
اللہ کی بنی آدم کو شیطان سے بچنے کی نصیحت
اے بنی آدم ! کیا میں نے تمہیں ہدایت نہیں کی تھی کہ تم شیطان کی عبادت نہ کرنا وہ تمہارا کھلا دشمن ہے؟ (60-36) اور یہ کہ میری ہی عبادت کرنا۔ یہی صِرَاطٌ مُّسْتَقِيمٌ ہے۔ (61-36) اور اس نے تم میں سے بہت سی خلقت کو گمراہ کیا ہے۔ کیا پھر بھی تم عقل سے کام نہیں لیتے؟ (62-36) ہم نے تم میں پہلے بھی رسول اور نبی بھیجے مگر جب وہ کوئی تمنیٰ کرتے تو شیطان ان کی تمناؤں میں کچھ ڈال دیتا۔ پھر جو کچھ شیطان ڈالتا الله اس کو مٹا دیتا رہا۔ پھر الله اپنی آیتوں کو مضبوط کردیتا رہا اور الله عَلِيمٌ حَكِيمٌ ہے۔ (52-22) شیطان تمہیں مفلسی سے ڈراتا ہے اور فحاشی کے کاموں کی ترغیب دیتا ہے مگر الله تم سے اپنی مغفرت اور فضل کا وعدہ کرتا ہے اور الله وَاسِعٌ عَلِيمٌ ہے۔ (268-2) شیطان تمہارا دشمن ہے لہذا تم بھی اسے دشمن ہی سمجھو۔ وہ اپنے پیروکاروں کو بلاتا ہے تاکہ وہ أَصْحَابِ السَّعِيرِ میں شامل ہوجائیں۔ (6-35) شیطان ان سے وعدے کرتا ہے اور ان کو آرزؤں کے سبز باغ دیکھاتا ہے اور شیطان ان سے جو وعدے کرتا ہے وہ فریب ہے۔ (120-4) الله نے اس پر لعنت کی ہے اور اس نے کہا تھا کہ میں تیرے بندوں میں سے اپنا مقررہ حصہ ضرور لے کر رہوں گا۔ (118-4) اور میں ان کو گمراہ کروں گا اور میں ان کو آرزوؤں کے سبز باغ دکھاؤں گا اور میں ان کو حکم دوں گا تو وہ مویشیوں کے کان چیریں گے اور میں ان کو حکم دوں گا تو وہ اللہ کی تخلیق میں ردو بدل کریں گے۔ مگر جس نے الله کو چھوڑ کر شیطان کو اپنا سرپرست بنایا تو اس نے کھلا نقصان اٹھایا۔ (119-4) اور میرے بندوں سے کہو کہ وہ ایسی باتیں کہا کریں جو احسن ہوں۔ کیونکہ شیطان ان کے درمیان تنازعہ ڈلوا دیتا ہے۔ کچھ شک نہیں کہ شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے۔ (53-17)
اے بنی آدم ! شیطان تم کو کہیں فتنے میں مبتلا نہ کردے جس طرح اس نے تمہارے والدین کو جنت سے نکلوایا تھا ان پر سے ان کے لباس اتروا دیے تھے تاکہ ان کے ستر ان کو دکھائے۔ وہ اور اس کا قبیلہ تم کو ایسی جگہ سے دیکھتا ہے کہ تم انہیں نہیں دیکھ سکتے۔ ہم نے شیطانوں کو ان لوگوں کا سرپرست بنایا ہے جو ایمان نہیں لاتے (27-7) اور جو بھی رحمٰن کے ذکر سے غفلت برتتا ہے تو ہم اس پر ایک شیطان مسلط کردیتے ہیں پھر وہی اس کا ساتھی ہوتا ہے (36-43) اور یہ ان کو راستے سے روکتا رہتا ہے جبکہ وہ سمجھتے ہیں کہ ہم ٹھیک راستے پر ہیں۔ (37-43) وہ لوگ جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے انکے لیے ہم نے انکے اعمال خوش نما بنا دیئے ہیں۔ اسی لیے وہ بھٹکتے پھرتے ہیں۔ (4-27) وہ کہ ضائع ہو گئی جن کی جدوجہد دنیا کی زندگی کے کاموں میں اور وہ سمجھتے رہے کہ وہ اچھے کام کر رہے ہیں۔ (104-18) یہ لوگ جلد حاصل ہو جانے والی دنیا سے محبت کرتے ہیں اور اپنے پیچھے ایک بھاری دن کو نظر انداز کیے دے رہے ہیں۔ (27-76) پھر کیا حال ہوگا اس وقت جب فرشتے انکے مونہوں پر اور پیٹھوں پر مارتے ہوئے انکی جان نکالیں گے؟ (27-47) وہ جن کی فرشتے اس حالت میں جان نکالتے ہیں کہ وہ اپنے نفس پر ظلم کر رہے تھے تو فورا” مطیع و منقاد ہوجاتے ہیں اور انہیں کہتے ہیں کہ ہم کوئی برا کام نہیں کرتے تھے۔ کیوں نہیں یقینا” اللہ کو علم ہے جو عمل تم کیا کرتے تھے۔ (28-16)
اے بنی آدم! جب تمہارے پاس تم میں سے رسول آئیں میری آیات تمہیں پڑہ کر سنائیں تو جو شخص تقویٰ اختیار کرے گا اور اصلاح کرے گا تو ان کے لیے کوئی خوف نہیں ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ (35-7) الله کی قسم ہم نے تم سے پہلی امتوں کی طرف بھی رسول بھیجے تھے لیکن شیطان نے ان کے اعمال ان کو خوشنما بناکر دکھائے سو ان لوگوں کا سرپرست آج بھی وہی ہے اور انکے لیے عَذَابٌ أَلِيمٌ ہے۔ (63-16) یہی وہ لوگ ہیں کہ ان کے لیے آخرت میں سوائے آگ کے کچھ نہیں ہے اور برباد ہوگیا وہ جو انہوں نے اس دنیا میں بنایا تھا اور ضائع ہو گیا وہ سب جو وہ کیا کرتے تھے۔ (16-11) شیطان نے انکو قابو میں کرلیا ہے اور الله کی یاد انکو بھلا دی ہے۔ یہی لوگ حِزْبُ الشَّيْطَانِ ہیں۔ جان لو کہ حِزْبُ الشَّيْطَانِ خسارے میں رہنے والی ہے۔ (19-58) جس دن آسمان پھٹ جائے گا اور ایک بادل نمودار ہوگا اور فرشتے کثرت کے ساتھ نازل کئے جائیں گے۔ (25-25) اس دن بادشاہی حق کے ساتھ رحمٰن کی ہوگی اور وہ دن کافروں پر بہت سخت ہوگا (26-25) اور جس دن ظالم اپنے ہاتھ چبائے گا اور کہے گا کہ کاش میں رسول کے ساتھ راہ پر لگ جاتا۔ (27-25) ہائے میری بدبختی کاش میں نے فلاں شخص کو دوست نہ بنایا ہوتا۔ (28-25) یقینا” اس نے مجھے نصیحت سے بہکا دیا اس کے بعد بھی کہ وہ میرے پاس آگئی تھی اور شیطان انسان کو ذلیل کرنے والا ہے۔ (29-25) اور کہے گا رسول اے میرے رب ! یقینا” میری قوم نے اس قرآن کو نشانہء تضحیک بنا لیا تھا اور اسے چھوڑ رکھا تھا۔ (30-25)
Leave a Reply