
مُؤَلِّف : ڈاکٹر مسعود طارق
جنہوں نے کفر کیا اور ہماری آیات کو جھٹلایا وہی لوگ أَصْحَابُ الْجَحِيم ہیں۔ (10-5) ہم نے تم کو حق کے ساتھ بشارت دینے والا اور متنبہ کرنے والا بنا کر بھیجا ہے۔ اور تم سے أَصْحَابِ الْجَحِيم کے بارے میں پوچھ گچھ نہیں ہوگی۔ (119-2) کہو ! اے انسانوں ! میں تو بس تمہیں واضح طور پر متنبہ کرنے والا ہوں۔ (49-22) سو جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے صالح عمل کیے تو ان کے لیے مَغْفِرَة اور رِزْقٌ كَرِيم ہے۔ (50-22) اور وہ لوگ جو ہماری آیات کو نیچا دکھانے کی کوشش کریں گے وہ أَصْحَابُ الْجَحِيم ہیں۔ (51-22) جو لوگ الله پر اور اس کے رسول پر ایمان لائے وہی لوگ اپنے رب کے نزدیک صدیق اور شہید ہیں۔ ان کے لیے ان کا اجر ہے اور ان کا نور ہے اور جن لوگوں نے کفر کیا اور ہماری آیات کو جھٹلایا وہی لوگ أَصْحَابُ الْجَحِيم ہیں۔ (19-57)
نبی کے لیے اور ایمان والوں کے لیے نہیں ہے کہ وہ مشرکوں کے لیے مغفرت کی دعا کریں اگرچہ وہ ان کے قربت والے ہی ہوں اس کے بعد کہ ان پر ظاہر ہوجائے کہ وہ أَصْحَابُ الْجَحِيم ہیں۔ (113-9) اور ابراہیم کی اپنے باپ کے لیے مغفرت کی دعا نہیں تھی لیکن اس نے اس کے ساتھ طے کیا تھا اور اس سے وعدہ کیا تھا پھر جب ان پر ظاہر ہوگیا کہ وہ الله کا دشمن ہے تو وہ اس سے بیزار ہوگیا۔ بیشک ابراہیم بڑا نرم دل اور بردبار تھا۔ (114-9) اور الله ایسا نہیں ہے کہ لوگوں کو گمراہ کر دے اس کے بعد کہ وہ انہیں ہدایت دے چکا ہو حتیٰ کہ ان کے لیے ظاہر کردے جن سے انہیں بچنا چاہیے۔ بیشک الله ہر چیز کے بارے میں علم رکھتا ہے۔ (115-9) اور جن لوگوں نے کفر کیا اور ہماری آیات کو جھٹلایا وہی لوگ أَصْحَابُ الْجَحِيم ہیں۔ (86-5)
Leave a Reply