
الله کی نصیحت جھٹلانے والی قوموں کا انجام کیسا ہوا؟
ہم نے ہر اُمت میں رسول بھیجا کہ الله کی عبادت کرو اور طاغوت سے اجتناب کرو۔ پھر ان میں سے کچھ ایسے تھے جن کو الله نے ہدایت دی اور ان میں سے کچھ ایسے تھے جن پر گمراہی مسلط ہوگئی۔ سو زمین میں سیر کرو پھر دیکھو کہ الْمُكَذِّبِينَ کا انجام کیا ہوا؟ (36-16)
تم سے پہلے ہم بہت سی قوموں کو جب وہ ظالم ہوگئیں ہلاک کرچکے ہیں اور ان کے رسول ان کے پاس واضح نشانیاں لے کر آئے لیکن وہ ایمان لانے پر تیار ہی نہ تھے۔ الْقَوْمَ الْمُجْرِمِينَ کو ہم اسی طرح بدلہ دیا کرتے ہیں۔ (13-10) پھر ان کے بعد ہم نے تم لوگوں کو زمین میں خلیفہ بنایا تاکہ دیکھیں کہ تم کیسے عمل کرتے ہو۔ (14-10)
کیا تمہیں ان لوگوں کی خبر نہیں پہنچی جو تم سے پہلے تھے نوح کی قوم اور عاد اور ثمود اور وہ جو ان کے بعد ہوئے۔ جن کا علم الله کے سوا کسی کو نہیں۔ ان کے پاس ان کے رسول واضح نشانیاں لے کر آئے تو انہوں نے اپنے ہاتھ ان کے مونہوں پر رکھ دیے اور کہنے لگے کہ ہم انکار کرتے ہیں اس کا جو تم کو دے کر بھیجا گیا ہے اور ہم ان باتوں کے بارے میں شک میں مبتلا ہیں جس کی تم ہمیں دعوت دے رہے ہو اور متردد ہیں۔ (9-14)
نوح کی قوم نے رسولوں کو جھٹلایا۔ (105-26) جب ان کے بھائی نوح نے ان سے کہا کہ؛ کیا تم ڈرتے نہیں ہو؟ (106-26) میں تمہارا امانت دار رسول ہوں۔ (107-26) سو الله سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔ (108-26) اور میں تم سے اس کام کا کوئی اجر نہیں مانگتا۔ میرا اجر تو رَبِّ الْعَالَمِينَ پر ہے۔ (109-26) سو الله سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔ (110-26) انہوں نے کہا کہ؛ کیا ہم تم پر ایمان لے آئیں جبکہ تمہاری پیروی تو رذیل لوگ کر رہے ہیں؟ (111-26) نوح نے کہا کہ؛ مجھے کیا علم کہ وہ کیا عمل کرتے ہیں؟ (112-26) ان کا حساب میرے رب کے ذمہ ہے کاش ! تم شعور سے کام لیتے۔ (113-26) اور میں مومنوں کو دھتکارنے والا نہیں ہوں۔ (114-26) میں تو صرف واضح طور پر متنبہ کرنے والا ہوں۔ (115-26) انہوں نے کہا کہ اے نوح ! اگر تم باز نہ آئے تو سنگسار کیے ہوئے لوگوں میں شامل ہو جاؤ گے۔ (116-26) نوح نے کہا اے میرے رب ! میری قوم نے مجھے جھٹلا دیا ہے۔ (117-26) سو تو فیصلہ کردے میرے اور ان کے درمیان ایک کھلا فیصلہ اور نجات دے مجھے اور ان کو بھی جو مومنوں میں سے میرے ساتھ ہیں۔ (118-26) سو ہم نے اسے بچا لیا اور ان کو جو ایک لدی ہوئی کشتی میں اس کے ساتھ سوار تھے۔ (119-26) پھر اس کے بعد باقی لوگوں کو ہم نے غرق کر دیا۔ (120-26) بیشک اس میں ایک نشانی ہے اور ان میں سے اکثر لوگ ایمان لانے والے نہیں تھے (121-26) اور تیرا رب تو الْعَزِيزُ الرَّحِيمُ ہے۔ (122-26)
عاد نے بھی رسولوں کو جھٹلایا۔(123-26) جب ان کے بھائی ہود نے ان سے کہا کہ؛ کیا تم ڈرتے نہیں ہو؟ (124-26) میں تمہارا امانت دار رسول ہوں۔ (125-26) سو الله سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔(126-26) اور میں تم سے اس کام کا کوئی اجر نہیں مانگتا۔ میرا اجر تو رَبِّ الْعَالَمِينَ پر ہے۔ (127-26) تم ہر اونچی جگہ پر بے فائدہ نشان تعمیر کرتے ہو۔ (128-26) اور تم بڑی بڑی عمارتیں بناتے ہو کہ شاید تم ہمیشہ رہو گے۔ (129-26) اور جب تم کسی کی پکڑ کرتے ہو تو تم پکڑ کرکے جبر کرتے ہو ۔(130-26) سو الله سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔ (131-26) اور اس سے ڈرو جس نے تمہیں وہ کچھ دیا جس کا تمہیں علم ہے۔ (132-26) اس نے تمہیں چارپایوں اور بیٹوں سے مدد دی۔ (133-26) اور باغوں اور چشموں سے۔ (134-26) مجھ کو تمہارے بارے میں عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ کا خوف ہے۔ (135-26) انہوں نے کہا کہ ہمارے لیے یکساں ہے کہ تم ہمیں تبلیغ کرو یا تبلیغ نہ کرو ۔ (136-26) یہ تو پہلے لوگوں کی تخلیق کی ہوئی باتیں ہیں۔(137-26) اور ہم عذاب میں مبتلا ہونے والے نہیں ہیں۔ (138-26) سو انہوں نے اس کو جھٹلایا تو ہم نے ان کو ہلاک کر دیا۔ بیشک اس میں ایک نشانی ہے اور ان میں سے اکثر لوگ ایمان لانے والے نہیں تھے۔(139-26) اور تیرا رب تو الْعَزِيزُ الرَّحِيمُ ہے۔ (140-26)
ثمود نے بھی رسولوں کو جھٹلا دیا۔(141-26) جب ان کے بھائی صالح نے ان سے کہا کہ؛ کیا تم ڈرتے نہیں ہو؟ (142-26) میں تمہارا امانت دار رسول ہوں۔ (143-26) سو الله سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔(144-26) اور میں تم سے اس کام کا کوئی اجر نہیں مانگتا۔ میرا اجر تو رَبِّ الْعَالَمِينَ پر ہے۔ (145-26) کیا تمہیں یہاں بےخوف و خطر رہنے دیا جائے گا؟ (146-26) باغوں میں اور چشموں میں (147-26) اور کھیتوں میں اور نخلستانوں میں جن کے خوشے رس بھرے ہوتے ہیں۔(148-26) اور تم فخر کے لیے پہاڑوں میں گھر بناتے رہو گے۔ (149-26) سو الله سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔ (150-26) اور بیجا اڑانے والوں کا حکم نہ مانو۔(151-26) جو زمین میں فساد مچاتے ہیں اور اصلاح نہیں کرتے۔(152-26) وہ کہنے لگے کہ تم وہ ہو جو ساحرین میں سے ہیں۔ (153-26) حالانکہ تم ہماری طرح کے بشر ہو۔ اگر تم صادق لوگوں میں سے ہو تو کوئی نشانی پیش کرو۔ (154-26) صالح نے کہا کہ یہ ایک اونٹنی ہے اس کے پانی پینے اور تمہارے پانی پینے کے دن مقرر ہیں۔(155-26) اور اس کو بری خواہش سے نہ چھونا ورنہ عَذَابُ يَوْمٍ عَظِيمٍ تم لوگوں کو آ پکڑے گا ۔(156-26) مگر انہوں نے اس کی کونچیں کاٹ ڈالیں پھر پچھتاتے ہوئے رہ گئے۔ (157-26) سو عذاب نے ان لوگوں کو آن پکڑا۔ بیشک اس میں ایک نشانی ہے اور ان میں سے اکثر لوگ ایمان لانے والے نہیں تھے۔ (158-26) اور تیرا رب تو الْعَزِيزُ الرَّحِيمُ ہے۔ (159-26)
قوم لوط نے بھی رسولوں کو جھٹلایا۔ (160-26) جب ان کے بھائی لوط نے ان سے کہا کہ؛ کیا تم ڈرتے نہیں ہو؟ (161-26) میں تمہارا امانت دار رسول ہوں۔ (162-26) سو الله سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔ (163-26) اور میں تم سے اس کام کا کوئی اجر نہیں مانگتا۔ میرا اجر تو رَبِّ الْعَالَمِينَ پر ہے۔ (164-26) تم الْعَالَمِينَ میں سے مذکر کے پاس جاتے ہو (165-26) اور اسے چھوڑ دیتے ہو جو تمہارے رب نے تمہارے لیے تمہاری بیویوں میں خلق کیا ہے۔ ہاں ! تم حد سے نکل جانے والے لوگ ہو۔ (166-26) وہ کہنے لگے کہ اے لوط ! اگر تم باز نہ آئے تو شہر بدر کیے ہوئے لوگوں میں شامل ہو جاؤ گے۔ (167-26) لوط نے کہا کہ میں تمہارے عملوں سے سخت متنفر ہوں۔ (168-26) اے میرے رب ! مجھ کو اور میرے گھر والوں کو ان عملوں سے نجات دے جو یہ کرتے ہیں۔ (169-26) سو ہم نے اسے اور اس کے گھر والوں کو سب کو نجات دی۔ (170-26) سوائے ایک بڑھیا کہ جو پیچھے رہ جانے والوں میں تھی۔ (171-26) پھر ہم نے باقی لوگوں کو ہلاک کردیا۔ (172-26) اور ہم نے ان پر ایک بارش برسائی سو بہت ہی بری بارش تھی جو ان تنبیہ کرنے والوں پر برسی۔ (173-26) بیشک اس میں ایک نشانی ہے اور ان میں سے اکثر لوگ ایمان لانے والے نہیں تھے۔ (174-26) اور تیرا رب تو الْعَزِيزُ الرَّحِيمُ ہے۔ (175-26)
أَصْحَابُ الْأَيْكَةِ نے بھی رسولوں کو جھٹلایا۔ (176-26) جب ان کے بھائی شعیب نے ان سے کہا کہ؛ کیا تم ڈرتے نہیں ہو؟ (177-26) میں تمہارا امانت دار رسول ہوں۔ (178-26) سو الله سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔ (179-26) اور میں تم سے اس کام کا کوئی اجر نہیں مانگتا۔ میرا اجر تو رَبِّ الْعَالَمِينَ پر ہے۔ (180-26) پیمائش پوری کیا کرو اور خسارے میں رہنے والے لوگوں میں شامل نہ ہو جاؤ۔(181-26) اور ترازو سیدھی رکھ کر تولا کرو۔ (182-26) اور انسانوں کو ان کی چیزیں کم کرکے نہ دیا کرو اور زمین میں فساد کرنے والے بن کر نہ پھرا کرو۔ (183-26) اور اس سے ڈرو جس نے تمہیں اور پہلی مخلوق کو تخلیق کیا۔ (184-26) وہ کہنے لگے کہ تم وہ ہو جو ساحرین میں سے ہیں۔ (185-26) حالانکہ تم ہماری طرح کے بشر ہو اور ہمارا خیال ہے کہ تم جھوٹے ہو۔ (186-26) اگر تم صادق لوگوں میں سے ہو تو ہم پر آسمان سے کوئی ٹکڑا لا کر گراؤ۔ (187-26) شعیب نے کہا کہ میرے رب کو علم ہے جو عمل تم کر رہے ہو۔ (188-26) سو ان لوگوں نے اس کو جھٹلایا تو سائبان والے دن کے عذاب نے ان لوگوں کو آن پکڑا۔ دراصل وہ عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ تھا۔ (189-26) بیشک اس میں ایک نشانی ہے اور ان میں سے اکثر لوگ ایمان لانے والے نہیں تھے۔ (190-26) اور تیرا رب تو الْعَزِيزُ الرَّحِيمُ ہے۔ (191-26)
بلاشبہ أَصْحَابُ الحِجْرِ نے بھی رسولوں کو جھٹلایا۔ (80-15) ہم نے ان کے پاس اپنی نشانیاں بھیجیں لیکن وہ ان سے منہ پھیرتے رہے (81-15) اور یہ لوگ پہاڑوں میں اپنے لیے گھر تراشا کرتے تھے اور بے خوف و خطر تھے۔ (82-15) آخرکار ایک زبردست دھماکے نے انہیں صبح سویرے آپکڑا (83-15) اور جو کمائی وہ کرتے تھے وہ ان کے کچھ بھی کام نہ آئی۔ (84-15)
یہ تھیں بستیاں جن کی کچھ خبریں ہم تجھ سے بیان کر رہے ہیں اور ان کے پاس ان کے رسول واضح نشانیاں لے کر آئے تھے مگر وہ ایسے نہیں تھے کہ جس چیز کو پہلے جھٹلا چکے ہوں اسے مان لیں۔ کافروں کے دلوں پر الله اسی طرح مہر لگا دیتا ہے۔ (101-7) اور ہم نے ان میں سے اکثر کو عہد نبھاتے نہیں پایا اور ان میں اکثر کو فاسق ہی پایا۔ (102-7)
پھر ان کے بعد ہم نے موسیٰ کو اپنی نشانیاں دے کر فرعون اور اس کے سرداروں کے پاس بھیجا تو انہوں نے ان کے ساتھ ظلم کیا۔ سو دیکھ لو کہ فساد کرنے والوں کا انجام کیا ہوا؟ (103-7) جب موسیٰ نے کہا کہ: اے فرعون ! میں رَّبِّ الْعَالَمِينَ کا رسول ہوں۔ (104-7) میرا منصب ہی یہ ہے کہ الله کے متعلق حق کے سوا کچھ نہ کہوں۔ میں تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے کھلی نشانیاں لے کر آیا ہوں سو بنی اسرائیل کو میرے ساتھ بھیج دو۔ (105-7) فرعون نے کہا اگر تم کوئی نشانی لے کر آئے ہو تو اسے پیش کرو اگر تم صادق لوگوں میں سے ہو۔ (106-7) سو موسیٰ نے اپنا عصا پھینکا تو وہ اژدھا ہوگیا۔ (107-7) اور اپنا ہاتھ باہر نکالا تو وہ دیکھنے والوں کی نگاہوں میں سفید براق ہوگیا۔ (108-7) تو فرعون نے قوم کے کچھ سرداروں سے کہا کہ اس کے پاس یہ سحر کا علم ہے۔ (109-7) اس کا ارادہ یہ ہے کہ تم کو تمہاری زمین سے نکال دے سو تم اب کیا مشورہ دیتے ہو؟ (110-7) انہوں نے کہا کہ اس کو اور اس کے بھائی کو انتظار میں رکھو اور لوگوں کو جمع کرنے والے شہروں میں بھیجو (111-7) جو ہر قسم کے سحر کا علم رکھنے والوں کو تمہارے پاس لے آئیں۔ (112-7) اور سحر کا علم رکھنے والے فرعون کے پاس آپہنچے اور کہنے لگے کہ اگر ہم غالب ہو گئے تو کیا ہم کو اجر ملے گا؟ (113-7) فرعون نے کہا؛ ہاں ! اور تم مقربوں میں شامل ہو جاؤ گے۔ (114-7) ساحروں نے کہا؛ اے موسیٰ ! یا تو تم پھینکو یا پھر ہم پھینکتے ہیں۔ (115-7) موسیٰ نے کہا کہ تم ہی پھینکو۔ جب انہوں نے پھینکا تو انسانوں کی آنکھوں پر سحر کردیا اور ان کو دہشت زدہ کردیا اور وہ عظیم سحر کے ساتھ آئے تھے۔ (116-7) سو ہم نے موسیٰ کی طرف وحی بھیجی کہ تم اپنا عصا پھینکو۔ سو وہ ان کے جھوٹے طلسموں کو نگلتا چلا گیا۔ (117-7) سو حق ثابت ہوگیا اور جو عمل وہ کرتے تھے وہ باطل ہوکر رہ گئے۔ (118-7) وہاں وہ غالب ہوگیا اور وہ ذلیل ہوکر رہ گئے۔ (119-7) سحر کا علم رکھنے والے سجدے میں گر پڑے۔ (120-7) کہنے لگے کہ ہم رِبِّ الْعَالَمِينَ پر ایمان لائے۔(121-7) جو موسیٰ اور ہارون کا رب ہے۔ (122-7) فرعون نے کہا کہ قبل اس کے کہ میں تم کو اجازت دوں تم اس پر ایمان لے آئے ہو؟ بیشک یہ اس چال میں سے ہے جو چال تم نے شہر میں تیار کر رکھی تھی تاکہ تم اس کے مالکوں کو اس میں سے بے دخل کرو۔ سو عنقریب تم اس کا نتیجہ معلوم کرلو گے۔ (123-7) میں تمہارے ہاتھ اور تمہارے پاؤں مخالف سمتوں سے کٹوا دوں گا پھر تم سب کو سولی چڑھوا دوں گا۔ (124-7) انہوں نے کہا کہ ہم تو اپنے رب کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں۔ (125-7) اور تو اس بنا پر انتقام لینا چاہتا ہے کہ ہم اپنے رب کی نشانیوں پر ایمان لے آئے ہیں جب وہ ہمارے سامنے آئیں۔ اے ہمارے رب ! ہم پر صبر کے دہانے کھول دے اور ہمیں اس حالت میں وفات دینا کہ ہم مسلمان ہی ہوں۔ (126-7) فرعون نے قوم کے کچھ سرداروں سے کہا کہ؛ کیا تم موسیٰ اور اس کی قوم کو چھوڑ دو گے کہ وہ زمین میں فساد مچائیں اور وہ تم سے اور تمہارے معبودوں سے دست کش ہوجائیں؟ وہ بولے کہ؛ ہم ان کے لڑکوں کو قتل کرڈالیں گے اور لڑکیوں کو زندہ رہنے دیں گے اور یقینا” ہمیں ان کے اوپر اقتدار حاصل ہے۔ (127-7) موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا کہ الله سے مدد مانگو اور صبر کرو۔ زمین تو الله کی ہے۔ وہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے اس کا وارث بنا دیتا ہے اور آخرکار کامیابی تو متقین کے لیے ہی ہے۔ (128-7) وہ بولے کہ تمہارے آنے سے پہلے بھی ہم کو اذیتیں پہنچتی رہیں اور آنے کے بعد بھی۔ موسیٰ نے کہا کہ قریب ہے کہ تمہارا رب تمہارے دشمن کو ہلاک کردے اور اس کی جگہ تمہیں زمین میں خلیفہ بنائے پھر دیکھے کہ تم کیسے عمل کرتے ہو۔ (129-7) پھر ہم نے آلِ فرعون کو کئی سال تک قحط اور پیداوار کی کمی میں مبتلا کیے رکھا تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں۔ (130-7) تو جب ان پر الْحَسَنَةُ آتی تو کہتے کہ ہم اسی کے مستحق ہیں اور جب ان کو سَيِّئَةٌ ملتی تو اس کو موسیٰ کی اور اس کے ساتھیوں کی بدشگونی قرار دیتے۔ حالانکہ ان کی بدشگونی الله کے ہاں مقرر ہے لیکن ان میں سے اکثر کو علم نہیں ہے۔ (131-7) اور کہنے لگے کہ ہمارے پاس تم خواہ کیسی ہی نشانی لے آؤ تاکہ ہم کو تم اس سے مسحور کرو تب بھی ہم تم پر ایمان لانے والے نہیں ہیں۔ (132-7) تو ہم نے ان پر طوفان اور ٹڈیاں اور جوئیں اور مینڈک اور خون بھیجا یہ سب نشانیاں الگ الگ دکھلائیں۔ مگر وہ تکبر ہی کرتے رہے اور وہ تھے ہی قَوْمًا مُّجْرِمِينَ۔ (133-7) اور جب ان پر کوئی عذاب واقع ہوتا تو کہتے کہ اے موسیٰ ! ہمارے لیے اپنے رب سے دعا کرو۔ اس منصب کی بنا پر جو تمہیں حاصل ہے۔ اگر تم ہم سے اس عذاب کو ٹلوا دو گے تو ہم تم پر ایمان بھی لے آئیں گے اور بنی اسرائیل کو بھی تمہارے ساتھ بھیج دیں گے۔ (134-7) پھر جب ہم ان سے اس عذاب کو ایک مدت کے لیے ٹال دیتے جس تک ان کو پہنچنا تھا تو وہ عہد کو توڑ ڈالتے۔ (135-7) سو ہم نے ان سے انتقام لیا اور ان کو سمندر میں غرق کردیا اس بنا پر کہ انہوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا تھا اور وہ ان سے غافل ہوگئے تھے۔ (136-7)
یہ سب جو ہم تجھ سے بیان کر رہے ہیں رسولوں کی خبروں میں سے ہے تاکہ اس سے تمہارے دل کو مضبوط کریں اور اسی میں تمہارے پاس حق پہنچ گیا ہے اور یہ مومنوں کے لیے عبرت اور نصیحت ہے۔ (120-11) اور اسی طرح ہم نے ہر بستی میں بڑے بڑے مجرم پیدا کیے کہ ان میں مکاریاں کرتے رہیں اور جو مکاریاں یہ کرتے ہیں وہ اپنے نفس کے ساتھ ہی کرتے ہیں لیکن انہیں شعور نہیں۔ (123-6) سو جس طرح أُوْلُوا الْعَزْمِ رسولوں نے صبر کیا اسی طرح تم بھی صبر کرو اور ان کے معاملے میں جلدی نہ کرو۔ جس سے انہیں ڈرایا جاتا ہے جب وہ دیکھیں گے تو اس دن انہیں یوں معلوم ہوگا کہ یہ دنیا میں دن کی ایک گھڑی ہی رہے تھے۔ یہ ایک پیغام ہے۔ سو اب الْقَوْمُ الْفَاسِقُونَ ہی ہلاک ہوں گے۔ (35-46) اور یہ لوگ ایک زور کی چنگھاڑ کا انتظار کر رہے ہیں جس کے بعد کوئی دھماکہ نہیں ہوگا۔(15-38) اور ان لوگوں نے بھی جھٹلایا تھا جو ان سے پہلے تھے اور یہ لوگ اس کے دسویں حصے کو بھی نہیں پہنچے جو ہم نے ان کو دیا تھا- پھر بھی انہوں نے ہمارے رسولوں کو جھٹلایا۔ سو دیکھ لو ہماری سزا کیسی سخت تھی؟ (45-34)
Leave a Reply