Masood InsightMasood Insight

اہلِ جنّت (أَصْحَابُ الْجَنَّة)

مُؤَلِّف : ڈاکٹر مسعود طارق

ہم نے انسان کو اپنے والدین کے ساتھ احسن سلوک کرنے کا حکم دیا۔ اس کی ماں نے اس کو تکلیف سے پیٹ میں رکھا اور تکلیف ہی سے جنا اور اس کو پیٹ میں رکھنے اور اس کے دودھ چھڑانے میں تیس مہینے لگ گئے۔ حتیٰ کہ جب وہ اپنی جوانی کی بلاغت کو پہنچ گیا اور چالیس برس کا بالغ ہوگیا تو اس نے کہا کہ اے میرے رب! مجھے توفیق عطا فرما کہ میں تیری نعمتوں کا شکر ادا کرتا رہوں ان نعمتوں کا جو تونے مجھ پر اور میرے والدین پر کی ہیں اور میں ایسے صالح عمل کروں کہ تو ان سے خوش ہوجائے اور میرے لیے میری اولاد کو صالح بنادے۔ میں تیرے سامنے توبہ کرتا ہوں اور میں الْمُسْلِمِين میں سے ہوں۔ (15-46) یہی وہ لوگ ہیں جن کے احسن اعمال کو ہم قبول کرلیتے ہیں جو انہوں نے کیے اور ان کے سَيِّئَات کو نظر انداز کردیتے ہیں یہ أَصْحَابِ الْجَنَّةِ میں سے ہیں۔ یہ سچا وعدہ ہے جو ان سے کیا جا رہا ہے۔ (16-46)

وہ لوگ جنہوں نے کہا کہ ہمارا رب تو الله ہے پھر وہ اس پر قائم رہے تو ان کے لیے کوئی خوف نہیں ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ (13-46) یہی لوگ أَصْحَابُ الْجَنَّة ہیں جو اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ ان اعمال کی جزا میں جو وہ کرتے رہے۔ (14-46) وہ لوگ جو ایمان لائے اور صالح عمل کرتے رہے ہم ان کے نفس کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتے۔ ایسے لوگ ہی أَصْحَابُ الْجَنَّة ہیں جو اس میں ہمیشہ رہیں گے (42-7) اور ہم نکال دیں گے ان کے سینوں میں سے جو ایک دوسرے کے لیے کدورت ہوگی ان کے محلوں کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی اور وہ کہیں گے کہ الله ہی کے لیے حمد ہے جس نے ہم کو یہاں تک پہنچنے کی ہدایت دی اور ہم ہدایت پانے والے نہ تھے اگر الله ہم کو ہدایت نہ دیتا۔ ہمارے پاس ہمارے رب کے رسول حق بات لے کر آئے تھے اور انہیں ندا دی جائے گی کہ یہ وہ جنّت ہے جس کے تم وارث بنائے گئے ہو ان اعمال کے بدلے میں جو تم کیا کرتے تھے۔ (43-7)

جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے صالح عمل بھی کیے تو ایسے لوگ أَصْحَابُ الْجَنَّة ہیں یہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ (82-2) اور أَصْحَابُ الْجَنَّة پکار کر أَصْحَابَ النَّار سے کہیں گے کہ جو وعدہ ہمارے رب نے ہم سے کیا تھا ہم نے تو اسے سچا پالیا۔ بھلا جو وعدہ تمہارے رب نے تم سے کیا تھا تم نے بھی اسے سچا پایا؟ وہ کہیں گے ہاں۔ پھر ان کے درمیان میں سے ایک پکارنے والا پکارے گا کہ ان ظالموں پر الله کی لعنت ہو (44-7) جو الله کی راہ سے روکتے تھے اور اسے ٹیڑھا کرنا چاہتے تھے اور وہ آخرت کو ماننے سے انکار کیا کرتے تھے۔ (45-7) ان دونوں کے درمیان ایک پردہ ہوگا اور اعراف پر کچھ آدمی ہوں گے جو ان سب کو اپنے قیافے سے پہچان لیں گے اور وہ أَصْحَابَ الْجَنَّة کو پکار کر کہیں گے سَلاَمٌ عَلَيْكُم۔ وہ اس میں داخل نہیں ہوئے ہوں گے مگر طمع رکھتے ہوں گے۔ (46-7) اور جب ان کی نگاہیں پلٹ کر أَصْحَابِ النَّار کی طرف جائیں گی تو کہیں گے کہ اے ہمارے رب ! ہم کو ظالم لوگوں کے ساتھ شامل نہ کرنا۔ (47-7) 

ان لوگوں کے لیے جنہوں نے احسن کام کیے ان کے لیے الْحُسْنَى ہے اور زیادہ ہے اور ان کے چہروں پر نہ ہی سیاہی چھائے گی اور نہ ہی ذلت۔ یہی لوگ أَصْحَابُ الْجَنَّة ہیں یہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ (26-10) وہ لوگ جو ایمان لائے اور انہوں نے صالح عمل بھی کیے اور اپنے رب کے آگے جھکے رہے۔ یہی لوگ أَصْحَابُ الْجَنَّة ہیں یہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ (23-11) اور جو ہمارے سامنے پیش ہونے کا اندیشہ نہیں رکھتے وہ لوگ کہتے ہیں کہ ہم پر فرشتے کیوں نہ نازل کئے گئے یا ہم اپنے رب کو دیکھتے۔ درحقیقت یہ اپنے نفس میں تکبر کر رہے ہیں اور سرکشی کر رہے ہیں بہت بڑی سرکشی۔ (21-25) جس دن یہ فرشتوں کو دیکھیں گے اس دن مجرموں کے لیے کوئی بشارت نہیں ہوگی اور وہ کہیں گے کہ کاش تم روک لیے جاؤ۔ (22-25) اور ہم عملوں میں سے ان کے کیے ہوئے عملوں کی طرف متوجہ ہوں گے اور ہم ان کو اُڑتا ہوا غبار بنا دیں گے۔ (23-25) اس دن أَصْحَابُ الْجَنَّة قیام کے لحاظ سے خَيْر میں ہوں گے اور ان کا ٹھکانہ احسن ہوگا۔ (24-25) یہ أَصْحَابَ الْجَنَّة اس دن اپنے شغلوں سے لطف اندوز ہو رہے ہوں گے۔ (55-36) وہ بھی اور ان کی بیویاں بھی سایوں میں مسندوں پر تکیے لگائے بیٹھے ہوں گے۔ (56-36) وہاں ان کے لیے میوے ہوں گے اور جو مانگیں گے وہ ان کے لیے ہوگا۔ (57-36) رَبٍّ رَّحِيم کی طرف سے سَلَام کہا جائے گا۔ (58-36)

أَصْحَابُ النَّار اور أَصْحَابُ الْجَنَّة ہرگز یکساں نہیں ہوسکتے۔ أَصْحَابُ الْجَنَّة تو وہ ہیں جو کامیابی حاصل کرنے والے ہیں۔ (20-59) ہم نے ان کی اسی طرح آزمائش کی ہے جس طرح أَصْحَابَ الْجَنَّة کی آزمائش کی تھی۔ جب انہوں نے قسم کھائی تھی کہ صبح ہوتے ہی ہم اس میں سے پھل توڑ لیں گے (17-68) اور الله کی قدرت پر دھیان نہ دیا۔ (18-68) سو تیرے رب کی طرف سے اس پر ایک آفت پھر گئی جبکہ وہ سو رہے تھے۔ (19-68) سو وہ کٹے ہوئے کھیت کی طرح ہو کر رہ گیا۔ (20-68) سو صبح سویرے وہ ایک دوسرے کو پکارنے لگے۔ (21-68) کہ تم بھی اپنی کھیتی کی طرف چلو اگر تم تیار ہو۔ (22-68) چنانچہ وہ چل پڑے لیکن وہ آپس میں خوف کر رہے تھے (23-68) کہ آج کے دن ان کا کوئی مسکین اس میں داخل نہ ہوجائے۔ (24-68) اور وہ صبح سویرے اس طرح لپکتے ہوئے گئے جیسے ہر چیز پر قادر ہوں۔ (25-68) پھر جب انہوں نے دیکھا تو کہنے لگے کہ ہم گمراہ ہو گئے ہیں۔ (26-68) نہیں بلکہ ہم تو محروم ہوگئے ہیں۔ (27-68) ان کے وسط سے ایک نے کہا کہ کیا میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ تم تسبیح کیوں نہیں کرتے؟ (28-68) انہوں نے کہا کہ ہمارا رب پاک ہے بیشک ہم ہی ظالمین تھے۔ (29-68) پھر ایک دوسرے کو ملامت کرنے لگے۔ (30-68) کہنے لگے ہائے بدنصیبی ! ہم ہی سرکش تھے۔ (31-68) ہمیں امید ہے کہ ہمارا رب اس کے بدلے میں ہمیں اس سے زیادہ خَيْر دے گا ہم اپنے رب کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ (32-68) عذاب ایسے ہوتا ہے اور آخرت کا عذاب تو اس سے کہیں بڑھ کر ہے۔ کاش ! ان لوگوں کو علم ہوتا۔ (33-68) یقینا” متقیوں کے لیے ان کے رب کے ہاں جَنَّاتِ النَّعِيم ہے۔ (34-68)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *