Masood InsightMasood Insight

اللہ کی انسانوں کو نصیحت

اللہ کی انسانوں کو نصیحت

مُؤَلِّف : ڈاکٹر مسعود طارق

اے انسانوں ! اپنے رب کی عبادت کرو جس نے تم کو خلق کیا اور ان کو بھی جو تم سے پہلے تھے تاکہ تم تقویٰ اختیار کرسکو۔ (21-2) اے انسانوں ! ہم نے تم کو ایک مرد اور ایک عورت سے خلق کیا پھر ہم نے تمہارے تعارف کے لیے خاندان اور قبیلے بنا دیئے لیکن تم میں سے الله کے نزدیک زیادہ عزت والا وہ ہے جو تم میں سے تقویٰ والا ہے۔ بیشک الله عَلِيمٌ خَبِيرٌ ہے۔ (13-49)

اے انسانوں ! اپنے رب سے تعلق قائم کرو جس نے تم کو واحد نفس سے تخلیق کیا اور اسی میں سے تمہارے جوڑے تخلیق کیے اور اسی میں سے کثرت سے مرد اور عورتیں پھیلا دیے۔ سو تعلق قائم رکھو الله سے جس سے مدد طلب کرتے ھو اور خونی رشتہ داروں سے۔ بیشک الله تم پر ھر وقت نگراں ھے۔ (1-4)

اے انسانوں ! اپنے رب سے تعلق قائم کرو اور اُس دن کا خوف کرو جب نہ کوئی باپ اپنے بیٹے کے کام آئےگا اور نہ اولاد اپنے باپ کے ذرا بھی کام آئے گی۔ بیشک الله کا وعدہ سچا ہے سو دنیا کی زندگی تمہیں دھوکے میں نہ ڈالے اور نہ الله کے بارے میں دھوکہ میں ڈالنے والا تمہیں دھوکے میں ڈالے۔ (33-31)

اے انسانوں ! یقینا” الله کا وعدہ برحق ہے۔ سو نہ تم کو دھوکے میں ڈالے دنیا کی زندگی اور نہ تم کو دھوکے میں ڈالے اللہ کے بارے میں وہ بڑا غرور کرنے والا (5-35) شیطان تمہارا دشمن ہے لہذا تم بھی اسے دشمن ہی سمجھو۔ وہ اپنی جماعت کو بلاتا ہے تاکہ وہ أَصْحَابِ السَّعِيرِ میں شامل ہوجائیں۔ (6-35)

اے انسانوں ! وہ چیزیں کھاؤ جو زمین میں حلال اور طیب ہیں اور شیطان کے قدموں کی پیروی نہ کرو۔ بیشک وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔ (168-2) وہ تو بس تم کو گناہ کا اور فحاشی کا حکم دیتا ہے اور اس بات کا کہ تم الله کے بارے میں وہ باتیں کہو جن کے متعلق تمہیں علم نہیں۔ (169-2)

اے انسانوں ! تمہارے رب کی طرف سے تمہارے پاس روشن دلیل آچکی ہے اور ہم نے تمہاری طرف صاف راہ دکھانے والا نور نازل کیا ہے۔ (174-4) سو وہ لوگ جو الله پر ایمان لائے اور اس کو مضبوطی سے پکڑے رکھا تو ان کو وہ اپنی رحمت اور فضل میں داخل کرے گا اور ان کی صِرَاطًا مُّسْتَقِيمًا کی طرف رہنمائی کرے گا۔ (175-4)

کہو کہ اے انسانوں ! میں تم سب کے لیے الله کا رسول ہوں آسمانوں کی اور زمین کی بادشاہی اسی کی ہے۔ سوائے اس کے کوئی معبود نہیں ہے وہ زندگی بخشتا ہے اور موت دیتا ہے۔ سو الله پر اور اس کے رسول پر اُمی نبی پر ایمان لاؤ جو الله پر اور اس کے کلام پر ایمان رکھتا ہے اور اس کی پیروی کرو تاکہ تم ہدایت پاؤ۔ (158-7)

اے انسانوں ! رسول تمہارے پاس رب کی طرف سے حق لے کر آیا ہے لہذا تم ایمان لے آؤ یہ تمہارے لیے خیر ہے اور اگر تم کفر کرو گے تو جو کچھ آسمانوں میں اور زمین میں ہے سب الله ہی کا ہے اور الله عَلِيمًا حَكِيمًا ہے۔ (170-4)

کہو کہ اے انسانوں ! تمہارے رب کی طرف سے تمہارے پاس حق آچکا ہے سو جو ہدایت حاصل کرتا ہے تو وہ اپنے ہی نفس کے لیے ہدایت پاتا ہے اور جو گمراہ ہوتا ہے تو وہ اس کو گمراہ کرتا ہے اور میں تمہارے لیے کوئی وکیل نہیں ہوں۔ (108-10)

کہو کہ اے انسانوں ! میں تو بس تمہیں واضح طور پر خبردار کرنے والا ہوں۔ (49-22) سو جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے صالح عمل کیے تو ان کے لیے مَّغْفِرَةٌ اور رِزْقٌ كَرِيمٌ ہے (50-22) اور وہ لوگ جو ہماری آیات کو نیچا دکھانے کی کوشش کریں گے وہ أَصْحَابُ الْجَحِيمِ ہیں۔ (51-22)

اے انسانوں ! تمہارے رب کی طرف سے تمہارے پاس عبرت آگئی ہے اور یہ اس کی شفا ہے جو سینوں میں ہے اور مومنوں کے لیے ہدایت اور رحمت ہے۔ (57-10) کہو کہ یہ الله کے فضل اور اس کی رحمت سے ہے سو اس پر ان کو خوش ہونا چاہیے۔ یہ خیر ہے اس سے جو یہ جمع کرتے ہیں۔ (58-10)

کہو کہ اے انسانوں ! اگر تم میرے دین کے بارے میں کسی شک میں ہو تو میں ان کی عبادت نہیں کروں گا جن کی تم الله کے سوا عبادت کرتے ہو بلکہ میں اس الله کی عبادت کروں گا جو تمہیں موت دیتا ہے اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں الْمُؤْمِنِينَ میں سے ہو جاؤں۔ (104-10)

اور یہ کہ اپنے چہرے کو دِّينِ حَنِيفًا کی طرف قائم رکھو اور الْمُشْرِكِينَ میں سے نہ ہوجاؤ۔ (105-10) اور الله کے سوا ان کو نہ پکارو جو نہ تمہیں نفع پہنچا سکتے ہیں اور نہ تمہارا نقصان کرسکتے ہیں۔ اگر تم نے ایسا فعل کیا تو تم الظَّالِمِينَ میں سے ہوجاؤ گے (106-10)

اور اگر الله تم کو کوئی نقصان پہنچائے تو اس کو کوئی دور کرنے والا نہیں ہے مگر وہی اور اگر وہ تمہارے لیے کسی خیر کا ارادہ کرے تو اس کے فضل کو روکنے والا کوئی نہیں ہے۔ وہ اسے اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے پہنچاتا ہے۔ وہ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ ہے۔ (107-10)

اے انسانوں ! تم الله کے لیے الْفُقَرَاء ہو اور الله وہ ہے جو الْغَنِيُّ الْحَمِيدُ ہے۔ (15-35) اگر وہ چاہے تو تم کو لے جائے اور جدید مخلوق لے آئے۔ (16-35) اور ایسا کرنا الله کے لیے مشکل نہیں ہے۔ (17-35) بیشک ہم نے داؤد اور سلیمان کو علم عطا کیا تھا اور انہوں نے کہا کہ الله ہی کے لیے حمد ہے جس نے اپنے بہت سے الْمُؤْمِنِينَ بندوں پر ہمیں فضلیت دی۔ (15-27)

اور داؤد کے وارث سلیمان بنے اور کہا کہ اے انسانوں ! ہمیں پرندوں کی بولیوں کا علم سکھایا گیا ہے اور ہمیں ہر طرح کی چیزیں عطا کی گئی ہیں۔ بیشک یہ الْفَضْلُ الْمُبِينُ ہے۔ (16-27) اور سلیمان کے لیے جنوں اور انسانوں اور پرندوں میں سے اس کے تمام لشکر جمع کیے گئے پھر ان کی درجہ بندی کی گئی۔ (17-27)

حتیٰ کہ جب وہ چیونٹیوں کی وادی میں پہنچے تو ایک چیونٹی نے کہا کہ اے چیونٹیو ! اپنے اپنے مسٰاکن میں داخل ہو جاؤ کہیں ایسا نہ ہو کہ سلیمان اور اس کے لشکر تمہیں کچل ڈالیں اور انہیں محسوس بھی نہ ہو۔ (18-27)

تو وہ اس کی بات سن کر مسکراتے ہوئے ہنس پڑے اور کہنے لگے کہ اے میرے رب! مجھے توفیق عطا فرما کہ میں تیری نعمتوں کا شکر ادا کرتا رہوں ان نعمتوں کا جو تونے مجھ پر اور میرے والدین پر کی ہیں اور میں ایسے صالح عمل کروں کہ تو ان سے خوش ہوجائے اور تو مجھے اپنی رحمت سے اپنے الصَّالِحِينَ بندوں میں داخل فرما۔ (19-27)

اے انسانوں ! الله کی نعمتوں کو یاد رکھو جو تم پر ہیں۔ کیا الله کے سوا کوئی اور خالق ہے جو تم کو آسمان سے اور زمین سے رزق دیتا ہو؟ سوائے اس کے کوئی معبود نہیں ہے۔ پھر تم کہاں بہکے پھرتے ہو؟ (3-35)

اے انسانوں ! ایک مثال بیان کی جاتی ہے اسے غور سے سنو۔ وہ لوگ جن کو تم الله کے سوا پکارتے ہو وہ ایک مکھی بھی تخلیق نہیں کرسکتے اگرچہ اس کے لیے وہ سب جمع ہوجائیں اور اگر مکھی ان سے کوئی چیز چھین لے جائے تو اس کو اس سے چھڑا نہیں سکتے۔ طالب اور مطلوب کمزور ہیں۔ (73-22) ان لوگوں نے الله کی قدر نہیں کی جیسا کہ اس کی قدر کرنے کا حق ہے۔ بیشک الله ہی قَوِيٌّ عَزِيزٌ ہے۔ (74-22)

وہی تو ہے جو تم کو خشکی میں اور سمندر میں سیر کرواتا ہے۔ یہاں تک کہ جب تم کشتیوں میں ہوتے ہو اور وہ اس کو موافق ہواؤں کی مدد سے لے کر چلنے لگتی ہیں اور تم اس پر خوش ہوجاتے ہو تو مخالف ہوا اس پر آجاتی ہے اور ہر طرف سے موجیں اس پر آنے لگتی ہیں اور تم گمان کرتے ہو کہ وہ اس کو گھیر لیں گی تو اس کے دین سے مخلص ہوکر الله سے دعا مانگنے لگتے ہو کہ اگر اس سے تو نے ہم کو نجات دے دی تو ہم الشَّاكِرِينَ میں سے ہوجائیں گے۔ (22-10)

پھر جب وہ انہیں نجات دے دیتا ہے تو وہ زمین میں حق کے بغیر بغاوت کرنے لگتے ہیں۔ اے انسانوں ! حقیقت یہ ہے کہ تمہاری بغاوت تمہارے اپنے ہی نفس پر ہے۔ تم دنیا کی زندگی کے مزے لے لو پھر تم کو لوٹ کر ہمارے پاس آنا ہے پھر ہم تمہیں بتائیں گے جو عمل تم کر رہے ہو۔ (23-10)

اے انسانوں ! اپنے رب سے ڈرو کہ قیامت کا زلزلہ بڑی عظیم چیز ہوگا۔ (1-22) جس دن تم دیکھو گے کہ تمام دودھ پلانے والی عورتیں اپنے دودھ پیتے بچوں کو بھول جائیں گی اور تمام حاملہ اپنے حمل گرا دیں گی اور انسان تم کو مدہوش دکھائی دیں گے حالانکہ وہ مدہوش نہیں ہوں گے بلکہ الله کا شدید عذاب ہوگا۔ (2-22)

اے انسانوں ! اگر تم کو مرنے کے بعد جی اُٹھنے میں شک ہے تو ہم نے ہی تم کو خلق کیا مٹی سے پھر نطفہ سے پھر خون کے لوتھڑے سے پھر بوٹی سے جو شکل والی بھی ہوتی ہے اور بے شکل بھی ہوتی ہے تم کو ظاہر کرنے کے لیے اور ہم جس کو چاہیں ایک مقررہ مدت تک رحموں میں ٹھہراتے ہیں پھر بچہ بنا کر تم کو نکالتے ہیں پھر تم جوانی کو پہنچتے ہو اور تم میں سے بعض مرجاتے ہیں اور تم میں سے بعض بدترین عمر کی طرف لوٹائے جاتے ہیں لہٰذا انہیں چیزوں کے علم کے بعد بھی علم نہیں رہتا اور تم دیکھتے ہو زمین کو کہ سوکھی پڑی ہے پھر جب ہم اس پر پانی برساتے ہیں تو شاداب ہوجاتی اور پھولنے لگتی ہے اور ہر قسم کی بارونق چیزیں اُگاتی ہے۔ (5-22)

یہ سب اس وجہ سے ہے کہ الله ہی حق ہے اور وہ مردوں کو زندہ کردیتا ہے اور وہ ہر چیز پر قَدِيرٌ ہے۔ (6-22) اور یہ کہ قیامت آنے والی ہے اس میں کچھ شک نہیں اور یہ کہ الله ضرور اٹھائے گا انہیں جو قبروں میں جاچکے ہیں۔ (7-22)

الله ہی کے پاس قیامت کا علم ہے اور وہی بارش برساتا ہے اور اسی کو علم ہے کہ رحموں میں کیا ہے اور کوئی نفس نہیں جانتا کہ وہ کل کیا کسب کرے گا اور کوئی نفس نہیں جانتا کہ کس سرزمین میں اُسے موت آئے گی۔ بیشک الله ہی عَلِيمٌ خَبِيرٌ ہے۔ (34-31)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *