
مُؤَلِّف : ڈاکٹر مسعود طارق
ہم نے موسیٰ کو کتاب عطا کی تھی تاکہ وہ لوگ ہدایت پائیں۔ (49-23) اور ہم نے ابْنَ مَرْيَم اور ان کی ماں کو اپنی نشانی بنایا تھا اور ہم نے ان کو ایک اونچی جگہ پر پناہ دی تھی جو رہنے کے لائق تھی اور اس میں چشمے بہہ رہے تھے۔ (50-23) اے رسولو ! طیب چیزیں کھاؤ اور صالح عمل کرو۔ جو عمل تم کرتے ہو میں ان کا علم رکھتا ہوں۔ (51-23) اور یہ تمہاری جماعت أُمَّةً وَاحِدَة ہے اور میں تمہارا رب ہوں سو مجھ ہی سے ڈرو۔ (52-23) مگر ان کو جو حکم دیا گیا تھا انہوں نے اس کو اپنے درمیان ٹکڑے کرکے جدا جدا کردیا۔ ہر جماعت اس پر اتراتی ہے جو اس کے پاس ہے۔ (53-23)
کیا تم نے نہیں دیکھا ان کو جنہوں نے ایسے لوگوں کو دوست بنایا جن پر الله کا غضب ہے۔ وہ تم میں سے نہیں ہیں اور نہ ان میں سے اور جانتے بوجھتے جھوٹ پر قسمیں کھاتے ہیں۔ (14-58) الله نے ان کے لیے عَذَابًا شَدِيد مہیا کر رکھا ہے۔ یقینا” وہ عمل بہت ہی برے ہیں جو وہ کرتے ہیں۔ (15-58) انہوں نے اپنی قسموں کو ڈھال بنا رکھا ہے اور اس طرح وہ الله کی راہ سے روکتے ہیں اور ان کے لیے عَذَابٌ مُّهِين ہے۔ (16-58) ہر گز نہ بچا سکیں گے ان کے مال اور نہ ان کی اولاد انہیں الله سے ذرا بھی۔ یہ أَصْحَابُ النَّار ہیں جو اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ (17-58) جس دن الله ان سب کو دوبارہ اٹھائے گا تو اس کے سامنے قسمیں کھائیں گے اس طرح جیسے تمہارے سامنے قسمیں کھاتے ہیں اور سمجھیں گے کہ اس طرح کچھ کام بن جائے گا۔ (18-58) شیطان نے انکو قابو میں کرلیا ہے اور الله کی یاد انکو بھلا دی ہے۔ یہی لوگ حِزْبُ الشَّيْطَان ہیں۔ جان لو کہ حِزْبُ الشَّيْطَان خسارے میں رہنے والی ہے۔ (19-58) اے انسانوں ! یقینا” الله کا وعدہ برحق ہے۔ سو نہ تم کو دھوکے میں ڈالے دنیا کی زندگی اور نہ تم کو دھوکے میں ڈالے اللہ کے بارے میں وہ بڑا غرور کرنے والا۔ (5-35) شیطان تمہارا دشمن ہے لہٰذا تم بھی اسے دشمن ہی سمجھو۔ وہ اپنی جماعت کو بلاتا ہے تاکہ وہ أَصْحَابِ السَّعِير میں شامل ہوجائیں۔ (6-35)
Leave a Reply