Masood InsightMasood Insight

رزق کو کشادہ کیسے کیا جائے؟

رزق کو کشادہ کیسے کیا جائے؟

مُؤَلِّف : ڈاکٹر مسعود طارق

الله جسے چاہے بے حساب رزق دیتا ہے۔ (37-3) جو کوئی الله سے ڈرتا رہے گا تو وہ اس کے لیے مشکل سے نکلنے کی کوئی راہ پیدا کردے گا (2-65) اور اس کو ایسی جگہ سے رزق دے گا جدھر اس کا گمان بھی نہ جاتا ہو اور جو الله پر توکل رکھے گا تو وہ اس کی کفالت کرے گا۔ بلاشبہ الله اپنے کام کو مکمل کرکے رہتا ہے۔ الله نے ہر چیز کے لیے ایک تقدیر مقرر کر رکھی ہے۔ (3-65) اور اس وقت کا ذکر کرو جب تم تھوڑے تھے اور زمین میں کمزور سمجھے جاتے تھے اور تم اس بات کا خوف کرتے رہتے تھے کہ کہیں لوگ تم کو اچک لے جائیں پھر اس نے تم کو پناہ دی اور اپنی مدد سے تمہارے ہاتھ مضبوط کیے اور طیب چیزوں میں سے تم کو رزق دیا تاکہ تم اس کا شکر ادا کرو۔ (26-8)

الله اپنے بندوں پر لَطِيف ہے وہ جسے چاہے رزق دیتا ہے اور وہ الْقَوِيُّ العَزِيز ہے۔ (19-42) میرے ان بندوں سے جو ایمان لائے ہیں کہو کہ صلاۃ قائم کریں اور جو رزق ہم نے ان کو دیا ہے اس میں سے پوشیدہ اور ظاہر خرچ کریں اس سے پہلے کہ وہ دن آجائے جب نہ سودا ہوگا اور نہ دوستی ہو گی۔ (31-14) اور چاہیے کہ خوشحال شخص اپنی وسعت کے مطابق خرچ کرے اور جس شخص کو نپا تُلا رزق دیا گیا ہو تو وہ اس میں سے خرچ کرے جتنا الله نے اس کو عطا کیا ہے۔ اللہ کسی نفس پر اس سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا جتنا اس کو عطا کیا ہو۔ الله مشکل کے بعد آسانی کرے گا۔ (7-65) مثال ان لوگوں کی جو اپنا مال الله کی راہ میں خرچ کرتے ہیں ایسی ہے جیسے ایک دانہ اگائے سات بالیں اور ہر بالی میں سو دانے ہوں اور الله جس کے لیے چاہتا ہے زیادہ کرتا ہے اور اللہ وَاسِعٌ عَلِيم ہے۔ (261-2)

سو الله سے ڈرو اور آپس کے تعلقات درست کرلو اور اطاعت کرو الله کی اور اس کے رسول کی اگر تم مومن ہو۔ (1-8) مومن تو وہ لوگ ہیں کہ جب الله کا ذکر کیا جاتا ہے تو ان کے دل لرز جاتے ہیں اور جب ان کے سامنے اللہ کی آیات پڑھی جاتی ہیں تو ان کا ایمان مزید بڑھا دیتی ہیں اور وہ اپنے رب پر توکل رکھتے ہیں۔ (2-8) وہ جو صلاۃ قائم کرتے ہیں اور جو رزق ہم نے ان کو دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔ (3-8) یہی لوگ ہیں جو واقعی مومن ہیں۔ ان کے لیے ان کے رب کے ہاں بڑے درجے اور مَغْفِرَة اور رِزْقٌ كَرِيم ہے۔ (4-8) یقینا جو لوگ الله کی کتاب پڑھتے ہیں اورصلاۃ قائم کرتے ہیں اور جو رزق ہم نے ان کو دیا ہے اس میں سے پوشیدہ اور ظاہر خرچ کرتے ہیں وہ توقع رکھتے ہیں ایسی تجارت کی کہ جس میں ہرگز خسارہ نہیں ہے۔ (29-35) اس لیے کہ الله پورے پورے دے گا ان کو ان کے اجر اور زیادہ دے گا انہیں اپنے فضل سے۔ بیشک وہ غَفُور اور شَكُور ہے۔ (30-35)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *