
مُؤَلِّف : ڈاکٹر مسعود طارق
ہاں تم تو تعجب کرتے ہو اور یہ تمسخر کرتے ہیں۔ (12-37) اور جب ان کو نصیحت دی جاتی ہے تو نصیحت قبول نہیں کرتے۔ (13-37) اور جب کوئی نشانی دیکھتے ہیں تو تمسخر کرنے لگتے ہیں (14-37) اور کہتے ہیں کہ یہ تو صریح جادو ہے۔ (15-37) کیا ایسا ہوسکتا ہے کہ جب ہم مر چکے ہوں گے اور مٹی اور ہڈیاں بن جائیں گے تو کیا پھر بھی ہم اٹھائے جائیں گے؟ (16-37) اور کیا ہمارے پہلے آباؤ اجداد بھی؟ (17-37) ان سے کہو ! ہاں ! اور تم ذلیل ہوگے۔ (18-37) بس ساری بات اتنی سی ہے کہ وہ ایک زور کی آواز ہوگی اور یہ اس وقت دیکھنے لگیں گے (19-37) اور کہیں گے ہائے ہماری کم بختی ! یہ تو يَوْمُ الدِّين ہے۔ (20-37) یہ فیصلے کا وہی دن ہے جس کو تم جھٹلایا کرتے تھے۔ (21-37) گھیر کر لانے کا کہا جائے گا ان سب لوگوں کو جو ظلم کرتے تھے اور ان کی بیویوں کو اور جن کو وہ پوجا کرتے تھے (22-37) الله کے سوا۔ سو ان کے لیے ہدایت تھی کہ صِرَاطِ الْجَحِيم پر چلاؤ (23-37) اور ان کو ٹھہرائے رکھو کہ ان سے پوچھ گچھ ہونی ہے۔ (24-37)
Leave a Reply