
دنیا کی زندگی کا کھیل کیسے شروع ہوا؟
شیطان کا بہکانا اور آدمؑ کی لغزش
ہم نے کہا کہ اے آدم ! تم اور تمہاری بیوی جنت میں رہو اور جہاں سے چاہو کھاؤ مگر اس درخت کے قریب نہ جانا ورنہ ظالموں میں سے ہو جاؤ گے۔ (19-7) پھر شیطان نے ان کو وسوسے دینا شروع کیے تاکہ ان سے جو ان کی پوشیدہ چیزیں چھپائی گئی تھیں ان کے سامنے کھول دے اور کہا کہ تمہیں تمہارے رب نے اس درخت سے اس لیے روکا ہے کہ کہیں تم مالک نہ بن جاؤ یا ہمیشہ رہنے والوں میں سے ہو جاؤ۔ (20-7) اور ان سے قسم کھائی کہ میں تم لوگوں کا حقیقی خیر خواہ ہوں۔ (21-7) پھر دھوکہ دے کر رفتہ رفتہ ان کو ڈھب پر لے ہی لیا۔ جب انہوں نے اس درخت کا ذائقہ چکھا تو ان کے سامنے ان کے ستر کھل گئے اور وہ اپنے آپ کو جنت کے پتوں سے ڈھانپنے لگے اور ان کے رب نے ان کو پکارا کہ کیا میں نے تمہیں اس درخت کے پاس جانے سے نہیں روکا تھا اور تم سے کہا تھا کہ شیطان تمہارا کھلم کھلا دشمن ہے؟ (22-7)
اللہ کا آدمؑ کو جنت سے نکلنے کا حکم اور آدمؑ کی اللہ کو رحم کی درخواست
جب ہم نے فرشتوں سے کہا تھا کہ آدم کو سجدہ کرو تو سب نے سجدہ کیا سوائے ابلیس کے۔ اس نے انکار کیا اور تکبر کیا اور وہ تھا ہی کافروں میں سے۔ (34-2) اور ہم نے کہا تھا کہ اے آدم ! تم اور تمہاری بیوی جنت میں رہو اور جہاں سے چاہو کھاؤ مگر اس درخت کے قریب نہ جانا ورنہ ظالموں میں سے ہو جاؤ گے۔ (35-2) پھر شیطان نے ان کو وہاں سے پھسلا دیا اور وہ جس میں تھے اس سے ان کو نکلوا دیا اور ہم نے کہا تھا کہ تم سب اتر جاؤ تم ایک دوسرے کے دشمن ہو اور تمہارے لیے ایک خاص وقت تک کے لیے زمین میں قیام اور گذر بسر کا سامان ہے۔ (36-2) الله نے فرمایا کہ اسی میں تم کو جینا ہے اور اسی میں تم کو مرنا ہے اور اسی میں سے تم کو نکالا جائے گا۔ (25-7) انہوں نے کہا کہ اے ہمارے رب ! ہم نے اپنے نفسوں پر ظلم کیا اور اگر تونے ہمیں نہ بخشا اور ہم پر رحم نہ کیا تو ہم الْخَاسِرِينَ میں سے ہو جائیں گے۔ (23-7) الله نے فرمایا کہ تم سب اتر جاؤ تم ایک دوسرے کے دشمن ہو اور تمہارے لیے ایک خاص وقت تک کے لیے زمین میں قیام اور گذر بسر کا سامان ہے۔ (24-7) ہر نفس کو موت کا ذائقہ چکھنا ہے پھر تم ہماری طرف ہی واپس لائے جاؤ گے۔ (57-29) واقعہ یہ ہے کہ ہم نے جو چیزیں زمین پر ہیں ان کو اس کے لیے زینت بنایا ہے تاکہ ہم لوگوں کو آزمائیں کہ ان میں سے کون أحْسَنُ عمل کرتا ہے۔ (7-18) ہم نے ہر انسان کے اعمال کو اسکی گردن میں لٹکا دیا ہے اور ہم اس کو دکھانے کے لیے قیامت کے دن نکالیں گے جسے وہ ایک کھلی کتاب کی مانند لکھا ہوا دیکھے گا۔ (13-17)
آدمؑ کی رحم کی درخواست کی قبولیت اور اللہ کی طرف سے رہنمائی کا وعدہ
پھر آدم نے اپنے رب سے کچھ کلمات سیکھے تو اس کی توبہ قبول کرلی۔ بیشک وہی تو التَّوَّابُ الرَّحِيمُ ہے۔ (37-2) ہم نے فرمایا کہ تم سب یہاں سے اتر جاؤ اب ہوگا یہ کہ میری طرف سے ہدایت تمہارے پاس پہنچے تو جس نے میری ہدایت کی پیروی کی تو ان کے لیے کوئی خوف نہیں ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے (38-2) لیکن جن لوگوں نے قبول کرنے سے انکار کیا اور ہماری آیات کو جھٹلایا وہی لوگ أَصْحَابُ النَّارِ ہوں گے یہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ (39-2) خوب جان لو کہ دنیا کی زندگی محض کھیل اور تماشا اور بناؤ سنگھار اور ایک کا دوسرے پر فخر جتانا اور مال و اولاد کے ذریعے ایک دوسرے کو متاثر کرنے کی کوشش کرنا ہے۔ (20-57) انسانوں کے لیے محبت ان کے نفس کی خواہشات کی عورتوں سے اور بیٹوں سے اور بڑے بڑے ڈھیروں سے سونے اور چاندی کے اور منتخب گھوڑوں سے اور مال مویشی سے اور کھیت کھلیان سے بڑی خوشنما بنادی گئی ہے۔ یہ سب دنیا کی زندگی کا ساز و سامان ہے اور الله کے پاس بہت اچھا ٹھکانا ہے۔ (14-3) اور وہی تو ہے جس نے تم کو زمین کا خلیفہ بنایا اور تم میں سےایک کو دوسرے پر درجات میں بلند کیا تاکہ تم کو اس میں سے آزمائے جو اس نے تم کو عطا کیا۔ تمہارا رب سزا دینے میں بہت تیز ہے اور وہ غَفُورٌ رَّحِيمٌ بھی ہے۔ (165-6) حقیقت یہ ہے کہ تمہارا مال اور تمہاری اولاد تو آزمائش ہے اور الله کے پاس اجرِ عظیم ہے۔ (15-64) اور تم کو ہم ضرور آزمائیں گے کسی قدر خوف سے اور بھوک سے اور مال کے نقصان سے اور نفس کی خواہشوں کے پوارا نہ ہونے سے اور آمدنی کی کمی سے اور صبر کرنے والوں کو خوشخبری دو۔ (155-2)
Leave a Reply