
اللہ کی نصیحت کو نہ ماننے کے نقصانات
جب ہم نے فرشتوں سے کہا تھا کہ آدم کو سجدہ کرو تو سب نے سجدہ کیا سوائے ابلیس کے۔ وہ جنات میں سے تھا اس نے اپنے رب کے امر کی نافرمانی کی۔ کیا تم اس کو اور اس کی نسل کو میرے سوا اپنا سرپرست بناتے ہو؟ حالانکہ وہ تمہارے دشمن ہیں۔ ظالموں کے لیے یہ بہت ہی برا بدل ہے۔ (50-18) اور ہم نے اس سے پہلے آدم سے بھی عہد لیا تھا مگر وہ بھول گیا اور ہم نے اس میں ارادے کی پختگی نہ پائی۔ (115-20) تو شیطان نے اسکو پھسلا دیا کہا کہ اے آدم ! کیا میں تمہیں ایسا درخت بتاؤں جس سے ہمیشہ رہنے والی اور کبھی زائل نہ ہونے والی سلطنت ملتی ہے؟ (120-20) تو انہوں نے اس میں سے کھا لیا تو ان کے سامنے ان کے ستر کھل گئے اور وہ اپنے آپ کو جنت کے پتوں سے ڈھانکنے لگے سو آدم نے اپنے رب کی نافرمانی کی اس لیے بھٹک گیا۔ (121-20)
پھر اس کے رب نے اس کو نوازا اور اس کی توبہ قبول کی اور اسے ہدایت دی۔ (122-20) فرمایا کہ تم سب کے سب یہاں سے نیچے اتر جاؤ۔ بعض تم میں سے بعض کے دشمن ہوں گے پھر جب میری طرف سے تمہارے پاس ہدایت آئے تو جو شخص میری ہدایت کی پیروی کرے گا وہ نہ بھٹکے گا اور نہ تکلیف میں پڑے گا۔ (123-20) اور تم کو ہم ضرور آزمائش میں ڈالیں گے تاکہ ہم ان لوگوں کو معلوم کرلیں جو تم میں سے جدوجہد کرنے والے ہیں اور صبر کرنے والے ہیں اور تمہارے حالات کو جانچ لیں۔ (31-47)
ہر نفس کو موت کا مزا چکھنا ہے اور تم کو قیامت کے دن تمہارے اعمال کے پورے اجر دیے جائیں گے۔ بس جو شخص آگ سے بچا لیا گیا اور جنت میں داخل کر دیا گیا تو بیشک وہ کامیاب ہو گیا اور دنیا کی زندگی تو دھوکے کے سامان کے سوا کچھ بھی نہیں۔ (185-3) جو شخص آخرت کی کھیتی کا اردہ رکھتا ہو تو ہم اس کے لیے اس کی کھیتی میں اضافہ کریں گے اور جو شخص دنیا کی کھیتی کا اردہ رکھتا ہو تو اس کو ہم دنیا میں سے دیتے ہیں مگر اسکے لیے آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہے۔ (20-42)
مگر جو میری نصیحت سے منہ پھیرے گا اسکی زندگی تنگ ہوجائے گی اور قیامت کے دن ہم اس کو اندھا کرکے اٹھائیں گے۔ (124-20) وہ کہے گا کہ میرے رب ! تو نے مجھے اندھا کرکے کیوں اٹھایا ہے حالانکہ میں تو دیکھتا تھا؟ (125-20) الله فرمائے گا کہ ایسے ہی جیسے تیرے پاس میری آیات آئیں تو تونے انہیں بھلا دیا تھا۔ اس لیے اسی طرح آج تجھ کو بھلا دیا گیا ہے۔ (126-20) اور ہم اس کو ایسا ہی بدلہ دیتے ہیں جو حد سے نکل جائے اور اپنے رب کی آیات پر ایمان نہ لائے اور آخرت کا عذاب بہت شدید اور ہمیشہ رہنے والا ہے۔ (127-20)
جو لوگ متقی ہیں وہ باغوں اور چشموں میں ہوں گے۔ (45-15) ان سے کہا جائے گا کہ ان میں بے خوف و خطرہ سلامتی کے ساتھ داخل ہوجاؤ۔ (46-15) اور ان کے دلوں میں جو کدورت ہوگی اس کو ہم نکال دیں گے وہ بھائیوں کی طرح ایک دوسرے کے آمنے سامنے بیٹھیں گے۔ (47-15) نہ انہیں وہاں کوئی تکلیف پہنچے گی اور نہ وہ وہاں سے نکالے جائیں گے۔ (48-15) میرے بندوں کو خبر دے دو کہ میں ہی ہوں الْغَفُورُ الرَّحِيمُ (49-15) اور یہ کہ میرا عذاب بھی الْعَذَابُ الأَلِيمَ ہے۔ (50-15)
کیا انسان یہ سمجھتا ہے کہ اسے بلا حساب کتاب یوں ہی چھوڑ دیا جائے گا؟ (36-75) کیا وہ خیال رکھتا ہے کہ اس پر کوئی قابو نہ پائے گا؟ (5-90) کہتا ہے کہ میں نے بہت سا مال برباد کیا۔ (6-90) کیا وہ یہ سمجھتا ہے کہ اس کو کسی نے نہیں دیکھا؟ (7-90) اے انسان ! بیشک تو کشاں کشاں اپنے رب کی طرف چلا جا رہا ہے بلاآخر تجھے اس کے سامنے پیش ہونا ہے۔ (6-84)
جب زمین بھونچال سے ہلا دی جائے گی ۔(1-99) اور زمین اپنے سارے بوجھ نکال باہر کرے گی۔(2-99) اور انسان کہے گا کہ اسے کیا ہوا ہے؟ (3-99) اس دن انسان یاد کرے گا جو بھاگ دوڑ اس نے کی تھی۔ (35-79) اور اس دن جہنم سب کے سامنے لائی جائے گی۔ اس دن انسان کو نصیحت آئے گی لیکن اب نصیحت اس کے کس کام کی؟ (23-89) کہے گا کہ کاش میں نے اپنی اس زندگی کے لیے کچھ آگے بھیجا ہوتا۔ (24-89)
اس دن انسان کہے گا کہ؛ ہے کوئی جائے پناہ؟ (10-75) ہرگز کہیں پناہ نہیں۔ (11-75) اس روز اپنے رب ہی کے سامنے ٹھہرنا ہوگا۔ (12-75) اس دن انسان کو بتا دیا جائے گا جو اس نے آگے بھیجا اور جو پیچھے چھوڑا۔ (13-75) بلکہ انسان خود ہی اپنے نفس کو خوب جانتا ہے۔ (14-75) اگرچہ کتنی ہی معذرتیں پیش کرے۔ (15-75) ہم نے ہر انسان کے اعمال کو اسکی گردن میں لٹکا دیا ہے اور ہم اس کو دکھانے کے لیے قیامت کے دن نکالیں گے جسے وہ ایک کھلی کتاب کی مانند لکھا ہوا دیکھے گا۔ (13-17) تو جن کے عملوں کے منافع کے وزن بھاری ہوں گے سو وہی فلاح پائیں گے۔ (102-23) اور جن کے عملوں کے منافع کے وزن ہلکے ہوں گے انہوں نے اپنے نفسوں کو خسارے میں ڈال دیا اور وہ ہمیشہ جہنم میں رہیں گے۔ (103-23)
Leave a Reply