Masood InsightMasood Insight

علم والے لوگوں کے حکومت کرنے سے ملک ترقی کرتا ھے اور قوم خوشحال ھوتی ھے۔

علم والے لوگوں کے حکومت کرنے سے ملک ترقی کرتا ھے اور قوم خوشحال ھوتی ھے۔

تحریر: ڈاکٹر مسعود طارق

تاریخ : 2 دسمبر 2024

ھر قوم میں تین طرح کے لوگ ھوتے ھیں۔ ایک علم و دانش والے ۔ دوسرے مال و دولت والے ۔ تیسرے محنت و مزدوری کرنے والے۔

ھر قوم میں محنت و مزدوری کرنے والے زیادہ ھوتے ھیں۔ جبکہ مال و دولت والے کم ھوتے ھیں۔ لیکن سب سے کم علم و دانش والے ھوتے ھیں۔

قوموں کی کامیابی یا ناکامی کا دارومدار محنت و مزدوری کرنے والوں پر منحصر ھوتا ھے۔

1۔ جب محنت و مزدوری کرنے والوں کا رحجان مال و دولت والوں کی طرف بڑھ جائے تو قومیں ناکام ھونے لگتی ھیں۔

2۔ جب محنت و مزدوری کرنے والوں کا رحجان علم و دانش والوں کی طرف بڑھ جائے تو قومیں کامیاب ھونے لگتی ھیں۔

زوال پذیر قوموں میں محنت و مزدوری کرنے والے لوگوں کی خواھش ھوتی ھے کہ؛ ان کے پاس مال و دولت ھو تاکہ لوگ ان کے آگے پیچھے پھریں۔ جبکہ مال و دولت والے لوگوں کی خواھش ھوتی ھے کہ؛ ان کے پاس حکومت ھو۔ تاکہ لوگ ان کے سامنے جی جی کریں۔

کیونکہ زیادہ تر محنت و مزدوری کرنے والے لوگوں کی عادت ھوتی ھے کہ؛ وہ مال و دولت والے لوگوں کو اھمیت دیتے ھیں اور ان کے آگے پیچھے پھرتے ھیں۔ جبکہ مال و دولت والے لوگوں کی عادت ھوتی ھے کہ؛ وہ حکومت والے لوگوں کو اھمیت دیتے ھیں اور ان کے آگے جی جی کرتے ھیں۔

1۔ محنت و مزدوری کرنے والے لوگوں کے مال و دولت والے لوگوں کے آگے پیچھے پھرنے کی وجہ سے پھر سیاست میں مال و دولت والے لوگ کامیاب ھوا کرتے ھیں۔ اس لیے حکومت میں بھی زیادہ تر مال و دولت والے لوگ آجاتے ھیں۔

2۔ جب مال و دولت والے لوگوں کو حکومت بھی مل جاتی ھے تو پھر محنت و مزدوری کرنے والے لوگوں کے ان کے آگے پیچھے پھرنے کے ساتھ ساتھ ان کے سامنے جی جی بھی کرنے لگ جاتے ھیں۔

إِنَّ اللّهَ لاَ يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّى يُغَيِّرُواْ مَا بِأَنْفُسِهِمْ (13:11)

الله کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک وہ ان عادتوں کو نہ بدلے جو اس میں ھیں۔ (11-13)

زوال پذیر قوموں میں علم و دانش والے لوگ بھی ھوتے ھیں۔ اگر محنت و مزدوری کرنے والے لوگ مال و دولت کے بجائے علم و دانش والے لوگوں کی طرف دھیان کرنا شروع کردیں تو پھر علم و دانش والے لوگوں کی عزت ھونا شروع ھوجاتی ھے۔

جس کی وجہ سے مال و دولت والے لوگوں کی اھمیت کم ھوجاتی ھے۔ محنت و مزدوری کرنے والے لوگ مال و دولت والے لوگوں کے آگے پیچھے پھرنے کے بجائے علم و دانش والے لوگوں کے آگے پیچھے پھرنا شروع کردیتے ھیں۔

لہٰذا مال و دولت والے لوگ سیاست کرکے حکومت حاصل نہیں کر پاتے۔ جس کی وجہ سے پھر محنت و مزدوری کرنے والے لوگ نہ صرف مال و دولت والے لوگوں کے آگے پیچھے نہیں پھرتے۔ بلکہ ان کے سامنے جی جی بھی نہیں کرتے۔

1۔ محنت و مزدوری کرنے والے لوگوں کے علم و دانش والے لوگوں کی طرف دھیان دینے کی وجہ سے ‘ علم و دانش والے لوگوں کو عزت دینے کی وجہ سے ‘ علم و دانش والے لوگوں کے آگے پیچھے پھرنے کی وجہ سے ‘ علم و دانش والے لوگ سیاست میں کامیاب ھونے لگتے ھیں۔ اس لیے حکومت میں بھی زیادہ تر علم و دانش والے لوگ آجاتے ھیں۔

2۔ جب علم و دانش والے لوگوں کو حکومت بھی مل جاتی ھے تو پھر مال و دولت والے لوگ حکومت والے لوگوں کے آگے جی جی کرنے کے عادی ھونے کی وجہ سے علم و دانش والے لوگوں کے آگے جی جی کرنا شروع کردیتے ھیں۔

3۔ جبکہ الله قوم کی حالت بدلنے کے لیے قوم کو زوال سے نکالنا شروع کردیتا ھے اور عروج دینا شروع کردیتا ھے۔

4۔ اس لیے علم و دانش والے لوگوں کے حکومت کرنے کی وجہ سے ملک ترقی کرنا شروع کردیتے ھیں اور قوم خوشحال ھونا شروع ھوجاتی ھے۔

قَالَ لَهُمْ نَبِيُّهُمْ إِنَّ اللّهَ قَدْ بَعَثَ لَكُمْ طَالُوتَ مَلِكًا قَالُوَاْ أَنَّى يَكُونُ لَهُ الْمُلْكُ عَلَيْنَا وَنَحْنُ أَحَقُّ بِالْمُلْكِ مِنْهُ وَلَمْ يُؤْتَ سَعَةً مِّنَ الْمَالِ قَالَ إِنَّ اللّهَ اصْطَفَاهُ عَلَيْكُمْ وَزَادَهُ بَسْطَةً فِي الْعِلْمِ وَالْجِسْمِ وَاللّهُ يُؤْتِي مُلْكَهُ مَن يَشَاء وَاللّهُ وَاسِعٌ عَلِيمٌ (2:247)

ان سے ان کے نبی نے کہا کہ؛ الله نے تم پر طالوت کو بادشاہ مقرر کیا ھے۔ وہ بولے کہ؛ وہ ھم پر بادشاہ کیونکر ھوسکتا ھے؟ جبکہ ھم اس سے زیادہ بادشاھی کے حقدار ھیں۔ کیونکہ اسے مالی صلاحیت نہیں دی گئی ھے۔ نبی نے کہا کہ؛ الله نے تم پر اسے منتخب کرلیا ھے اور اس کو علم میں فراوانی اور جسمانی طاقت زیادہ عطا کی ھے اور الله اپنا ملک جس کو چاھتا ھے عطا کرتا ھے اور اللہ وَاسِعٌ عَلِيمٌ ھے۔ (247-2)

وھی تو ھے جس نے تم کو زمین کا خلیفہ بنایا اور تم میں سے ایک کو دوسرے پر درجات میں بلند کیا تاکہ تم کو اس میں سے آزمائے جو اس نے تم کو عطا کیا۔ تمہارا رب سزا دینے میں بہت تیز ھے اور وہ غَفُورٌ رَّحِيمٌ بھی ھے۔ (165-6)

تم جان لو کہ دنیا کی زندگی کھیل اور تماشا اور بناؤ سنگھار اور ایک دوسرے پر فخر جتانا اور مال و اولاد کے ذریعے متاثر کرنا ھے۔ (20-57)

انسانوں کے لیے محبت ان کے نفس کی خواھشات کی عورتوں سے اور بیٹوں سے اور بڑے بڑے ڈھیروں سے سونے و چاندی کے اور منتخب گھوڑوں سے اور مال مویشی سے اور کھیت کھلیان سے بڑی خوشنما بنادی گئی ھے۔ یہ سب دنیا کی زندگی کا ساز و سامان ھے اور الله کے پاس بہت اچھا ٹھکانا ھے۔(14-3)

حقیقت یہ ھے کہ تمہارا مال اور تمہاری اولاد تو آزمائش ھے اور الله کے پاس اجرِ عظیم ھے۔ (15-64) اور تم کو ھم ضرور آزمائیں گے کسی قدر خوف سے اور بھوک سے اور مال کے نقصان سے اور نفس کی خواھشوں کے پورا نہ ھونے سے اور آمدنی کی کمی سے اور صبر کرنے والوں کو خوشخبری دو۔(155-2)

واقعہ یہ ھے کہ ھم نے جو چیزیں زمین پر ھیں ان کو اس کے لیے زینت بنایا ھے تاکہ ھم لوگوں کو آزمائیں کہ ان میں سے کون أحْسَنُ عمل کرتا ھے۔ (7-18) ھم نے ھر انسان کے اعمال کو اسکی گردن میں لٹکا دیا ھے اور ھم اس کو دکھانے کے لیے قیامت کے دن نکالیں گے جسے وہ ایک کھلی کتاب کی مانند لکھا ھوا دیکھے گا۔(13-17)

جو لوگ ایمان لائے اور ھجرت کی اور الله کی راہ میں اپنے مال سے اور اپنے نفس سے جدوجہد کی۔ الله کے ھاں ان کے بہت بڑے درجے ھیں۔ اور یہی لوگ کامیاب ھونے والے ھیں۔ (20-9) اور چاھیے کہ تم میں سے ایسے لوگوں کی ایک جماعت رھے جو خَيْر کی طرف دعوت دیتے رھیں اور الْمَعْرُوف کا حکم دیں اور الْمُنكَر سے منع کریں اور درحقیقت یہی لوگ فلاح پانے والے ھیں۔ (104-3)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *