Masood InsightMasood Insight

گجراتیوں اور راجستھانیوں کو مھاجر کے نام پر استعمال کیا جارھا ھے۔

تحریر: ڈاکٹر مسعود طارق

مئی 26 سن 2025

مھاجر قومی موومنٹ (MQM) اب متحدہ قومی موومنٹ (MQM) اصل میں یوپی ‘ سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانیوں کی سیاسی پارٹی ھے جو گجراتیوں اور راجستھانیوں کو مھاجر قرار دے کر استعمال کرتی آرھی ھے۔

پاکستان کے قیام کے بعد سے لیکر MQM کے قیام سے پہلے تک یوپی ‘ سی پی کے اردو بولنے والے خود کو ھندوستانی کہلواتے تھے۔ جبکہ گجراتیوں اور راجستھانیوں کو اپنے ساتھ ملا کر مھاجر بن جاتے تھے۔ لیکن سندھ میں رھنے والے پنجابیوں اور پٹھانوں سے ملتے تو خود کو نان سندھی کہلواتے۔

یوپی ‘ سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانیوں نے MQM کے قیام سے پہلے گجراتیوں اور راجستھانیوں کو اپنے ساتھ ملا کر مھاجر بن جانے کے بعد نواب مظفر حسین کی قیادت میں سندھ میں رھنے والے پنجابیوں اور پٹھانوں کو اپنے ساتھ ملاکر “مھاجر ‘ پنجابی ‘ پٹھان متحدہ محاذ” (MPPM) بنایا ھوا تھا۔

“مھاجر ‘ پنجابی ‘ پٹھان متحدہ محاذ” (MPPM) کے پلیٹ فارم سے یوپی ‘ سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانیوں نے نہ صرف گجراتیوں اور راجستھانیوں کو اپنے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا۔ بلکہ سندھ میں رھنے والے پنجابیوں اور پٹھانوں کو بھی اپنے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرتے رھے۔

یوپی ‘ سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانی ‘ سندھیوں سے سندھ کی سیاست ‘ حکومت اور سرکاری نوکریوں میں نان سندھی کے نام پر گجراتیوں ‘ راجستھانیوں اور سندھ میں رھنے والے پنجابیوں اور پٹھانوں کا حصہ لینے کے بعد؛

1۔ یوپی ‘ سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانیوں کو سندھ کی سیاست ‘ حکومت اور سرکاری نوکریوں میں مستحکم کرتے رھے۔

2۔ اردو زبان کی بالا دستی قائم رکھتے رھے۔

3۔ جبکہ گجراتیوں اور راجستھانیوں کے علاوہ سندھ میں رھنے والے پنجابیوں اور پٹھانوں کو نان سندھی قرار دیکر سندھوں کے ساتھ محازآرائی پر اکساتے رھے۔

سندھ میں رھنے والے پنجابیوں اور پٹھانوں کو تو MQM کے قیام کے بعد یوپی ‘ سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانیوں کے سیاسی چنگل اور نان سندھی کی شناخت سے نجات مل گئی۔ لیکن گجراتی اور راجستھانی ابھی تک مھاجر کی شناخت کے نام پر یوپی ‘ سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانیوں کے سیاسی چنگل میں پھنسے ھوئے ھیں۔

گجراتی اور راجستھانی ابھی تک یوپی ‘ سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانیوں کا سندھ کی سیاست ‘ حکومت اور سرکاری نوکریوں میں استحکام قائم رکھنے ‘ اردو زبان کی بالا دستی قائم رکھنے اور کراچی کو “جناح پور” بنانے کے لیے استعمال ھو رھے ھیں۔

کراچی کی آبادی %20 یوپی ‘ سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانیوں ‘ %15 پنجابی بولنے والوں ‘ %15 پشتو بولنے والوں ‘ %10 سندھی بولنے والوں ‘ %5 بلوچی بولنے والوں ‘ %10 گجراتی بولنے والوں ‘ %10 راجستھانی بولنے والوں اور %15 دیگر زبانیں بولنے والوں پر مشتمل ھے۔ گو کہ پنجابیوں ‘ پٹھانوں ‘ سندھیوں ‘ بلوچوں اور دیگر کی کراچی میں آبادی %60 ھے۔ گجراتیوں اور راجستھانیوں کی آبادی %20 ھے۔

پنجابیوں ‘ پٹھانوں ‘ سندھیوں ‘ بلوچوں ‘ گجراتیوں ‘ راجستھانیوں اور دیگر کی کراچی میں آبادی %80 ھے ‘ جو کہ نان اردو اسپیکنگ ھیں۔ لیکن %20 یوپی ‘ سی پی کے اردو بولنے والے ھندوستانیوں نے کراچی کے %20 نان اردو اسپیکنگ گجراتیوں اور راجستھانیوں کو مھاجر قرار دے کر کراچی میں اپنی آبادی %20 سے بڑھاکر %40 کر رکھی ھے۔ جبکہ کراچی کی آبادی کے %60 پنجابیوں ‘ پٹھانوں ‘ سندھیوں ‘ بلوچوں اور دیگر کے متحد نہ ھونے کا فائدہ اٹھا کر کراچی پر اپنا کنٹرول قائم کیا ھوا ھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *