Masood InsightMasood Insight

اللہ کی اہل الکتاب کو نصیحت

اللہ کی اہل الکتاب کو نصیحت

مُؤَلِّف : ڈاکٹر مسعود طارق

اے اہلِ کتاب ! بیشک تمہارے پاس ہمارا رسول آگیا ہے جو تمہارے لیے اس میں سے بہت کچھ بیان کرتا ہے جو تم کتاب میں سے چھپاتے تھے اور بہت سی باتوں سے درگزر کرتا ہے۔ بیشک تمہارے پاس الله کی طرف سے نور اور كِتَابٌ مُّبِينٌ آگئی ہے۔ (15-5) اس کے ذریعے سے الله اس کو ہدایت دیتا ہے جو سلامتی کی راہوں کے لیے اس کی رضا کی پیروی کرتا ہے اور ان کو اپنی اجازت سے ظلمات سے نور کی طرف نکالتا ہے اور ان کو صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ کی طرف ہدایت دیتا ہے۔ (16-5)

اے اہلِ کتاب ! تم حق کو باطل کے ساتھ گڈ مڈ کیوں کرتے ہو اور تم حق کو چھپاتے ہو جبکہ تم کو علم بھی ہے۔ (71-3) کہو کہ اے اہلِ کتاب ! تم الله کی آیات سے کفر کیوں کرتے ہو؟ جبکہ اللہ اس کو دیکھ رہا ہے جو عمل تم کر رہے ہو۔ (98-3)

اے اہلِ کتاب ! بیشک رسولوں میں سے ایک مدت کے بعد تمہارے پاس ہمارا رسول آگیا ہے جو تمہارے لیے بیان کرتا ہے تاکہ تم یہ نہ کہو کہ ہمارے پاس کوئی بشارت دینے والا یا متنبہ کرنے والا نہیں آیا سو تمہارے پاس بشارت دینے والا اور متنبہ کرنے والا آگیا ہے اور الله ہر چیز پر قَدِيرٌ ہے۔ (19-5)

کہو کہ اے اہلِ کتاب ! تم ہم میں کیا خرابی دیکھتے ہو سوائے اس کے کہ ہم ایمان لائے الله پر اور اس پر جو ہماری طرف نازل ہوا اور اس پر جو پہلے نازل ہوا اور تم میں اکثر فاسق ہیں۔ (59-5)

کہو کہ اے اہلِ کتاب ! تم اس کو الله کی راہ سے کیوں روکتے ہو جو ایمان لاتا ہے؟ اس میں کجی نکالتے ہو حالانکہ تم خود گواہ ہو اور الله اس سے غافل نہیں ہے جو عمل تم کر رہے ہو۔ (99-3)

اے اہلِ کتاب ! تم الله کی آیات سے کفر کیوں کرتے ہو جبکہ تم خود گواہ ہو۔ (70-3)

کہو کہ اے اہلِ کتاب ! تم کسی راہ پر نہیں ہو جب تک کہ تم قائم نہ کرو تورات اور انجیل کو اور جو تم پر تمہارے رب کی طرف سے نازل کیا گیا ہے اور وہ ان میں سے اکثر لوگوں کے لیے سرکشی اور کفر میں اضافہ کرے گا جو تم پر تمہارے رب کی طرف سے نازل کیا گیا ہے سو تم الْقَوْمِ الْكَافِرِينَ پر افسوس نہ کرو۔ (68-5)

وہ لوگ جو ایمان لائے اور وہ لوگ جو یہودی ہیں اور صابی ہیں اور عیسائی ہیں ان میں سے جو بھی اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان لائے اور انہوں نے صالح عمل کیے تو ان کے لیے کوئی خوف نہیں ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ (69-5)

اے اہلِ کتاب ! اپنے دین کے بارے میں مبالغہ نہ کرو اور الله کے بارے میں حق کے سوا کچھ نہ کہو۔ حقیقت یہ ہے کہ مسیح عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ الله کا رسول اور اس کا کلمہ تھا جو اس نے مریم کی طرف بھیجا تھا اور اس کی طرف سے روح تھی سو الله پر اوراس کے رسول پر ایمان لاؤ اور نہ کہو کہ تین ہیں۔ تم باز آجاؤ اس میں تمہارے لیے خیر ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ الله ہی واحد معبود ہے۔ وہ اس سے پاک ہے کہ اس کے اولاد ہو۔ اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اور کافی ہے الله کا وکیل ہونا۔ (171-4)

مسیح کے لیے یہ بات ہرگز باعثِ عار نہیں کہ وہ الله کا بندہ ہو اور نہ مقرب فرشتوں کے لیے اور جس نے الله کی عبادت کرنے کو باعثِ عار سمجھا اور تکبر کیا تو ان سب کو اپنے پاس اکٹھا کرے گا۔ (172-4)

سو وہ لوگ جو ایمان لائے اور صالح عمل کرتے رہے تو ان کو ان کے پورے اجر دے گا اور اپنے فضل سے ان کو مزید دے گا لیکن وہ لوگ جنہوں نے باعثِ عار سمجھا اور تکبر کیا تو ان کو عَذَابًا أَلُيمًا والا عذاب دے گا اور وہ اپنے لیے الله کے سوا کوئی سرپرست نہ پائیں گے اور نہ کوئی مددگار۔ (173-4)

کہو کہ اے اہلِ کتاب ! اپنے دین میں ناحق مبالغہ نہ کرو اور ان لوگوں کے نفس کی خواہشات کی پیروی نہ کرو جو تم سے پہلے خود بھی گمراہ ہوئے اور بہت سوں کو گمراہ کرگئے اَور سیدھی راہ سے بھٹک گئے۔ (77-5)

اے اہلِ کتاب ! تم ابراہیم کے بارے میں کیوں حجت بازی کرتے ہو جبکہ تورات اور انجیل تو ان کے بعد نازل ہوئی ہیں۔ کیا تم عقل نہیں رکھتے؟ (65-3)

تم وہ ہو جو حجت بازی کرتے رہتے ہو ان باتوں کے بارے میں جن کا تمہیں کچھ علم تھا لیکن کیوں حجت بازی کرتے ہو ان باتوں کے بارے میں جن کا تمہیں کچھ علم نہیں ہے جبکہ الله کو علم ہے اور تم کو علم نہیں ہے۔ (66-3)

ابراہیم نہ یہودی تھا اور نہ عیسائی تھا بلکہ وہ حَنِيفًا مُّسْلِمًا تھا اور وہ الْمُشْرِكِينَ میں سے نہ تھا۔ (67-3) انسانوں میں سے ابراہیم کے سب سے زیادہ قریب تو وہ لوگ ہیں جو ان کی پیروی کرتے ہیں اور یہ نبی اور وہ لوگ جو ایمان لائے اور الله الْمُؤْمِنِينَ کا ساتھی ہے۔ (68-3)

کہو کہ اے اہل کتاب ! ایک ایسی بات کی طرف آؤ جو ہمارے درمیان اور تمہارے درمیان یکساں ہے کہ ہم الله کے سوا کسی کی عبادت نہیں کریں گے اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہیں بنائیں گے اور ہم میں سے کوئی الله کے سوا کسی کو اپنا رب نہ بنائے پھر اگر وہ منہ موڑیں تو کہو کہ تم گواہ رہو کہ ہم مُسْلِمُونَ ہیں۔ (64-3)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *