Masood InsightMasood Insight

انسان وقت گزارنے کے لیے باطنی اور ظاھری حرکات میں مصروف رھتا ھے۔

انسان وقت گزارنے کے لیے باطنی اور ظاھری حرکات میں مصروف رھتا ھے۔

تحریر : ڈاکٹر مسعود طارق

تاریخ: 11 اپریل 2025

——————————————–

پہلا حصہ :

زندگی وقت ھے اور وقت زندگی۔ ھر جاگتا انسان وقت گزارنے کے لیے ھر وقت متحرک رھتا ھے۔

وھی ھے جو رات کو تمہاری جان نکال لیتا ھے اور جانتا ھے وہ کام جو دن میں تم کرتے ھو پھر تمہیں دن میں اٹھا کھڑا کرتا ھے تاکہ زندگی کی معین مدت پوری ھو۔ پھر تمہیں اسی کی طرف لوٹ کر جانا ھے پھر وہ تمہیں بتادے گا جو عمل تم کرتے ھو۔ (60-6)

1۔ انسان زیادہ متحرک ھو جائے تو وقت تیزی کے ساتھ گذرتا ھوا محسوس ھوتا ھے۔

2۔ انسان کم متحرک ھو جائے تو وقت گذارنا مشکل محسوس ھونے لگتا ھے۔

——————————————–

دوسرا حصہ :

وقت گزارنے کے لیے ھر جاگتا انسان باطنی حرکات اور ظاھری حرکات کرنے میں مصروف رھتا ھے۔

ھر انسان 4 باطنی حرکات میں سے درج ذیل کوئی حرکت کرتا رھتا ھے؛

1۔ باطن میں دیکھتا رھتا ھے۔

2۔ باطن میں سنتا رھتا ھے۔

3۔ باطن میں سوچتا رھتا ھے۔

4۔ باطن میں بولتا رھتا ھے۔

ھر انسان 4 ظاھری حرکات میں سے درج ذیل کوئی حرکت کرتا رھتا ھے؛

1۔ ظاھر میں دیکھتا رھتا ھے۔

2۔ ظاھر میں سنتا رھتا ھے۔

3۔ ظاھر میں بولتا رھتا ھے۔

4۔ ظاھر میں ھاتھوں ‘ پاؤں کو حرکت دیتا رھتا ھے۔

——————————————–

تیسرا حصہ :

انسان کو ظاھری حرکات میں مصروف ھوتے ھوئے خیال رکھنا چاھیے کہ؟

1۔ أُو۟لُوا۟ ٱلْأَرْحَامِ اللہ کی کتاب کے مطابق آپس میں زیادہ حق دار ھیں۔

2۔ ٱلْقُرْبَىٰ ‘ ٱلْمَسَـٰكِينَ ‘ ٱبْنَ ٱلسَّبِيلِ کو ان کا حق دینا چاھیے۔

3۔ وَٰلِدَيْنِ ‘ أَقْرَبِينَ ‘ ٱلْيَتَـٰمَىٰ ‘ ٱلْمَسَـٰكِينَ ‘ ٱبْنَ ٱلسَّبِيلِ کے لیے خرچ کرنا خیر کا کام ھے۔

4۔ ٱلْقُرْبَىٰ ‘ ٱلْيَتَـٰمَىٰ ‘ ٱلْمَسَـٰكِينَ ‘ ٱبْنَ ٱلسَّبِيلِ ‘ ٱلسَّآئِلِينَ ‘ فِى ٱلرِّقَابِ کو دینا نیک کام ھے۔

5۔ فُقَرَآءِ ‘ ٱلْمَسَـٰكِينِ ‘ ٱلْعَـٰمِلِينَ عَلَيْهَا ‘ ٱلْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ ‘ فِى ٱلرِّقَابِ ‘ ٱلْغَـٰرِمِينَ ‘ سَبِيلِ ٱللَّهِ ‘ ٱبْنِ ٱلسَّبِيلِ کے لیے صدقات فرض ھیں۔

6۔ وَٰلِدَيْنِ ‘ ذِى ٱلْقُرْبَىٰ ‘ ٱلْيَتَـٰمَىٰ ‘ ٱلْمَسَـٰكِينِ ‘ ٱلْجَارِ ذِى ٱلْقُرْبَىٰ ‘ ٱلْجَارِ ٱلْجُنُبِ ‘ ٱلصَّاحِبِ بِٱلْجَنۢبِ ‘ ٱبْنَ ٱلسَّبِيلِ ‘ مَلَكَتْ أَيْمَـٰنُكُمْ کے ساتھ حسنِ سلوک کرنا چاھیے۔

قرآنی الفاظ سے مراد

ٱلْقُرْبَىٰ = راز و نیاز والے

ٱلْمَسَـٰكِينَ = گھریلو تعلق والے

ٱبْنَ ٱلسَّبِيلِ = زندگی کے سفر میں ساتھ دینے والے/ کاروباری تعلق والے

ٱلْيَتَـٰمَىٰ = تن ‘ من ‘ دھن سپرد کرنے والے

ٱلسَّآئِلِينَ = مدد طلب کرنے والے

فِى ٱلرِّقَابِ = مصیبت میں مبتلا

مَلَكَتْ أَيْمَـٰنُكُمْ = زیر دست

——————————————–

چوتھا حصہ :

انسان کو ظاھری حرکات میں مصروف ھوتے ھوئے “خیال” رکھنا چاھیے کہ انسان کے بس میں ھونا یا نہ ھونا نہیں بلکہ صرف کرنا یا نہ کرنا ھے۔ کیونکہ؛

1۔ ھونے یا نہ ھونے کا انحصار اللہ تعالٰی کے چاھنے پر ھے (يَخْلُقُ اللَّهُ مَا يَشَاءُ اور كَذَلِكَ اللَّهُ يَفْعَلُ مَا يَشَاءُ)۔

مریم نے کہا کہ میرے رب ! میرے ھاں بچہ کیونکر ھوگا جبکہ کسی بشر نے مجھے ھاتھ تک نہیں لگایا۔ کہا کہ اللہ اسی طرح خلق کرتا ھے جو چاھتا ھے۔ (قَالَتْ رَبِّ اَنّٰى یَكُوْنُ لِیْ وَلَدٌ وَّ لَمْ یَمْسَسْنِیْ بَشَرٌؕ-قَالَ كَذٰلِكِ اللّٰهُ یَخْلُقُ مَا یَشَآءُؕ) (47-3)

زکریا نے کہا اے میرے رب ! میرے ھاں لڑکا کیونکر پیدا ھوگا جبکہ میں بوڑھا ھوچکا ھوں اور میری بیوی بانجھ ھے؟ فرمایا اللہ اسی طرح فعل کرتا ھے جو وہ چاھتا ھے۔ (قَالَ رَبِّ اَنّٰى یَكُوْنُ لِیْ غُلٰمٌ وَّ قَدْ بَلَغَنِیَ الْكِبَرُ وَ امْرَاَتِیْ عَاقِرٌؕ-قَالَ كَذٰلِكَ اللّٰهُ یَفْعَلُ مَا یَشَآءُ) (40) (3:40)

يَشَاءُ الله والے کام ھمارے وھم و گمان میں آئے بغیر ھوجاتے ھیں۔ یا ھم لاشعوری طور پر انجام دیتے ھیں۔ اس لیے بہت سے کاموں کے بارے میں ھم کہتے ھیں کہ؛ یہ کام میرے وھم و گمان میں بھی نہیں تھا لیکن ھوگیا۔ یا یہ کام میں نے جان بوجھ کر نہیں کیا بلکہ اتفاق سے ھوگیا۔ یا یہ کام میں نے کرنا چاھا لیکن نہیں ھوا۔

اور تم کچھ نہیں چاہ سکتے سوائے اس کے جو اللہ چاھے۔ بیشک اللہ عَلِيْمًا اور حَكِـيْمًا ھے۔ (وَمَا تَشَآءُوْنَ اِلَّآ اَنْ يَّشَآءَ اللّـٰهُ ۚ اِنَّ اللّـٰهَ كَانَ عَلِيْمًا حَكِـيْمًا) (30-76)

اور تم کچھ نہیں چاہ سکتے سوائے اس کے جو اللہ چاھے جو سارے جہانوں کا رب ھے۔ (وَ مَا تَشَآءُوْنَ اِلَّاۤ اَنْ یَّشَآءَ اللّٰهُ رَبُّ الْعٰلَمِیْنَ) (29-81)

انسان کے بس میں ھونا یا نہ ھونا نہیں ھے۔ اس لیے ھر گز کسی چیز کے متعلق نہ کہنا کہ میں کل یہ فعل کرنے والا ھوں۔ مگر یہ کہ اللہ چاھے۔ (لَا تَقُوْلَنَّ لِشَایْءٍ اِنِّیْ فَاعِلٌ ذٰلِكَ غَدًا (18:23) اِلَّاۤ اَنْ یَّشَآءَ اللّٰهُ٘) (18:24)

ایسے کام فائدہ والے بھی ھوتے ھیں اور نقصان والے بھی ھوتے ھیں۔ ایسے کاموں کا کرنا نہ گناہ میں شمار ھوتا ھے اور نہ ثواب میں شمار ھوتا ھے۔ کیونکہ یہ کام يَشَاءُ الله کی وجہ سے ھوتے ھیں۔

2۔ یا پھر ھونے یا نہ ھونے کا انحصار اللہ تعالٰی کے ارادہ پر ھے (وَلَكِنَّ اللَّهَ يَفْعَلُ مَا يُرِيدُ)۔

يُرِيدُ الله والے کام کے لیے ھمارا ارادہ ھو یا نہ ھو لیکن ھمیں کرنا پڑتا ھے یا ھوجاتا ھے۔ اس لیے بہت سے کاموں کے بارے میں ھم کہتے ھیں کہ؛ یہ کام کرنے کا میرا ارداہ نہیں تھا لیکن مجبوری کی حالت میں مجھے کرنا پڑا۔ یا میں نے فلاں کام کرنے کا ارادہ کیا تھا لیکن اس کے بجائے یہ کام ھوگیا۔ یہ کام يُرِيدُ الله کی وجہ سے ھوتے ھیں۔ جبکہ بعض کام کرنے کا ھم ارادہ کرتے ھیں اور اس کام کو کرنے کے لیے بھاگ دوڑ اور کوشش بھی کرتے ھیں لیکن يُرِيدُ الله نہیں ھوتا اس لیے وہ کام نہیں ھوتا۔

وہ الْغَفُورُ الْوَدُود ھے۔ ذُو الْعَرْشِ الْمَجِيد ھے۔ جو ارادہ کرے فعل کرتا ھے۔ اس سے نہیں پوچھا جا سکتا جو عمل وہ کرتا ھے اور وہ پوچھے گا۔ (وَهُوَ الْغَفُورُ الْوَدُودُ (14-85) ذُو الْعَرْشِ الْمَجِيدُ (15-85) فَعَالٌ لِّمَا يُرِيدُ (16-(85) لَا یُسْــٴَـلُ عَمَّا یَفْعَلُ وَ هُمْ یُسْــٴَـلُوْنَ) (23-21)

ایسے کام ھوں یا نہ ھوں لیکن کام کرتے وقت کام کو خیر یا شر کی نیت سے کرنے کی کوشش کی اور حسنات یا سیئات کے طریقے سے کرنے کی کوشش کی۔ اس کی بنیاد پر کام کرنے کے لیے کی جانے والی بھاگ دوڑ اور کوشش کا شمار گناہ یا ثواب میں ھوتا ھے۔

——————————————–

پانچواں حصہ :

انسان کے بس میں ھونا نہیں ھے۔ انسان کے بس میں صرف کرنا ھے۔ لیکن کرنے کا انحصار بھی اللہ تعالٰی کے امر پر ھے (وَ كَانَ اَمْرُ اللّٰهِ مَفْعُوْلًا)۔ (4:47)

اَمْرُ اللّٰه والے کام کرنے کے لیے ھمارے اندر خواھش پیدا ھوتی ھے۔ اس خواھش کے بعد یا تو ھم وہ کام کرتے ھیں یا خواھش کو ختم کر دیتے ھیں اور وہ کام نہ کر کے خسارے میں بھی رھتے ھیں اور زمین میں فساد بھی کرتے ھیں۔ (يَقۡطَعُوۡنَ مَآ اَمَرَ اللّٰهُ بِهٖۤ اَنۡ يُّوۡصَلَ وَيُفۡسِدُوۡنَ فِى الۡاَرۡضِ​ؕ اُولٰٓـئِكَ هُمُ الۡخٰسِرُوۡنَ‏) (2:27)

جب ھم اَمْرُ اللّٰه والے کام کرنے کے برعکس کام کرتے ھیں۔ تو وہ کام پھر اَمْرُ اللّٰه نہیں رھتا بلکہ عَنْ اَمْرِیْ ھوتا ھے جو اللہ کے امر کے بجائے نفس امارہ کی طرف سے ھوتا ھے۔ مَاۤ اُبَرِّئُ نَفْسِیْۚ-اِنَّ النَّفْسَ لَاَمَّارَةٌۢ بِالسُّوْٓءِ (12:53) جو اپنی خواھش کے پیچھے چلا تو اس کا امر حد سے گزر گیا۔ (اتَّبَعَ هَوٰىهُ وَ كَانَ اَمْرُهٗ فُرُطًا) (18:28)

آپ کے رب نے ارادہ کیا کہ وہ اپنی جوانی کو پہنچیں اور آپ کے رب کی رحمت سے اپنا خزانہ نکالیں اور یہ فعل میں نے اپنے امر سے نہیں کیا۔ (فَاَرَادَ رَبُّكَ اَنْ یَّبْلُغَاۤ اَشُدَّهُمَا وَ یَسْتَخْرِجَا كَنْزَهُمَا ﳓ رَحْمَةً مِّنْ رَّبِّكَۚ-وَ مَا فَعَلْتُهٗ عَنْ اَمْرِیْ) (18:82)

اس لیے بہت سے کاموں کے بارے میں ھم کہتے ھیں کہ؛ میں یہ کام اس لیے کر رھا ھوں کہ یہ میری خواھش ھے۔ کیونکہ یہ کام اَمْرُ اللّٰه یا عَنْ اَمْرِیْ کی وجہ سے ھوتے ھیں۔ لیکن اللہ ھی کے ھاتھ میں تمام امور کا انجام ھے۔ (اِلَى اللّٰهِ عَاقِبَةُ الْاُمُوْرِ) (22-31)

اَمْرُ اللّٰه والے کام حسنات والے ھوتے ھیں لیکن عَنْ اَمْرِیْ والے کام اللہ کے امر کو قطع کرکے نفس کی خواھش کی وجہ سے کیے جانے کی وجہ سے سيئات والے ھوتے ھیں۔ جبکہ کام کو اَمْرُ اللّٰه یا عَنْ اَمْرِیْ کی بنیاد پر کرنے کے لیے کی جانے والی بھاگ دوڑ اور کوشش کا بھی شمار حسنات یا سيئات کاموں کی وجہ سے گناہ یا ثواب میں ھوتا ھے۔

——————————————–

چھٹا حصہ :

انسان کے بس میں ھونا نہیں ھے۔ انسان کے بس میں صرف کرنا ھے۔ لیکن کرنے کا انحصار اگر اللہ تعالٰی کے امر کے بجائے عَنْ اَمْرِیْ پر ھو تو بھی قضِیَ اللہ کے بعد ھی وہ ھوا کرتا ھے۔ (لِّیَقۡضِیَ اللّٰہُ اَمۡرًا کَانَ مَفۡعُوۡلًا) (8:42)

چونکہ سارے امور اللہ ھی کی طرف رجوع کرتے ھیں۔ (اِلَی اللّٰہِ تُرۡجَعُ الۡاُمُوۡرُ) (8:44) لہٰذا اللہ جب کسی امر کا فیصلہ کردے تو پھر وہ ھوا کرتا ھے۔ (لِّیَقۡضِیَ اللّٰہُ اَمۡرًا کَانَ مَفۡعُوۡلًا) (8:42)

وھی آسمانوں اور زمین کو وجود میں لانے والا ھے اور جب کسی امر کا فیصلہ کرتا ھے تو پھر اس کو صرف یہی فرماتا ھے کہ “ھوجا” پس وہ ھوجاتا ھے۔ (بَدِیْعُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِؕ- وَ اِذَا قَضٰۤى اَمْرًا فَاِنَّمَا یَقُوْلُ لَهٗ كُنْ فَیَكُوْنُ) (2:117)

بلکہ انسان کو جو مصیبت پہنچتی ھے وہ بھی اللہ کے اذن کے بعد ھی پہنچتی ھے۔ (مَاۤ اَصَابَ مِنْ مُّصِیْبَةٍ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِؕ) (64:11)

جبکہ اس کا امر ھے کہ جب وہ کسی شے کا ارادہ کرتا ھے تو اسے کہتا ھے کہ “ھوجا” تو وہ ھوجاتی ھے۔ (إِنَّمَا أَمْرُهُ إِذَا أَرَادَ شَيْئًا أَنْ يَقُولَ لَهُ كُنْ فَيَكُونُ) (36:82)

——————————————–

ساتواں حصہ :

انسان کے بس میں ھونا نہیں بلکہ کرنا بھی نہیں ھے۔ سب کچھ اللہ کی طرف سے ھے (كُلٌّ مِّنۡ عِنۡدِ اللّٰهِ‌)۔ (4:78) انسان کے بس میں صرف امر کو اچھے طریقے سے کرنا یا برے طریقے سے کرنا ھے۔

بلاشبہ اللہ اپنے امر کو مکمل کر کے رھتا ھے۔ اللہ نے ھر چیز کے لیے ایک تقدیر مقرر کر رکھی ھے۔ (اِنَّ اللّٰهَ بَالِغُ اَمْرِهٖؕ-قَدْ جَعَلَ اللّٰهُ لِكُلِّ شَیْءٍ قَدْرًا) (3-65)

چونکہ کوئی نفس نہیں جانتا کہ وہ کل کیا کسب کرے گا۔ (وَمَا تَدۡرِىۡ نَفۡسٌ مَّاذَا تَكۡسِبُ غَدًا​) (31:34) لہٰذا اپنی پسند کے مطابق ھونے پر خوش ھونا اور اپنی پسند کے مطابق نہ ھونے پر پریشان ھونا مناسب نہیں ھے۔

اے میرے بیٹے ! ٱلصَّلَوٰةَ کی پابندی رکھنا اور امر کو اچھے طریقے سے کرنا اور برے طریقے سے نہ کرنا اور جو مصیبت تجھے پہنچے اس پر صبر کرنا۔ بیشک یہ بڑی ھمت کے امور ھیں۔ (31:17)

اگر الله تم کو کوئی نقصان پہنچائے تو اس کو کوئی دور کرنے والا نہیں ھے مگر وھی اور اگر وہ تمہارے لیے کسی خَير کا ارادہ کرے تو اس کے فضل کو روکنے والا کوئی نہیں ھے۔ وہ اسے اپنے بندوں میں سے جسے چاھتا ھے پہنچاتا ھے۔ وہ الْغَفُورُ الرَّحِيم ھے۔ (107-10)

وہ الله ھی ھے جس نے سات آسمان اور اسی کی مانند زمین میں بھی خلق کیا۔ اس کا امر ان کے درمیان میں نازل ھوتا رھتا ھے تمہیں علم ھونا چاھیے کہ الله ھر چیز پر قَدِير ھے اور الله نے ھر چیز کا اپنے علم سے احاطہ کر رکھا ھے۔ (12-65) اس کی شان یہ ھے کہ جب وہ کسی چیز کا ارادہ کرتا ھے تو اس سے کہتا ھے کہ ھو جا تو وہ ھو جاتی ھے۔ (82-36)

آسمانوں میں اور زمین میں اسی کی بادشاھی ھے اور اللہ ھی کی طرف سارے امور واپس جاتے ھیں۔ (5-57) وھی آسمان سے زمین تک امور کی تدبیر کرتا ھے پھر اس کے پاس پہنچتے ھیں ایک ایسے دن میں کہ جس کی مقدار تمہارے شمار کے حساب سے ایک ھزار سال ھے۔ (5-32)

الله انسانوں کے لیے اپنی رحمت میں سے جو کھولتا ھے تو اس کا کوئی روکنے والا نہیں ھے اور جو وہ روک دے تو اس کے بعد اس کا کوئی کھولنے والا نہیں ھے اور وہ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ ھے۔ (2-35)

اسی کے پاس غیب کی کنجیاں ھیں سوائے اس کے انہیں کوئی نہیں جانتا اور اسے علم ھے جو خشکی میں ھے اور جو سمندر میں ھے اور کوئی پتہ نہیں جھڑتا مگر وہ اس کے علم میں ھے اور زمین کے اندھیروں میں نہ کوئی دانہ اور نہ کوئی ھری اور نہ سوکھی چیز ھے مگر كِتَابٍ مُّبِين میں ھے۔ (59-6)

کہہ دو کہ ھم کو کوئی مصیبت نہیں پہنچ سکتی بجز اس کے جو اللہ نے ھمارے لیے لکھ دی ھو وھی ھمارا مولیٰ ھے۔ اور مومنوں کو اللہ پر ھی بھروسہ رکھنا چاھیے۔ (9:51)

وھی تو ھے جس نے تم کو زمین کا خلیفہ بنایا اور تم میں سے ایک کو دوسرے پر درجات میں بلند کیا تاکہ تم کو اس میں سے آزمائے جو اس نے تم کو عطا کیا۔ تمہارا رب سزا دینے میں بہت تیز ھے اور وہ غَفُورٌ رَّحِيمٌ بھی ھے۔ (165-6)

——————————————–

آٹھواں حصہ :

اس نے جو تمہیں دیا ھے اس سے تمہاری آزمائش کرنی ھے سو الخَيْرَاتِ میں سبقت لے جاؤ۔ (وَلَٰكِن لِّيَبۡلُوَكُمۡ فِي مَآ ءَاتَىٰكُمۡۖ فَٱسۡتَبِقُواْ ٱلۡخَيۡرَٰتِۚ) (5:48)

زمانے کی قسم (1) انسان بڑے خسارے میں ھے (2) سوائے ان لوگوں کے جو ایمان لائے اور عمل صالح کرتے رھے اور حق پر قائم رھنے کی اور صبر کرنے کی آپس میں وصیت کرتے رھے۔ (3)

اے انسانوں ! اپنے رب سے تعلق قائم کرو جس نے تم کو واحد نفس سے تخلیق کیا اور اسی میں سے تمہارے جوڑے تخلیق کیے اور اسی میں سے کثرت سے مرد اور عورتیں پھیلا دیے۔ سو تعلق قائم رکھو الله سے جس سے مدد طلب کرتے ھو اور خونی رشتہ داروں سے۔ بیشک الله تم پر ھر وقت نگراں ھے۔ (4:1)

انسانوں کے لیے محبت ان کے نفس کی خواھشات کی عورتوں سے اور بیٹوں سے اور بڑے بڑے ڈھیروں سے سونے اور چاندی کے اور منتخب گھوڑوں سے اور مال مویشی سے اور کھیت کھلیان سے بڑی خوشنما بنادی گئی ھے۔ یہ سب دنیا کی زندگی کا ساز و سامان ھے اور اللہ کے پاس بہت اچھا ٹھکانا ھے۔ (14-3)

خوب جان لو کہ دنیا کی زندگی محض کھیل کھیلنا اور تماشا دیکھنا اور نمود و نمائش کرنا اور ایک کا دوسرے پر فخر جتانا اور مال و اولاد کے ذریعے ایک دوسرے کو متاثر کرنے کی کوشش کرنا ھے۔ (20-57)

تم کو ھم ضرور آزمائیں گے کسی قدر خوف سے اور بھوک سے اور مال کے نقصان سے اور نفس کی خواھشوں کے پوارانہ ھونے سے اور آمدنی کی کمی سے اور صبر کرنے والوں کو خوشخبری دو۔ (155-2)

کوئی مصیبت ایسی نہیں ھے جو زمین میں یا تمہارے اپنے نفس پر نازل ھوتی ھو اور ھم نے اس کو پیدا کرنے سے پہلے ایک کتاب میں لکھ نہ رکھا ھو ایسا کرنا اللہ کے لیے بہت آسان کام ھے۔ (57:22)

جو شخص دنیا کی کھیتی کا اردہ رکھتا ھو تو اس کو ھم دنیا میں سے دیتے ھیں اور جو شخص آخرت کی کھیتی کا اردہ رکھتا ھو تو اس کو ھم آخرت میں سے دیتے ھیں۔ (145-3) جو شخص دنیا کے فائدے کا ارادہ رکھتا ھو تو الله کے پاس تو دنیا کا فائدہ بھی ھے اور آخرت کا فائدہ بھی ھے اور الله سَمِيعًا بَصِير بھی ھے۔ (134-4)

جو شخص آخرت کی کھیتی کا اردہ رکھتا ھو تو ھم اس کے لیے اس کی کھیتی میں اضافہ کریں گے اور جو شخص دنیا کی کھیتی کا اردہ رکھتا ھو تو اس کو ھم دنیا میں سے دیتے ھیں مگر اس کے لیے آخرت میں کوئی حصہ نہیں ھے۔ (20-42)

سو منہ پھیر لو اس شخص سے جو ھمارے ذکر سے منہ موڑتا ھے اور اس کا ارادہ صرف دنیا کی زندگی کا ھے۔ (29-53) یہی ھے انتہا اس کے علم کی۔ بیشک تیرا رب ھی ھے جو خوب جانتا ھے اسے جو اس کے راستے سے بھٹک گیا اور وھی خوب جانتا ھے اسے بھی جو سیدھے راستے پر ھے۔ (30-53)

آسمانوں میں اور زمین میں اسی کی بادشاھی ھے۔ زندگی دیتا ھے اور موت دیتا ھے اور وہ ھر چیز پر قدیر ھے۔ (2-57) وھی اول بھی ھے اور آخر بھی اور ظاھر بھی ھے اور باطن بھی اور وہ ھر چیز کا پورا علم رکھتا ھے۔ (3-57)

اے الله ! بادشاھی کے مالک ! جس کو تو چاھے بادشاھی دیتا ھے اور جس سے تو چاھے بادشاھی چھین لیتا ھے اور جس کو تو چاھے عزت دیتا ھے اور جس کو تو چاھے ذلت دیتا ھے۔ تیرے ھی ھاتھ میں خَير ھے۔ بیشک تو ھر چیز پر قَدِير ھے۔(26-3)

وہ جس کے ھاتھ میں بادشاھی ھے بڑی برکت والا ھے اور وہ ھر چیز پر قَدِير ھے۔ (1-67) اسی نے موت اور زندگی کو پیدا کیا تاکہ تمہاری آزمائش کرے کہ تم میں کون أَحْسَنُ عمل کرتا ھے اور وہ الْعَزِيزُ الْغَفُور ھے۔ (2-67)

اسے علم ھے جو داخل ھوتا ھے زمین میں اور جو اس سے نکلتا ھے اور جو نازل ھوتا ھے آسمان سے اور جو اس کی طرف چڑھتا ھے اور وہ تمہارے ساتھ ھوتا ھے جہاں بھی تم ھو اور اللہ ان اعمال کو جو تم کرتے ھو دیکھ رھا ھے۔ (4-57)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *