Masood InsightMasood Insight

دنیا کی زندگی کھیل تماشا (لَعِبٌ وَّلَهۡوٌ‌) اور دھوکے کا سامان (مَتَاعُ الْغُرُورِ) ھے۔

دنیا کی زندگی کھیل تماشا (لَعِبٌ وَّلَهۡوٌ‌) اور دھوکے کا سامان (مَتَاعُ الْغُرُورِ) ھے۔

تحریر: ڈاکٹر مسعود طارق

تاریخ: 25 نومبر 2024

عربی کے لفظ لَعِبٌ کے اردو میں معانی ھیں؛ وہ کھیل ‘ کھیل کود ‘ سیر ‘ تماشا۔ وہ شغل جو وقت گزاری کے لیے کیے جاتے ھوں۔ جن کے کرنے میں مشغولیت کی وجہ سے انسان اپنے مقصد سے غافل ھوجائے۔

عربی کے لفظ لَهۡوٌ‌ کے اردو میں معانی ھیں؛ وہ کھیل ‘ کھیل کود ‘ بازی ‘ دف ‘ سرود وغیرہ۔ وہ شغل جو دل بہلانے کے لیے دیکھے جاتے ھوں۔ جن کے دیکھنے میں مشغولیت کی وجہ سے انسان اپنے مقصد سے غافل ھوجائے۔

عربی کے الفاظ لَعِبٌ وَّلَهۡوٌ‌ کے اردو میں معانی ھیں؛ وہ کھیل کود ‘ ھنسی مذاق ‘ عیش و نشاط ‘ سیر و تفریح ‘ تماشا۔ وہ شغل جس سے تفریح ھو۔

دنیا کی زندگی کو لَعِبٌ وَّلَهۡوٌ‌ قرار دینے کی حسب ذلیل وجوھات ھیں؛

(1)۔ لَعِبٌ وَّلَهۡوٌ‌ کی مدت کم ھوتی ھے اور بہت جلد ختم ھوجاتی ھے۔ اسی طرح دنیا کی زندگی بھی کم ھوتی ھے اور جلد ختم ھوجاتی ھے۔

(2)۔ لَعِبٌ وَّلَهۡوٌ‌ عموما کسی فریب پر مبنی ھوتا ھے۔ اسی طرح انسان دنیا کی زندگی کو بھی کسی فریب کے سہارے گزارتا ھے۔

(3)۔ عموما بچے اور نادان اور غافل لوگ لَعِبٌ وَّلَهۡوٌ‌ میں مشغول رھتے ھیں۔ سنجیدہ اور فہمیدہ لوگ لَعِبٌ وَّلَهۡوٌ‌ میں زیادہ مشغول نہیں ھوتے۔

دنیا کی لذتوں اور دلفریبیوں میں جاھل اور غافل لوگ مشغول رھتے ھیں۔

1۔ جو لوگ قیامت اور مرنے کے بعد دوبارہ اٹھنے کے منکر ھیں۔ ان کے نزدیک دنیا اور اس کی رنگینیاں ‘ دلفریبیاں اور دنیا کی راحتیں اور لذتیں بہت بڑی چیز ھیں۔

2۔ جو لوگ عقل مند اور زیرک ھوتے ھیں۔ وہ جانتے ھیں کہ یہ دنیا اور اس کی لذتیں فانی ھیں۔ لہذا وہ فانی کی بہ نسبت باقی رھنے والی نعمتوں کے حصول کی جدوجہد میں مشغول رھتے ھیں۔

دنیا کی زندگی صرف کھیل تماشا (لَعِبٌ وَّلَهۡوٌ‌) ھے اور آخرت کا گھر متقین کے لیے خَيۡرٌ والا ھے۔ پھر کیا تم عقل سے کام نہیں لو گے؟

الۡحَيٰوةُ الدُّنۡيَاۤ اِلَّا لَعِبٌ وَّلَهۡوٌ‌ ؕ وَلَـلدَّارُ الۡاٰخِرَةُ خَيۡرٌ لِّـلَّذِيۡنَ يَتَّقُوۡنَ‌ؕ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ

اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں دنیا کا خسیس اور گھٹیا ھونا اور اس کا رکیک اور بے وقعت اور بے مایہ ھونا بیان فرمایا۔

چونکہ دنیا آخرت کی سعادتوں اور کامیابیوں کا وسیلہ اور زینہ بھی ھے۔ اس لیے اس آیت کی تفسیر میں دو قول ھیں؛

1۔ دنیا کی زندگی مطلقا مذموم نہیں ھے۔ بلکہ کافر کی زندگی مذموم ھے۔ مومن چونکہ نیک اعمال کے ساتھ زندگی گزارتا ھے۔ اس لیے اس کی زندگی لَعِبٌ وَّلَهۡوٌ‌ نہیں ھے۔

2۔ دنیا کی زندگی مطلقا لَعِبٌ وَّلَهۡوٌ‌ ھے اور دنیا سے مراد نفس کو تسکین دینے والی لذتیں اور راحتیں ھیں۔ جس طرح انسان جب کھیل تماشے میں مشغولیت سے فارغ ھوتا ھے تو وہ اس پر افسوس کرتا ھے کہ؛ اگر اس وقت کو کسی نیکی کے کام میں گزارا ھوتا تو زیادہ بہتر ھوتا۔ اسی طرح نفس کو تسکین دینے والی دنیا کی لذتوں سے جب انسان فارغ ھوتا ھے تو وہ اس پر افسوس کرتا ھے کہ؛ اگر یہ وقت کسی نیک عمل میں صرف کیا ھوتا تو زیادہ اچھا ھوتا۔

دُنیا کی زندگی دھوکے کا سامان ھے۔

الْحَيَاةُ الدُّنْيَا إِلَّا مَتَاعُ الْغُرُورِ

عربی کے لفظ مَتَاعُ کے اردو میں معانی ھیں؛ مال ‘ پونجی ‘ سامان ‘ سرمایہ ۔ وہ چیز جس سے انسان کا نفس لطف اندوز ھوتا ھے اور نفع حاصل کرتا ھے۔

عربی کے لفظ الْغُرُورِ کے اردو میں معانی ھیں؛ فاسد خیال ‘ وسوسے ‘ خود کو دھوکہ دینے والی سوچ ۔ وہ خیال جس سے انسان دھوکہ کھاتا ھے لیکن انسان کا نفس اس سے لطف اندوز ھوتا ھے۔

عربی کے الفاظ مَتَاعُ الْغُرُورِ کے اردو میں معانی ھیں؛ مال ‘ پونجی ‘ سامان ‘ سرمایہ اور فاسد خیال ‘ وسوسے ‘ خود کو دھوکہ دینے والی سوچ ‘ جس کا ظاھر تو بہت فائدے والا نظر آتا ھے۔ لیکن اس کا باطن بہت نقصان والا ھوتا ھے۔

تفسیر کبیر میں ھے دنیا اس تجارتی سامان کی طرح ھے۔ جسے ملمع کرکے رات کے اندھیرے میں کسی ناواقف کے ھاتھ فروخت کردیا جائے۔ جو دیکھنے میں بڑا خوبصورت ھے۔ مگر دن نکلنے اور واقف کے بتانے پر اسکی اصلیت کھل جائے۔ جس سے خریدار کو سخت صدمہ ھو۔ انسان کا نفس خریدار ھے۔ شیطان بیوپاری ھے۔ دنیا ملمع کیا ھوا سامان ھے۔ جو بظاھر دل فریب ھے۔ مگر بتانے سے اسکی اصلیت کھل جاتی ھے۔

دنیا کے بے وقعت ھونے کے متعلق احادیث

حضرت سلمان فارسی (رض) بیان کرتے ھیں کہ؛ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: دنیا مومن کا قید خانہ ھے اور کافر کی جنت ھے۔

حضرت ابو موسیٰ اشعری (رض) بیان کرتے ھیں کہ؛ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص اپنی دنیا سے محبت کرے گا۔ وہ اپنی آخرت کو نقصان پہنچائے گا اور جو شخص اپنی آخرت سے محبت کرے گا۔ وہ اپنی دنیا کو نقصان پہنچائے گا۔ سو تم باقی رھنے والی چیز کو فانی ھونے والی چیز پر ترجیح دو۔

محمد بن منکدر اپنے والد (رض) سے روایت کرتے ھیں کہ؛ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: دنیا ملعونہ ھے اور جو کچھ دنیا میں ھے وہ بھی ملعون ھے۔ ماسوا اس کے جو اللہ کے لیے ھو۔ امام ترمذی اور امام ابن ماجہ کی روایت میں ھے؛ ماسوا اللہ کے ذکر کے اور ذکر کرنے والوں کے اور ماسوا عالم یا متعلم کے۔

حضرت مستورد بن شداد (رض) بیان کرتے ھیں کہ؛ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ سواروں کی ایک جماعت میں جا رھا تھا۔ اچانک آپ ایک جگہ سے گزرے جہاں بکری کا (مردہ) بچہ پڑا ھوا تھا۔ آپ نے فرمایا تمہارا کیا خیال ھے کہ جب اس کے مالکوں نے اس کو پھینکا ھوگا تو یہ ان کے نزدیک بے وقعت ھوگا۔ صحابہ نے کہا اس کے بے وقعت ھونے کی وجہ سے ھی انہوں نے اس کو پھینک دیا ھے۔ آپ نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے قبضہ و قدرت میں میری جان ھے۔ جس قدر یہ بکری کا مردہ بچہ اپنے مالکوں کے نزدیک بے وقعت ھے۔ اللہ عزوجل کے نزدیک دنیا اس سے بھی زیادہ بے وقعت ھے۔

حضرت سہل بن سعد (رض) بیان کرتے ھیں کہ؛ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اگر اللہ کے نزدیک دنیا کی وقعت مچھر کے پر کے برابر بھی ھوتی تو اللہ کافر کو اس سے ایک گھونٹ بھی نہ پلاتا۔

حضرت عمرو بن عوف (رض) بیان کرتے ھیں کہ؛ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بخدا مجھے تم پر فقر کا خوف نہیں ھے۔ لیکن مجھے تم پر یہ خوف ھے کہ تم پر دنیا اس طرح کشادہ کردی جائے گی جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر کشادہ کردی گئی تھی۔ سو تم دنیا میں اس طرح رغبت کرو گے جس طرح انہوں نے رغبت کی اور تم اسی طرح ھلاک ھوجاؤ گے جس طرح وہ ھلاک ھوگئے تھے۔

حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) بیان کرتے ھیں کہ؛ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس شخص نے تمام تفکرات کو صرف آخرت کا حصہ بنا دیا۔ اللہ اس کو دنیا کے افکار سے کافی ھوگا اور جس شخص کے تمام افکار دنیا کے حالات کے متعلق ھوں۔ اللہ کو اس کی کوئی پرواہ نہیں ھوتی کہ وہ کس وادی میں ھلاک ھوتا ھے۔

حضرت زید بن ثابت (رض) بیان کرتے ھیں کہ؛ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس شخص کا مقصود دنیا ھو۔ اللہ اس کے حالات دگرگوں کر دیتا ھے اور اس کی آنکھوں کے سامنے فقر کر دیتا ھے اور دنیا سے اس کو وھی چیز ملتی ھے جو اس کے لیے مقدر ھوتی ھے۔ جس شخص کی نیت آخرت ھوتی ھے۔ اللہ تعالیٰ اس کے حالات مجتمع کر دیتا ھے اور اس کا دل مستغنی کر دیتا ھے اور دنیا اس کے پاس ذلیل ھو کر آتی ھے۔

حضرت قتادہ بن النعمان بیان کرتے ھیں کہ؛ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب اللہ کسی بندہ سے محبت کرتا ھے تو اس کو دنیا سے بچاتا ھے۔ جیسے تم میں سے کوئی شخص استسقاء کے مریض کو پانی سے بچاتا ھے۔

حضرت سہل بن سعد الساعدی (رض) بیان کرتے ھیں کہ؛ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ھو کر عرض کیا: یا رسول اللہ ﷺ مجھے کوئی ایسا عمل بتائیے جس کو میں کروں تو اللہ بھی مجھ سے محبت کرے اور لوگ بھی مجھ سے محبت کریں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم دنیا میں بے رغبتی کرو۔ اللہ تم سے محبت کرے گا اور لوگوں کے پاس جو چیزیں ھیں۔ ان سے بے رغبتی کرو تو لوگ تم سے محبت کریں گے۔

حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) بیان کرتے ھیں کہ؛ رسول اللہ ﷺ چٹائی پر لیٹے ھوئے تھے۔ جس کے نشان آپ کی جلد پر نقش ھوگئے تھے۔ میں نے عرض کیا: یارسول اللہ ! آپ پر میرے ماں باپ فدا ھوں۔ اگر آپ ھم کو اجازت دیں تو ھم چٹائی کے اوپر کوئی چیز بچھا دیں جس سے آپ کی جلد محفوظ رھے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مجھے دنیا سے کیا مطلب ھے؟ میری اور دنیا کی مثال یہ ھے کہ؛جیسے کوئی سوار کسی درخت کے سائے میں بیٹھے ‘ پھر سائے کو ترک کرکے سفر شروع کر دے۔

حضرت ابن عمر (رض) بیان کرتے ھیں کہ؛ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: دنیا میں اس طرح رھو جیسے مسافر ھو یا راستہ پار کرنے والے ھو اور اپنے آپ کو اھل قبور میں سے شمار کرو۔

انسان اگر دنیا میں عیش و عشرت اور ناجائز خواھشات کو پورا کرنے میں مصروف رھے تو پھر دنیا اس کے لیے مذموم ھے۔

انسان اگر دنیا میں دین کی سربلندی ‘ دین کی تبلیغ ‘ اسلام کی نشر و اشاعت اور ضرورت مندوں کی مدد کرنے میں مصروف رھے۔ حج اور عمرہ کرے ‘ قربانی ‘ زکوۃ اور صدقات ادا کرے۔ نیکی اور خیر کے راستوں میں وقت کو خرچ کرے۔ اللہ تعالیٰ اور اس کے بندوں کے حقوق ادا کرے تو پھر دنیا اس کے لیے مستحسن ھے۔

حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ھیں کہ؛ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا: صرف دو شخصوں پر رشک کرنا مستحسن ھے۔ ایک وہ شخص جس کو اللہ نے قرآن کا علم دیا ھو اور وہ قرآن کے علم کی تبلیغ کرتا ھو۔ دوسرا وہ شخص جس کو اللہ نے مال دیا ھو اور وہ اس مال کو نیکی میں خرچ کرتا ھو۔

حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) بیان کرتے ھیں کہ؛ صرف دو شخصوں پر رشک کرنا مستحسن ھے۔ ایک وہ شخص جس کو اللہ نے مال دیا ھو۔ وہ اس کو حق کے راستوں پر خرچ کرتا ھو۔ دوسرا وہ شخص جس کو اللہ نے حکمت عطا کی ھو۔ وہ اس کے مطابق فیصلے کرتا ھو اور تعلیم دیتا ھو۔

ان احادیث سے واضح ھوگیا کہ؛

1۔ دنیا مطلقا مذموم نہیں ھے۔ البتہ اگر دنیا میں ناجائز خواھشات کو پورا کرنے میں مصروف رھا جائے تو یہ لائق ملامت اور مستوجب عذاب ھے۔

2۔ دنیا میں ممنوع اور مذموم یہ ھے کہ؛ انسان دنیا کے حصول کو ھی مقصد حیات سمجھ لے۔ جبکہ مقصود آخرت ھے اور دنیا اس کے حصول کا وسیلہ اور اس تک پہنچنے کا زینہ ھے۔ یا بندہ دنیا کی رنگینیوں اور دل فریبیوں میں ڈوب کر اللہ تعالیٰ کی یاد اور اس کی عبادت سے غافل ھوجائے۔

حضرت علی کرم اللہ وجہ الکریم فرماتے ھیں؛

دنیا اس خوش نما سانپ کی طرح ھے۔ جو دیکھنے میں حسین و جمیل ‘ چھونے میں نرم و ملائم ھے۔ مگر اسکا زھر قاتل ھے۔ بظاھر اس میں سرور ھے۔ مگر باطن میں شرور ھے۔ یعنی بظاھر خوشی ھے۔ مگر اس کے باطن میں شر اور فساد ھے۔

دنیا جانے والی ھے اور آخرت آنے والی ھے اور ان میں سے ھر ایک کے فرزند ھیں۔ سو تم آخرت کے فرزند بنو ‘ دنیا کے فرزند نہ بنو۔ آج عمل ھے اور حساب نہیں ھے۔ کل حساب ھوگا اور عمل نہیں ھوگا۔

مالک بن دینار بیان کرتے ھیں کہ؛ لوگوں نے حضرت علی بن ابی طالب (رض) سے کہا: اے ابو الحسن ! ھمارے لیے دنیا کی حقیقت بیان کریں۔ آپ نے فرمایا دنیا کی جو چیزیں حلال ھوں گی۔ ان کا حساب لیا جائے گا اور جو چیزیں حرام ھوں گی ان پر دوزخ کا عذاب ھوگا۔

انسان اپنے لیے ‘ اپنے ماں باپ اور اپنے اھل و عیال کے لیے رزق حلال کی جستجو کرتا ھے۔ اپنے رشتہ داروں اور دیگر انسانوں کے ساتھ الفت اور محبت کے ساتھ پیش آتا ھے۔ ملک و قوم کی فلاح کے لیے اور انسانیت کی خدمت کے لیے تگ و دو کرتا ھے۔ اسے ان تمام کاموں کے احسن عمل ھونے کی بناء پر اللہ اور اس کے رسول اللہ ﷺ کی بشارتوں کے مطابق اجر و ثواب ملے گا۔ اس لیے یہ کام لَعِبٌ وَّلَهۡوٌ‌ میں داخل نہیں ھیں۔

اے انسانوں ! اپنے رب سے تعلق قائم کرو جس نے تم کو واحد نفس سے تخلیق کیا اور اسی میں سے تمہارے جوڑے تخلیق کیے اور اسی میں سے کثرت سے مرد اور عورتیں پھیلا دیے۔ سو تعلق قائم رکھو الله سے جس سے مدد طلب کرتے ھو اور خونی رشتہ داروں سے۔ بیشک الله تم پر ھر وقت نگراں ھے۔ (1-4)

يٰۤـاَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوۡا رَبَّكُمُ الَّذِىۡ خَلَقَكُمۡ مِّنۡ نَّفۡسٍ وَّاحِدَةٍ وَّخَلَقَ مِنۡهَا زَوۡجَهَا وَبَثَّ مِنۡهُمَا رِجَالًا كَثِيۡرًا وَّنِسَآءً​ ۚ وَاتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِىۡ تَسَآءَلُوۡنَ بِهٖ وَالۡاَرۡحَامَ​ ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلَيۡكُمۡ رَقِيۡبًا‏۔ (1-4)

الله کی عبادت کرو اور اس کا کسی کو بھی شریک نہ بناؤ اور والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کرو اور قربت والے لوگوں اور یتیموں اور مسکینوں اور قربت والے ھمسائیوں اور پہلو والے ھمسائیوں اور پہلو میں بیٹھنے والوں اور مسافروں اور اپنے ماتحتوں کے ساتھ بھی۔ بیشک الله ان لوگوں کو پسند نہیں کرتا جو خود پسند فخر جتانے والے ھوں۔ (36-4)

اعْبُدُوا اللّٰهَ وَ لَا تُشْرِكُوْا بِهٖ شَیْــٴًـا وَّ بِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًا وَّ بِذِی الْقُرْبٰى وَ الْیَتٰمٰى وَ الْمَسٰكِیْنِ وَ الْجَارِ ذِی الْقُرْبٰى وَ الْجَارِ الْجُنُبِ وَ الصَّاحِبِ بِالْجَنْۢبِ وَ ابْنِ السَّبِیْلِۙ-وَ مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُكُمْؕ-اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ مَنْ كَانَ مُخْتَالًا فَخُوْرَا۔ (36-4)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *