
پاکستان کی قوموں کے درمیان تنازعات کا حل کیا ھے؟
تاریخ: 18 مئی 2025
پاکستان پنجابی ‘ سندھی ‘ بلوچ ‘ براھوئی ‘ گلگتی بلتستانی ‘ کوھستانی ‘ چترالی ‘ سواتی ‘ پٹھان ‘ گجراتی ‘ راجستھانی اور ھندوستانی مھاجر قوموں کا ملک ھے (کشمیری ‘ ھندکو ‘ ڈیرہ والی کا شمار پنجابی قوم میں ھوتا ھے)۔
پاکستان کے سیاستدان ‘ تجزیہ نگار ‘ کالم نویس اور سرکاری افسر پاکستان کے سماجی ‘ انتظامی ‘ معاشی ‘ اقتصادی معاملات کے وسیع مطالعے اور وسیع مشاھدے کے بغیر ‘ محدود معلومات اور محدود دائرے میں رہ کر اپنے امور انجام دینے کے عادی ھیں۔
پاکستان کے سماجی ‘ انتظامی ‘ معاشی ‘ اقتصادی معاملات کے بارے میں محدود معلومات اور محدود دائرے میں رہ کر امور انجام دینے کی وجہ سے؛
1۔ سیاستدان اپنی سیاسی حکمتِ عملی سے عوام کو متحد کرنے کے بجائے مزید منتشر کر رھے ھیں۔ یہی وجہ ھے کہ پاکستان میں ھر طرف “افراتفری یا اقرباء پروری” ھے۔
2۔ سیاسی تجزیہ نگار اپنے تجزیوں کے ذریعے عوام کو حقائق سے آگاہ کرنے کے بجائے مزید گمراہ کر رھے ھیں۔ یہی وجہ ھے کہ پاکستان میں ھر طرف “فتنہ و فساد” ھے۔
3۔ کالم نویس صحیح خبریں فراھم کرکے عوام کی معلومات میں مثبت اضافہ کرنے کے بجائے مزید منفی اضافہ کر رھے ھیں۔ یہی وجہ ھے کہ پاکستان میں ھر طرف عوام باھم “دست و گریباں” ھے۔
4۔ سرکاری افسر موثر انتظامی اقدامات کرکے عوام کو سہولیات فراھم کرنے کے بجائے مزید پریشان کر رھے ھیں۔ یہی وجہ ھے کہ پاکستان میں ھر طرف “بدنظمی اور بدانتظامی” کا دور دورہ ھے۔
سیاست کا مطلب عوام کے سماجی ‘ انتظامی ‘ معاشی ‘ اقتصادی معاملات ھیں۔ سماجی ‘ انتظامی ‘ معاشی ‘ اقتصادی معاملات کی خرابی کی وجوھات بتانا ‘ بہتر کرنے کا پروگرام دینا اور طریقہء کار بتانا سیاست ھے۔ اس غرض سے ھی سیاسی جماعتیں تشکیل دی جاتی ھیں۔
1۔ اگر عوام کا سماجی پہلو زیادہ اھمیت کا حامل ھو تو سیاست مذھبی یا فرقہ ورانہ ‘ قومیت یا لسانیت کی بنیاد پر ھونے لگتی ھے۔
2۔ اگر ملک کے اداروں کا انتظامی پہلو زیادہ اھمیت کا حامل ھو تو سیاست اینٹی اسٹیبلشمیٹ اور پرو اسٹیبلشمیٹ بنیاد پر ھونے لگتی ھے۔
3۔ اگر عوام کا معاشی پہلو زیادہ اھمیت کا حامل ھو تو سیاست سوشلزم ‘ کمیونزم ‘ کیپٹلازم جیسی طبقاتی بنیاد پر ھونے لگتی ھے۔
4۔ اگر ملک کا اقتصادی پہلو زیادہ اھمیت کا حامل ھو تو سیاست لبرل ازم یا فیوڈل ازم کی بنیاد پر ھونے لگتی ھے۔
سیاست عوام کے سماجی استحکام ‘ انتظامی بہتری ‘ معاشی خوشحالی ‘ اقتصادی ترقی کے لیے کی جاتی ھے۔
اس لیے سماجی ‘ انتظامی ‘ معاشی ‘ اقتصادی معاملات کے مسائل کی وجوھات اور ان مسائل کے حل سے آگاھی ھونی چاھیے۔
جبکہ سماجی ‘ انتظامی ‘ معاشی ‘ اقتصادی معاملات کے بارے میں علم و تجربہ ر کھنے والے افراد کی تنظیم بھی ھونی چاھیے۔ کیونکہ؛
1۔ جب تک کسی قوم کے سماجی معاملات ٹھیک نہ ھوں تو اس وقت تک اس ملک کے انتظامی معاملات ٹھیک نہیں ھوتے۔
2۔ جب تک کسی ملک کے انتظامی معاملات ٹھیک نہ ھوں تو اس وقت تک اس قوم کے معاشی معاملات ٹھیک نہیں ھوتے۔
3۔ جب تک کسی قوم کے معاشی معاملات ٹھیک نہ ھوں تو اس وقت تک اس ملک کے اقتصادی معاملات ٹھیک نہیں ھوتے۔
4۔ جب تک کسی ملک کے اقتصادی معاملات ٹھیک نہ ھوں تو اس وقت تک قوم اور ملک ترقی نہیں کرتے۔
پاکستان کی %60 آبادی پنجابی قوم کی ھے۔ (کشمیری ‘ ھندکو ‘ ڈیرہ والی کا شمار پنجابی قوم میں ھوتا ھے)۔ جبکہ %40 آبادی سندھی ‘ بلوچ ‘ براھوئی ‘ گلگتی بلتستانی ‘ کوھستانی ‘ چترالی ‘ سواتی ‘ پٹھان ‘ گجراتی ‘ راجستھانی اور ھندوستانی مھاجر قوم کی ھے۔
پاکستان کی تمام 12 قومیں پاکستان بھر میں ایک دوسرے کے ساتھ مل جل کر رھتی ھیں۔ اس لیے پاکستان میں کسی علاقے کو بھی کسی خاص قوم کا راجواڑہ قرار نہیں دیا جاسکتا۔ البتہ پاکستان کو انتظامی معاملات کے لیے صوبوں ‘ ڈویژنوں ‘ ضلعوں ‘ تحصیلوں ‘ یونین کونسلوں میں تقسیم کیا گیا ھے۔
پاکستان میں پنجابی صرف پنجاب کی ھی سب سے بڑی آبادی نہیں ھیں۔ بلکہ خیبر پختونخوا کی دوسری بڑی آبادی ‘ بلوچستان کے پختون علاقے کی دوسری بڑی آبادی ‘ بلوچستان کے بلوچ علاقے کی دوسری بڑی آبادی ‘ سندھ کی دوسری بڑی آبادی ‘ کراچی کی دوسری بڑی آبادی بھی پنجابی ھی ھیں۔
پاکستان کی %60 آبادی پنجابی قوم کی ھے۔ جبکہ پاکستان کے ایک لاکھ سے زیادہ آبادی والے 98 شھروں میں سے 62 شھر پنجابی اکثریتی آبادی والے ھیں۔ اس لیے زراعت ‘ صنعت ‘ تجارت ‘ سیاست ‘ صحافت ‘ ھنرمندی کے شعبوں ‘ بری و بحری و فضائی افواج اور سول سروسز کے محکموں ‘ تعلیمی اداروں جبکہ بڑے بڑے شھروں میں سندھی ‘ بلوچ ‘ براھوئی ‘ گلگتی بلتستانی ‘ کوھستانی ‘ چترالی ‘ سواتی ‘ پٹھان ‘ گجراتی ‘ راجستھانی اور ھندوستانی مھاجر کے مقابلے میں پنجابی چھائے ھوئے نظر آتے ھیں۔
لیکن پاکستان کی فوج کو پنجابی فوج ‘ پاکستان کی بیوروکریسی کو پنجابی بیوروکریسی کے القابات سے نواز کر پاکستان کی %60 آبادی پنجابی کو پنجابی سامراج قرار دے کر؛
1۔ گالیاں دی جاتی ھیں کہ؛ پنجابی فاشسٹ ھے۔
2۔ تذلیل کی جاتی ھے کہ؛ پنجابی شاؤنسٹ ھے۔
3۔ توھین کی جاتی ھے کہ؛ پنجابی آمر ھے۔
4۔ قرار دیا جاتا ھے کہ؛ پنجابی چور ‘ ڈاکو ‘ لٹیرا ھے۔
اس لیے پاکستان کی قوموں کے درمیان Grand Dialogue کی ضرورت ھے۔ تاکہ پاکستان کی سندھی ‘ بلوچ ‘ براھوئی ‘ گلگتی بلتستانی ‘ کوھستانی ‘ چترالی ‘ سواتی ‘ پٹھان ‘ گجراتی ‘ راجستھانی اور ھندوستانی مھاجر قوموں کے قوم پرست سیاستدانوں اور دانشوروں پر مشتمل delegation پنجابی قوم کے قوم پرست سیاستدانوں اور دانشوروں پر مشتمل delegation کو بتائیں کہ پاکستان کے قیام سے لیکر پنجابیوں کی طرف سے اس کی قوم کا؛
1۔ کیا سماجی استحصال کیا گیا؟
سماجی سے مراد زبان ‘ ثقافت اور تاریخ ھیں۔ یعنی اس کی قوم کی سماجی عزت کا حق ھونے کے باوجود پنجابی قوم نے اس کی قوم کی زبان ‘ ثقافت اور تاریخ کا کیا استحصال کیا؟
2۔ کیا انتظامی استحصال کیا گیا؟
انتظامی سے مراد حکومتی ‘ فوجی اور سول سروسز کے عہدے ھیں۔ یعنی اس کی قوم کا انتظامی حق ھونے کے باوجود پنجابی قوم نے اس کی قوم کو کون سے حکومتی ‘ فوجی اور سول سروسز کے عہدے نہ دے کر استحصال کیا؟
3۔ کیا معاشی استحصال کیا گیا؟
معاشی سے مراد روزی ‘ کاروبار اور آمدنی ھیں۔ یعنی اس کی قوم کا معاشی حق ھونے کے باوجود پنجابی قوم نے اس کی قوم کا کیا معاشی استحصال کیا؟
4۔ کیا اقتصادی استحصال کیا گیا؟
اقتصادی سے مراد پیداوار ‘ تعمیرات اور وسائل ھیں۔ یعنی اس کی قوم کا اقتصادی حق ھونے کے باوجود پنجابی قوم نے اس کی قوم کا کیا اقتصادی استحصال کیا؟
پنجابی قوم کے قوم پرست سیاستدانوں اور دانشوروں پر مشتمل delegation دوسری قوموں کے قوم پرست سیاستدانوں اور دانشوروں پر مشتمل delegations کو بتائے گا کہ؛ پاکستان کے قیام سے لیکر کون کون سی قوم کی طرف سے پنجابی قوم کا؛
1۔ کیا سماجی استحصال کیا گیا؟
2۔ کیا انتظامی استحصال کیا گیا؟
3۔ کیا معاشی استحصال کیا گیا؟
4۔ کیا اقتصادی استحصال کیا گیا؟
سندھی ‘ بلوچ ‘ براھوئی ‘ گلگتی بلتستانی ‘ کوھستانی ‘ چترالی ‘ سواتی ‘ پٹھان ‘ گجراتی ‘ راجستھانی اور ھندوستانی مھاجر قوموں کے قوم پرست سیاستدانوں اور دانشوروں کو چاھیے کہ،
1۔ اپنی اپنی قوم کے سیاستدانوں اور دانشوروں پر مشتمل delegation تشکیل دینے کی تیاری شروع کردیں۔
2۔ سماجی امور کے لیے 10 delegate انتظامی امور کے لیے 10 delegate معاشی امور کے لیے 10 delegate اقتصادی امور کے لیے 10 delegate منتخب کرلیں۔
3۔ سماجی ‘ انتظامی ‘ معاشی ‘ اقتصادی امور کا مقدمہ علمی انداز میں پیش کرنے کے لیے delegations کو مواد اور اعداد و شمار جمع کرنے کی ھدایت کردیں۔
پاکستان کی وفاقی حکومت کو پاکستان کی قوموں کے مابین Grand Dialogue کا اھتمام کرنا چاھیے۔
پاکستان کی وفاقی حکومت پاکستان کی قوموں کے درمیان Grand Dialogue کے انعقاد کے لیے ؛
1۔ جناح کنونشن سینٹر اسلام آباد میں Grand Dialogue between the Nations of Pakistan کے انعقاد کا انتظام کروائے۔
2۔ نیشنل اور انٹر نیشنل سطح پر Grand Dialogue between the Nations of Pakistan کی لائیو کوریج کروائے۔
3۔ سماجی ‘ انتظامی ‘ معاشی ‘ اقتصادی امور سے متعلق حکومتی محکموں سے درخواست کرنے پر Grand Dialogue between the Nations of Pakistan کے delegates کو ترجیحی بنیادوں پر مواد فراھم کروائے۔
4۔ سماجی ‘ انتظامی ‘ معاشی ‘ اقتصادی امور سے متعلق Grand Dialogue between the Nations of Pakistan کے delegates کی طرف سے پیش کیے جانے والے مواد اور اعداد و شمار کی Grand Dialogue کے دوران بروقت تصدیق کے لیے سماجی ‘ انتظامی ‘ معاشی ‘ اقتصادی امور سے متعلق محکموں کے نمائندوں کو Grand Dialogue میں موجود رھنے کی ھدایت کرے۔
5۔ سماجی ‘ انتظامی ‘ معاشی ‘ اقتصادی امور سے متعلق Grand Dialogue between the Nations of Pakistan کے delegates کی طرف سے پیش کیے جانے والے مواد اور اعداد و شمار کی Grand Dialogue کے دوران بروقت تصدیق کے لیے پاکستان کی یونیورسٹیوں کے سماجی ‘ انتظامی ‘ معاشی ‘ اقتصادی امور سے متعلق شعبہ جات کے سربراھان کو Grand Dialogue میں موجود رھنے کی ھدایت کرے۔
Leave a Reply