقافت ھے۔ نہ تہذیب ھے اور نہ تاریخ ھے۔ ایک قدیم اور ثقافت ‘ تہذیب ‘ تاریخ کے لحاظ سے امیر پنجابی زبان کے ھوتے ھوئے انگریز کو پنجاب کی سرکاری زبان اردو کرنے کی کیا ضرورت تھی؟ اردو کو 1800 عیسوی میں فورٹ ولیم کالج کلکتہ میں وجود میں لاکر 1877 میں پنجاب میں نافذ کرکے پنجابی زبان میں موجود پنجابی ثقافت ‘ تہذیب اور تاریخ کے ورثے کو انگریز نے تباہ و برباد کیا۔ پنجابی قوم 1947 میں انگریز کی غلامی سے آزاد ھوگئی۔ لیکن اردو کی غلامی ابھی تک جاری ھے۔
قوموں کی تاریخ میں زبان کبھی بھی محض ابلاغ کا ذریعہ نہیں رھتی۔ یہ ثقافت کا آئینہ رھتی ھے۔ یادداشت کی محافظ رھتی ھے اور طاقت کا ھتھیار رھتی ھے۔ اس لیے کسی قوم کو کمزور کرنے کے لیے سب سے پہلے اس کی زبان کو کمزور کیا جاتا ھے۔
انگریز نے انگریزی کے ذریعے ایک وفادار اشرافیہ تیار کی۔ مغلوں نے فارسی کے سہارے اپنی سلطنت کو مضبوط کیا۔ پاکستان کے قیام کے بعد یو پی ‘ سی پی کی اردو بولنے والی ھندوستانی مھاجر اشرافیہ کے پاس پاکستان میں نہ زمین تھی اور نہ ھی آبادی کی اکثریت تھی۔ اس لیے اردو زبان کو ھتھیار کے طور پر استعمال کرنے لگی اور اردو زبان کے ذریعے انہوں نے کئی قوموں پر مشتمل نئی ریاست پر غلبہ جما لیا۔
پاکستان کے قیامِ کے فوراً بعد اردو کو سرکاری زبان قرار دے دیا گیا۔ مارچ 1948 کو محمد علی جناح نے ڈھاکہ یونیورسٹی میں بنگالی طلبہ سے انگریزی میں خطاب کرتے ھوئے کہا کہ؛ اردو اور صرف اردو ھی پاکستان کی ریاستی زبان ھوگی۔ پاکستان کی آبادی کا 56 فیصد حصہ رکھنے والے بنگالیوں کے لیے یہ ایک توھین تھی۔ بنگالیوں کو ایک ھی جملے میں نااھل اور نالائق قرار دے دیا گیا۔ کیونکہ کسی قوم کی زبان کو رد کرنا دراصل اس قوم کو رد کرنا ھوتا ھے۔
21 فروری 1952 کو ڈھاکہ کے بنگالی طلبہ نے کرفیو توڑ کر اپنی مادری زبان کے حق میں احتجاج کیا۔ پولیس نے سیدھی گولیاں چلائیں۔ سلام ‘ رفیق ‘ برکت اور جبار شہید ھو گئے۔ ایک ماں نے اپنے مقتول بیٹے کو گود میں اٹھا کر پکارا؛ انہوں نے میرے بچے کو صرف اس لیے مار دیا کہ وہ میری زبان بولتا تھا۔ کیسا ملک ھے جو اپنی ماں کی زبان بولنے پر قتل کرتا ھے۔ یہ فریاد تاریخ کا حصہ بن گئی۔ 17 نومبر 1999 کو یونیسکو کی جنرل کانفرنس نے 21 فروری کو “بین الاقوامی مادری زبان کا دن” تسلیم کیا۔ یہ فریاد ھمیں یاد دلاتا ھے کہ زبان محض سیاست نہیں ھے۔ یہ محبت ھے۔ یہ شناخت ھے۔ یہ وقار ھے۔
بنگالیوں نے بلند آواز میں مزاحمت کی لیکن پنجابیوں کو پنجاب کی تقسیم کی وجہ سے ھونے والے فسادات میں مارے گئے 20 لاکھ پنجابیوں اور بے گھر ھوئے 2 کروڑ پنجابیوں نے خاموش رکھا۔ عدالتوں ‘ اسکولوں اور دفاتر سے پنجابی کو نکال دیا گیا۔ لاھور جو بُلّھے شاہ اور وارث شاہ کا شھر تھا۔ اردو بولنے والوں کا شھر بننے لگا۔ امرتسر سے 1947 میں بے گھر ھو کر آئے ایک کسان نے بتایا کہ؛ وہ لاھور میں اپنی زمین کا دعویٰ اپنی زبان میں نہ کر سکا۔ عدالت کے محرر نے کہا کہ؛ اردو بولو ‘ ورنہ تمہاری فائل آگے نہیں بڑھے گی۔ اُس دن مجھے لگا کہ؛ میں اپنے ھی پنجاب میں پناہ گیر ھوں۔
سندھی زبان کی جڑیں صدیوں پرانی تھیں۔ شاہ لطیف کی شاعری ‘ اردو سے بھی قدیم رسم الخط اور وہ اسکول جہاں ھندو اور مسلمان سندھی بچے اپنی مادری زبان میں پڑھتے تھے۔ لیکن تقسیم نے یہ توازن توڑ دیا۔ ھندو سندھی اساتذہ کو جلاوطن کر دیا گیا۔ ان کی جگہ مھاجر آ گئے۔ 1949 کا واقعہ حیدرآباد کے ایک سندھی استاد نے بتایا کہ؛ میری سندھی کی کتاب میرے ھاتھ سے چھین لی گئی۔ انسپکٹر نے کہا کہ؛ اب سے صرف اردو چلے گی۔ مجھے ایسا لگا جیسے میرے شاگردوں کے سامنے میری زبان کاٹ دی گئی ھو۔
1972 میں سندھ اسمبلی نے سندھی لینگویج بل پاس کر کے اپنی زبان کے وقار کو بحال کرنے کی کوشش کی۔ لیکن جواب میں اردو بولنے ھندوستانی مھاجر مشتعل ھو گئے۔ کراچی اور حیدرآباد جل اٹھے۔ سندھیوں کی اپنی ھی سرزمین میں سندھی شناخت کی جدوجہد خونریزی میں تبدیل ھو گئی۔
اردو زبان کو پاکستان میں ریاستی تحفظ حاصل ھے۔ اس لیے پنجابی زبان کے بجائے اردو زبان بولنے کی وجہ سے؛
1۔ پنجابی قوم کی اپنی شناخت ختم ھوتی جا رھی ھے۔
2۔ پنجابی قوم لہجوں اور علاقوں میں بکھرتی جارھی ھے۔
3۔ پنجابی قوم کی ثقافت ‘ تہذیب اور تاریخ ختم ھوتی جا رھی ھے۔
پاکستان کی دوسری قوموں کی 1947 میں پاکستان کے قیام کے وقت؛
1۔ نہ دھرتی تقسیم ھوئی تھی۔
2۔ نہ قوم تقسیم ھوئی تھی۔
3۔ نہ 20 لاکھ افراد قتل ھوئے تھے۔
4۔ نہ 2 کروڑ افراد بے گھر ھوئے تھے۔
پنجابی قوم کی 1947 میں آبادی 3 کروڑ تھی۔
اگر کوئی خاندان 300 افراد پر مشتمل ھو اور اس کے 20 افراد کو قتل کروا دیا جائے۔ جبکہ 200 افراد کو اپنا گھر اور کاروبار چھوڑ کر اجڑنا پڑ جائے۔
1۔ اس خاندان پر دوسری قوم کی حکمرانی قائم کردی جائے۔
2۔ اس خاندان پر دوسری قوم کی زبان مسلط کردی جائے۔
تو پھر اس خاندان کو سنبھلنے میں تین ‘ چار نسلیں تو لگتی ھی ھیں۔ ایسا ھی حال پنجابی قوم کے ساتھ بھی ھے۔
دوسری طرف پاکستان کے قیام کے بعد پشتونوں کے پاس قوم پرست لیڈر باچا خان ‘ بلوچوں کے پاس قوم پرست لیڈر خیر بخش مری ‘ سندھیوں کے پاس قوم پرست لیڈر جی ایم سید تھا۔ اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں کے پاس تو لیاقت علی خان سے لیکر الطاف حسین تک ‘ قوم پرست لیڈروں کی بھر مار رھی۔ جبکہ پنجابیوں کے پاس کبھی بھی قوم پرست لیڈر نہیں تھا۔
لیکن پنجابی قوم میں بھی اب قوم پرستی کی ابتدا ھوچکی ھے۔ پنجابی قوم کو؛ اپنی پنجابی زبان پر ناز ھے۔ پنجابی قوم کی سماجی عزت کا احساس ھے۔ پٹھان ‘ بلوچ ‘ سندھی ‘ مھاجر کی قوم پرستی کو 7 دھائیاں ھو چکی ھیں۔ پنجابی قوم پرستی کی ایک نہیں تو آدھی دھائی مکمل ھونے دیں۔ 2030 تک پنجابی قوم اپنی زبان کو رائج کرچکی ھوگی۔ پنجابی قوم کے پنجاب میں پنجابی زبان کو رائج کرنے سے سندھی ‘ بلوچ اور پشتون قوموں کو بھی اپنی اپنی زمین پر اپنی اپنی زبان رائج کرنے کی جدوجہد میں کامیابی و کامرانی ھونے لگے گی۔ جبکہ پنجابیوں نے اگر لاھور میں پنجابی زبان رائج کرلی تو پھر سندھیوں کو بھی کراچی میں سندھی زبان رائج کرنے میں دشواری نہیں ھوگی۔
Leave a Reply