Masood InsightMasood Insight

لوگوں کی دنیا سے آخرت کی طرف رخصتی

مُؤَلِّف : ڈاکٹر مسعود طارق

الله نے خود اس بات کی گواہی دی کہ سوائے اس کے کوئی معبود نہیں ہے اور فرشتوں نے اور أُوْلُواْ الْعِلْم نے بھی اور وہی انصاف کے ساتھ قائم رکھنے والا ہے۔ سوائے اس کے کوئی معبود نہیں ہے اور وہ الْعَزِيزُ الْحَكِيم ہے۔ (18-3) اور اسی کے پاس غیب کی کنجیاں ہیں سوائے اس کے انہیں کوئی نہیں جانتا اور اسے علم ہے جو خشکی میں ہے اور جو سمندر میں ہے اور کوئی پتہ نہیں جھڑتا مگر وہ اس کے علم میں ہے اور زمین کے اندھیروں میں نہ کوئی دانہ اور نہ کوئی ہری اور نہ سوکھی چیز ہے مگر كِتَابٍ مُّبِين میں ہے۔ (59-6) اور وہی ہے جو رات کو تمہاری جان نکال لیتا ہے اور جانتا ہے وہ کام جو دن میں تم کرتے ہو پھر تمہیں دن میں اٹھا کھڑا کرتا ہے تاکہ زندگی کی معین مدت پوری ہو۔ پھر تمہیں اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے پھر وہ تمہیں بتادے گا جو عمل تم کرتے ہو۔(60-6) اور وہ اپنے بندوں پر پوری طاقت رکھتا ہے اور تم پر نگرانی کرنے والے بھیجتا ہے۔ یہاں تک کہ جب تم میں سے کسی کی موت آجاتی ہے تو ہمارے فرشتے اس کی جان نکال لیتے ہیں اور وہ کسی طرح کی کوتاہی نہیں کرتے۔ (61-6) پھر سب لوگ الله کے پاس واپس بلائے جائیں گے جو ان کا حقیقی مالک ہے۔ خبردار ہوجاؤ ! فیصلے کے سارے اختیارات اسی کو حاصل ہیں اور وہ حساب لینے میں بہت تیز ہے۔ (62-6)

وہ لوگ جو الله سے کیے گئے عہد کو میثاق کرنے کے بعد بھی توڑتے ہیں اور اللہ کے اس حکم کو قطع کرتے ہیں جوکہ ان کو ملانے کے لیے ہے اور زمین میں فساد مچاتے ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جن پر اللَّعْنَة ہے اور ان کے لیے سُوءُ الدَّار ہے۔ (25-13) الله جس کے لیے چاہے رزق کشادہ کرتا ہے اور جسے چاہے نپا تُلا دیتا ہے اور یہ دنیا کی زندگی پر اتراتے ہیں حالانکہ دنیا کی زندگی آخرت کے مقابلے میں بہت تھوڑا فائدہ ہے۔ (26-13) پھر کیا حال ہوگا اس وقت جب فرشتے ان کے چہروں پر اور ان کے کولہوں پر ضربیں لگاتے ہوئے انکی جان نکالیں گے؟ (27-47) یہ اس لیے ہوگا کہ انہوں نے اس کی پیروی کی جو اللہ کو ناراض کرنے والا ہے اور انہوں نے اس کی رضا کا راستہ ناپسند کیا۔ سو اللہ نے ان کے سب اعمال ضائع کردیے۔ (28-47) کاش تم دیکھو جب فرشتے کافروں کی جانیں نکالتے ہیں اور ان کے چہروں پر اور ان کے کولہوں پر ضربیں لگاتے ہیں اور کہتے جاتے ہیں کہ اب مزہ چکھو عَذَابَ الْحَرِيق کا۔ (50-8) یہ اس وجہ سے ہے جو تم نے اپنے ہاتھوں سے آگے بھیجا تھا اور بیشک الله اپنے بندوں پر ظلم کرنے والا نہیں ہے۔ (51-8)

ہاں جس نے اپنے عہد کو پورا کیا اور تقویٰ اختیار کیا تو الله متقیوں سے محبت کرتا ہے۔ (76-3) جو لوگ ایمان لائے اور ہجرت کی اور الله کی راہ میں اپنے مال سے اور اپنے نفس سے جدوجہد کی۔ الله کے ہاں ان کے بہت بڑے درجے ہیں۔ اور یہی لوگ کامیاب ہونے والے ہیں۔ (20-9) بیشک وہ لوگ کہ جن کی فرشتے اس حال میں جان نکالیں گے کہ وہ اپنے نفسوں پر ظلم کر رہے تھے تو ان سے کہیں گے کہ تم کیا کرتے رہے؟ وہ کہیں گے کہ ہم اپنی سر زمین میں کمزور تھے۔ فرشتے کہیں گے کہ کیا الله کی زمین وسیع نہیں تھی کہ تم اس میں ہجرت کر جاتے۔ سو یہی وہ لوگ ہیں کہ ان کا ٹھکانہ جَهَنَّم ہے اور وہ بہت بری جگہ ہے۔ (97-4) مگر وہ کمزور مرد اور عورتیں اور بچے جو نہیں کرسکتے کوئی حیلہ اور نہیں پاتے کوئی راستہ (98-4) سو یہ امید ہے کہ الله انہیں معاف کردے اور الله عَفُوًّا غَفُور ہے۔ (99-4) اور جو شخص الله کی راہ میں ہجرت کرے گا وہ زمین میں بہت سے ٹھکانے اور فراخی پائے گا اور جو شخص اپنے گھر سے الله اور رسول کی طرف ہجرت کرکے نکلا پھر موت نے اس کو آپکڑا تو اس کا اجر الله کے ذمہ ہو گیا اور الله غَفُورًا رَّحِيم ہے۔ (100-4) اور جو لوگ الله کی راہ میں قتل ہوجائیں ان کو مردہ نہ کہو بلکہ وہ تو زندہ ہیں لیکن تمہیں شعور نہیں ہے۔ (154-2)

جب ان لوگوں سے پوچھا جاتا ہے جو متقی ہیں کہ تمہارے رب نے کیا نازل کیا ہے؟ تو وہ کہتے ہیں کہ خَيْر۔ ان لوگوں کے لیے جنہوں نے احسن کام کیے ان کے لیے اس دنیا میں بھی حَسَنَة ہے اور آخرت کا گھر تو بہت ہی خَيْر والا ہے اور متقیوں کے لیے ہے۔ (30-16) ان کے ہمیشہ رہنے کے لیے جنّت ہے جس میں وہ داخل ہوں گے۔ ان کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں وہاں ان کے لیے وہ ہوگا جو وہ چاہیں گے۔ اسی طرح متقیوں کو اللہ بدلہ دیتا ہے۔ (31-16) وہ انتہائی گھبراہٹ میں بھی غمگین نہ ہوں گے اور ان کو فرشتے لینے آئیں گے کہ یہ تمہارا وہ دن ہے جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا۔ (103-21) یہ وہ لوگ ہیں جن کی فرشتے اس حالت میں جان نکالتے ہیں کہ وہ پاک ہوتے ہیں۔ ان سے کہتے ہیں سَلامٌ عَلَيْكُم ! داخل ہو جاؤ جنّت میں ان اعمال کے بدلے میں جو تم کیا کرتے تھے۔ (32-16) یہی وہ لوگ ہیں جو اپنے صبر کے بدلے میں اونچے محل پائیں گے اور ان کا وہاں آداب و تسلیمات کے ساتھ استقبال کیا جائے گا۔ (75-25) یہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ وہ ٹھہرنے اور رہنے کی بہت ہی اچھی جگہ ہے۔ (76-25)

جنہوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا اور ان سے تکبر کیا وہی لوگ أَصْحَابُ النَّار ہیں۔ جو اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ (36-7) یہاں تک کہ جب ان کے پاس ہمارے بھیجے ہوئے جان نکالنے آئیں گے تو وہ کہیں گے کہ جن کو تم الله کے سوا پکارا کرتے تھے وہ کہاں ہیں؟ وہ کہیں گے کہ وہ ہم سے غائب ہوگئے اور خود اپنے نفس کے خلاف گواہی دیں گے کہ واقعی ہم حق کے منکر تھے۔ (37-7) کہا جائے گا کہ تم بھی داخل ہو جاؤ ان گروہوں کے ساتھ جو تم سے پہلے جِنّوں اور انسانوں میں سے آگ میں جا چکے ہیں۔ جب بھی کوئی گروہ داخل ہوگا تو وہ اپنے جیسے اور گروہوں پر لعنت بھیجے گا۔ حتٰی کہ جب اس میں سے سب گذر چکیں گے تو بعد میں آنے والے اپنے سے پہلوں کے بارے میں کہیں گے کہ اے ہمارے رب ! یہ ہیں جنہوں نے ہمیں گمراہ کیا تھا لہٰذا تو انہیں آگ کا دگنا عذاب دے۔ کہا جائے گا کہ ہر ایک کے لیے دگنا ہی ہے مگر تمہیں علم نہیں۔ (38-7) اور پہلے والے بعد میں آنے والوں سے کہیں گے کہ آخر تمہیں ہم پر کیا فضیلت تھی لہٰذا چکھو اب مزا اس عذاب کا نتیجے میں اس کے جو تم کماتے رہے۔ (39-7)

کاش تم دیکھ سکو جب ظالم لوگ سکراتِ موت میں ڈبکیاں کھا رہے ہوتے ہیں اور فرشتے ہاتھ بڑھا رہے ہوتے ہیں کہ نکالو اپنی جانیں۔ آج تم کو عَذَابَ الْهُون دیا جائے گا اس کے پاداش میں جو تم الله کے بارے میں ناحق باتیں کہتے تھے اور تم اس کی آیات کے مقابلے میں تکبر کرتے تھے۔ (93-6) ہر جھوٹے گناہگار شخص کے لیے تباہی ہے (7-45) جو الله کی آیات سنتا ہے جو اس کے سامنے پڑھی جاتی ہیں پھر بھی تکبر کے ساتھ اڑا رہتا ہے گویا کہ اس نے سنی ہی نہیں سو ایسے شخص کو عَذَابٌ أَلِيم کی خوشخبری دے دو۔ (8-45) اور ان کے سامنے اس شخص کا حال پڑھ کر سنا دو جس کو ہم نے اپنی آیات عطا کی تھیں مگر وہ ان سے دستبردار ہو گیا تو وہ شیطان کی پیروی کرنے لگا سو وہ گمراہوں میں شامل ہوگیا۔ (175-7) اور اگر ہم چاہتے تو ان سے اسے بلندی عطا کرتے مگر وہ تو زمین کا ہو کر رہ گیا اور اس نے اپنے نفس کی خواہشات کی پیروی کی۔ تو اس کی مثال کتے کی سی ہوگئی کہ اگر اس پر بوجھ لادو تب بھی زبان نکالے رہے اور یونہی چھوڑ دو تب بھی زبان نکالے رہے۔ یہی مثال ان لوگوں کی ہے جو ہماری آیات کو جھٹلاتے ہیں۔ تو یہ احوال ان سے بیان کردو۔ شاید وہ کچھ غور و فکر کریں۔(176-7) جن لوگوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا ان کی مثال بہت ہی بری ہے اور انہوں نے اپنے ہی نفس پر ظلم کیا۔ (177-7)

ہم نے بہت سے جِن اور انسان جَهَنَّم ہی کے لیے پیدا کیے ہیں۔ ان کے دل تو ہیں مگر ان سے سوچنے سمجھنے کا کام نہیں لیتے اور ان کی آنکھیں تو ہیں مگر ان سے دیکھتے نہیں اور ان کے کان تو ہیں مگر وہ ان سے سنتے نہیں۔ یہ لوگ چارپایوں کی طرح ہیں بلکہ ان سے بھی زیادہ گمراہ ہیں۔ یہی لوگ ہیں جو غفلت میں پڑے ہوئے ہیں۔ (179-7) یہ اس لیے کہ انہوں نے دنیا کی زندگی کو آخرت کے مقابلے میں پسند کرلیا اور یقینا” الله ان لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا جو حق کا انکار کرتے ہیں۔ (107-16) یہ وہ لوگ ہیں کہ الله نے ان کے دلوں پر اور کانوں پر اور آنکھوں پر مہر لگادی ہے اور یہی لوگ ہیں جو غفلت میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ (108-16) لازما” یہی لوگ آخرت میں خسارے میں رہنے والے ہیں۔ (109-16) وہ جن کی فرشتے اس حالت میں جان نکالتے ہیں کہ وہ اپنے نفس پر ظلم کر رہے تھے تو فورا” مطیع ومنقاد ہوجاتے ہیں اور انہیں کہتے ہیں کہ ہم کوئی برا کام نہیں کرتے تھے۔ کیوں نہیں یقینا” اللہ کو علم ہے جو عمل تم کیا کرتے تھے۔ (28-16) سو اب جَهَنَّم کے دروازوں میں داخل ہوجاؤ۔ ہمیشہ اس میں رہو گے۔ سو تکبر کرنے والوں کے لیے بہت ہی برا ٹھکانا ہے۔ (29-16) 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *