Masood InsightMasood Insight

ہر شیطان کے مرید کی پیروی کرنے والے انسان

ہر شیطان کے مرید کی پیروی کرنے والے انسان

مُؤَلِّف : ڈاکٹر مسعود طارق

انسانوں میں سے کچھ ایسے ہیں جو الله کے بارے میں بغیر علم کے بحث کرتے ہیں اور پیروی کرتے ہیں ہر شیطان کے مرید کی۔ (3-22) اس کے بارے میں لکھ دیا گیا ہے کہ جو اس کو سرپرست بنائے گا تو وہ اسے گمراہ کردے گا اور اسے عَذَابِ السَّعِير کا راستہ دکھائے گا۔ (4-22)

ایسے لوگوں میں کونسی خامیاں ہوتی ہیں؟

بیشک اللہ ہی کی ملکیت ہیں جو آسمانوں میں ہیں اور جو زمین میں ہیں مگر جو لوگ پیروی کرتے ہیں ان کی جو اللہ کے سوا شریکوں کو پکارتے ہیں۔ وہ صرف گمان کی پیروی کرتے ہیں اور وہ سوائے قیاس آرائیوں کے کچھ نہیں کرتے۔ (66-10) نہیں ہیں یہ مگر چند نام جو تم نے اور تمہارے آباؤ اجداد نے رکھ لیے ہیں اللہ نے ان کے بارے میں کوئی سند نازل نہیں کی ہے۔ یہ لوگ صرف گمان کی اور نفس کی خواہشات کی پیروی کر رہے ہیں۔ حالانکہ ان کے پاس ان کے رب کی طرف سے ہدایت آچکی ہے۔ (23-53) ان کے سامنے اس شخص کا حال پڑھ کر سنا دو جس کو ہم نے اپنی آیات عطا کی تھیں مگر وہ ان سے دستبردار ہو گیا تو وہ شیطان کی پیروی کرنے لگا سو وہ گمراہوں میں شامل ہوگیا۔ (175-7) اگر ہم چاہتے تو ان سے اسے بلندی عطا کرتے مگر وہ تو زمین کا ہو کر رہ گیا اور اس نے اپنے نفس کی خواہشات کی پیروی کی۔ تو اس کی مثال کتے کی سی ہوگئی کہ اگر اس پر بوجھ لادو تب بھی زبان نکالے رہے اور یونہی چھوڑ دو تب بھی زبان نکالے رہے۔ یہی مثال ان لوگوں کی ہے جو ہماری آیات کو جھٹلاتے ہیں۔ تو یہ احوال ان سے بیان کردو۔ شاید وہ کچھ غور و فکر کریں۔(176-7) جن لوگوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا ان کی مثال بہت ہی بری ہے اور انہوں نے اپنے ہی نفس پر ظلم کیا۔ (177-7) اور ہم اُن کو الْعَذَابِ الْأَكْبَر سے پہلے الْعَذَابِ الْأَدْن کا بھی مزہ چکھائیں گے تاکہ شاید وہ ہماری طرف لوٹ آئیں۔ (21-32)

ایسے لوگوں کو کیا کرنا چاہیے؟

اے بنی آدم ! جب تمہارے پاس رسول آئیں جو تمہیں میں سے ہوں گے تمہیں میری آیات پڑھ کر سنائیں تو جو شخص تقویٰ اختیار کرے گا اور اپنی اصلاح کرلے گا تو ان کے لیے کوئی خوف نہیں ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ (35-7) شیطان کے قدموں کی پیروی نہ کرو۔ بیشک وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔ (168-2) اے انسانوں ! یقینا” الله کا وعدہ برحق ہے۔ سو نہ تم کو دھوکے میں ڈالے دنیا کی زندگی اور نہ تم کو دھوکے میں ڈالے اللہ کے بارے میں وہ بڑا غرور کرنے والا۔(5-35) شیطان تمہارا دشمن ہے لہٰذا تم بھی اسے دشمن ہی سمجھو۔ وہ اپنے پیروکاروں کو بلاتا ہے تاکہ وہ أَصْحَابِ السَّعِير میں شامل ہوجائیں۔ (6-35) الله کا ارادہ ہے کہ وہ تمہاری توبہ قبول کرے مگر وہ لوگ جو اپنے نفس کی خواہشات کی پیروی کرتے ہیں ان کا ارادہ ہے کہ تم دور ہٹ جاؤ بہت زیادہ دور۔ (27-4) کہو۔ کیا ہم الله کے سوا اسے پکاریں جو نہ ہمیں نفع پہنچا سکے اور نہ نقصان اور اس کے بعد کہ اللہ ہمیں ہدایت دے چکا ہے ہم الٹے پاؤں پھر جائیں اور ہم مانند اس شخص کے ہو جائیں جسے شیطانوں نے زمین میں بھٹکا دیا ہو اور وہ حیران و سرگرداں ہو جبکہ اس کے ساتھی اسے سیدھے راستے کی طرف بلاتے ہوں کہ آ ہمارے پاس۔ کہو حقیقت میں اللہ کی رہنمائی ہی صحیح رہنمائی ہے اور ہمیں حکم دیا گیا ہے کہ ہم رَّبِّ الْعَالَمِينَ کے سامنے سر جھکا دیں۔ (71-6) ہر گز کہا نہ ماننا ایسے شخص کا جو ہے بہت قسمیں کھانے والا (10-68) طعنے دینے والا اور چغلیاں کرنے والا (11-68) بھلائی سے روکنے والا حد سے بڑھا ہوا بدکار (12-68) سخت خو اور اس کے علاوہ بد ذات ہے۔ (13-68) اس سبب سے کہ مال اور بیٹے رکھتا ہے۔(14-68) جب اس کے سامنے ہماری آیات پڑھی جاتی ہیں تو کہتا ہے کہ یہ اگلے لوگوں کے افسانے ہیں۔ (15-68) پیروی اختیار کرو ایسوں کی جو تم سے کوئی اجر نہیں مانگتے اور وہ سیدھے راستے پر بھی ہیں۔ (21-36) اور پیروی اختیار کرلو اس بہترین کی جو تمہاری طرف تمہارے رب کی طرف سے نازل کیا گیا ہے اس سے پہلے کہ تم پر اچانک عذاب آپڑے اور تمہیں خبر بھی نہ ہو۔ (55-39) اور اپنے نفس کو ان لوگوں کے ساتھ صبر کرواؤ جو اپنے رب کو صبح میں اور شام کو پکارتے ہیں اور اس کی خوشنودی کا ارادہ رکھتے ہیں اور تم اپنی نظروں کو ان کی طرف سے نہ ہٹاؤ کہ تم دنیا کی زندگی کی زینت کا ارادہ کرو اور اس کی بات نہ مانو کہ ہم نے جس کے دل کو اپنی یاد سے غافل کردیا ہے اور وہ اپنے نفس کی خواہشات کی پیروی کر رہا ہے اور اس کا کام حد سے بڑھ گیا ہے۔ (28-18)

ایسے لوگوں کا حال و احوال کیا ہوتا ہے؟

اللہ ان لوگوں کا حامی و مدد گار ہے جو لوگ ایمان لاتے ہیں ان کو ظلمات سے نور کی طرف نکالتا ہے اور وہ لوگ جو کفر اختیار کرتے ہیں ان کے حامی و مدد گار طاغوت ہیں جو ان کو نور سے ظلمت کی طرف نکالتے ہیں۔ یہی لوگ أَصْحَابُ النَّار ہیں۔ یہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ (257-2) یہاں تک کہ جب ایسا شخص ہمارے پاس پہنچے گا تو کہے گا کہ اے کاش ! مجھ میں اور تجھ میں مشرق و مغرب کا فاصلہ ہوتا کیونکہ تو بدترین ساتھی نکلا۔ (38-43) اور جب ان کو امن کا یا خوف کا کوئی معاملہ پیش آتا ہے تو اس کو مشہور کردیتے ہیں حالانکہ اگر وہ اس کو رسول کے پاس یا اپنے لوگوں میں سے أُوْلِي الأَمْر کے پاس پہنچاتے تو وہ اس کی اپنے علم کے ذریعے تحقیق کر کے بہتر نتیجہ اخذ کرتے اور اگر تم پر الله کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو قلیل تعداد کے علاوہ تم لوگ شیطان کی پیروی کرنے لگتے۔ (83-4)

ایسے لوگوں کا آخرت میں کیا انجام ہوگا؟

جو حَسَنَة ساتھ لے کر آئیں گے تو ان کے لیے اس سے بہتر خَيْر ہے اور جو سَيِّئَة ساتھ لے کر آئیں گے تو ان لوگوں کو ان کے سَيِّئَات عملوں کا ویسا ہی بدلہ ملے گا جس طرح کے عمل وہ کرتے تھے۔ (84-28) اور رہے وہ لوگ جنہوں نے فسق کیا تو ان کا ٹھکانہ دوزخ ہے۔ وہ جب بھی اس میں سے نکلنے کا ارادہ کریں گے تو واپس اسی میں دھکیل دیے جائیں گے اور اُن سے کہا جائے گا کہ عَذَابَ النَّار کا مزہ چکھو جس کو تم جھٹلایا کرتے تھے۔ (20-32)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *