Masood InsightMasood Insight

انسان صحبت اختیار کرنے والے کے رنگ میں رنگ جاتا ھے۔

انسان صحبت اختیار کرنے والے کے رنگ میں رنگ جاتا ھے۔

تحریر: ڈاکٹر مسعود طارق

تاریخ: 14 دسمبر 2024

انسان کو سماجی جانور کہا جاتا ھے۔ جانور کا دائرہ اپنے اھل و عیال اور خوراک تک محدود رھتا ھے۔ اس لیے تمام جانور اپنی اپنی فطرت اور جبلت تک محدود زندگی گزارتے ھیں۔ لیکن انسان کا دائرہ سماجی جانور ھونے کی وجہ سے اپنے اھل و عیال کے لیے رھائش کا بندوبست اور خوراک کے لیے کسب کرنے کے علاوہ سماج کے ساتھ صحبت کرنے تک وسیع ھوتا ھے۔

اس لیے سماج میں عام طور پر دیکھا گیا ھے کہ؛ لوگ جس طرح کے لوگوں کی صحبت اختیار کرتے ھیں۔ اسی طرح کے رنگ میں رنگ جاتے ھیں۔ کوئلہ فروش کے ساتھ بیٹھنے والے کے ھاتھ بھی کالے ھوں گے اور عطر فروش کے پاس بیٹھنے والے کے پاس سے بھی خوشبو آئے گی۔

کہا جاتا ھے کہ؛ آدمی کے بارے میں مت پوچھو کہ؛ وہ کیسا ھے؟ اس کے دوست کو دیکھ لو تو اس آدمی کے بارے میں بھی پتہ چل جائے گا۔ ھر دوست اپنے ساتھی کی ھی اقتدا کرتا ھے۔ اگر وہ دوست برا ھو تو جلد ھی اس سے دور ھوجاؤ۔ نالائقوں کی صحبت میں لائق لوگوں کے لیے کئی نقصانات ھیں۔ اگر اچھا ھو تو اس کے ساتھ ملے رھو۔ لائق لوگوں کی صحبت میں نالائقوں کے لیے کئی فوائد ھیں۔ اسی لیے کہا گیا ھے کہ؛ نیک اور صالح آدمی کی صحبت تم کو بھی نیک اور صالح بنادے گی اور برے آدمی کی صحبت تم کو بھی بُرا آدمی بنادے گی۔

اچھی صحبت کے حوالے سے اصول ھمارے دین نے طے کر دیے ھیں۔ صحبت کی اھمیت کے پیش نظر قرآن نے اسے براہ راست موضوع بنایا اور اللہ تعالی نے انسانوں کو ھدایت کی کہ؛ سچے ‘ نیک اور صالح لوگوں کی صحبت اختیار کی جائے۔ اللہ تعالی سورہ توبہ میں فرماتے ھیں؛ اے ایمان لانے والو ! اللہ سے ڈرتے رھو اور سچے لوگوں کے ساتھ رھو۔

اچھی اور بری صحبت کے فرق کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت اچھی مثال سے سمجھایا ھے۔ صحیح بخاری کی روایت ھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ؛ اچھے اور برے ساتھی کی مثال ایسی ھے جیسے مشک والا اور لوھار کی بھٹی۔ مشک والے کے پاس سے تم بغیر فائدے کے واپس نہ ھوگے یا تو اسے خریدو گے یا اس کی خوشبو پاؤ گے۔ جبکہ لوھار کی بھٹی تمہارے جسم کو یا تمہارے کپڑے کو جلادے گی یا تم اس کی بدبو سونگھو گے۔

قرآن و حدیث اور سیرت کی روشنی میں صوفیائے کرام نے صحبت کو طریقت میں لازمی قرار دیا ھے ۔ وجہ اس کی یہ ھے کہ؛ ﷲ تعالیٰ نے صحبت میں تاثیر کی بڑی صلاحیت رکھی ھے۔ صحبت خواہ اچھی ھو یا بری ھو۔ اثر ضرور کرتی ھے۔ اخلاق و عادات غیرمحسوس طریقے سے ساتھی میں منتقل ھوتے ھیں۔ کچے اور ناپختہ مٹی کے پیالے میں پانی مٹی سے آلودہ ھوجاتا ھے۔

اسی لیے رسول اکرم صلی ﷲ علیہ و آلہٖ و سلم نے فرمایا ھے؛ آدمی اپنے دوست کی روش پر ھوتا ھے۔ لہذا تم میں سے ھر ایک کو یہ دیکھنا چاھیے کہ وہ کس سے دوستی کر رھا ھے۔ ( ابوداؤد ، ترمذی)۔

اسی طرح آپ صلی ﷲ علیہ و آلہٖ و سلم نے ابو رزینؒ سے فرمایا؛ کیا میں تمہیں دین کی بنیاد اور اس کا خلاصہ نہ بتاؤں۔ جس کے ذریعہ تم دنیا و آخرت کی بھلائی حاصل کرسکتے ھو؟ ذکر اور یاد الٰہی کرنے والوں کی مجالس میں بیٹھا کرو اور جب تنہائی ھو تو جہاں تک ھوسکے ذکر الٰہی سے اپنی زبان کو متحرک رکھو اور کسی سے محبت کرو تو ﷲ ھی کے لیے کرو اور کسی سے بغض رکھو تو ﷲ ھی کے لیے رکھو۔

حضرت علی رضی ﷲ تعالیٰ عنہ اپنے صاحبزادے حضرت حسن رضی ﷲ تعالیٰ عنہ کو نصیحت کرتے ھوئے فرماتے ھیں؛ بیٹے ! دین کا جوھر اور اس کی بنیاد اھل تقویٰ کی صحبت میں ھے اور ابو دردا رضی ﷲ تعالیٰ عنہ فرماتے ھیں؛ اھل علم کی صحبت میں بیٹھنا سمجھ داری اور عقل مندی کی علامت ھے۔

خوب یاد رکھو اچھی صحبت برے سے برے انسان کو بھی صالح و نیک اور بڑے سے بڑے مجرم کو بھی متقی و پرھیزگار بنا دیتی ھے۔ جبکہ بری صحبت شریف زادوں اور علماء و بزرگوں کی اولاد کو بھی غلط راستہ پر ڈال دیتی ھے۔ کیونکہ ﷲ تعالیٰ نے صحبت میں تاثیر کی اور انسانی فطرت میں تاثر کی صلاحیت رکھی ھے۔

انسان حسن و جمال سے بھی متاثر ھوتا ھے اور فضل و کمال سے بھی متاثر ھوتا ھے۔ عادات و اطوار سے بھی متاثر ھوتا ھے اور اچھے و برے کردار سے بھی متاثر ھوتا ھے۔

صحابہ کرام کا مقام اور مرتبہ انبیاء کرام کے بعد خیر الخلائق کیوں قرار پایا؟ اس لیے کہ؛ ان کو اُس انسان کامل کی صحبت میسر آئی تھی۔ جس کی صحبت سے زیادہ اچھی صحبت کا دنیا میں کہیں بھی اور کبھی بھی وجود نہیں رھا اور اسی لاجواب اور اعلیٰ ترین صحبت کی وجہ سے ان کا لقب “صحابہ” یا “اصحاب النبیؐ” قرار پایا۔

یہ صحابہ خیر الخلائق تھے۔ ان سے زیادہ اچھا طبقہ انبیاء کے بعد طبقات انسانی میں آج تک پیدا نہیں ھوا اور نہ قیامت تک کبھی ھوگا۔ صحبتِ رسولؐ ھی کی وجہ سے ﷲ تعالیٰ نے ان کا ذکر قرآن کریم میں رسول اکرم صلی ﷲ علیہ و آلہٖ و سلم کے ذکر کے ساتھ ھی کیا ھے اور حضورؐ کے ساتھیوں کی حیثیت ھی سے کیا ھے۔

محمد صلی ﷲ علیہ و آلہٖ و سلم ﷲ کے رسول ھیں اور جو ان کے ساتھی (صحابہ) ھیں وہ کفار کے مقابلہ میں بڑے جری ‘ بے باک اور طاقتور ھیں اور آپس میں بڑے رحم دل ھیں۔ ﷲ کے فضل و رضا کی تلاش میں تم ان کو بارگاہ خداوندی میں کبھی جھکے ھوئے اور کبھی سجدہ ریز دیکھتے ھو۔ ان کے چہروں پر ان کے ایمان و تقویٰ کے اثرات نمایاں ھیں۔

امام شافعی ٓ فرماتے ھیں؛ کوئی شخص ایسا نہیں ھوتا کہ اس سے کوئی محبت کرنے والا اور کوئی نفرت کرنے والا نہ ھو۔ جب یہ بات ھے تو آدمی کو اللہ کی اطاعت کرنے والوں کی صحبت میں رھنا چاھیے۔

حماد بن واقد الصفار کہتے ھیں؛ میں ایک دن مالک بن دینار کی خدمت میں حاضر ھوا۔ دیکھا کہ وہ تنہا بیٹھے ھیں اور ان کے پہلو میں کتا اپنی ناک زمین پر رکھے ھوئے ھے۔ میں اس کو ھٹانے لگا تو فرمایا؛ چھوڑو !!! یہ برے ھم نشین سے بہتر ھے۔ یہ مجھے تکلیف نہیں دیتا۔ یعنی برے شخص کی صحبت نقصان کا باعث ھوتی ھے۔ اس سے تو بہتر یہ ھے کہ آدمی تنہا ھی رہ لے۔

پہلے صحبت کا مطلب لوگوں سے بالمشافہ ملاقات سمجھا جاتا تھا۔ یعنی آپ جس قسم کے لوگوں کے ساتھ اٹھ بیٹھ رھے ھیں۔ وہ آپ کا سماجی دائرہ قرار پاتا تھا۔ آپ اس سے اثر لیتے تھے۔ لیکن جدید دور میں صحبت کے معنی بھی بدل گئے ھیں۔

اب لوگوں کے آپس کے میل جول سے آگے بڑھ کر سوشل میڈیا نیٹ ورکنگ ‘ موبائل فون پر بات چیت ‘ واٹس ایپ اور دیگر اپلیکیشنز ‘ چیٹنگ ‘ فیس بک ‘ ٹوئیٹر ‘ اسکائپ وغیرہ کے ذریعے سماجی دائرہ اپنے اثر اور معنی میں زیادہ وسیع ھو گیا ھے۔

سوشل میڈیا نیٹ ورکنگ کے اس دور میں کسی کی صحبت اختیار کرنے کے مسلمہ اصول تبدیل نہیں ھوں گے۔ بلکہ سوشل میڈیا پر کسی سے تعلق رکھنے میں اور بھی زیادہ احتیاط کی ضرورت ھے۔

سوشل میڈیا نیٹ ورکنگ کرتے ھوئے انٹرنیٹ پر بھی تعلقات اور صحبت کے اصولوں کو لاگو کریں۔ اس سے نہ صرف سوشل میڈیا میں آپ کی صحبت اچھی ھو جائے گی۔ بلکہ آپ کئی قسم کی پریشانیوں سے بھی بچ جائیں گے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *