
مولانا ابوالکلام آزاد 22 فروری 1958 کو دھلی میں انتقال کر گئے تھے۔ مولانا ابوالکلام آزاد نے پاکستان سے متعلق بہت سی پیشیگوئیاں کی تھیں۔
آغا شورش کاشمیری کی ادارت میں شائع ھونے والے ھفت روزہ رسالہ “چٹان” میں مولانا ابو الکلام آزاد نے انٹرویو دیتے ھوئے کہا تھا کہ؛
جناح اور لیاقت علی خان جب تک زندہ ھیں۔ اس وقت تک مشرقی پاکستان کا اعتماد متزلزل نہیں ھو سکتا۔ لیکن دونوں رھنمائوں کے چلے جانے کے بعد ایک چھوٹا سا واقعہ بھی ناراضگی اور اضطراب پیدا کر سکتا ھے۔
میں محسوس کرتا ھوں کہ مشرقی پاکستان کے لیے بہت طویل مدت تک مغربی پاکستان کے ساتھ رھنا ممکن نہ ھوگا۔ دونوں خطوں میں کوئی بھی قدر مشترک نہیں ھے۔ سوائے اس کے دونوں اطراف کے رھنے والے اپنے آپ کو مسلمان کہتے ھیں ۔
حقیقت یہ ھے کہ دنیا میں مسلمان کہیں بھی پائیدار سیاسی اتحاد پیدا نہیں کر پائے۔ عرب دنیا کی مثال ھمارے سامنے ھے۔ مشرقی پاکستان کی زبان ‘ رواج اور رھن سہن مغربی پاکستان کی اقدار سے مکمل طور پر مختلف ھیں۔
پاکستان کے قیام کی گرم جوشی ٹھنڈی پڑتے ھی اختلافات سامنے آنا شروع ھوجائیں گے۔ جو جلد ھی اپنی بات منوانے کی حد تک پہنچ جائیں گے۔ عالمی قوتوں کے مفادات کی جنگ میں یہ اختلافات شدت اختیار کریں گے اور پاکستان کے دونوں حصے الگ ھو جائیں گے۔
مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے بعد مغربی پاکستان خطے میں موجود تضادات اور اختلافات کا میدان جنگ بن جائیگا۔ پنجاب ‘ سندھ ‘ صوبہ سرحد (خیبر پختونخوا) اور بلوچستان کا قومیائی تشخص بیرونی مداخلت کے دروازے کھول دے گا۔
وہ وقت دور نہیں ھوگا جب عالمی قوتیں پاکستان کی سیاسی قیادت میں موجود مختلف عناصر کو استعمال کرکے اس کو بخرے کردیں گی۔ جیسا کہ بلکان اور عرب ریاستوں کے ساتھ کیا گیا تھا۔ اس وقت ھوسکتا ھے کہ؛ ھم اپنے آپ سے یہ سوال کریں گے کہ ھم نے کیا کھویا اور کیا پایا؟
اصل مسئلہ یقینی طور پر مذھب کا نہیں بلکہ معاشی ترقی کا ھے۔ مسلمان کاروباری قیادت کو اپنی صلاحیت اور ھمت پر شکوک و شبہات ھیں۔ مسلمان کاروباری حضرات کو سرکاری سرپرستی اور مہربانیوں کی اتنی عادت پڑچکی ھے کہ وہ نئی آزادی اور خود مختاری سے خوفزدہ ھیں۔
وہ دو قومی نظریے کی آڑ میں اپنے خوف کو چھپاتے ھیں اور ایسی مسلمان ریاست چاھتے ھیں ‘ جہاں وہ بغیر کسی مقابلے کے معیشت پر اپنی اجارہ داری قائم رکھ سکیں۔ یہ دیکھنا انتہائی دلچسپ ھوگا کہ؛ وہ کب تک اس فریب کاری کو زندہ رکھ سکتے ھیں؟
میں سمجھتا ھوں کہ اپنے قیام سے ھی پاکستان کو بہت سنگین مسائل کا سامنا رھے گا جیسے کہ؛
(1) کئی مسلم ممالک کی طرح پاکستان کی نااھل سیاسی قیادت فوجی آمریت کی راہ ھموار کرے گی۔
(2) پڑوسیوں سے دوستانہ تعلقات کا فقدان اور جنگ کے امکانات ھوں گے۔
(3) داخلی شورش اور علاقائی تنازعات ھوں گے۔
(4) عالمی طاقتیں اس پر تسلط جمانے کی کوششیں جاری رکھیں گی۔
(5) پاکستان میں امیر تاجر قومی دولت کا استحصال کریں گے۔ پاکستان کے صنعتکاروں اور نو دولتیوں کے ھاتھوں قومی دولت کی لوٹ مار ھو گی۔
(6) بیرونی قرضوں کا بھاری بوجھ ھو گا۔
(7) نوجوانوں کی مذھب سے دوری اور عدم اطمینان اور نظریہ پاکستان کا خاتمہ ھو جائے گا۔
مولانا ابوالکلام آزاد نے انڈیا میں رھنے والے مسلمانوں کو پاکستان ھجرت نہ کرنے کا مشورہ بھی دیا تھا۔
انہوں نے سمجھایا تھا کہ؛ ان کے سرحد پار کرنے سے پاکستان مضبوط نہیں ھوگا۔ بلکہ انڈیا کے مسلمان کمزور ھوں گے۔
انہوں نے بتایا تھا کہ؛ وہ وقت دور نہیں جب پاکستان میں پہلے سے مقیم لوگ اپنی علاقائی شناخت کے لیے اٹھ کھڑے ھوں گے۔ جبکہ انڈیا سے آنے والوں کو بِن بلایا مہمان سمجھا جائے گا۔
Leave a Reply