Masood InsightMasood Insight

اہلِ دوزخ (أَصْحَابُ النَّار)

مُؤَلِّف : ڈاکٹر مسعود طارق

جب ہم نے فرشتوں سے کہا تھا کہ آدم کو سجدہ کرو تو سب نے سجدہ کیا سوائے ابلیس کے۔ اس نے انکار کیا اور تکبر کیا اور وہ تھا ہی کافروں میں سے۔ (34-2) اور ہم نے کہا تھا کہ اے آدم ! تم اور تمہاری بیوی جنّت میں رہو اور جہاں سے چاہو کھاؤ مگر اس درخت کے قریب نہ جانا ورنہ ظالموں میں سے ہو جاؤ گے۔ (35-2) پھر شیطان نے ان کو وہاں سے پھسلا دیا اور وہ جس میں تھے اس سے ان کو نکلوا دیا اور ہم نے کہا تھا کہ تم سب اتر جاؤ تم ایک دوسرے کے دشمن ہو اور تمہارے لیے ایک خاص وقت تک کے لیے زمین میں قیام اور گذر بسر کا سامان ہے۔ (36-2) پھر آدم نے اپنے رب سے کچھ کلمات سیکھے تو اس کی توبہ قبول کرلی۔ بیشک وہی تو التَّوَّابُ الرَّحِيم ہے۔ (37-2) ہم نے فرمایا کہ تم سب یہاں سے اتر جاؤ اب ہوگا یہ کہ میری طرف سے ہدایت تمہارے پاس پہنچے تو جس نے میری ہدایت کی پیروی کی ان کے لیے کوئی خوف نہیں ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ (38-2) لیکن جن لوگوں نے قبول کرنے سے انکار کیا اور ہماری آیات کو جھٹلایا وہی لوگ أَصْحَابُ النَّار ہوں گے وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ (39-2)

اللہ ان لوگوں کا حامی و مدد گار ہے جو لوگ ایمان لاتے ہیں ان کو ظلمات سے نور کی طرف نکالتا ہے اور وہ لوگ جو کفر اختیار کرتے ہیں ان کے حامی و مدد گار الطَّاغُوت ہیں جو ان کو نور سے ظلمت کی طرف نکالتے ہیں۔ یہی لوگ أَصْحَابُ النَّار ہیں۔ یہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ (257-2) اے بنی آدم ! جب تمہارے پاس رسول آئیں جو تمہیں میں سے ہوں گے تمہیں میری آیات پڑھ کر سنائیں تو جو شخص تقویٰ اختیار کرے گا اور اپنی اصلاح کرلے گا تو ان کے لیے کوئی خوف نہیں ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ (35-7) اور جنہوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا اور ان سے تکبر کیا وہی لوگ أَصْحَابُ النَّار ہیں جو اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ (36-7)

الله کی آیات میں صرف وہی لوگ بحث کرتے ہیں جنہوں نے کفر کیا سو ان لوگوں کا شہروں میں چلنا پھرنا تمہیں دھوکے میں نہ ڈال دے۔ (4-40) ان سے پہلے نوح کی قوم نے اور ان کے بعد بھی بہت سی جماعتوں نے جھٹلایا تھا اور ہر اُمت اپنے رسول پر جھپٹی تاکہ ان کو پکڑ لیں اور باطل دلائل سے بحث کرتے رہے تا کہ اس کے ذریعے سے حق کو نیچا دکھائیں آخرکار میں نے ان کو پکڑ لیا۔ بس دیکھ لو کہ میری پکڑ کیسی سخت تھی۔ (5-40) اور اس طرح تیرے رب کے کلمات حق ثابت ہوئے ان لوگوں پر جو کفر کرتے رہے کہ وہ أَصْحَابُ النَّارِ ہیں۔ (6-40) اگر تمہیں تعجب کرنا ہے تو تعجب کے قابل ہے ان کا یہ کہنا کہ کیا جب ہم مٹی ہو جائیں گے تو کیا ہم پھر سے تخلیق کیے جائیں گے؟ یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے رب کے ساتھ کفر کیا اور یہی وہ لوگ ہیں کہ ان کی گردنوں میں طوق پڑے ہوں گے اور یہی لوگ أَصْحَابُ النَّار ہیں۔ یہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ (5-13)

وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا ان کو ان کے مال اور ان کی اولاد الله سے ذرا بھی نہ بچا سکیں گے اور یہی لوگ أَصْحَابُ النَّار ہیں۔ یہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ (116-3) اس کی مثال جو یہ لوگ اس دنیا کی زندگی میں خرچ کرتے ہیں اس ہوا کی سی ہے جس میں سخت سردی ہو جو ایسے لوگوں کی کھیتی پر چلے جنہوں نے اپنے نفسوں پر ظلم کیا ہو اور وہ اس کو برباد کردے اور ان پر اللہ نے ظلم نہیں کیا بلکہ وہ خود اپنے نفسوں پر ظلم کر رہے ہیں۔ (117-3) اور جن لوگوں نے سَيِّئَات کمایا تو ان کے سَيِّئَة کی جزا اس جیسی ہی ہے اور ان پر ذلت مسلط ہوگی اور ان کو الله سے بچانے والا کوئی نہ ہوگا۔ گویا کہ ان کے چہروں کو رات کے ایک ٹکڑے سے ڈھانپ دیا گیا ہے جو گہری سیاہ ہو ۔ یہی لوگ أَصْحَابُ النَّار ہیں یہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ (27-10)

کیا تم نے نہیں دیکھا ان کو جنہوں نے ایسے لوگوں کو دوست بنایا جن پر الله کا غضب ہے۔ وہ تم میں سے نہیں ہیں اور نہ ان میں سے اور جانتے بوجھتے جھوٹ پر قسمیں کھاتے ہیں۔ (14-58) الله نے ان کے لیے عَذَابًا شَدِيد مہیا کر رکھا ہے۔ یقینا” وہ عمل بہت ہی برے ہیں جو وہ کرتے ہیں۔ (15-58) انہوں نے اپنی قسموں کو ڈھال بنا رکھا ہے اور اس طرح وہ الله کی راہ سے روکتے ہیں اور ان کے لیے عَذَابٌ مُّهِين ہے۔ (16-58) ہر گز نہ بچا سکیں گے ان کے مال اور نہ ان کی اولاد انہیں الله سے ذرا بھی۔ یہ أَصْحَابُ النَّار ہیں جو اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ (17-58) ہاں ! جس نے سَيِّئَة کمایا تو اس کو اس کے گناہوں نے گھیر لیا سو ایسے ہی لوگ أَصْحَابُ النَّار ہیں یہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ (81-2)

اے میری قوم ! یہ دنیا کی زندگی فائدہ اٹھانے کی چیز ہے لیکن جو آخرت ہے وہی ہمیشہ کے قیام کی جگہ ہے۔ (39-40) جو کوئی سَيِّئَة عمل کرے گا تو اس کو بدلہ بھی ویسا ہی ملے گا اور جو کوئی مرد یا عورت میں سے صالح عمل کرے گا اور وہ مومن بھی ہوگا تو ایسے لوگ الْجَنَّة میں داخل ہوں گے وہاں ان کو بے حساب رزق ملے گا۔ (40-40) اے میری قوم ! یہ کیا ہے کہ میں تمہیں نجات کی طرف دعوت دیتا ہوں اور تم مجھے دوزخ کی طرف دعوت دیتے ہو؟ (41-40) تم مجھے دعوت دیتے ہو کہ میں الله کے ساتھ کفر کروں اور اس کے ساتھ ایسی چیزوں کو شریک بناؤں کہ مجھے ان کے بارے میں کچھ علم نہیں ہے اور میں تمہیں دعوت دے رہا ہوں اس کی طرف جو الْعَزِيزِ الْغَفَّار ہے۔ (42-40) سچ تو یہ ہے کہ تم مجھے جن کی طرف دعوت دے رہے ہو ان کے لیے دنیا میں دعوت نہیں ہے اور نہ آخرت میں ہے اور یہ کہ ہم کو الله کی طرف لوٹنا ہے اور یہ کہ جو الْمُسْرِفِين ہیں وہ أَصْحَابُ النَّار ہیں۔ (43-40)

ان کو آدم کے دو بیٹوں کا قصہ حق کے ساتھ پڑھ کر سناؤ جب انہوں نے قربانی پیش کی تو ان میں سے ایک کی قبول ہو گئی اور دوسرے کی قبول نہ ہوئی۔ اس نے کہا کہ میں تمہیں قتل کروں گا۔ اس نے کہا کہ الله تو الْمُتَّقِين سے قبول کرتا ہے۔ (27-5) اگر تو مجھے قتل کرنے کے لیے میری طرف اپنا ہاتھ بڑھائے گا تو میں تمہیں قتل کرنے کے لیے اپنا ہاتھ نہیں بڑھاؤں گا۔ مجھے اللّهَ رَبَّ الْعَالَمِين کا خوف ہے۔ (28-5) میرا ارادہ ہے کہ تو میرے گناہ بھی اور اپنے گناہ بھی سمیٹ لے پھر تو أَصْحَابِ النَّار میں سے ہو جائے اور الظَّالِمِين کی یہی سزا ہے۔ (29-5) مگر اس کے نفس نے اس کو بھائی کے قتل کی ہی ترغیب دی سو اس نے اسے قتل کر دیا اور وہ الْخَاسِرِين میں سے ہو گیا۔ (30-5) پھر الله نے ایک کوّا بھیجا جو زمین کو کریدنے لگا تاکہ اسے دکھائے کہ کس طرح اپنے بھائی کی لاش کو چھپائے۔ اس نے کہا کہ ہائے میری بدبختی ! میں اس سے بھی عاجز ہوں کہ اس کوے کے مثل ہوتا اور اپنے بھائی کی لاش کو چھپا سکتا۔ وہ النَّادِمِين میں سے ہوگیا۔ (31-5)

کیا تمہیں ان لوگوں کی خبر نہیں پہنچی جنہوں نے تم سے پہلے کفر کیا تھا پھر انہوں نے اپنے کیے کاموں کا مزہ چکھا اور ان کے لیے عَذَابٌ أَلِيم ہے۔ (5-64) یہ اس لیے کہ ان کے پاس ان کے رسول کھلی نشانیاں لے کر آتے رہے لیکن انہوں نے کہا کہ؛ کیا ایک بشر ہمیں ہدایت دے گا؟” سو انہوں نے کفر کیا اور منہ پھیر لیا اور الله بھی بے پروا ہوگیا اور الله تو غَنِيٌّ حَمِيد ہے۔ (6-64) جو لوگ کافر ہیں ان کا اعتقاد ہے کہ وہ مرنے کے بعد دوبارہ اٹھائے نہیں جائیں گے۔ ان سے کہو ہاں ! میرے رب کی قسم تم ضرور اٹھائے جاؤ گے پھر تمہیں بتایا جائے گا جو عمل تم کرتے رہے اور ایسا کرنا الله کے لیے آسان ہے۔ (7-64) سو ایمان لے آؤ الله پر اور اس کے رسول پر اور اس نور پر جو ہم نے نازل کیا ہے اور جو عمل تم کرتے ہو اللہ ان سے باخبر ہے۔ (8-64) وہ دن جب وہ اکٹھا ہونے کے دن تمہیں اکٹھا کرے گا وہی ہار جیت کا دن ہوگا اور جو الله پر ایمان لایا اور اس نے صالح عمل کیے تو اس سے اس کے سَيِّئَات دور کردے گا اور اسے ایسی جنّتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں۔ ان میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ یہ بڑی کامیابی ہے۔ (9-64) اور وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا اور ہماری آیات کو جھٹلایا وہی لوگ أَصْحَابُ النَّار ہیں۔ اس میں وہ ہمیشہ رہیں گے اور وہ بری جگہ ہے۔ (10-64)

أَصْحَابُ النَّار اور أَصْحَابُ الْجَنَّة ہرگز یکساں نہیں ہوسکتے۔ أَصْحَابُ الْجَنَّة تو وہ ہیں جو کامیابی حاصل کرنے والے ہیں۔ (20-59) جنہوں نے اپنے دین کو کھیل اور تماشا بنا لیا تھا اور ان کو دنیا کی زندگی نے فریب میں مبتلا کر رکھا تھا۔ اس دن ہم انہیں اسی طرح بھلا دیں گے جیسے وہ اپنے اس دن کی پیشی کو بھولے رہے اور جیسے وہ ہماری آیات کا انکار کرتے تھے۔ (51-7) اور أَصْحَابُ الْجَنَّة پکار کر أَصْحَابَ النَّارسے کہیں گے کہ جو وعدہ ہمارے رب نے ہم سے کیا تھا ہم نے تو اسے سچا پالیا۔ بھلا جو وعدہ تمہارے رب نے تم سے کیا تھا تم نے بھی اسے سچا پایا؟ وہ کہیں گے ہاں۔ پھر ان کے درمیان میں سے ایک پکارنے والا پکارے گا کہ ان ظالموں پر الله کی لعنت ہو۔ (44-7) جو الله کی راہ سے روکتے تھے اور اسے ٹیڑھا کرنا چاہتے تھے اور وہ آخرت کو ماننے سے انکار کیا کرتے تھے۔ (45-7)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *