
تاریخ: 31 اگست 2025
برصغیر میں پنجاب پر انگریز سب سے آخر میں جاکر قابض ھونے میں کامیاب ھوئے۔ وہ بھی پنجاب پر ایک 10 سالہ بچے مہاراجہ دلیپ سنگھ کی حکومت ھونے کی وجہ سے۔ پنجاب پر انگریز کے قبضے کے بعد بھی پنجابیوں نے انگریز کے خلاف بھرپور مزاحمت جاری رکھی۔ اس لیے پنجابی قوم کو علاقوں اور زبان کے لہجوں میں تقسیم کرکے کمزور کرنے کے لیے؛
1۔ انگریز نے 1846 میں پنجاب کے شمالی علاقوں کو پنجاب سے الگ کرکے جموں اور کشمیر کی ریاست بنادی۔
2۔ انگریز نے 1901 میں پنجاب کے مغربی علاقوں کو پنجاب سے الگ کرکے شمالی مغربی سرحدی صوبہ (NWFP) بنادیا جسے اب خیبر پختونخوا کہا جاتا ھے۔
لیکن دوسری جنگ عظیم میں جرمنی اور جاپان ھار چکے تھے۔ برطانیہ کمزور پڑ چکا تھا۔ امریکہ اور سوویت یونین عالمی طاقت بن چکے تھے۔ دنیا capitalist bloc اور communist bloc میں تقسیم ھونے لگی تھی۔ امریکہ اور سوویت یونین کے حکم پر برطانیہ ‘ فرانس ‘ اسپین ‘ پرتگال نے اپنی اپنی کالونیوں کو آزاد کرنا شروع کردیا تھا۔ جرمنی کو تقسیم کیا گیا تھا۔ برٹش انڈیا کو تقسیم کرکے پاکستان بناتے وقت پنجاب کو بھی تقسیم کرنا امریکی منصوبہ کے مطابق تھا۔
برصغیر کو آزاد کرتے وقت پنجاب کے سوویت یونین کا پڑوسی ھونے کی وجہ سے امریکہ اور برطانیہ کو خوف تھا کہ؛ برصغیر کو آزاد کرنے کے بعد برصغیر کی سب سے بڑی فوجی طاقت اور زرخیز زمین کا خطہ رکھنے والی پنجابی قوم کہیں سوویت یونین کے ساتھ اشتراک کرکے ‘ سوویت یونین کو بحر ھند کے علاقے تک پہنچنے میں مدد دے کر بحر ھند پر امریکہ اور برطانیہ کی اجارہ داری ختم نہ کروا دے۔
ونسٹن چرچل ایک کنزرویٹو تھا۔ وہ 1947 تک برطانیہ کا وزیر اعظم رھا۔ 1947 میں اقتدار کی منتقلی ھوئی تو لیبر پارٹی کے کلیمنٹلی اٹلی نے ان کی جگہ لی تھی۔ لیکن ونسٹن چرچل کو 1945 میں برٹش انڈیا کی تقسیم کا منصوبہ تیار کرنے کا موجد قرار دیا جاتا ھے۔ جبکہ کلیمنٹلی اٹلی نے اس منصوبے کو منظور کیا۔ ونسٹن چرچل کی رائے تھی کہ؛ اسلام کی بنیاد پر تشکیل دیا گیا پاکستان مغرب کا وفادار دوست رھے گا۔ جبکہ کیمونسٹ سوویت یونین اور سوشلسٹ انڈیا کے خلاف اسلام ازم کی بنیاد پر کردار ادا کرے گا۔
لارڈ آرچیبالڈ ویول نے ونسٹن چرچل کے کہنے پر ھندوستان کو تقسیم کرنے کا ایک خفیہ منصوبہ تیار کیا۔ دوسری عالمی جنگ کے دوران وزیر اعظم رھنے والے ونسٹن چرچل نے تقسیم کیے بغیر برٹش انڈیا کو آزاد کرنے کی شدید مخالفت کی تھی۔ ان کا تجزیہ تھا کہ؛ جواھر لال نہرو سوویت یونین کا حامی ھے۔ اس لیے امکان ھے کہ وہ سوویت یونین کو گرم پانی تک پہنچانے کے لیے کراچی کی بندرگاہ تک پہنچنے کی سہولت دے گا۔ اس کے نتیجے میں سوویت یونین کو بحر ھند اور مشرق وسطی تک پہنچنے کا ایک آسان راستہ مل جائے گا۔ اس کے برعکس پاکستان کا مطالبہ کرنے والی مسلمان قیادت مغرب کی حامی ھے۔ اس لیے اسلام کی بنیاد پر تشکیل دیے گئے پاکستان کی مسلمان قیادت کمیونزم بمقابلہ اسلام ازم کی بنیاد پر ماسکو کے خلاف مزاحمت کرے گی۔
برطانیہ اور سوویت یونین کے مابین اثر و رسوخ کو بڑھانے کے کھیلے جانے والے “گریٹ گیم” کے ‘ عالمی جنگ کے بعد امریکہ اور برطانیہ کے ساتھ سرد جنگ میں تبدیل ھو جانے کی وجہ سے ‘ امریکہ و برطانیہ کے حریف سوویت یونین کو روکنے کے لیے ‘ ونسٹن چرچل منصوبہ بندی کر رھا تھا۔ لیکن برٹش انڈیا کی عوام اور خاص طور پر پنجابیوں کو اس کے لیے بھاری قیمت ادا کرنی پڑنی تھی۔ کیونکہ برٹش انڈیا کو آزاد کرکے انڈیا اور پاکستان کے ملک بنانے کے ساتھ ساتھ پنجابی قوم کو تباہ و برباد کرنے کا منصوبہ تیار تھا۔ برطانوی منصوبہ تھا کہ؛ بھارت اور پاکستان کے ملک بنا کر برطانوی ھندوستان کو آزاد کیا جائے اور ساتھ ھی پنجابی قوم کو بھی برباد کیا جائے۔ اس منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے پاکستان کی مانگ کرنے والی مسلم قیادت کی سرپرستی ‘ سہولت کاری اور حوصلہ افزائی کی گئی۔ لہذا؛
01۔ دسمبر 1945 میں برٹش انڈیا میں مرکزی قانون ساز اسمبلی اور کونسل کے ممبروں کا انتخاب کرنے کے لیے منعقد کیے گئے عام انتخابات میں ‘ آل انڈیا مسلم لیگ نے مسلم حلقوں سے کامیابی حاصل کی۔ خصوصی طور پر پنجاب میں 1937 سے حکمرانی کرنے والی پنجابیوں کی سیکولر سیاسی جماعت یونینسٹ کو شکست دینے کے لیے پنجاب میں مذھبی انتہا پسندی کو فروغ دیا گیا۔ یہ انتخابات جناح اور تقسیم پسندوں کے لیے اسٹریٹجک فتح ثابت ھوئے۔ اگرچہ کانگریس جیت گئی تھی۔ لیکن مسلم لیگ نے مسلم ووٹوں کو متحد کردیا تھا۔ لہذا علیحدہ مسلم وطن کے لیے بات چیت کرنے کی طاقت حاصل کرلی تھی۔ کیونکہ یہ واضح ھوگیا تھا کہ؛ متحدہ برٹش انڈیا انتہائی غیر مستحکم ثابت ھوگا۔ منتخب اراکین نے بعدازاں برٹش انڈیا کی دستور ساز اسمبلی تشکیل دی۔
02۔ 16 اگست 1946 کو آل انڈیا مسلم لیگ نے کلکتہ میں “ڈائریکٹ ایکشن ڈے” منانے کا فیصلہ کیا تاکہ؛ نوآبادیاتی برٹش انڈیا کے شمال مغربی اور مشرقی صوبوں میں مسلمانوں کے لیے الگ وطن کا مطالبہ کیا جاسکے۔ آل انڈیا مسلم لیگ کے رھنما محمد علی جناح نے کہا کہ وہ “یا تو منقسم برٹش انڈیا یا تباہ شدہ برٹش انڈیا” چاھتے ھیں۔ مذھبی کشیدگی پیدا کرنے کے نتیجے میں احتجاج نے کلکتہ میں بڑے پیمانے پر ھنگامہ برپا کردیا۔ کلکتہ میں 72 گھنٹوں کے اندر 4،000 سے زیادہ افراد اپنی جانوں سے ھاتھ دھو بیٹھے اور 100،000 افراد بے گھر ھوگئے۔ اس تشدد نے نواکھالی ‘ بہار ‘ متحدہ صوبوں (جدید اتر پردیش اور مدھیہ پردیش) ‘ پنجاب اور شمال مغربی سرحدی صوبے (NWFP) کے آس پاس کے علاقوں میں مزید مذھبی فسادات کو جنم دیا۔ ان واقعات نے برٹش انڈیا کی تقسیم کے لیے بیج بو دیا۔ آل انڈیا مسلم لیگ کی طرف سے سرپرستی کیے جانے والے ھجوم کے ھاتھوں ھزاروں بے گناہ خواتین اور بچے ھلاک یا زخمی ھوگئے۔ دوستی کے بندھن ‘ محلے داری کا احترام ‘ برادری کا احساس ‘ مذھبی ھم آھنگی اس خوفناک جنگ کی پہلی ھلاکتیں تھیں۔
03۔ 2 مارچ 1947 کو پنجاب میں یونینسٹ پارٹی کی حکومت کو برخاست کردیا گیا اور آل انڈیا مسلم لیگ پارلیمانی اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رھی۔ جس کے نتیجے میں گورنر راج نافذ کر دیا گیا۔
04۔ 4 اور 5 مارچ 1947 کو ھندو پنجابیوں اور سکھ پنجابیوں کے خلاف پہلا حملہ لاھور اور امرتسر میں ھوا۔
05۔ 4 اور 5 مارچ 1947 کو ھی مسلم لیگ کی زیرقیادت ھجوم نے ملتان ‘ راولپنڈی ‘ کیمبل پور (اٹک) ‘ جہلم اور سرگودھا کے دیہاتوں میں بکھرے بے بس ھندو پنجابیوں اور سکھ پنجابیوں پر منظم انداز اور بھرپور تیاریوں کے ساتھ حملے شروع کر دیے۔
06۔ حملے کرنے والے ھجوم کو اسلحہ جیسے خنجر ‘ تلواریں ‘ نیزے اور فائر کرنے والے ھتھیاروں کی فراھمی کی گئی تھی۔ ایک سابق سرکاری ملازم نے اپنی سوانح عمری میں ذکر کیا ھے کہ؛ اسلحہ کی فراھمی شمال مغربی صوبہ سرحد (NWFP) سے بھیجی گئی تھی اور پیسہ دھلی سے تعلق رکھنے والے سیاستدانوں نے فراھم کیا تھا۔
07۔ حملے کرنے والے ھجوم کے پاس چاقوؤں اور کلہاڑیوں کی بڑی مقدار تھی۔ انہوں نے متاثرین پر گھات لگا کر حملے کیے اور اگر ضروری ھوا تو مقتولین کی لاشیں ٹھکانے لگا دیں۔ مسلم لیگ نے ان حملہ آوروں کو مالی طور پر مدد دی تھی اور انفرادی طور پر قاتلوں کو ھندو پنجابیوں اور سکھ پنجابیوں کی ھلاکتوں کی تعداد کی بنیاد پر نقد ادائیگی کی گئی تھی۔
08۔ باقاعدگی سے جیپوں میں گشت کرنے والی جماعتیں بھی تھیں۔ جو کسی بھی تنہا نظر آنے والے ھندو پنجابی اور سکھ پنجابی کو قتل کرنے اور اغوا کرنے کے لیے تھیں۔
09۔ 5 مارچ کو راولپنڈی کے ھندو پنجابی اور سکھ پنجابی طلباء نے پنجاب میں مسلم لیگ کی مذھبی بنیاد پر وزارت کے قیام کی کوشش جبکہ ھندو پنجابی اور سکھ پنجابی طلباء کے پر امن جلوس پر پولیس کی فائرنگ کے خلاف احتجاج کرتے ھوئے ایک جلوس نکالا۔ اس جلوس پر بھی مسلم لیگیوں نے حملہ کیا تھا اور دوبدو لڑائی ھوئی تھی۔ لیکن مسلمانوں کو اس میں بدترین شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
10۔ پھر ایک مسلمان مذھبی شخصیت اور علاقے کے رھنما گولڑہ کے پیر کے ذریعے دیہی علاقوں سے مسلمانوں کا ایک بہت بڑا ھجوم ھندو پنجابیوں اور سکھ پنجابیوں پر حملہ کرنے کے لیے اکسایا گیا۔
11۔ 7 مارچ 1947 کو راولپنڈی کے دیہات میں قبائلی پٹھانوں کے جہاد کے لیے پہنچنے کے بعد حملہ شروع ھوا اور جہاں کہیں بھی ھندو پنجابی اور سکھ پنجابی پائے جاتے تھے۔ وھاں ایک گاؤں کے بعد دوسرے گاؤں میں روکے بغیر حملے کرنے کا سلسلہ ھفتوں تک جاری رھا۔ جب ایک علاقہ اپنے ھندو پنجابی اور سکھ پنجابی باشندوں سے صاف کردیا جاتا تو ھندو پنجابیوں اور سکھ پنجابیوں کے خلاف جنگ دوسرے علاقے میں شروع کردی جاتی۔ اس طرح مارچ کے آخر تک راولپنڈی ‘ کیمبل پور (اٹک) اور جہلم اضلاع کی زندہ بچ جانے والی ھندو پنجابی اور سکھ پنجابی آبادی کو پناہ گزین کیمپوں میں منتقل کردیا گیا تھا۔ جوکہ پنجاب میں سکھ ریاستوں میں بنائے گئے تھے۔
12۔ جولائی اور اگست 1947 میں
مشرقی پنجاب میں مسلمان پنجابیوں کا قتل عام مغربی پنجاب میں قبائلی پٹھانوں کے ذریعے جاری جہاد کے نتیجے میں ھونے والے قتل عام کے ردعمل میں شروع ھوا۔
13۔ یہ منصوبہ اترپردیش کے اردو بولنے والے مسلمانوں کی فکری سازش اور سیاسی منافقت کے ذریعے عمل میں لایا گیا تھا جو آل انڈیا مسلم لیگ کے رھنما اور منصوبہ ساز تھے۔ جبکہ مغربی پنجاب کے پٹھانوں اور عربی نژاد رھائشیوں اور شمالی مغربی صوبہ سرحد (NWFP) کے قبائلی پٹھانوں نے اس منصوبے پر عمل درآمد کیا تھا۔
14۔ ریڈکلف لائن کے تناظر میں ایک خام سرحد پہلے سے ھی وائسرائے آرچیبالڈ ویول کے تحت نئے وائسرائے لارڈ ماؤنٹ بیٹن کے فروری 1947 میں قلم دان سنبھالنے سے قبل تیار کر لی گئی تھی۔
برٹش انڈیا کی تقسیم دراصل برٹش انڈیا کی عوام کے مفاد کے بجائے امریکہ اور برطانیہ کے اپنے مفادات کے لیے تشکیل دیے گئے طویل مدتی منصوبے کی تکمیل کے لیے تھی۔ برطانیہ چاھتا تھا کہ مذھب کی بنیاد پر فسادات کروا کر برٹش انڈیا کو تقسیم کرکے امریکہ اور برطانیہ کے طویل المدتی مفادات کو پورا کرے۔ اس لیے انگریز نے برصغیر چھوڑتے وقت جاتے جاتے؛
1۔ ایک تو پنجاب کو مذھبی بنیاد پر تقسیم کرکے پنجاب کے مسلم پنجابی اکثریتی علاقوں کو پاکستان میں شامل کر دیا اور سکھ پنجابی و ھندو پنجابی اکثریتی علاقوں کو بھارت میں شامل کر دیا۔
2۔ دوسرا مذھبی بنیاد پر پنجابیوں کو آپس میں لڑوا کر 20 لاکھ پنجابی مروا دیے اور 2 کروڑ پنجابی اجاڑ دیے۔ تاکہ پنجابی قوم کو تقسیم کرنے کے لیے سکھ پنجابیوں اور ھندو پنجابیوں کو بھارت منتقل کیا جاسکے اور مسلمان پنجابیوں کو پاکستان منتقل کیا جاسکے۔
پنجاب اور پنجابی قوم کی تقسیم کی وجہ سے پنجابی قوم کے “تباہ و برباد” ھو جانے کے بعد ‘ پنجابی قوم کو پھر سے متحد ھونے سے روکنے کے لیے ‘ پنجابی قوم کو مذھبوں اور علاقوں میں تقسیم رکھنے کے ساتھ ساتھ ‘ پنجابی قوم کو برادریوں اور زبان کے لہجوں میں بھی تقسیم کرکے ‘ منتشر کرکے ‘ پنجابی قوم کو “ذلیل و خوار” بھی کیا جاتا رھا۔ لیکن؛
1۔ ونسٹن چرچل کے منصوبے کے مطابق اسلام کی بنیاد پر تشکیل دیے گئے پاکستان کی مسلمان قیادت نے کمیونزم بمقابلہ اسلام ازم کی بنیاد پر ماسکو کے خلاف بھرپور مزاحمت کرنے کا عملی ثبوت پیش کیا۔ اس لیے سوویت یونین بحر ھند کے علاقے تک نہ پہنچ سکا۔ لیونڈ بریزنیف کو 1979 میں افغانستان میں انٹرویو دیتے ھوئے ونسٹن چرچل کی مداح برطانیہ کی وزیر اعظم مارگریٹ تھیچر نے کہا تھا کہ؛ سوویت یونین کے بحر ھند تک پہنچنے کو روکنے کے لیے پاکستان کا آمر جنرل ضیاء الحق بہترین کردار ادا کر رھا ھے۔
2۔ سوویت یونین کے بحر ھند تک پہنچنے میں تو مسلمان پنجابی نے امریکہ کی مدد کرکے سوویت یونین کو بحر ھند تک پہنچنے نہیں دیا تھا۔ بلکہ سوویت یونین کا خاتمہ ھوگیا اور سوویت یونین کے سب سے با اثر ملک روس کے بحر ھند کے علاقے تک پہنچنے کا امکان نہیں رھا۔ بلکہ سوویت یونین کے خاتمے کے بعد کمیونزم کا بھی خاتمہ ھوگیا۔ لیکن سی پیک روٹ (China–Pakistan Economic Corridor) سے گوادر پہنچ کر چین بحر ھند کے علاقے تک پہنچ چکا ھے۔
3۔ انگریز کے وفادار پٹھانوں ‘ بلوچوں ‘ ھندوستانی مھاجروں کے ذریعے چین کو امریکہ کی طرف سے روکا نہیں جاسکا اور نہ روکا جاسکے گا۔ جبکہ مسلمان پنجابیوں کی طرف سے چین کے بحر ھند تک پہنچنے میں رکاوٹ نہیں ڈالی جا رھی ھے۔
4۔ پنجابی قوم نے اب اپنے آپ کو مذھبوں ‘ علاقوں ‘ برادریوں ‘ زبان کے لہجوں کی تقسیم میں سے نکالنا شروع کردیا ھے۔
5۔ چین کے سی پیک روٹ (China–Pakistan Economic Corridor) کے ذریعے گوادر پہنچنے کے بعد اب دوسرے مرحلے میں پنجابی قوم بحر ھند پر امریکہ کی اجارہ داری ختم کروا کر چین کے بحر ھند پر قبضے میں مدد فراھم کرنے کی صلاحیت رکھتی ھے۔
6۔ چین کے سی پیک روٹ (China–Pakistan Economic Corridor) کے ذریعے گوادر پہنچنے کے بعد اب امریکہ کی طرف سے پنجابی قوم کو مذھبوں ‘ علاقوں ‘ برادریوں ‘ زبان کے لہجوں میں تقسیم رکھ کر امریکہ کی طرف سے چین کو بحر ھند پر قابض ھونے سے روکا نہیں جاسکتا۔
7۔ ونسٹن چرچل کے منصوبے کے مطابق پاکستان کی وجہ سے سوویت یونین کو بحر ھند کے پانیوں تک رسائی حاصل نہیں ھوسکی۔ لیکن ونسٹن چرچل کے منصوبے کا مقصد اگر بحر ھند پر امریکہ اور برطانیہ کا تسلط برقرار رکھنا تھا تو سوویت یونین کے بجائے چین اب سی پیک روٹ (China–Pakistan Economic Corridor) کے ذریعے گوادر پہنچ چکا ھے۔ اس لیے چین کے گوادر پہنچنے کے بعد اب بحر ھند پر چین کے قبضے اور مشرق وسطی پر چین کے تسلط کو روکنے کے لیے امریکہ کو ایک متحدہ اور مضبوط پنجاب کی ضرورت پڑے گی۔
8۔ چین کے سی پیک روٹ (China–Pakistan Economic Corridor) کے ذریعے گوادر پہنچنے کے بعد اب دوسرے مرحلے میں بحر ھند پر امریکہ کی اجارہ داری ختم کروا کر بحر ھند پر چین کے قبضے کے لیے چین کو بھی ایک متحدہ اور مضبوط پنجاب کی ضرورت پڑے گی۔
بحر ھند پر امریکہ اور چین کے قبضے کی جنگ میں پنجابی قوم کی طرف سے امریکہ کا ساتھ دیا جائے گا یا چین کا ساتھ دیا جائے گا؟
ظاھر ھے کہ امریکہ یا چین میں سے جس کی طرف سے پنجابی قوم کو متحد و مضبوط کرنے کی پرخلوص کوشش کی گئی۔ پنجابی قوم اس کا ھی ساتھ دے گی۔
اللہ نے چاھا تو پنجابی قوم 2028 تک اپنے آپ کو مذھبوں ‘ علاقوں ‘ برادریوں ‘ زبان کے لہجوں کی تقسیم میں سے نکالنے میں کامیاب ھو جائے گی اور پھر سے اپنے پیروں پر کھڑی ھونے لگے گی۔
Leave a Reply