
تاریخ: 25 اپریل 2025
انسان کی زندگی خوف اور لالچ کے گرد گھومتی رھتی ھے۔ خوف کسی چیز کا نقصان ھوجانے کا ھوتا ھے۔ لالچ کسی چیز کا فائدہ ھوجانے کا ھوتا ھے۔
جبکہ افراد مل کر گھر ‘ گھر مل کر گھرانہ ‘ گھرانے مل کر خاندان ‘ خاندان مل کر برادری ‘ برادریاں مل کر قوم بناتی ھیں۔
1۔ قوم “پاور فل” ھو تو قوم کی برادریاں بھی “پاور فل” ھوجاتی ھیں۔
2۔ برادریاں “پاور فل” ھوں تو برادریوں کے خاندان بھی “پاور فل” ھوجاتے ھیں۔
3۔ خاندان “پاور فل” ھوں تو خاندانوں کے گھرانے بھی “پاور فل” ھوجاتے ھیں۔
4۔ گھرانے “پاور فل” ھوں تو گھرانوں کے گھر بھی “پاور فل” ھوجاتے ھیں۔
5۔ گھر “پاور فل” ھو تو گھر کے افراد بھی “پاور فل” ھوجاتے ھیں۔
قوم “پاور فل” ھو تو قانون بناتی ھے اور اس قانون پر عمل کرواتی ھے۔ تاکہ جو “پاور فل” نہ ھوں؛
1۔ وہ قانون کے مطابق معاملات انجام دینے میں مصروف رہ کر اپنے خلاف “پاور” کے استعمال سے خود کو بچا کر نقصان نہ کروائیں۔ اسے “پاور” کا خوف کہتے ھیں۔
2۔ وہ قانون کے مطابق معاملات انجام دینے میں مصروف رہ کر اپنے تعلقات “پاور” والوں کے ساتھ اچھے کرکے خود کو فائدہ پہنچائیں۔ اسے “پاور” والوں سے لالچ کہتے ھیں۔
قانون وہ ھی بنا سکتے ھیں جو بنائے گئے قانون پر عمل بھی کروا سکیں۔ لیکن قانون پر عمل کروانے کے لیے “پاور فل” ھونا ضروری ھے۔
چونکہ قانون وہ بناتے اور بنائے گئے قانون پر عمل کرواتے ھیں جو “پاور فل” ھوں۔ اس لیے “پاور فل” پر قانون کی گرفت نہیں ھوا کرتی۔ قانون کی گرفت میں وہ آیا کرتے ھیں جو “پاور فل” نہ ھوں۔
فارن افیئر سروسز ‘ ملٹری سروسز ‘ سول سروسز ‘ ایجوکیشنل انسٹیٹیوشنس ‘ ایگریکلچر ‘ انڈسٹری ‘ ٹریڈ بزنس ‘ اسکلڈ پروفیشن ‘ نیشنل میڈیا اور بڑے بڑے شہروں پر جس قوم کی بالادستی ھو۔ وہ قوم “پاور فل” ھوتی ھے اور سیاست اس “پاور” کو حاصل کرنے کا راستہ ھے۔
“پاور فل” ھونے کے لیے ھی افراد ‘ گھر ‘ گھرانے ‘ خاندان ‘ برادری اور قوم ‘ سیاست کرتے ھیں ‘ جن کو “پاور پلیئر” کہا جاتا ھے۔
“پاور پلیئر” ھر دور میں کھیل کھیلتے آئے ھیں۔ اس لیے ھر جگہ سیاست ھوتی ھے اور ھر دور میں ھوتی آئی ھے۔ یہ البتہ الگ بات ھے کہ؛
1۔ سیاست کہیں جمہوری طریقوں اور سیاسی اصولوں کے تحت ھوتی ھے۔
2۔ سیاست کہیں آمرانہ طریقوں اور سیاسی سازشوں کے ذریعے ھوتی ھے۔
Leave a Reply