Masood InsightMasood Insight

اللہ کی ایمان لانے والوں کو نصیحت

اللہ کی ایمان لانے والوں کو نصیحت

مُؤَلِّف : ڈاکٹر مسعود طارق

ایمان کے بارے میں نصیحت

اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! ایمان لاؤ الله پر اور اس کے رسول پر اور اس کتاب پر جو اس نے اپنے رسول پر نازل کی ہے اور اس کتاب پر جو اس سے پہلے نازل کی اور جس نے انکار کیا الله کا اور اس کے فرشتوں کا اور اس کی کتابوں کا اور اس کے رسولوں کا اور آخرت کے دن کا تو وہ بھٹک کر گمراہی میں بہت دور نکل گیا۔ (136-4)

دین پر عمل کرنے کی نصیحت

اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! رکوع کرو اور سجدہ کرو اور اپنے رب کی عبادت کرو اور خَيْر والے فعل کرو تاکہ فلاح پاؤ (77-22) اور الله کی راہ میں جدوجہد کرو جیسی جدوجہد کرنے کا حق ہے۔ اس نے تم کو چن لیا ہے اور اس نے تم پر دین میں کوئی تنگی نہیں رکھی۔ تمہارے باپ ابراہیم کی ملت جس میں تمہارا نام مسلمان رکھا ہے پہلے بھی اور اس میں بھی تاکہ رسول تم پر گواہ بنے اور تم انسانوں پر گواہ بنو۔ سوصلاۃ قائم کرو اور زکوٰۃ دو اور الله کے ساتھ وابستہ ہوجاؤ۔ وہی تمہارا مولا ہے۔ سو کیا ہی اچھا مولا ہے اور کیا ہی اچھا مددگار ہے۔ (78-22)

دین سے نہ پھرنے کی نصیحت

اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! تم میں سے کوئی اپنے دین سے پھرے گا تو پھر ان کی جگہ الله ایسے لوگوں کو لائے گا جو الله کو محبوب ہونگے اور انہیں الله سے محبت ہوگی۔ وہ الْمُؤْمِنِين کے ساتھ نرمی اور الْكَافِرِين کے ساتھ سختی سے پیش آئیں گے۔ وہ الله کی راہ میں جدوجہد کریں گے اور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کا خوف نہیں کریں گے۔ یہ الله کا فضل ہے وہ جسے چاہتا ہے دیتا ہے اور الله وَاسِعٌ عَلِيم ہے۔ (54-5)

اسلام میں پورے پورے داخل ہونے کی نصیحت

اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! اسلام میں پورے پورے داخل ہوجاؤ اور شیطان کے قدموں کے نشانوں کی پیروی نہ کرو۔ بیشک وہ تو تمہارا کھلا دشمن ہے۔ (208-2)

شیطان سے بچنے کی نصیحت

اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! شیطان کے قدموں کے نشانوں کی پیروی نہ کرو اور جو شیطان کے قدموں کے نشانوں کی پیروی کرے گا تو وہ فحاشی کا اور منع کیے گئے کاموں کا حکم دے گا اور اگر تم پر الله کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو تم میں سے کوئی ایک کبھی بھی پاک نہ ہوسکتا۔ مگر الله جس کو چاہتا ہے پاک کردیتا ہے اور الله سَمِيعٌ عَلِيم ہے۔ (21-24)

شراب ‘ جوا ‘ بت اور پانسے سے بچنے کی نصیحت

اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! شراب اور جوا اور بت اور پانسے شیطان کے عمل میں سے رِجْس ہیں سو ان سے بچتے رہو تاکہ تم فلاح پاؤ۔ (90-5)

ہدایت پر رہنے کی نصیحت

اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! تم ہدایت پر ہو تو تم کو اور تمہارے نفس کو کسی گمراہ سے نقصان نہیں ہو سکتا تم سب کو الله کی طرف لوٹ کر جانا ہے پھر وہ تم کو بتلائے گا جو عمل تم کرتے رہے۔ (105-5)

مال اور اولاد کی وجہ سے الله کے ذکر سے غافل نہ ہونے کی نصیحت

اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! تمہارا مال اور تمہاری اولاد تمہیں الله کے ذکر سے غافل نہ کردے اور جو ایسا فعل کرے گا تو ایسے لوگ خسارے میں رہنے والے ہیں ۔(9-63) حقیقت یہ ہے کہ تمہارا مال اور تمہاری اولاد تو آزمائش ہے اور الله کے پاس اجرِ عظیم ہے۔ (15-64)

اپنے نفس کو اور اپنے اہل و عیال کوآگ سے بچانے کی نصیحت

اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! اپنے نفس کو اور اپنے اہل و عیال کو اس آگ سے بچاؤ جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہیں اور اس پر تند خو اور سخت مزاج فرشتے ہیں جو اس حکم کے بجا لانے میں الله کی نافرمانی نہیں کرتے جو وہ انہیں دے اور وہ وہی فعل کرتے ہیں جس کا انہیں حکم دیا جاتا ہے۔ (6-66)

بیویوں اور اولاد کے بارے میں نصیحت

اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! تمہاری بیویوں اور اولاد میں سے بعض تمہارے دشمن ہیں سو تم ان سے خبردار رہو اور اگر معاف کردو اور درگزر کرو اور بخش دو تو بلاشبہ الله غَفُورٌ رَّحِيم ہے۔ (14-64)

صبر کرنے کی نصیحت

اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! صبر اورصلاۃ سے مدد حاصل کرو۔ بےشک الله الصَّابِرِين کے ساتھ ہے۔ (153-2) اور جو لوگ الله کی راہ میں قتل ہوجائیں ان کو مردہ نہ کہو بلکہ وہ تو زندہ ہیں لیکن تمہیں شعور نہیں ہے۔ (154-2) اور تم کو ہم ضرور آزمائیں گے کسی قدر خوف سے اور بھوک سے اور مال کے نقصان سے اور نفس کی خواہشوں کے پوارا نہ ہونے سے اور آمدنی کی کمی سے اور صبر کرنے والوں کو خوشخبری دو۔ (155-2) اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! صبر کرو اور صبر پر قائم رہو اور آپس میں رابطہ رکھو اور الله سے ڈرتے رہو تاکہ تم کامیابی حاصل کرسکو۔ (200-3)

ہمیشہ سچی بات کرنے کی نصیحت

اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! الله سے ڈرو اور ہمیشہ سچی بات کہا کرو۔ (70-33) وہ تمہارے لیے تمہارے اعمال درست کردے گا اور تمہارے گناہ تم کو معاف کردے گا اور جس نے الله کی اور اس کے رسول کی اطاعت کی تو بلاشبہ اس نے بڑی عظیم کامیابی حاصل کی۔ (71-33)

اپنے فعل کے مطابق بات کرنے کی نصیحت

اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! تم نہ کہا کرو جو فعل تم کرتے نہیں ہو۔ (2-61) الله کے نزدیک یہ بات بڑی ناپسندیدہ ہے کہ تم وہ کہو جو فعل تم کرتے نہیں ہو۔ (3-61)

کچھ چیزوں کے بارے میں نہ پوچھنے کی نصیحت

اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! ایسی چیزوں کے بارے میں نہ پوچھو کہ اگر تم پر ظاہر کر دی جائیں تو تمہیں بری لگیں اور اگر تم یہ ایسے وقت پوچھو گے کہ قرآن نازل ہو رہا ہو تو تم پر ظاہر کر دی جائیں گی۔ الله نے ان سے درگزر کیا اور الله غَفُورٌ حَلِيم ہے۔ (101-5) تم سے پہلے بھی کچھ لوگوں نے ایسا ہی پوچھا تھا پھر وہ اس ہی کی وجہ سے کافر ہو گئے۔ (102-5)

گمان ‘ تجسس اور غیبت نہ کرنے کی نصیحت

اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! تم زیادہ گمان کرنے سے اجتناب کیا کرو کہ بعض گمان گناہ ہیں اور نہ تجسس کیا کرو اور نہ ایک دوسرے کی غیبت کیا کرو۔ کیا تم میں سے کوئی پسند کرے گا کہ وہ اپنے مرے ہوئے بھائی کا گوشت کھائے؟ اس سے تو تمہیں کراہت آئے گی۔ سو الله سے ڈرو۔ بےشک الله تَوَّابٌ رَّحِيم ہے۔ (12-49)

روزے کے بارے میں نصیحت

اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! تم پر روزے لکھ دیے گئے ہیں جیسے ان لوگوں پر لکھ دیے گئے تھے جو تم سے پہلے تھے تاکہ تم تقویٰ اختیار کرو۔ (183-2) گنتی کے چند دن ہیں۔ پھر اگر تم میں سے کوئی بیمار ہو یا سفر میں ہو تو دوسرے دنوں میں تعداد پوری کرلے اور ان لوگوں پر مسکین کو کھانا کھلانا فدیہ ہے جو اس کی طاقت رکھتے ہوں۔ پھر جو اپنی خوشی سے کوئی خَيْر کرے تو یہ اسی کے لیے خَيْر ہے۔ سو تم روزے رکھو تم کو معلوم ہونا چاہیے یہ تمہارے لیے خَيْر ہے۔ (184-2)

جمعے کی صلاۃ کے بارے میں نصیحت

اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! جب جمعے کے دن کی صلاۃ کے لیے اذان دی جائے تو الله کی یاد کی طرف چل پڑو اور خرید و فروخت چھوڑ دو۔ یہ تمہارے لیے خَيْر والا کام ہے اس کا تم کو علم ہونا چاہیے۔ (9-62) پھر جب صلاۃ ہوچکے تو زمین میں منتشر ہوجاؤ اور الله کا فضل تلاش کرو اور الله کو کثرت سے یاد کرتے رہو تاکہ تمہیں فلاح حاصل ہوسکے۔ (10-62)

نشے اور جنابت کی حالت میں صلاۃ کے بارے میں نصیحت

اے لوگو جو ایمان لائے ہو !صلاۃ کے قریب نہ جاؤ جب تم نشے میں ہو حتیٰ کہ تمہیں معلوم ہو کہ تم کیا کہہ رہے ہو اور نہ جب تم سفر میں جنابت کی حالت میں ہو حتیٰ کہ غسل کرلو اور اگر تم بیمار ہو یا سفر میں ہو یا تم میں سے کوئی رفع حاجت سے ہو کر آیا ہو یا تم نے عورتوں سے ہم بستری کی ہو اور تم کو پانی نہ ملے تو طیب مٹی سے تیمم کرلو سو اپنے چہرے کا اور ہاتھوں کا مسح کرو۔ بےشک الله عَفُوًّا غَفُور ہے۔ (43-4)

وضو اور غسل کے بارے میں نصیحت

اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! جب تم صلاۃ کے لیے کھڑے ہو تو اپنے چہرے اور اپنے ہاتھ کہنیوں تک دھو لو اور سر کا مسح کرلو اور اپنے پاؤں ٹخنوں تک اور اگر تم جنابت میں ہو تو طہارت کرلو اور اگر تم بیمار ہو یا سفر میں ہو یا تم میں سے کوئی رفع حاجت سے ہو کر آیا ہو یا تم نے عورتوں سے ہم بستری کی ہو اور تم کو پانی نہ ملے تو طیب مٹی سے تیمم کرلو سو اپنے چہرے کا اور ہاتھوں کا اس سے مسح کرو۔ الله کا ارادہ نہیں ہے کہ تم کو کسی مشکل میں مبتلا کرے بلکہ ارادہ ہے کہ تم کو پاک کرے اور تم پر اپنی نعمتیں پوری کرے تاکہ تم شکر ادا کرو۔ (6-5)

مجلس میں بیٹھنے کے بارے نصیحت

اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! تم سے جب کہا جائے کہ مجلس میں راستہ بناؤ تو پھر راستہ بنایا کرو۔ الله تمہارے لیے راستہ بنائے گا اور جب کہا جائے کہ اُٹھ جاؤ تو اُٹھ جایا کرو۔ اللہ درجوں کے اعتبار سے بلند کرتا ہے ان لوگوں کو جو تم میں سے ایمان لائے ہیں اور ان کو جنہیں علم عطا کیا گیا ہے اور الله تمہارے عملوں سے باخبر ہے۔ (11-58)

رسول سے علیحدگی میں بات کرنے سے پہلے صدقہ پیش کرنے کی نصیحت

اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! تم جب رسول سے علیحدگی میں بات کرنا چاہو تو تم علیحدگی میں بات کرنے سے پہلے صدقہ پیش کرو۔ یہ تمہارے لیے خَيْر والا کام اور پاکیزگی کی بات ہے۔ پھر اگر تم نہ پاؤ تو بے شک الله غَفُورٌ رَّحِيم ہے۔ (12-58) کیا تم اس بات سے ڈر گئے کہ تم علیحدگی میں بات کرنے سے پہلے صدقہ پیش کرو؟ پھر جب تم یہ فعل نہ کرسکو اور الله نے بھی تم کو معاف کردیا توصلاۃ قائم کرو اور زکوٰۃ دو اور الله کی اور اس کے رسول کی اطاعت کرو اور الله کو خبر ہے جو عمل تم کرتے ہو۔ (13-58)

نبی کے بارے میں نصیحت

الله اور اس کے فرشتے نبی پر درود بھیجتے ہیں۔ اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! ان پر دُرود بھیجو اور سلام بھیجا کرو۔ (56-33) اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! اپنی آوازیں نبی کی آواز کے اوپر بلند نہ کرو اور نہ اپنی آواز اس کے سامنے اونچی کرو جیسے اونچی آواز میں تم ایک دوسرے سے بات کرتے وقت بولتے ہو کہیں ایسا نہ ہو کہ تمہارے اعمال غارت ہوجائیں اور تمہیں شعور بھی نہ ہو۔ (2-49) وہ لوگ جو اپنی آواز الله کے رسول کے سامنے پست رکھتے ہیں یہی لوگ ہیں جن کے دلوں کو اللہ نے تقویٰ کے لیے جانچ لیا ہے۔ ان کے لیے مغفرت ہے اور عظیم اجر ہے۔ (3-49) اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! نبی کے گھروں میں داخل نہ ہوا کرو سوائے اس کے کہ تم کو کھانے پر بلایا جائے اور اس وقت کو تاکتے نہ رہا کرو لیکن جب تمہاری دعوت کی جائے تو داخل ہو جاؤ پھر جب کھانا کھا چکو تو منتشر ہوجاؤ اور باتیں کرنے کے لیے بیٹھے نہ رہا کرو۔ تمہاری یہ بات نبی کو تکلیف دیتی ہے مگر وہ تم سے شرم کرتے ہیں لیکن الله حق بات کے کہنے سے شرم نہیں کرتا اور جب تمہیں نبی کی بیویوں سے کوئی سامان مانگنا ہو تو ان سے پردے کے پیچھے سے مانگو۔ یہ طریقہ تمہارے دلوں کے لیے اور ان کے دلوں کے لیے پاکیزہ ہے۔ تمہارے لیے مناسب نہیں کہ الله کے رسول کو تکلیف دو اور نہ یہ کہ ان کی بیویوں سے ان کے بعد کبھی نکاح کرو۔ بےشک ایسا کرنا الله کے نزدیک بہت بڑا گناہ ہے۔ (53-33)

غیروں کو رازدار نہ بنانے کی نصیحت

اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! اپنوں کے سوا کسی کو رازدار نہ بناؤ وہ تمہیں نقصان پہنچانے میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھیں گے وہ ہر اس بات کی جستجو کرتے ہیں جو تمہیں مصیبت میں مبتلا کرے۔ بغض ان کے مونہوں سے پھوٹا پڑتا ہے اور جو کچھ ان کے سینے چھپائے ہوئے ہیں وہ اس سے کہیں بڑھ کر ہے۔ اگر تم عقل رکھتے ہو تو ہم نے تمہارے لیے نشانیاں کھول کھول کر بیان کردی ہیں۔ (118-3)

صادق لوگوں کا ساتھ دینے کی نصیحت

اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! الله سے ڈرتے رہو اور صادق لوگوں کا ساتھ دو۔(119-9)

خبر کی تحقیق کرنے کی نصیحت

اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! اگر تمہارے پاس کوئی فاسق کوئی خبر لے کر آئے تو تحقیق کر لیا کرو ایسا نہ ہو کہ تم اپنی جہالت سے کسی گروہ کو نقصان پہنچا بیٹھو اور تمہیں اپنے کیے عمل پر نادم ہونا پڑے۔ (6-49)

کسی کو مومن نہ ہونے کا کہنے سے پہلے تحقیق کرنے کی نصیحت

اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! جب تم الله کی راہ میں کچھ کرنے نکلو تو تحقیق کرلیا کرو اور جو تم کو سلام کرے تو اس کو نہ کہو کہ تم مومن نہیں ہو۔ تم دنیا کی زندگی کا سامان چاہتے ہو تو اللہ کے پاس بہت سے غنیمتیں ہیں۔ اس سے پہلے تم بھی ایسے ہی تھے پھر الله نے تم پر احسان کیا سو تحقیق کرلیا کرو۔ بے شک جو عمل تم کرتے ہو اللہ ان سے باخبر ہے۔ (94-4)

تمسخر نہ کرنے ‘ عیب نہ لگانے ‘ برے القاب سے یاد نہ کرنے کی نصیحت

اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! کوئی قوم کسی قوم سے تمسخر نہ کرے کہ ممکن ہے وہ ان سے زیادہ خَيْر والی ہو اور نہ عورتیں عورتوں سے کہ ممکن ہے وہ ان سے زیادہ خَيْر والی ہوں اور اپنے نفسوں پر عیب نہ لگاؤ اور ایک دوسرے کو برے القاب سے یاد نہ کرو۔ ایمان لانے کے بعد برا نام رکھنا فسق ہے اور جو توبہ نہ کریں تو وہ ظلم کرنے والے لوگ ہیں۔ (11-49)

اذیت نہ دینے کی نصیحت

اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! تم ان لوگوں جیسے نہ ہوجانا جنہوں نے موسیٰ کو اذیتیں دی تھیں سو الله نے موسیٰ کو اس سے بری کردیا جو انہوں نے کہا تھا۔ وہ الله کے نزدیک بڑی آبرو والے تھے۔ (69-33)

اہلِ کتاب کے بارے میں نصیحت

اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! اگر تم ان میں سے بعض لوگوں کا کہا مانو گے جنہیں کتاب دی گئی ہے تو وہ تم کو بعد تمہارے ایمان لانے کے کافر بنا کر پھیر دیں گے۔ (100-3)

کافروں کے بارے میں نصیحت

اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! اگر تم ان لوگوں کا کہا مانو گے جنہوں نے کفر کیا تو وہ تم کو الٹے پاؤں پھیر لے جائیں گے سو تم خسارہ اٹھانے والے ہوجاؤ گے۔ (149-3) بلکہ الله ہی ہے جو تمہارا مولا ہے اور وہی خَيْر والی مدد کرنے والا ہے۔ (150-3) اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! تم ان کی طرح نہ ہوجانا جو کافر ہیں اور اپنے بھائیوں کے بارے میں کہتے ہیں جب وہ کسی زمیں میں سفر کرتے ہیں یا جنگ کے لیے نکلتے ہیں کہ اگر وہ ہمارے پاس ہوتے تو نہ مرتے یا نہ قتل کیے جاتے کہ اللہ نے اس کو ان کے دلوں میں حسرت بنا دیا ہے۔جبکہ اللہ ہی زندہ رکھتا ہے اور موت دیتا ہے اور اللہ دیکھ رہا ہے جو عمل تم کرتے ہو۔ (156-3) اور اگر تم الله کی راہ میں قتل کیے جاؤ یا مرجاؤ تو جو مغفرت اور اس کی رحمت الله کی طرف سے ہوگی وہ خَيْر والی ہے اس چیز سے جو تم جمع کرتے ہو۔ (157-3) اور اگر تم مرجاؤ یا قتل کیے جاؤ بہرحال تم الله ہی کے سامنے پیش کیے جاؤ گے۔ (158-3)

الله کے غضب والے لوگوں کی خدمت نہ کرنے کی نصیحت

اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! ان لوگوں کی خدمت نہ کرو جن پر الله کا غضب ہے اس لیے وہ آخرت سے مایوس ہوگئے ہیں جیسے أَصْحَابِ الْقُبُور میں سے کافر مایوس ہوچکے ہیں۔ (13-60)

حلال کھانے کی نصیحت

اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! اس میں سے کھاؤ جو طیّب رزق ہم نے تم کو دیا ہے اور الله کا شکر ادا کرو اگر تم اسی کی عبادت کرنے والے ہو۔ (172-2) اس نے تم پر مُردار اور خون اور سور کا گوشت اور جس چیز پر الله کے سوا کسی اور کا نام پکارا جائے حرام کردیا ہے پھر جو مجبور ہوجائے جبکہ وہ باغی بھی نہ ہو اور حد سے بڑھنے والا بھی نہ ہو تو اس پر کچھ گناہ نہیں اور بیشک الله غَفُورٌ رَّحِيمہے۔ (173-2) اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! جو طیب چیزیں الله نے تمہارے لیے حلال کی ہیں ان کو حرام نہ ٹھہراؤ اور حد سے نہ بڑھو کہ الله حد سے بڑھنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔(87-5) اور اس میں سے کھاؤ جو حلال طیّب رزق الله نے تم کو دیا ہے اور الله سے ڈرتے رہو جس پر تم ایمان رکھتے ہو۔ (88-5)

عہد و پیماں پورے کرنے کی نصیحت

اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! اپنے عہد و پیماں پورے کرو۔ تمہارے لیے مویشیوں میں سے حلال کیے گئے ہیں سوائے ان کے جو تم کو پڑھ کر سنائے جاتے ہیں مگر جب تم احرام میں ہو تو شکار کو حلال نہ سمجھو۔ بے شک الله تم کو حکم دیتا ہے جو اس کا ارادہ ہو۔(1-5)

زیادتی نہ کرنے کی نصیحت

اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! الله تم کو شکار کی کسی چیز سے ضرور آزمائے گا جو زد میں ہو تمہارے ہاتھوں کے اور تمہارے نیزوں کے تاکہ اللہ معلوم کرے کہ کون اس سے غائبانہ ڈرتا ہے سو جس نے اس کے بعد زیادتی کی تو اس کے لیے عَذَابٌ أَلِيم ہے۔ (94-5)

نیکی کے کام کرنے کی نصیحت

اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! جب تم آپس میں مشورے کرنے لگو تو گناہ اور زیادتی اور رسول کی نافرمانی کی باتیں نہ کرنا بلکہ نیکی اور تقویٰ کی باتوں کے مشورے کرو اور الله سے ڈرو جس کے سامنے حشر میں پیش کیے جاؤ گے۔ (9-58) اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! الله کی نشانیوں کی بےحرمتی نہ کرنا اور نہ حرمت والے مہینے کی اور نہ قربانی کے جانوروں کی اور نہ ان جانوروں کی جن کے گلوں میں پٹے بندھے ہوں اور نہ ان کی جو اپنے رب کا فضل اور اس کی خوشنودی تلاش کرتے ہوئے بیتُ الحرم کی طرف جارہے ہوں اور جب تم احرام اتار دو تو شکار کرسکتے ہو اور تم کو کسی قوم کی دشمنی آمادہ نہ کرے کہ انہوں نے تم کو مسجدِ حرام کی طرف جانے سے روکا تھا سو تم ان پر زیادتی کرنے لگو اور نیکی کے کاموں میں اور تقویٰ میں ایک دوسرے کی مدد کیا کرو اور گناہ کے کاموں میں اور جارحیت میں ایک دوسرے کی مدد نہ کیا کرو اور الله سے ڈرتے رہو۔ بے شک الله شَدِيدُ الْعِقَاب ہے۔ (2-5)

احرام میں شکار نہ مارنے کی نصیحت

اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! جب تم احرام میں ہو تو شکار نہ مارو اور جو کوئی تم میں سے جان بوجھ کر مارے گا تو اس کا بدلہ جو اس نے مارا اسی طرح کا مویشیوں میں سے ہے جس کا فیصلہ تم میں دو منصف کریں گے جو ہدیہ کے طور پر خانہ کعبہ تک پہنچایا جائے گا یا کفارہ ہے کہ مسکینوں کو کھانا کھلائے یا ان کے برابر روزے رکھے تاکہ اپنے کیے کی سزا چکھے۔ وہ الله نے معاف کر دیا جو پہلے سلفا سے ہو چکا اور جو کوئی دوبارہ کرے گا تو الله اس سے انتقام لے گا اور الله عَزِيزٌ ذُو انْتِقَام ہے۔ (95-5) تمہارے لیے سمندری شکار اور اس کا کھانا تمہارے اور مسافروں کے فائدے کے لیے حلال کر دیا گیا ہے اور تم پر خشکی کا شکار حرام کیا گیا ہے جب تک تم احرام میں ہو اور الله سے ڈرتے رہو جس کے پاس تم پیش کیے جاؤ گے۔ (96-5)

عدل ‘ انصاف اور گواہی کے بارے میں نصیحت

اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! تم انصاف کے ساتھ الله کے لیے گواہی دینے کے علمبردار بنو اور تمہارے لیے کسی قوم کی دشمنی باعث نہ بنے کہ تم عدل نہ کرو۔ عدل کرو۔ یہی بات تقویٰ کے زیادہ قریب ہے اور الله سے ڈرتے رہو۔ بے شک اللہ اس سے باخبر ہے جو عمل تم کرتے ہو۔ (8-5) اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! تم انصاف کے علمبردار بنو اور الله کے لیے گواہی دو اگرچہ تمہارے اپنے نفس کے یا والدین اور اقربین کے خلاف ہو خواہ کوئی مال دار ہو یا فقیر ہو کیونکہ اللہ ان سے پہلے ہے۔ سو تم نفس کی خواہشات کی پیروی نہ کرو کہ عدل نہ کرسکو اور اگر تم گھما پھرا کر بات کرو گے یا گریز کرو گے تو بے شک جو عمل تم کرتے ہو اللہ ان سے باخبر ہے۔ (135-4)

باطل طریقے سے مال نہ کھانے کی نصیحت

اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! ایک دوسرے کا مال باطل طریقے سے نہ کھاؤ مگر تم آپس میں اپنی رضامندی سے تجارت کرو اور اپنے نفس کو قتل نہ کرو۔ بے شک الله تو تم پر رحم کرنے والا ہے۔ (29-4) اور جو شخص ایسا فعل کرے گا تو یہ جارحیت ہے اور ظلم ہے سو ہم اس کو عنقریب آگ میں داخل کریں گے اور یہ الله کے لیے آسان ہے۔ (30-4)

سود کے بارے میں نصیحت

اےایمان لانے والو! دگنا چوگنا سود نہ کھاؤ اور الله سے ڈرو تاکہ تم فلاح پاؤ (130-3) اور اس آگ سے بچو جو کافروں کے لیے تیار کی گئی ہے۔ (131-3) اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! الله سے ڈرو اور سود میں سے جو باقی رہ گیا ہے اس کو چھوڑ دو اگر تم مُؤْمِنِين ہو۔ (278-2) اگر تم نے ایسا فعل نہ کیا تو الله سے اور اس کے رسول سے جنگ کرنے کے لیے تیار ہو جاؤ اور اگر تم توبہ کرلو تو تم اپنے مال میں سے اصل سرمائے کے حقدار ہو۔ نہ تم ظلم کرو اور نہ تم پر ظلم کیا جائے۔(279-2) اور اگر تنگ دست ہو تو خوشحال ہونے تک مہلت دو اور اگر تم اسے صدقہ دے دو تو تمہارے لیے زیادہ خَيْر ہے یہ تم کو معلوم ہونا چاہیے۔ (280-2) اور اس دن سے ڈرو جس میں تم لوٹ کر الله کے پاس جاؤ گے اور ہر نفس کو اس کی کمائی کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور ان کے ساتھ ظلم نہیں ہوگا۔ (281-2)

قرض کے لین دین کے بارے نصیحت

اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! جب تم کسی معین معیاد کے لیے ادھار کا لین دین کرو تو اسے لکھ لیا کرو اور کوئی لکھنے والا تمہارے درمیان عدل کے ساتھ لکھے اور لکھنے والا لکھنے سے انکار نہ کرے جیسا کہ الله نے اس کو علم دیا ہے سو چاہیے کہ وہ لکھے اور وہ شخص تحریر لکھوائے جس پر حق ہے اور چاہیے کہ اللہ سے ڈرے جو اس کا رب ہے اور اس میں ذرا بھی کمی بیشی نہ کرے۔ اگر وہ شخص جس پر حق ہے کم عقل یا ضعیف ہو یا قابلیت نہ رکھتا ہو کہ وہ خود تحریر لکھوائے تو اس کا سرپرست عدل کے ساتھ لکھوائے اور اپنے مردوں میں سے دو گواہ بنالو پھر اگر دو مرد گواہ موجود نہ ہوں تو ایک مرد اور دو عورتیں ایسے لوگوں میں سے جنہیں تم گواہ کے طور پر پسند کرتے ہو تاکہ ان میں سے ایک بھول بھٹک جائے تو ان میں سے ایک دوسری کو یاد دہانی کرادے اور گواہ انکار نہ کریں جس وقت بھی بلائے جائیں اور معاملہ چھوٹا ہو یا بڑا تم معین معیاد کے ساتھ لکھنے میں سستی نہ کرو۔ تمہارا ایسا کرنا الله کے نزدیک انصاف کے مطابق ہے اور شہادت کے لیے درست طریقہ ہے اور اس سے تم کسی شک و شبہ میں نہیں پڑو گے۔ ہاں اگر تجارت دست بدست ہو جو تم آپس میں لیتے دیتے ہو تو تم پر نہ لکھنے میں کچھ گناہ نہیں اور جب سودا کرو تو تم گواہ کرلیا کرو اور لکھنے والے کو ستایا نہ جائے اور نہ گواہ کو اور اگر تم ایسا فعل کروگے تو یہ تمہارے لیے سخت گناہ کی بات ہوگی۔ سو الله سے ڈرو اور اللہ تم کو علم دیتا ہے اور الله کو ہر چیز کا علم ہے۔ (282-2) اور اگر تم سفر پر ہو اور کوئی لکھنے والا نہ مل سکے تو رہن یا قبضہ پر معاملہ کرلو۔ پھر اگر تم میں سے کوئی شخص دوسرے کا اعتبار کرلے تو چاہیے کہ وہ شخص اپنی امانت ادا کرے جس پر اعتبار کیا گیا اور اللہ سے ڈرتا رہے جو اس کا رب ہے اور گواہی کو نہ چھپاؤ اور جو چھپاتا ہے تو درحقیقت اس کا دل گنہگار ہے اور اللہ کو علم ہے جو عمل تم کرتے ہو۔ (283-2)

قصاص اور وصیت کے بارے میں نصیحت

اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! تم پر مقتولوں کا آزاد کے بدلے آزاد اور غلام کے بدلے غلام اور عورت کے بدلے عورت قصاص لینا لکھ دیا گیا ہے۔ سو وہ جس کو اس کے بھائی کی طرف سے کچھ معاف کردیا جائے تو وہ معروف طریقے سے پیروی کرے اور اس کو احسن طریقے سے ادا کرے۔ یہ تمہارے رب کی طرف سے رعایت ہے اور رحمت ہے۔ پھر جو اس کے بعد زیادتی کرے اس کے لیے عَذَابٌ أَلِيم ہے۔ (178-2) اور تمہارے لیے قصاص میں زندگی ہے اے أُولِيْ الأَلْبَاب تاکہ تم تقویٰ اختیار کرو۔ (179-2) تم پر لکھ دیا گیا ہے کہ جب تم میں سے کسی کی موت آپہنچے تو معروف طریقے سے والدین اور قربت والوں کے لیے خَيْر والی وصیت کر چھوڑے۔ یہ الْمُتَّقِين پر ایک حق ہے۔ (180-2) پھر جو کوئی اسے سننے کے بعد بدل ڈالے تو اس کا گناہ ان لوگوں پر ہے جو اس کو بدلیں۔ بےشک الله سَمِيعٌ عَلِيم ہے۔ (181-2) پھر اگر کسی کو وصیت کرنے والے کی طرف سے کسی کی حق تلفی یا گناہ کا خوف ہو تو وہ ان کے درمیان صلح کرادے تو اس پر کوئی گناہ نہیں۔ بےشک الله غَفُورٌ رَّحِيم ہے۔ (182-2)

وصیت کی گواہی کے بارے میں نصیحت

اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! جب تم میں سے کسی کی موت قریب آپہنچے تو وصیت کے وقت اپنوں میں سے دو عادل شخص تمہارے درمیان گواہی دیں یا اگر تم زمین میں سفر میں ہو اور تم پر موت کی مصیبت آپڑے تو تمہارے اغیار میں سے دو دوسرے۔ سو ان کوصلاۃ کے بعد روک لو پھر وہ اللہ کی قسم کھائیں کہ ہم تم سے اس کا کوئی فائدہ نہیں لیں گے اور اگرچہ ہمارا قرابت دار ہو ہم الله کی گواہی نہیں چھپائیں گے اگر ہم ایسا کریں تو ہم گنہگاروں میں سے ہوں گے۔(106-5) پھر اگر پتہ چلے کہ وہ دونوں گناہ میں مبتلا ہوگئے ہیں تو ان کی جگہ دو دوسرے کھڑے ہوں ان میں سے جن کی حق تلفی ہوئی ہو اور جو قریبی ہوں پھر وہ الله کی قسم کھائیں کہ ہماری گواہی ان کی گواہی کے مقابلے میں حق کے مطابق ہے اور ہم نے کوئی زیادتی نہیں کی اگر ہم ایسا کریں تو ہم ظالموں میں سے ہوں گے۔ (107-5) یہ طریقہ اس سے زیادہ قریب ہے کہ وہ گواہی کو صحیح صحیح ادا کریں یا اس بات کا خوف کریں کہ ان کی قسمیں ان کے قسمیں کھا لینے کے بعد رد کردی جائیں گی اور الله سے ڈرتے رہو اور سنو اور الله قَوْمَ الْفَاسِقِين کو ہدایت نہیں دیتا۔ (108-5)

مال خرچ کرنے کی نصیحت

اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! اس میں سے خرچ کرلو جو تم کو دیا ہے اس سے پہلے کہ وہ دن آجائے جب نہ سودا ہوگا اور نہ دوستی ہو گی اور نہ شفاعت ہوگی اور جو اس کا انکار کرنے والے ہیں وہی ظالم ہیں۔ (254-2) اور ہم نے جو رزق تم کو دیا ہے اس میں سے خرچ کرو اس سے پہلے کہ تم میں سے کسی کی موت آجائے پھر وہ کہے کہ اے میرے رب ! تو نے مجھے تھوڑی سی مہلت کیوں نہ دی تاکہ میں صدقہ دیتا اور صالح لوگوں میں شامل ہوجاتا۔ (10-63) حالانکہ اللہ کسی نفس کو ہرگز مہلت نہیں دیتا جب اس کا مقررہ وقت آجاتا ہے اور اللہ پوری طرح باخبر ہے ان اعمال سے جو تم کرتے ہو۔ (11-63) سو جہاں تک تمہارے بس میں ہو الله سے ڈرتے رہو اور سنو اور اطاعت کرو اور خرچ کرو یہ تمہارے نفس کے لیے بہتر ہے اور جو شخص نفس کی شہوت سے بچایا گیا تو وہی فلاح پانے والوں میں سے ہے۔ (16-64) اگر تم الله کو قرضِ حسنہ دو گے تو وہ تمہارے لیے اسے بڑھاتا چلا جائے گا اور تم کو معاف کردے گا اور الله شَكُور اور حَلِيم ہے۔ (17-64) پوشیدہ اور ظاہر کا جاننے والا الْعَزِيز اور الْحَكِيم ہے۔ (18-64)

طیب چیزوں میں سے خرچ کرنے کی نصیحت

اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! خرچ کرو طیب چیزوں میں سے جو تم کماتے ہو اور اس میں سے جو ہم نے تمہارے لیے زمین میں سے نکالا ہے اور خبیث چیزوں میں سے خرچ کرنے کا قصد مت کرنا جسے تم خود لینا گوارا نہ کرو مگر یہ کہ ان کو لینے سے چشم پوشی سے کام لو اور تمہیں علم ہونا چاہیے کہ الله غَنِيٌّ حَمِيد ہے۔ (267-2) شیطان تمہیں مفلسی سے ڈراتا ہے اور فحاشی کے کاموں کی ترغیب دیتا ہے مگر الله تم سے اپنی مغفرت اور فضل کا وعدہ کرتا ہے اور الله وَاسِعٌ عَلِيم ہے۔(268-2) وہ جس کو چاہتا ہے الْحِكْمَة دیتا ہے اور جس کو الْحِكْمَة ملی تو درحقیقت اس کو خَيْرًا كَثِير ملی اور نصیحت تو وہی لوگ قبول کرتے ہیں جو أُوْلُواْ الأَلْبَاب ہیں۔ (269-2) اور تم جو بھی خرچ کرنے کی چیزوں میں سے خرچ کرتے ہو یا تم کوئی منت مانتے ہو تو الله کو اس کا علم ہے اور ظالموں کا کوئی مددگار نہیں ہے۔ (270-2) اگر تم صدقات ظاہر دو تو یہ بھی خوب ہے اور اگر انہیں چھپاؤ اور دو بھی فقرا کو تو وہ تمہارے لیے خَيْر ہے۔ وہ تمہاری سَيِّئَات میں سے کچھ مٹادے گا اور الله تمہارے عملوں سے باخبر ہے۔ (271-2) تم پر ان کو ہدایت دینے کی ذمہ داری نہیں ہے بلکہ الله ہی جس کو چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے اور تم جو بھی خرچ کرتے ہو وہ تمہارے نفس کے لیے خَيْر ہے۔ اور تم جو بھی خرچ کرتے ہو تو وہ اللہ کا چہرہ دیکھنے کے واسطے اور تم جو بھی خرچ کرتے ہو تو وہ تمہارے لیے خَيْر ہے وہ تم کو پورا پورا دیا جائے گااور تمہارے ساتھ کوئی ظلم نہیں کیا جائے گا۔ (272-2) فقرا کے لیے تم جو بھی خرچ کرتے ہو جو الله کی راہ میں رکے بیٹھے ہیں اور زمین میں کسی طرف جانے کی طاقت نہیں رکھتے جبکہ جاہل ان کو نہ مانگنے کی وجہ سے خوشحال سمجھتا ہے لیکن تم قیافے سے ان کو پہچان سکتے ہو کہ وہ انسانوں سے لپٹ کر نہیں مانگتے تو وہ تمہارے لیے خَيْر ہے اور الله کو اس کا علم ہے۔ (273-2) جو لوگ اپنا مال رات کو اور دن کو اور پوشیدہ اور ظاہر خرچ کرتے ہیں ان کا اجر ان کے رب کے پاس ہے اور ان کے لیے کوئی خوف نہیں ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ (274-2)

خرچ کا احسان جتا کر اذیت نہ دینے کی نصیحت

اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! اپنے صدقات خرچ کا احسان جتا کر اور اذیت دیکر برباد نہ کردینا اس شخص کی طرح جو انسانوں کے دکھاوے کے لیے اپنا مال خرچ کرتا ہے اور الله پر اور آخرت کے دن پر ایمان نہیں رکھتا تو اس کی مثال ایسی ہے جیسے ایک چٹان ہو اس پر تھوڑی سی مٹی ہو اور اس پر زور کا مینہ برسے اور اسے صاف چٹان چھوڑ جائے۔ انہیں اپنی کمائی کا کچھ بھی صلہ حاصل نہیں ہوتا اور حق کا انکار کرنے والے لوگوں کو الله ہدایت نہیں دیتا۔ (264-2) اور ان لوگوں کی مثال جو اپنا مال الله کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے اپنے نفس کے پورے ثبات و قرار کے ساتھ خرچ کرتے ہیں ایسی ہے جیسے اونچی جگہ پر ایک باغ ہو اس پر زور کی بارش پڑے تو وہ دگنا پھل لائے اور اگر زور کی بارش نہ بھی پڑے تو ہلکی پھوار ہی کافی ہے اور الله تمہارے عملوں کو دیکھ رہا ہے۔ (265-2)

سونے کو اور چاندی کو جمع کرکے نہ رکھنے کی نصیحت

اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! عالموں اور مشائخوں میں سے بہت سے انسانوں کے مال کو باطل طریقے سے کھا جاتے ہیں اور اللہ کی راہ سے روکتے ہیں۔ سو جو لوگ سونے کو اور چاندی کو جمع کرکے رکھتے ہیں اور اس کو الله کی راہ میں خرچ نہیں کرتے تو ان کو عَذَابٍ أَلِيم کی بشارت دے دو۔ (34-9) جس دن ان پر جَهَنَّم کی آگ دہکائی جائے گی پھر اس سے ان کی پیشانیوں کو اور ان کے پہلوؤں کو اور ان کی پیٹھوں کو داغا جائے گا۔ یہ وہی ہے جو تم نے اپنے نفس کے لیے جمع کیا تھا سو اب اس کا ذائقہ چکھو جو تم جمع کرتے تھے۔ (35-9)

گھروں میں داخل ہونے ‘ گھر کے مکینوں کے لیے پردہ اور نکاح کی نصیحت

اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! ان گھروں میں داخل نہ ہوا کرو جو تمہارے گھر نہیں ہیں جب تک ان سے اجازت نہ لے لو اور ان میں رہنے والوں کو سلام نہ کرلو۔ اس میں تمہارے لیے خَيْر ہے سو تم اس کو یاد رکھا کرو۔ (27-24) پھر اگر تم اس میں کسی کو نہ پاؤ تو اس میں داخل نہ ہو جب تک تم کو اجازت نہ ملے اور اگر تم سے کہا جائے کہ لوٹ جاؤ تو لوٹ جاؤ۔ یہ تمہارے لیے زیادہ پاکیزگی کی بات ہے اور جو عمل تم کرتے ہو اللہ کو ان کا علم ہے۔ (28-24) تم پر اس میں کوئی گناہ نہیں ہے کہ تم ایسے گھروں میں داخل ہو جن میں کسی کی سکونت نہ ہو اور اس میں تمہارا سامان ہو اور اللہ کو علم ہے اس کا جو تم ظاہر کرتے ہو اور اس کا بھی جو تم چھپاتے ہو۔ (29-24) مومن مردوں سے کہو ! اپنی نظروں کو نیچا رکھیں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں۔ یہ ان کے لیے بڑی پاکیزگی کی بات ہے۔ بے شک اللہ کو اس کی خبر ہے جو وہ کرتے ہیں۔ (30-24) اور مومن عورتوں سے کہو ! اپنی نظروں کو نیچا رکھا کریں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کیا کریں اور اپنی زینت کو ظاہر نہ کیا کریں سوائے اس کے جو اس میں سے خود ظاہر ہو اور اپنی اوڑھنیوں سے اپنے سینوں پر بکل مار لیا کریں اور اپنی زینت کو ظاہر نہ کیا کریں سوائے سامنے اپنے شوہر کے یا اپنے باپ کے یا اپنے شوہر کے باپ کے یا اپنے بیٹیوں کے یا اپنے شوہر کے بیٹوں کے یا اپنے بھائیوں کے یا اپنے بھتیجیوں کے یا اپنے بھانجوں کے یا اپنی عورتوں کے یا اپنے مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ کے یا آدمیوں میں سے ان خادموں کے جنہیں عورتوں کی خواہش نہ ہو یا ان بچوں کے جن پر عورتوں کی پوشیدہ چیزیں ابھی ظاہر نہ ہوئی ہوں اور اپنے پاؤں سے جھٹکے نہ ماریں کہ جو اس کی زینت میں سے خفیہ رکھا گیا ہے وہ معلوم ہوجائے اور اے مومنو! سب الله کے آگے توبہ کرو تاکہ تم فلاح پاؤ (31-24) اور تم میں سے جو مجرد ہوں اور تمہارے بندوں اور تمہارے ساتھیوں میں سے جو صالح عمل کرنے والے ہوں ان کے نکاح کردیا کرو۔ اگر وہ فُقَرَاء ہوں گے تو الله اپنے فضل سے ان کو غنی کردے گا اور الله وَاسِعٌ عَلِيمٌ ہے۔ (32-24) اور ان میں سے وہ لوگ جو نکاح کی کوشش نہیں کرتے جب تک کہ الله اپنے فضل سے ان کو غنی کردے اور وہ مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ میں سے مکاتبت چاہتے ہیں تو اس میں اگر تم خَيْر معلوم کرو تو ان کی مکاتبت کردو اور تم انہیں اللہ کے مال میں سے دو جو اس نے تمہیں عطا کیا ہے اور تم اپنی لڑکیوں کو اس غرض سے کہ تم دنیا کی زندگی کا فائدہ حاصل کرلو بدکاری پر مجبور نہ کرو جبکہ ان کا ارادہ پاک دامن رہنے کا ہو اور جو کوئی انہیں مجبور کرے گا تو پھر اللہ ان کے لیے انہیں مجبور کیے جانے کے بعد سے غَفُورٌ رَّحِيم ہے۔ (33-24)

بے پردگی کے اوقات میں اجازت لینے اور رشتہ داروں کے گھروں سے کھانے کے بارے میں نصیحت

اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! وہ جو تمہارے مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ ہیں اور وہ جو تم میں سے بلوغ کو نہ پہنچے ہوں تین اوقات میں تم سے اجازت طلب کریں۔ فجر کی صلاۃ سے پہلے اور دوپہر سے جب تم اپنے کپڑے اتار دیتے ہو اور عشاء کی صلاۃ کے بعد سے۔ یہ تین اوقات تمہارے لیے بے پردگی کے ہیں۔ ان کے بعد تم پر اور ان پر کوئی گناہ نہیں ہے تم تو ایک دوسرے کے پاس آتے جاتے رہتے ہو۔ اس طرح تمہارے لیے الله اپنی آیات کھول کھول کر بیان کرتا ہے اور الله عَلِيمٌ حَكِيم ہے۔ (58-24) اور جب تمہارے بچے بلوغت کو پہنچ جائیں تو تم سے اجازت طلب کریں جس طرح وہ جو ان سے پہلے بالغ ہوئے اجازت طلب کرتے ہیں۔ اس طرح تمہارے لیے الله اپنی آیات کھول کھول کر بیان کرتا ہے اور الله عَلِيمٌ حَكِيم ہے۔ (59-24) اور بڑی عمر کی عورتیں جن کو نکاح کی توقع نہیں رہی تو ان پر گناہ نہیں ہے کہ اپنی زینت کی نمائش کیے بغیر اپنے کپڑے اتار رکھیں اور اس سے بھی بچیں تو یہ ان کے لیے خَيْر والا کام ہے اور الله سَمِيعٌ عَلِيم ہے۔ (60-24) نہ اندھے پر کوئی حرج ہے اور نہ لنگڑے پر کوئی حرج اور نہ بیمار پر کوئی حرج اور نہ تمہارے نفس پر کہ تم اپنے گھروں سے یا اپنے باپ دادا کے گھروں سے یا اپنی ماں اور نانی کے گھروں سے یا اپنے بھائیوں کے گھروں سے یا اپنی بہنوں کے گھروں سے یا اپنے چچاؤں کے گھروں سے یا اپنی پھوپھیوں کے گھروں سے یا اپنے ماموؤں کے گھروں سے یا اپنی خالاؤں کے گھروں سے یا جس کی کنجیاں تمہارے ہاتھ میں ہوں یا اپنے دوستوں کے گھروں سے کھاؤ۔ تم پر کوئی گناہ نہیں کہ تم سب مل کر یا علیحدہ علیحدہ کھاؤ۔ سو جب تم گھروں میں داخل ہو تو اپنے نفسوں پر سلام کیا کرو جو دعائے خَيْر کے طور پر الله کی طرف سے مبارک ہو اور طیب ہو۔ اس طرح تمہارے لیے الله اپنی آیات کھول کھول کر بیان کرتا ہے تاکہ تم عقل سے کام لو۔ (61-24)

نکاح کے لیے عورتوں کے بارے میں نصیحت

اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! تمہارے لیے جائز نہیں ہے کہ تم عورتوں کے زبردستی وارث بن جاؤ اور ان پر اس غرض سے دباو نہ ڈالو کہ تم اس کا کچھ حصہ جو تم نے ہی انہیں دیا ہے ہڑپ کرجاؤ سوائے اس کے کہ وہ فحاشی کا واضح طور پر ارتکاب کریں۔ پھر اگر وہ تم کو ناپسند ہوں تو عجب نہیں کہ تم ایک چیز کو ناپسند کرو اور اللہ نے اس میں خَيْرًا كَثِير رکھی ہو۔ (19-4) اور اگر تمہارا ارادہ بیوی کی جگہ بیوی بدلنا ہے اور تم ان میں سے کسی ایک کو ڈھیروں مال دے چکے ہو تو اس میں سے کچھ بھی واپس نہ لو۔ کیا تم وہ اس سے بہتان لگا کر اور واضح گناہ کرکے لو گے؟ (20-4) بھلا تم اس سے کیسے لے سکتے ہو جبکہ تم ایک دوسرے کے ساتھ صحبت کرچکے ہو اور وہ تم سے پختہ عہد لے چکی ہے۔ (21-4) اور تم ان سے نکاح نہ کرو کہ تمہارے باپ جن عورتوں سے نکاح کرچکے ہوں مگر جو پہلے سلفا نے کیا وہ فحاشی اور ناپسندیدہ بات اور بری راہ تھی۔ (22-4) تم پر حرام کردی گئی ہیں تمہاری مائیں اور تمہاری بیٹیاں اور تمہاری بہنیں اور تمہاری پھوپھیاں اور تمہاری خالائیں اور تمہاری بھتیجیاں اور تمہاری بھانجیاں اور وہ مائیں جنہوں نے تمہیں دودھ پلایا اور تمہاری دودہ شریک بہنیں اور تمہاری بیویوں کی مائیں اور وہ لڑکیاں جو تمہارے گھروں میں پل رہی ہوں جو تمہاری ان بیویوں کی اولاد ہوں جن سے تم مباشرت کرچکے ہو لیکن اگر تم نے ان سے مباشرت نہ کی ہو تو تم پر کوئی گناہ نہیں ہے اور تمہارے ان بیٹوں کی بیویاں جو تمہاری پشت سے ہوں اور یہ بھی کہ دو بہنوں کو جمع کرو مگر جو پہلے سلفا نے کیا تو الله غَفُورًا رَّحِيم ہے۔ (23-4) اور عورتوں میں سے الْمُحْصَنَات بھی سوائے ان کے جو مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ ہوں۔ یہ تم پر الله نے لکھ دیا ہے اور تمہارے لیے وہ عورتیں حلال ہیں جو ان کے علاوہ ہیں اس طرح کہ تم ان کو اپنا مال خرچ کر کے پاک دامنی کے لیے حاصل کرو نہ کہ بدکاری کے لیے۔ سو جن عورتوں سے تم فائدہ حاصل کرو تو انہیں ان کا مہر فرض کے طور پر ادا کرو اور تم پر کچھ گناہ نہیں ہے کہ فرض ادا کرنے کے لیے باہمی رضامندی کے بعد اس میں اتفاق کرو۔ بےشک الله تو عَلِيمًا حَكِيم ہے۔ (24-4) اور تم میں سے جو اس بات کی قدرت نہ رکھتا ہو کہ مومن عورتوں میں سے الْمُحْصَنَات سے نکاح کرسکے تو جو مومن عورتوں میں سے مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ تمہارے قبضے میں ہوں وہ ان سے کرے اور اللہ کو تمہارے ایمان کے حال کا علم ہے۔ تم سب ایک دوسرے میں سے ہو سو ان کے گھر والوں کی اجازت سے پاک دامنی کے لیے نکاح کرو نہ کہ بدکاری کے لیے اور نہ چوری چھپے یارانہ گانٹھنے کے لیے اور انہیں ان کے اجر معروف طریقے سے ادا کرو پھر جب وہ نکاح میں آجائیں تو اگر فحاشی کا ارتکاب کریں تو ان کے لیے نصف ہے جو الْمُحْصَنَات پر عذاب میں سے ہے۔ یہ اس کے لیے ہے جسے تم میں سے بدکاری میں مبتلا ہونے کا خوف ہو اور اگر تم صبر کرو تو یہ تمہارے لیے خَيْر ہے اور الله غَفُورٌ رَّحِيم ہے۔ (25-4)

ہاتھ لگائے بغیر طلاق دی جانے والی عورتوں کے بارے میں نصیحت

اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! تم جب مومن عورتوں سے نکاح کرو پھر اس سے پہلے کہ تم انہیں ہاتھ لگاؤ انہیں طلاق دو تو تمہاری طرف سےان پر کوئی عدت لازم نہیں ہے جسے تم ان سے پورا کراؤ لہٰذا تم انہیں کچھ مال دے دو اور انہیں بھلے طریقے سے جانے دو۔ (49-33)

ہجرت کرکے آنے والی مومن عورتوں کے بارے میں نصیحت

اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! تمہارے پاس جب مومن عورتیں ہجرت کرکے آئیں تو ان کا امتحان لے لو۔ الله ان کے ایمان کو جانتا ہے۔ سو اگر تمہیں معلوم ہو کہ وہ مومن عورتیں ہیں تو ان کو کفار کی طرف واپس نہ کرو۔ نہ یہ ان کے لیے حلال ہیں اور نہ وہ ان کے لیے حلال ہیں اور انہوں نے جو خرچ کیا ہو وہ ان کو دے دو۔ اور تم پر اس میں کچھ گناہ نہیں ہے کہ تم ان سے نکاح کرلو جب تم ان کے اجر ادا کردو اور کافر عورتوں کی ناموس کو روکے نہ رکھو اور مانگ لو جو تم نے ان پر خرچ کیا اور مانگ لیں جو انہوں نے خرچ کیا۔ یہ اللہ کا حکم ہے۔ وہ تمہارے درمیان فیصلہ کر رہا ہے اور الله عَلِيمٌ حَكِيم ہے۔ (10-60) اور اگر تم کو کوئی چیز یاد آجائے جو تمہاری بیویوں نے کافروں کو دینی ہو تو ان لوگوں کو جن کی بیویاں چلی گئی تھیں ویسا ہی دے دو جو انہوں نے خرچ کیا تھا اور الله سے ڈرو جس پر تم ایمان رکھتے ہو۔ (11-60)

الله کی راہ میں جدوجہد کرنے کی نصیحت

اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! کیا میں تم کو ایسی تجارت بتاؤں جو تم کو عَذَابٌ أَلِيم سے بچادے؟ (10-61) ایمان لاؤ تم الله پر اور اس کے رسول پر اور اپنے مال سے اور اپنے نفس سے الله کی راہ میں جدوجہد کرو۔ اگر تم سمجھو تو یہ تمہارے لیے خَيْر ہے۔ (11-61) وہ تمہارے گناہ معاف کردے گا اور تمہیں ایسی جنّتوں میں داخل کرے گا کہ ان میں نہریں بہہ رہی ہیں اور سدا بہار باغات میں پاکیزہ مکانات ہیں۔ یہی بہت بڑی کامیابی ہے۔ (12-61) اور وہ دوسری چیز جس کو تم بہت چاہتے ہو الله کی طرف سے نصرت اور عنقریب حاصل ہونے والی فتح ہوگی اور مومنوں کو بشارت دے دو۔ (13-61) مومنوں میں سے گھر بیٹھ رہنے والے جن کو کوئی عذر نہ ہو اور الله کی راہ میں اپنے مال سے اور اپنے نفس سے جدوجہد کرنے والے برابر نہیں۔ اللہ نے درجہ کے اعتبار سے ان کو جو اپنے مال سے اور اپنے نفس سے جدوجہد کرنے والے ہیں بیٹھے رہنے والوں پر فضیلت دی ہے۔ اگرچہ اللہ نے سب سے بھلائی کا وعدہ کر رکھا ہے لیکن اللہ نے مجاہدین کو بیٹھ رہنے والوں پر اجر عظیم سے فضیلت دی ہے۔ (95-4) یعنی اس کی طرف سے بڑے درجے ہیں اور مغفرت ہے اور رحمت ہے اور الله غَفُورًا رَّحِيم ہے۔ (96-4) بیشک وہ لوگ کہ جن کی فرشتے اس حال میں جان نکالیں گے کہ وہ اپنے نفسوں پر ظلم کر رہے تھے تو ان سے کہیں گے کہ تم کیا کرتے رہے؟ وہ کہیں گے کہ ہم اپنی سر زمین میں کمزور تھے۔ فرشتے کہیں گے کہ کیا الله کی زمین وسیع نہیں تھی کہ تم اس میں ہجرت کر جاتے۔ سو یہی وہ لوگ ہیں کہ ان کا ٹھکانہ جَهَنَّم ہے اور وہ بہت بری جگہ ہے۔ (97-4) مگر وہ کمزور مرد اور عورتیں اور بچے جو نہیں کرسکتے کوئی حیلہ اور نہیں پاتے کوئی راستہ (98-4) سو یہ امید ہے کہ الله انہیں معاف کردے اور الله عَفُوًّا غَفُور ہے۔ (99-4) اور جو شخص الله کی راہ میں ہجرت کرے گا وہ زمین میں بہت سے ٹھکانے اور فراخی پائے گا اور جو شخص اپنے گھر سے الله اور رسول کی طرف ہجرت کرکے نکلا پھر موت نے اس کو آپکڑا تو اس کا اجر الله کے ذمہ ہو گیا اور الله غَفُورًا رَّحِيم ہے۔ (100-4)

الله کی راہ میں نکلنے کی نصیحت

اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ جب تم سے کہا گیا کہ نکلو الله کی راہ میں تو تم زمین سے چمٹ کر رہ گئے؟ کیا تم نے آخرت کے مقابلے میں دینا کی زندگی کو پسند کرلیا ہے؟ مگر یہ دنیا کی زندگی کا ساز و سامان تو آخرت کے مقابلے میں بہت ہی کم ہے۔(38-9) تم اگر نہ نکلو گے تو الله تم کو عذاب دے گا عَذَابٌ أَلِيم اور تمہاری جگہ دوسری غیر قوم کو لے آئے گا اور تم اس کا کچھ بھی نہ بگاڑ سکو گے اور الله ہر چیز پر پوری قدرت رکھتا ہے۔ (39-9)

مقابلہ ہو تو ثابت قدم رہنے اور آپس میں نہ جھگڑنےکی نصیحت

اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! جب کسی گروہ سے تمہارا مقابلہ ہو تو ثابت قدم رہو اور الله کو کثرت سے یاد کرتے رہو تاکہ تمہیں کامیابی حاصل ہو۔(45-8) اور الله کی اور اس کے رسول کی اطاعت کرو اور آپس میں نہ جھگڑو ورنہ تم بزدل ہو جاؤ گے اور تمہاری ہوا نکل جائے گی اور صبر سے کام لو۔ بیشک الله صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ (46-8)

لشکر کشی کے وقت پیٹھ نہ پھیرنے کی نصیحت

اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! تم الله کی نعمت کو جو اس نے تم پر کی یاد کرو جب تم پر لشکر چڑھ آئے تھے تو ہم نے ان پر ہوا کو اور ایسے لشکر کو بھیجا جو تم نہ دیکھ سکتے تھے اور اللہ اس کو دیکھ رہا تھا جو عمل تم کر رہے تھے۔ (9-33) جب وہ تم پر تمہارے اوپر کی طرف سے اور تمہارے نیچے کی طرف سے چڑھ آئے تھے اور جب آنکھیں پتھرا گئیں اور دل حلق تک آگئے اور تم الله کے بارے میں طرح طرح کے گمان کرنے لگے تھے۔ (10-33) یہ وہ وقت تھا جب الْمُؤْمِنُون آزمائے گئے اور وہ ہلائے گئے شدید ہلائے گئے۔ (11-33) اور جب منافق اور وہ لوگ جن کے دلوں میں مرض تھا کہنے لگے کہ الله نے اور اس کے رسول نے ہم سے جو وعدہ کیا تھا وہ صرف دھوکا تھا۔(12-33) اور جب ان میں سے ایک گروہ نے کہا تھا کہ؛ اے اہلِ یثرب ! تمہارے لیے ٹھہرنے کا مقام نہیں ہے لہٰذا لوٹ جاؤ اور ان میں سے ایک گروہ نبی سے اجازت طلب کر رہا تھا وہ کہہ رہے تھے کہ ہمارے گھر غیر محفوظ ہیں حالانکہ وہ غیر محفوظ نہیں تھے۔ ان کا ارادہ صرف فرار کا تھا۔ (13-33) اور اگر ان کے اطراف سے ان پر آ داخل ہوتے پھر ان سے فتنہ کے لیے کہتے تو یہ نہ رکتے اور آسانی سے اس میں پڑ جاتے۔ (14-33) حالانکہ وہ اس سے پہلے الله سے عہد کر چکے تھے کہ پیٹھ نہیں پھریں گے اور الله سے کیے ہوئے عہد کی جواب طلبی ہوتی ہے۔ (15-33)

جنگ کے میدان میں پیٹھ نہ پھیرنے کی نصیحت

اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! جب جنگ کے میدان میں کافروں سے تمہار مقابلہ ہو تو تم ان کے سامنے پیٹھ نہ پھیرنا (15-8) اور جو ان کے سامنے اس دن پیٹھ پھیرے گا سوائے اس کے کہ جنگ کے لیے چال چلنا چاہتا ہو یا اپنی کسی دوسری فوج میں جا ملنا چاہتا ہو تو وہ الله کے غضب میں گر جائے گا اور اس کا ٹھکانا جَهَنَّم ہوگا اور وہ بہت ہی برا ٹھکانا ہے۔ (16-8)

کافروں کے ساتھ جنگ کرنے کے بارے میں نصیحت

اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! ان سے جنگ کرو جو کافروں میں سے تم پر زبردستی مسلط ہوتے ہیں اور چاہیے کہ وہ تم میں اپنے لیے ناپسندیدگی پائیں اور تمہیں علم ہونا چاہیے کہ الله الْمُتَّقِين کے ساتھ ہے۔ (123-9) دین میں زبردستی نہیں ہے۔ (256-2) کہو ! اے کافرو ! (1-109) میں نہیں عبادت کرتا جن کی تم عبادت کرتے ہو (2-109) اور نہ تم عبادت کرنے والے ہو اس کی جس کی میں عبادت کرتا ہوں (3-109) اور نہ میں عبادت کرنے والا ہوں ان کی جن کی تم عبادت کرتے ہو (4-109) اور نہ تم عبادت کرنے والے ہو اس کی جس کی میں عبادت کرتا ہوں (5-109) تمہارے لیے تمہارا دین اور میرے لیے میرا دین ہے۔ (6-109) اور الله کی راہ میں ان لوگوں سے جنگ کرو جو تم سے لڑتے ہیں مگر زیادتی نہ کرنا کہ الله زیادتی کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ (190-2) اور ان کو جہاں پاؤ قتل کردو اور جہاں سے انہوں نے تم کو نکالا ہے وہاں سے تم بھی ان کو نکال دو کیونکہ فتنہ انگیزی قتل کرنے سے کہیں بڑھ کر خراب ہے لیکن مسجدِ حرام کے پاس ان کو قتل نہ کرو جب تک کہ وہ تم سے وہاں جنگ نہ لڑیں۔ ہاں اگر وہ تم سے لڑیں تو تم ان کو قتل کرڈالو۔ ایسے کافروں کی یہی سزا ہے۔(191-2) پھر اگر وہ باز آجائیں تو الله غَفُورٌ رَّحِيم ہے۔(192-2) اور ان سے جنگ کرتے رہو حتیٰ کہ فتنہ باقی نہ رہے اور الله کے دین کے مطابق معاملات انجام پانے لگیں۔ سو جب وہ باز آجائیں تو ظالموں کے سوا کسی سے دشمنی نہیں کرنی چاہیے۔(193-2) اللہ تم کو ان لوگوں کے بارے میں منع نہیں کرتا جنہوں نے تم سے دین کے معاملہ میں جنگ نہیں کی اور تم کو تمہارے گھروں میں سے نہیں نکالا کہ تم ان کے ساتھ نیکی کرو اور ان کے ساتھ انصاف کا سلوک کرو۔ الله تو انصاف کرنے والوں کے ساتھ محبت کرتا ہے۔ (8-60) الله تو ان لوگوں کے بارے میں تم کو منع کرتا ہے جنہوں نے تم سے دین کے معاملہ میں جنگ کی اور تم کو تمہارے گھروں میں سے نکالا اور تمہارے نکالنے میں ایک دوسرے کی مدد کی کہ تم ان کے ساتھ تعلقات رکھو۔ سو جو ان کے ساتھ تعلقات رکھیں گے تو وہی لوگ ظالم ہوں گے۔ (9-60)

بےبس مردوں ‘ عورتوں ‘ بچوں کی خاطر جنگ کرنے کی نصیحت

اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! اپنے ہتھیار سنبھالو پھر دستہ دستہ نکلو یا سب اکٹھے نکلو۔(71-4) تم میں سے کوئی ایسا بھی ہے جوضرور پیچھے رہ جاتا ہے۔ پھر اگر تم کو کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو کہتا ہے کہ بے شک الله نے مجھ پر انعام کیا کہ میں ان کے ساتھ شہید نہ ہوا۔(72-4) اور اگر تم کو الله کا فضل پہنچتا ہے تو وہ تم سے کہتا ہے کہ کیا تمہارے درمیان اور اس کے درمیان دوستی نہ تھی؟ کاش میں بھی ان کے ساتھ ہوتا تو بڑی کامیابی حاصل کرتا۔ (73-4) سو چاہیے کہ وہ لوگ اللہ کی راہ میں جنگ کریں جو آخرت کے عوض دنیا کی زندگی فروخت کرچکے ہیں اور جو شخص اللہ کی راہ میں جنگ کرے پھر وہ مارا جائے یا وہ غالب آجائے تو ہم اسے اجرِ عظیم دیں گے۔(74-4) اور تم کو کیا ہوا ہے کہ تم الله کی راہ میں ان بےبس مردوں اور عورتوں اور بچوں کی خاطر جنگ نہیں کرتے جو کہتے ہیں کہ اے ہمارے رب ! تو ہمیں اس بستی سے نکال کہ جس کے رہنے والے ظالم ہیں اور تو ہمارے لیے اپنی طرف سے کسی کو ہمارا سرپرست بنا اور تو ہمارے لیے اپنی طرف سے کسی کو ہمارا مددگار بنا۔ (75-4) وہ لوگ جو ایمان والے ہیں وہ الله کی راہ میں جنگ کرتے ہیں اور وہ لوگ جو کافر ہیں وہ الطَّاغُوت کی راہ میں جنگ کرتے ہیں سو تم شیطان کے ساتھیوں سے جنگ کرو۔ بے شک شیطان کی چالبازی کمزور ہوتی ہے۔ (76-4) کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جن سے کہا گیا تھا کہ اپنے ہاتھوں کو روکے رکھو اورصلاۃ قائم کرو اور زکوٰۃ دیتے رہو پھر جب ان پر جنگ لکھ دی گئی تو ان میں سے ایک گروہ جو انسانوں سے خوفزدہ ہے ایسا خوف کرتا ہے جیسے اللہ سے خوف کرنا چاہیے بلکہ اس سے بھی زیادہ خوفزدہ ہے اور یہ لوگ کہتے ہیں کہ اے ہمارے رب ! تونے ہم پر جنگ کرنا کیوں لکھ دیا؟ تونے ہم کو تھوڑی مدت اور مہلت کیوں نہ دی؟ کہو کہ دنیا کا فائدہ بہت تھوڑا ہے اور آخرت خَيْر والی ہے ان کے لیے جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں اور تم پر دھاگے برابر بھی ظلم نہیں کیا جائے گا۔ (77-4) تم جہاں کہیں بھی ہوگے موت تو تم کو آ کر رہے گی خواہ تم مضبوط قلعوں کے اندر ہو اور اگر ان کو حَسَنَة حاصل ہوتی ہے تو کہتے ہیں کہ یہ الله کی طرف سے ہے اور اگر ان کو سَيِّئَة حاصل ہوتی ہے تو کہتے ہیں کہ یہ تمہاری وجہ سے ہے۔ کہو کہ سب الله کی طرف سے ہے۔ آخر ان لوگوں کو کیا ہوگیا ہے؟ نہیں لگتا کہ یہ کوئی بات سمجھیں۔ (78-4)

جنہیں کتاب دی گئی ان سے جنگ کے بارے میں نصیحت

اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! حقیقت یہ ہے کہ مشرک نَجَس ہیں سو اس سال کے بعد وہ الْمَسْجِدَ الْحَرَام کے قریب نہ جا پائیں اور اگر تمہیں تنگدستی کا خوف ہے تو عنقریب الله تم کو اپنے فضل سے غنی کردے گا اگر چاہے گا۔ بےشک الله عَلِيمٌ حَكِيم ہے۔ (28-9) جنہیں کتاب دی گئی ہے ان لوگوں میں سے ان لوگوں سے جنگ کرو جو الله پر ایمان نہیں لاتے اور نہ آخرت کے دن پر اور حرام نہیں مانتے جو الله نے اور اس کے رسول نے حرام کیا ہے اور دین حق کو قبول نہیں کرتے حتیٰ کہ وہ اپنے ہاتھ سے جزیہ دیں اور مطیع بن کر رہیں۔ (29-9)

دین کو مذاق اور کھیل بنالینے والوں کو سرپرست نہ بنانے کی نصیحت

اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! ان لوگوں کو جنہوں نے تمہارے دین کو مذاق اور کھیل بنا لیا ہے ان میں سے جنہیں تم سے پہلے کتاب دی گئی تھی اور کفار کو اپنا سرپرست نہ بناؤ اور الله سے ڈرتے رہو اگر تم مُّؤْمِنِين ہو۔ (57-5)

اللہ کے اور اپنے دشمنوں کو سرپرست نہ بنانے کی نصیحت

اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! تم میرے دشمنوں کو اور اپنے دشمنوں کو سرپرست نہ بناؤ تم ان کے ساتھ پیار کی پینگیں بڑھاتے ہو حالانکہ وہ اس کو ماننے سے انکار کرچکے ہیں جو تمہارے پاس حق میں سے آیا اور وہ رسول کو اور تمہیں باہر نکالتے ہیں اس بنا پر کہ تم اپنے رب الله پر ایمان لائے ہو۔ اگر تم میری راہ میں جدوجہد کے لیے باہر نکلتے ہو اور تمہارا مقصد میری رضاجوئی ہے تو تم ان کے ساتھ پوشیدہ پوشیدہ پیار کی پینگیں بڑھاتے ہو حالانکہ مجھے وہ بھی معلوم ہے جو تم خفیہ رکھتے ہو اور وہ بھی جو تم اعلانیہ کرتے ہو اور جو کوئی تم میں سے ایسا فعل کرے گا تو وہ سیدھی راہ سے گمراہ ہوگیا۔ (1-60) اگر وہ تم پر قابو پالیں تو وہ تمہارے دشمن ہوں گے اور تم پر اپنے ہاتھ اور اپنی زبانیں برائی کے ساتھ چلائیں گے اور ان کی کوشش ہے کہ تم کسی طرح کافر ہوجاؤ۔ (2-60) تمہاری رشتہ داریاں اور تمہاری اولادیں قیامت کے دن تمہیں نفع نہیں دیں گی وہ تمہارے درمیان فیصلہ کرے گا اور اللہ اس کو دیکھ رہا ہے جو عمل تم کر رہے ہو۔ (3-60)

کفر کو پسند کرنے والے آباؤ اجداد اور بھائیوں کو سرپرست نہ بنانے کی نصیحت

اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! تم اپنے آباؤ اجداد کو اور اپنے بھائیوں کو اپنا سرپرست نہ بناؤ اگر وہ ایمان پر کفر کو پسند کرتے ہوں اور جو تم میں سے ان کو سرپرست بنائے گا تو ایسے لوگ ہی ظالم ہوں گے۔ (23-9)

یہود اور نصاریٰ کو سرپرست نہ بنانے کی نصیحت

اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! یہود اور نصاریٰ کو سرپرست نہ بناؤ یہ ایک دوسرے کے سرپرست ہیں اور تم میں سے جو کوئی ان کی سرپرستی لے گا تو وہ انہیں میں سے ہوگا۔ بیشک الله ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔ (51-5)

مومنوں کے سوا کافروں کو سرپرست نہ بنانے کی نصیحت

اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! مومنوں کے سوا کافروں کو سرپرست نہ بناؤ۔ کیا تمہارا ارادہ ہے کہ الله اس کو تم پر واضح سند بنائے؟ (144-4) بے شک الْمُنَافِقِين دوزخ کے سب سے نچلے کے درجے میں ہوں گے اور تم ان کے لیے کسی کو مددگار نہ پاؤ گے۔ (145-4)

الله سے ڈرنے اور اس کے رسول پر ایمان لانے کی نصیحت

اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! الله سے ڈرو اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ وہ تمہیں اپنی رحمت سے دگنا اجر عطا کرے گا اور تم پر ایسا نور بنا دے گا کہ تم اس میں چلو گے اور تم کو معاف کردے گا اور الله غَفُورٌ رَّحِيم ہے۔ (28-57)

الله کی اور اس کے رسول کی اطاعت کرنے کی نصیحت

اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! الله کی اور اس کے رسول کی اطاعت کرو اور ان سے منہ نہ موڑو اور تم سنتے ہو۔(20-8) اور تم ان لوگوں جیسے نہ ہوجانا جو کہتے ہیں کہ ہم نے سن لیا حالانکہ وہ نہیں سنتے۔ (21-8) بے شک الله کے نزدیک جانداروں میں سب سے بدتر وہ بہرے گونگے لوگ ہیں جو عقل سے کام نہیں لیتے۔ (22-8) اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! الله کی اطاعت کرو اور اس کے رسول کی اطاعت کرو اور اپنے عملوں کو ضائع نہ ہونے دو۔ (33-47)

الله کے اور اس کے رسول کے بلانے پر حکم قبول کرنے کی نصیحت

اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! الله کے اور اس کے رسول کے بلانے پر حکم قبول کرو جب وہ تم کو ایسے کام کے لیے بلائیں جو تمہیں زندگی بخشنے والا ہو اور تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ الله آدمی کے اور اس کے دل کے درمیان حائل ہے اور یہ کہ اس کے روبرو تم جمع کیے جاؤ گے۔ (24-8)

الله سے اور اس کے رسول سے آگے پیش قدمی نہ کرنے کی نصیحت

اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! الله سے اور اس کے رسول سے آگے پیش قدمی نہ کرو اور الله سے ڈرو۔ بےشک الله سَمِيعٌ عَلِيم ہے۔ (1-49)

الله کے اور رسول کے ساتھ خیانت نہ کرنے کی نصیحت

اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! الله کے اور رسول کے ساتھ خیانت نہ کرو اور تم اپنی امانتوں میں خیانت کرتے ہو اور تم کو معلوم بھی ہے۔ (27-8)

الله کی اور رسول کی اور أُوْلِي الأَمْرِ کی اطاعت کرنے کی نصیحت

اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! الله کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو اور جو تم میں سے أُوْلِي الأَمْرِ ہوں پھر اگر کسی چیز میں تمہارے درمیان تنازعہ ہوجائے تو الله اور رسول کے حکم کی طرف رجوع کرو اگر تم اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتے ہو۔ اس طریقہء کار میں خَيْر ہے اور انجام کے لحاظ سے احسن ہے۔ (59-4)

اللہ سے ڈرنے کی نصیحت

اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! الله سے ڈرتے رہو اور ہر نفس کو دیکھنا چاہیے کہ اس نے کل کے لیے آگے کیا بھیجا ہے اور الله سے ڈرو۔ بےشک الله کو خبر ہے جو اعمال تم کرتے ہو۔ (18-59) اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! تم الله سے ڈرو گے تو وہ تمہیں حق و باطل میں فرق کی کسوٹی دے گا اور تمہارے سَيِّئَات تم سے دور کردے گا اور تمہیں معاف کردے گا اور الله ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيم ہے۔ (29-8) اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! الله سے ڈرو جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے اور تم کو موت آئے تو صرف اس حال میں کہ تم مسلمان ہو۔ (102-3)

الله پر ہی توکل کرنے کی نصیحت

اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! الله کی نعمتوں کو یاد کرو جو اس نے تم پر کی ہیں جب لوگوں کے ایک گروہ نے قصد کیا تھا کہ تم پر دست درازی کریں تو اس نے ان کے ہاتھ تمہاری طرف بڑھنے سے روک دیئے اور الله سے ڈرتے رہو اور الْمُؤْمِنُون کو چاہیے کہ وہ الله پر ہی توکل کیا کریں۔ (11-5)

الله کے آگے توبہ کرنے کی نصیحت

اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! الله کے آگے توبہ کرو خالص توبہ۔ امید ہے کہ تمہارا رب تمہاری سَيِّئَات تم سے دور کر دے گا اور تم کو ایسی جنّتوں میں داخل کرے گا کہ جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں۔ اس دن اللہ نبی کو اور ان لوگوں کو جو اس کے ساتھ ایمان لائے شرمندہ نہ کرے گا ان کا نور ان کے آگے اور ان کے دائیں جانب چل رہا ہوگا اور وہ کہہ رہے ہوں گے کہ؛ اے ہمارے رب ! ہمارے لیے ہمارا نور مکمل کردے اور ہمیں معاف کردے۔ بےشک تو ہر چیز پر قَدِير ہے۔ (8-66)

اللہ کو کثرت سے یاد کرنے کی نصیحت

اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! الله کو یاد کرتے رہو کثرت سے یاد کیا کرو۔(41-33) اور صبح و شام اس کی تعریف کرتے رہو۔ (42-33)

اللہ تک پہنچنے کا وسیلہ تلاش کرنے اور جدوجہد کرنے کی نصیحت

اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! الله سے ڈرتے رہو اور اس تک پہنچنے کا وسیلہ تلاش کرو اور اس کی راہ میں جدوجہد کرو تاکہ تم فلاح پاؤ۔ (35-5)

الله کے مددگار بننے کی نصیحت

اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! اگر تم الله کی مدد کرو گے تو وہ تمہاری مدد کرے گا اور تمہارے قدموں کو مضبوطی سے جما دے گا۔ (7-47) اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! الله کے مددگار بن جاؤ جیسے عِيسَى ابْنُ مَرْيَم نے حواریوں سے کہا کہ الله کے لیے کون مددگار ہے؟ حواریوں نے کہا کہ ہم الله کے مددگار ہیں۔ پھر بنی اسرائیل میں سے ایک گروہ ایمان لے آیا اور ایک گروہ کافر رہا۔ سو جو ایمان لائے ان کے دشمنوں کے مقابلے میں ہم نے ان کے ہاتھ مضبوط کیے تو وہ غالب ہوگئے۔ (14-61)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *