
پنجابیوں نے انگریزوں کے ساتھ بڑی لڑائیاں لڑیں لیکن 1857 میں مدد بھی کی۔
تاریخ: 3 ستمبر 2025
اگر کوئی یہ کہتا ھے کہ؛ پنجابیوں نے کبھی جنگ یا مزاحمت نہیں کی تھی تو اس کو یہی مشورا دیا جاسکتا ھے کہ؛ وہ مشہور تاریخ دان عزیزالدین کی کتاب “پنجاب اور بیرونی حملہ آور” کا مطالعہ کرلے۔
عزیز الدین ایک اردو اسپیکنگ لکھاری ھیں اور مکمل طور پر غیر جانبدار شخصیت ھیں۔ اُن کے مطابق پنجابیوں نے راجہ پورس سے لیکر بھگت سنگھ تک پنجاب کی سر زمین کے ایک ایک اِنچ پر مزاحمت کی ھے۔
دنیا کی مشہور قتل گاہ جلیانوالہ باغ ‘ جہاں پنجابیوں نے مزاحمت کا ریکارڈ قائم کیا ‘ کتاب میں اِسے پنجاب کی کربلا کہا گیا۔ دُلا بھٹی پنجاب کا رابن ھُڈ ‘ پنجابیوں کی مزاحمت کی ایک لافانی مثال ھے۔ 1857 کی جنگ ازادی شروع دلی سے ھوتی ھے ‘ اس کا انت پنجاب سے ھوتا ھے ‘ جب گوجرانوالہ پر انگریز بمباری کرتا ھے۔
برصغیر کے بہت کم علاقے ھیں جو انگریز سامراج نے لڑکر حاصل کیے۔ بیشتر پر معاھدوں اور سازشوں کے ذریعے قبضہ کیا گیا۔ لیکن دیس پنجاب کے معاملے میں ایسا نہیں ھوا۔ سازشیں کہ وہ تو برطانوی سامراج کا طرہءِ امتیاز تھیں۔ وہ پنجاب میں بھی ھوئیں۔ لیکن پنجاب میں فقط سازشوں سے کام نہ چل سکا اور برصغیر کے دیگر علاقوں کے برعکس نہ صرف یہ کہ؛ دیس پنجاب پر قبضہ کرنے کی خاطر انگریزوں کو لڑنا پڑا۔ بلکہ پنجاب میں انہیں زبردست مزاحمت کا سامنا بھی کرنا پڑا۔
پنجاب ‘ ھندوستان کا وہ خطہ تھا جو انگریز کے دور میں بھی آزاد حثیت برقرار رکھے ھوئے تھا۔ یعنی پنجاب ایک آزاد ریاست تھا اور یہ سب سے آخر میں انگریزوں کی گرفت میں آتا ھے۔ مھاراجہ رنجیت سنگھ کی 1839 میں وفات کے بعد پنجاب پر انگریز کا قبضہ 29 مارچ 1849 میں ھوتا ھے۔ جب پنجاب پر ایک 10 سالہ کم سن بچے مھاراجہ دلیپ سنگھ کا راج تھا۔
پنجابی فوج 1849 میں انگریز فوج کے ساتھ ھونے والی جنگ میں دیدا دلیری سے لڑی۔ ھندو پنجابی ‘ سکھ پنجابی اور مسلمان پنجابی مل کر انگریز فوج میں بھرتی غیر مُلکیوں اور اترپردیش کے بھیا ‘ بہار کے بہاری کرائے کے غنڈوں کا مقابلہ کرتے رھے۔ لیکن جیتی ھوئی بازی چند غدراوں کی وجہ سے ھارے۔
پنجابیوں کی انگریزوں کے ساتھ 10 بڑی لڑائیاں (01) مُدکی (02) فیروز شہر (03) بدووال (04) علی وال (05) سبھراواں (06) ملتان (07) رسول نگر (08) سعد اللہ پور (09) چیلیانوالہ (10) گجرات میں ھوئیں اور متعدد چھوٹی لڑائیوں میں اٹک اور جالندھر کی لڑائیاں زیادہ مشہور ھیں۔ یوں دیس پنجاب پر غاصبانہ قبضے کی خاطر انگریز سامراج کو پنجابی سرفروشوں سے کم و بیش 12 لڑائیاں لڑنا پڑیں۔ ان میں سے چیلیانوالہ کی لڑائی کو غیر پنجابی تاریخ دان سید سبط حسن نے برصغیر کی سب سے خوفناک لڑائی قرار دیا ھے۔ جس میں انگریز فوجی افسروں کی بہت بڑی تعداد ماری گئی۔
اس کے باوجود پنجابیوں کی طرف سے 1857 کی جنگِ غداری میں انگریزوں کی مدد کرنے کی سب سے بڑی وجہ پوربی سپاھیوں (بنگال آرمی کے بھیا اور بہاری سپاھی) کا برطانوی فوج میں شامل ھوکر پنجاب کی سکھ سلطنت پر برطانیہ کے قبضہ کے لیے حملہ آور ھونا تھا۔ پنجابیوں کو جنگِ غداری میں انگریزوں کی مدد کرنے پر اس لیے ندامت نہیں تھی کہ انگریزوں کے خلاف بغاوت بھیا اور بہاری سپاھیوں نے کی تھی۔ جوکہ برطانیہ کے نمک خوار تھے۔
پنجابیوں کی طرف سے برطانیہ کی مدد کرنے کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ جنگِ غداری کی سرپرستی کرنے والا “مغل شہنشاہ” بہادر شاہ ظفر دوم تھا۔ مغلوں کے ساتھ پنجابیوں کی تاریخی دشمنی چلی آرھی تھی۔ اس لیے پنجابیوں کو ایسے مقصد سے کوئی ھمدردی نہ تھی جس کی سرپرستی کرنے والا ایک مغل بادشاہ تھا۔
سولھویں صدی میں سکھ مذھب کے بانی بابا گرو نانک دیو نے مغل حکمرانوں کی مذھبی جنونیت کی مذمت کی اور مغل شہنشاہ بابر کی ظلم اور بربریت کی کاروائیوں کا مقابلہ کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا جبکہ کئی سکھ گرو مغل بادشاھوں کے ھاتھوں شھید ھوئے۔
دُلا بھٹی نے اکبر بادشاہ کے خلاف علمِ حق بلند کیا اور سولھویں صدی کے مشھور صوفی بزرگ شاہ حسین نے دُلا بھٹی کے اکبر بادشاہ کے خلاف علمِ حق بلند کرنے پر دُلا بھٹی کو خراجِ تحسین پیش کرتے ھوئے کہا کہ ؛ کہے حسین فقیر سائیں دا – تخت نہ ملدے منگے۔
نوے سال کے بعد جب ھندوستان آزاد ھوا تو ھندوستانی رھنماؤں نے 1857 کی جنگِ غداری کو “یوم آزادی کی پہلی جنگ” کے طور پر قرار دینا شروع کردیا۔ جب کہ حقیقت میں یہ “مغلوں کی آخری جنگ” تھی۔
برطانوی مسلح افواج میں بغاوت بھیا اور بہاری سپاھیوں کی طرف سے کی گئی اور سینکڑوں انگریز خواتین اور بچوں کو قتل کردیا گیا۔ جبکہ شمالی بھارت میں اسی سالہ بہادر شاہ ظفر کو مغل بادشاہ ھونے کی نسبت کی وجہ سے باغیوں کی قیادت کرنے کے لئے تیار کیا گیا تھا۔
پنجابیوں نے 1857 کی جنگِ غداری کے دوران مغل شہزادوں کی حکمرانی کو بحال ھوتا محسوس کیا جبکہ مراٹھا اپنے مراٹھا حکمرانوں کے اقتدار میں واپس آنے کی امید لگائے بیٹھے تھے۔ مغل شہزادوں اور مراٹھا کے سرداروں کا ایک مشترکہ دشمن انگریز تھا اور ان کا انگریزوں کے خلاف اتحاد اور ایک مشترکہ محاذ تھا۔
جبکہ پنجاب میں صورتحال بھارت کے باقی حصوں سے بالکل مختلف تھی۔ جسکی ایک اھم وجہ پنجابیوں کی بھیا اور بہاری کے خلاف شکایت تھی کہ؛ پنجابیوں نے کبھی بھی بھیا اور بہاری کے خلاف کوئی غیر اخلاقی اور دشمنی والا قدم نہیں اٹھایا تھا۔ لیکن اسکے باوجود بھیا اور بہاری نے پنجابیوں کے ساتھ دشمنی کرتے ھوئے اینگلو سکھ جنگوں کے دوران اور بعد میں پنجاب کے برطانوی راج میں الحاق کے لیے برطانوی حملہ آوروں کی خفیہ اور واضح کارروائیوں کے ذریعے مدد کی تھی۔
پنجابیوں کی طرف سے بھیا اور بہاری کے خلاف شکایت اور ناراضگی کا انگریزوں نے بھرپور فائدہ اٹھایا۔ شاعر خازان سنگھ نے 1858 میں لکھے گئے اپنے ” جنگ نامہ دلی” میں ذکر کیا ھے کہ پوربی فوجیوں کے خلاف پنجابیوں کی شرکت کی وجہ بھیا اور بہاری سپاھیوں کی طرف سے اس بات پر فخر کرنے کا ردِ عمل تھا کہ انہوں نے 46-1845 میں اور 49-1848 میں پنجابیوں کو شکست دی تھی۔
انگریزوں کے ساتھ بھیا اور بہاری کے تعاون کی تلخ یادیں پنجابیوں کے ذھنوں میں اس قدر تازہ تھیں کہ؛ انکے درمیان کسی بھی طرح سے اتحاد ناممکن بن گیا تھا۔ کیونکہ جو لوگ اب آزادی کے لیے جنگجو ھونے کا دعویٰ کر رھے تھے ‘ یہ وھی لوگ تھے جنہوں نے آٹھ سال پہلے انگریزوں کی طرف سے پنجابی خودمختاری ھڑپ کرنے میں انگریزوں کی بھرپور مدد کی تھی۔ اس کے علاوہ ‘ وہ اسی مغلیہ سلطنت کو بحال کروا کر واپس لانے کی کوشش کر رھے تھے جس نے سالہا سال سے مسلمان پنجابیوں ‘ سکھ پنجابیوں ‘ ھندو پنجابیوں پر تباھی مچائی ھوئی تھی جبکہ سکھ گرو انکے ظلم اور زیادتیوں کا مستقل نشانہ تھے۔
1857 کی جنگِ غداری کی وجہ سے برطانوی مسلح افواج میں بھرتی کرنے کے لیے انگریزوں نے بغاوت میں غیر جانبدار رھنے والے لوگوں کو ترجیح دینا شروع کردی۔ خاص طور پر گورکھا ‘ راجستھان کے راجپوت ‘ پنجابی مسلمان اور پنجابی سکھوں کو برطانوی افواج میں بھرتی کرنا شروع کر دیا۔ لیکن پنجاب پر انگریز کے قبضے کی وجہ سے رائے احمد کھرل ‘ نطام لوھار ‘ مراد فتیانہ ‘ خانو ‘ مُلا ڈولا اور بھگتاں والا بھگت سنگھ چند ایسے کردار ھیں ‘ جنہوں نے پنجاب کی آزادی کے لیے بغاوت کا علم بُلند کیا۔
Leave a Reply