
اسلام ‘ اسلام کا مقصد ‘ اسلام کے علم کا ذریعہ ‘ اسلام کے علم کے مراحل ‘ اسلام کی تعلیمات کے مراحل ![]()
تاریخ: 8 دسمبر 2024
![]()
اسلام کیا ھے؟
اللہ کے دین کا نام اسلام ھے۔
![]()
اسلام کا مقصد کیا ھے؟
اسلام کا مقصد دین کی تعلیمات پر عمل کرکے؛
![]()
اپنے جسم کے عمل صالح کرکے
![]()
نفس کی خواھشات حسنات والی کرکے
![]()
قلب کے خیالات حق والے بناکر
اپنی دنیا اور آخرت سنوارنا ھے۔
![]()
اسلام کے علم کا ذریعہ کیا ھے؟
اسلام کے علم کا ذریعہ قرآن ھے۔ قرآن کی ھدایت؛
![]()
انسانوں کے لیے “بیان” ھے۔
![]()
ایمان لانے والوں کے لیے “شفا” ھے۔
![]()
متقیوں کے لیے “عبرت” ھے۔
![]()
محسنین کے لیے “رحمت” ھے۔
![]()
مومنین کے لیے “بشارت” ھے۔
![]()
اسلام کے علم کے مراحل کیا ھیں؟
اسلام کے علم کے
مراحل ھیں۔
![]()
اسلام کے علم کا پہلا مرحلہ
(اسلام کے علم کی پرائمری اسٹیج)
قرآن پڑھ کرحق کو باطل سے الگ کرنے کے “بیان” کو سمجھ کر اللہ پر ‘ آخرت پر ‘ فرشتوں پر ‘ کتابیوں پر ‘ نبیوں پر ایمان لاکر “اسلام میں داخل” ھوا جاتا ھے۔
![]()
اسلام کے علم کا دوسرا مرحلہ
(اسلام کے علم کی سیکنڈری اسٹیج)
پھر اپنے رسول کی شریعت کے مطابق دین کی تعلیمات پر عمل کرکے اپنے “جسم کے عمل صالح” کیے جاتے ھیں۔
شریعت اسلامی قانون یا اسلامی فقہ ھے۔ جو کہ قرآن مجید میں نازل ھوا ھے۔ یہ تصوف کا پہلا قدم ھے۔
![]()
اسلام کے علم کا تیسرا مرحلہ
(اسلام کے علم کی گریجویٹ اسٹیج)
پھر طریقت کا علم حاصل کرکے اپنی “نفس کی خواھشات حسنات والی” کی جاتی ھیں۔
عربی زبان میں طریقہ کا مطلب راستہ ھے اور یہ صوفی اخوت یا سلسلہ یا ترتیب کو ظاھر کرتا ھے۔ یہ تصوف کا دوسرا مرحلہ ھے۔
![]()
اسلام کے علم کا چوتھا مرحلہ
(اسلام کے علم کی ماسٹر اسٹیج)
پھر حقیقت کا علم حاصل کرکے اپنے “قلب کے خیالات حق والے” کیے جاتے ھیں۔
حقیقہ کی بہتر تعبیر اس علم کے طور پر کی جاسکتی ھے۔ جو اللہ کی طرف رجوع کرنے سے حاصل ھوتا ھے۔ یہ تصوف کا تیسرا مرحلہ ھے۔
![]()
اسلام کے علم کا پانچواں مرحلہ
(اسلام کے علم کی پی ایچ ڈی اسٹیج)
پھر معرفت کا علم حاصل کرکے روح کی تحریکات سے آگاھی حاصل کرکے امر ربی کو سمجھ کر “صراط مستقیم” پر چلا جاتا ھے۔
معرفت کی اصطلاح صوفی مسلمان روح کی تحریکات کو سمجھنے کے علم کے لیے استعمال کرتے ھیں۔ جوکہ عقلی طور پر حاصل کیے جانے کے بجائے روحانی تجربات سے حاصل ھوتا ھے۔ یہ تصوف کا چوتھا مرحلہ ھے۔
![]()
اسلام کی تعلیمات کے مراحل کیا ھیں؟
اسلام کی تعلیمات کے
مراحل ھیں۔
![]()
اسلام کی تعلیم کی پرائمری اسٹیج
اللہ پر
آخرت پر
فرشتوں پر
کتابیوں پر
نبیوں پر
ایمان لائے بغیر اسلام میں داخل نہیں ھوا جاسکتا۔
اسلام میں داخل ھونا “ایمان لانے والوں” کا مقام ھے۔
قرآن کی ھدایت ان لوگوں کے لیے جو ایمان لاتے ھیں صرف “بیان” نہیں رھتی بلکہ “شفا” بھی بن جاتی ھے۔ اس لیے “شریعت” کے مرحلے سے آگاھی ھونے لگتی ھے۔
![]()
اسلام کی تعلیم کی سیکنڈری اسٹیج
شریعت کا علم حاصل کیے بغیر جسم کو سوء العمل سے بچایا نہیں جاسکتا اور صالح عمل کیے نہیں جاسکتے۔
صالح عمل کرنا “متقیوں” کا مقام ھے۔
“ایمان لانے والوں” کا مقام حاصل کرنے کے بعد؛
اللہ کی محبت میں قربت والے لوگوں کو اور یتیموں کو اور مسکینوں کو اور مسافروں کو مال دینے۔
مانگنے والوں پر اور گردنوں کے چھڑانے میں خرچ کرنے۔
صلاۃ قائم کرنے اور زکوٰۃ دینے۔
جب عہد کرلیا جائے تو اس کو پورا کرنے۔
تنگدستی میں اور جسمانی تکلیف میں اور معرکہ کارزار کے وقت صبر کرنے۔
سے “متقیوں” کا مقام حاصل ھوتا ھے۔
قرآن کی ھدایت “متقیوں” کے لیے صرف “بیان” اور “شفا” نہیں رھتی بلکہ “عبرت” بھی بن جاتی ھے۔ اس لیے “طریقت” کے مرحلے سے آگاھی ھونے لگتی ھے۔
![]()
اسلام کی تعلیم کی گریجویٹ اسٹیج
طریقت کا علم حاصل کیے بغیر نفس کو سیات والی خواھشات سے بچایا نہیں جاسکتا اور حسنات والی خواھشات پر عمل کیا نہیں جاسکتا۔
حسنات والی خواھشات پر عمل کرنا “محسنین” کا مقام ھے۔
“متقیوں” کا مقام حاصل کرنے کے بعد؛
![]()
ھر عبادت کے مقام پر اپنی زینت سے آراستہ رھنے اور کھانے اور پینے لیکن اسراف نہ کرنے۔
![]()
تمام فحش کاموں سے خواہ ظاھر ھوں یا پوشیدہ ھوں بچنے۔
![]()
گناہ کرنے سے بچنے۔
![]()
حق کے بغیر زیادتی کرنے سے بچنے۔
![]()
ان کو الله کا شریک نہ بنانے جس کی اللہ نے کوئی سند نازل نہیں کی۔
![]()
الله کے بارے میں ایسی باتیں نہ کہنے جن کا کچھ علم نہ ھو۔
![]()
اپنی اولاد کو مفلسی کے ڈر سے قتل نہ کرنے۔
![]()
زنا کے قریب نہ جانے۔
![]()
اس نفس کو قتل نہ کرنے جس کو قتل کرنا اللہ نے حرام کیا ھے۔
![]()
یتیم کے مال کے قریب بھی نہ جانے مگر ایسے طریقے سے کہ جو احسن ھو۔
![]()
جب کوئی چیز ناپ کر دینی ھو تو پیمانہ پورا بھرنے اور جب تول کر دینی ھو تو ترازو سیدھی رکھنے۔
![]()
ایسی بات کے پیچھے نہ لگنے کہ جس کا علم نہ ھو۔
![]()
زمین پر اکڑ کر نہ چلنے۔
کیونکہ یہ سب سَيٍّئُه ھیں جو اللہ کے نزدیک بہت ناپسندیدہ ھیں۔
![]()
زمین میں اس کی اصلاح کے بعد فساد برپا نہ کرنے۔
![]()
صبر کرنے۔
![]()
صبر پر قائم رھنے۔
![]()
آپس میں رابطہ رکھنے۔
![]()
الله سے ڈرتے رھنے۔
![]()
اللہ کی خاطر جدوجہد کرتے رھنے۔
![]()
خوف اور امید کے ساتھ اللہ سے دعائیں مانگتے رھنے۔
سے “محسنین” کا مقام حاصل ھوتا ھے۔
قرآن کی ھدایت “محسنین” کے لیے صرف “بیان” اور “شفا” اور “عبرت” نہیں رھتی بلکہ “رحمت” بھی بن جاتی ھے۔ اس لیے “حقیقت” کے مرحلے سے آگاھی ھونے لگتی ھے۔
![]()
اسلام کی تعلیم کی ماسٹر اسٹیج
حقیقت کا علم حاصل کیے بغیر قلب کو باطل خیالات سے بچایا نہیں جاسکتا اور حق والے خیالات کی طرف متوجہ نہیں کیا جاسکتا۔ حق والے خیالات کی طرف متوجہ ھونا “مومنین” کا مقام ھے۔
“محسنین” کا مقام حاصل کرنے کے بعد؛
![]()
جب الله کا ذکر کیا جائے تو دل لرز جانے۔
![]()
اللہ کی آیات پڑھی جائیں تو ایمان مزید بڑھ جانے۔
![]()
اللہ پر توکل رکھنے۔
![]()
صلاۃ قائم کرنے۔
![]()
جو رزق اللہ نے دیا ھے اس میں سے خرچ کرنے۔
![]()
الله کی راہ میں اپنے مال سے اور اپنے نفس سے جدوجہد کرنے۔
![]()
اللہ کی راہ میں جدوجہد کرنے والوں کو پناہ دینے اور ان کی مدد کرنے۔
![]()
ھجرت کرنے۔
![]()
آخرت کا ارادہ رکھنے اور آخرت کے لیے بھاگ دوڑ کرنے جو بھاگ دوڑ آخرت کے لیے ضروری ھے۔
![]()
اپنے نفس پر نبی کو زیادہ حق دار رکھنے اور نبی کی بیویوں کو اپنی مائیں سمجھنے۔
![]()
مومنوں اور مہاجروں کی نسبت خونی رشتہ داروں کو آپس میں زیادہ حق دار سمجھنے سوائے اس کے کہ اپنے سرپرستوں کے ساتھ کوئی معروف فعل کرنا ھو۔
![]()
آپس کے تعلقات درست کرنے۔
![]()
الله کی اور اس کے رسول کی اطاعت کرنے۔
![]()
دِينًا قِيَمًا مِّلَّةَ إِبْرَاهِيمَ حَنِيفًا پر قائم رھنے۔
![]()
اپنی صلاۃ اور اپنی قربانی اور اپنی حیاتی اور اپنی موت اللہ کے لیے رکھنے۔
![]()
الله سے ڈرنے۔
![]()
ھر چیز کا رب اللہ کو سمجھنے۔
![]()
اس پر یقین رکھنے کہ الله وہ ھے کہ نہیں ھے کوئی معبود سوائے اس کے اور مومنوں کو الله پر ھی توکل کرنا چاھیے۔
![]()
جو الله نے اپنے فضل سے عطا کیا ھے اس پر خوش رھنے۔
![]()
نہ کوئی خوف کرنے اور نہ غمگین ھونے۔
![]()
الله کی طرف سے دی گئی نعمتوں اور اس کے فضل سے مطمئن رھنے۔
![]()
تکلیفیں اٹھاکر اور مصیبتیں برداشت کرکے بھی الله اور رسول کے حکم کو قبول کرتے ھوئے احسن کام کرنے اور تقویٰ اختیار کرنے۔
سے “مومنین” کا مقام حاصل ھوتا ھے۔
قرآن کی ھدایت “مومنین” کے لیے صرف “بیان” اور “شفا” اور “عبرت” اور “رحمت” نہیں رھتی بلکہ “بشارت” بھی بن جاتی ھے۔ اس لیے “معرفت” کے مرحلے سے آگاھی ھونے لگتی ھے۔
![]()
اسلام کی تعلیم کی پی ایچ ڈی اسٹیج
معرفت کا علم حاصل کیے بغیر صراط الجھیم سے بچا نہیں جاسکتا اور صراط مستقیم پر چلا نہیں جاسکتا۔ صراط مستقیم پر چلنا “مقربین” کا مقام ھے۔
“مومنین” کا مقام حاصل کرنے کے بعد وہ لوگ جنہوں نے الله کو مضبوطی سے پکڑے رکھا تو ان کو وہ اپنی رحمت اور فضل میں داخل کرے گا اور ان کی صِرَاطًا مُّسْتَقِيم کی طرف رھنمائی کرے گا۔
اللہ ھی نے واضح آیات نازل کیں ھیں اور الله ھی جسے چاھتا ھے صِرَاطٍ مُّسْتَقِيم کی طرف ھدایت دیتا ھے۔
تمہارے پاس الله کی طرف سے نور اور كِتَابٌ مُّبِين آگئی ھے۔ اس کے ذریعے سے الله اس کو ھدایت دیتا ھے جو سلامتی کی راھوں کے لیے اس کی رضا کی پیروی کرتا ھے اور ان کو اپنی اجازت سے ظلمات سے نور کی طرف نکالتا ھے اور ان کو صِرَاطٍ مُّسْتَقِيم کی طرف ھدایت دیتا ھے۔
اللہ نے ھدایت کی تھی کہ شیطان کی عبادت نہ کرنا وہ تمہارا کھلا دشمن ھے اور اللہ کی ھی عبادت کرنا۔ یہی صِرَاطٌ مُّسْتَقِيم ھے۔
ابلیس نے اللہ سے کہا تھا کہ چونکہ تونے مجھے دھتکارا ھے تو میں تیرے الْمُسْتَقِيم راستے پر ان کے لیے ضرور گھات لگاتا رھوں گا۔ میں ضرور ان کے لیے زمین میں زیبائش پیدا کروں گا اور ان سب کو ضرور بہکاؤں گا۔ سوائے تیرے ان بندوں کے جو الْمُخْلَصِين ھیں۔ الله نے فرمایا تھا کہ یہی ھے مجھ تک پہنچنے کا مُسْتَقِيم راستہ۔
اللہ نے کہا کہ ھم نے تم میں سے ھر ایک کے لیے ایک شریعت اور ایک طریقہء کار بنا دیا ھے۔ اگر الله چاھتا تو تم کو ایک ھی اُمّت بنا دیتا لیکن چونکہ اس نے جو تمہیں دیا ھے اس سے تمہاری آزمائش کرنی ھے سو الخَيْرَات میں سبقت لے جاؤ۔ سبقت لے جانے والے تو سبقت لے جانے والے ھیں۔ یہی تو “مقرب” ھیں۔ ھم نے انہیں اپنے پاس سے رحمت دی اور علم لدنی میں سے علم عطا کیا۔
Leave a Reply