Masood InsightMasood Insight

اللہ کی طرف سے فرشتوں کے بارے میں آگاہی

اللہ کی طرف سے فرشتوں کے بارے میں آگاہی

مُؤَلِّف : ڈاکٹر مسعود طارق

الله ہی کے لیے حمد ہے جو آسمانوں کا اور زمین کا بنانے والا ہے فرشتوں کو پیغام رساں مقرر کرنے والا ہے جن کے دو دو اور تین تین اور چار چار پر ہیں۔ وہ اپنی تخلیق میں جیسا چاہے اضافہ کرتا ہے۔ بیشک الله ہر چیز پر قَدِير ہے۔ (1-35)

الله فرشتوں میں سے اور انسانوں میں سے اپنے پیغام رساں منتخب کرلیتا ہے۔ بیشک الله سَمِيعٌ بَصِير ہے۔ (75-22) وہ فرشتوں کو اپنے امر میں سے روح کے ساتھ اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے نازل کرتا ہے تاکہ وہ متنبہ کرے کہ سوائے میرے کوئی معبود نہیں ہے سو مجھ سے ڈرو۔ (2-16)

الله نے خود اس بات کی گواہی دی کہ سوائے اس کے کوئی معبود نہیں ہے اور فرشتوں نے اور أُوْلُواْ الْعِلْم نے بھی اور وہی انصاف کے ساتھ قائم رکھنے والا ہے۔ سوائے اس کے کوئی معبود نہیں ہے اور وہ الْعَزِيزُ الْحَكِيم ہے۔ (18-3) وہی ہے جو تم پر شفقت کرتا ہے اور اس کے فرشتے بھی تاکہ تم کو ظلمت میں سے نکال کر نور کی طرف لے جائے اور وہ مومنوں کے ساتھ رحم کرنے والا ہے۔ (43-33)

الله اور اس کے فرشتے نبی پر درود بھیجتے ہیں۔ اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! ان پر دُرود بھیجو اور سلام بھیجا کرو۔ (56-33) الله گواہی دیتا ہے کہ جو کچھ اس نے تمہاری طرف نازل کیا ہے اس کو اپنے علم سے نازل کیا ہے اور فرشتے بھی گواہ ہیں۔ حالانکہ گواہ تو الله ہی کافی ہے۔ (166-4)

رسول ایمان لایا اس پر جو اس کے رب کی طرف سے اس کی طرف نازل ہوا اور مومن بھی۔ سب الله پر اور اس کے فرشتوں پر اور اس کی کتابوں پر اور اس کے رسولوں پر ایمان رکھتے ہیں۔ اس کے رسولوں میں سے کسی ایک کے درمیان فرق نہیں کرتے اور وہ کہتے ہیں کہ؛ ہم نے سنا اور اطاعت کی۔ اے ہمارے رب! ہم تیری بخشش مانگتے ہیں اور تیری ہی طرف لوٹ کر جانا ہے۔ (285-2)

نیکی یہی نہیں ہے کہ تم اپنے چہرے مشرق کی طرف یا مغرب کی طرف کرلو بلکہ نیکی یہ ہے کہ الله پر اور آخرت کے دن پر اور فرشتوں پر اور کتاب پر اور نبیوں پر ایمان لاؤ۔ اور اس کی محبت میں قربت والے لوگوں کو اور یتیموں کو اور مسکینوں کو اور مسافروں کو مال دو۔ اور مانگنے والوں پر اور گردنوں کے چھڑانے میں خرچ کرو۔ اور نماز قائم کرو اور زکوٰۃ دو۔ اور جب عہد کرلو تو اس کو پورا کرو۔ اور تنگدستی میں اور جسمانی تکلیف میں اور معرکہ کارزار کے وقت صبر کرو۔ یہی صادق لوگ ہیں۔ اور یہی متقی لوگ ہیں۔ (177-2)

اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! ایمان لاؤ الله پر اور اس کے رسول پر اور اس کتاب پر جو اس نے اپنے رسول پر نازل کی ہے اور اس کتاب پر جو اس سے پہلے نازل کی اور جس نے انکار کیا الله کا اور اس کے فرشتوں کا اور اس کی کتابوں کا اور اس کے رسولوں کا اور آخرت کے دن کا تو وہ بھٹک کر گمراہی میں بہت دور نکل گیا۔ (136-4)

وہ لوگ جنہوں نے کہا کہ ہمارا رب الله ہے پھر اس پر قائم رہے ان پر فرشتے نازل ہوتے ہیں کہ نہ خوف کرو اور نہ غم کرو اور خوش ہو جاؤ اس جنت کی بشارت سے جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا۔ (30-41) ہم دنیا کی زندگی میں بھی تمہارے سرپرست تھے اور آخرت میں بھی ہوں گے اور تمہیں وہاں ہر وہ چیز ملے گی جس کو تمہارا نفس چاہے گا اور تمہیں وہاں ہر وہ چیز ملے گی جو تم طلب کرو گے۔ (31-41)

یہ مہمان نوازی اس ہستی کی طرف سے ہوگی جو غفور اور رحیم ہے۔ (32-41) اور تم فرشتوں کو دیکھو گے کہ عرش کے گرد گھیرا باندھے ہوئے ہوں گے اور اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کر رہے ہوں گے اور لوگوں کے درمیان حق کے ساتھ فیصلہ کردیا جائے گا اور کہا جائے گا کہ الله ہی کے لیے حمد ہے جو رَبِّ الْعَالَمِين ہے الرَّحْمـن ہے الرَّحِيم ہے۔ (75-39)

وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا اور مر گئے وہ کافر ہیں یہی لوگ ہیں کہ ان پر الله کی اور فرشتوں کی اور انسانوں کی سب کی لعنت ہے۔(161-2) اور کاش تم دیکھو جب فرشتے کافروں کی جانیں نکالتے ہیں اور ان کے چہروں پر اور کولہوں پر ضربیں لگاتے ہیں اور کہتے جاتے ہیں کہ اب مزہ چکھو عَذَابَ الْحَرِيق کا۔ (50-8) یہ اس وجہ سے ہے جو تم نے اپنے ہاتھوں سے آگے بھیجا تھا اور بیشک الله اپنے بندوں پر ظلم کرنے والا نہیں ہے۔ (51-8)

وہ جن کی فرشتے اس حالت میں جان نکالتے ہیں کہ وہ اپنے نفس پر ظلم کر رہے تھے تو وہ فورا” مطیع ومنقاد ہوجاتے ہیں اور انہیں کہتے ہیں کہ ہم کوئی برا کام نہیں کرتے تھے۔ کیوں نہیں یقینا” اللہ کو علم ہے جو کچھ تم کیا کرتے تھے۔ (28-16) سو اب جہنم کے دروازوں میں داخل ہوجاؤ۔ ہمیشہ اس میں رہو گے۔ سو تکبر کرنے والوں کے لیے بہت ہی برا ٹھکانا ہے۔ (29-16)

جس دن یہ فرشتوں کو دیکھیں گے اس دن مجرموں کے لیے کوئی بشارت نہیں ہوگی اور وہ کہیں گے کہ کاش تم روک لیے جاؤ۔ (22-25) کیا لوگ انتظار کر رہے ہیں کہ خود اللہ بادلوں کے سائے میں سے ان کے پاس آجائے اور فرشتے بھی اور معاملے کا فیصلہ کردیا جائے؟ الله ہی کی طرف سارے معاملات واپس جاتے ہیں۔ (210-2)

شب قدر ہزار مہینوں سے زیادہ خَيْر والی ہے۔ (3-97) اس میں فرشتے اور روح اپنے رب کی اجازت سے اس کے تمام احکامات میں سے لے کر نازل ہوتے ہیں۔ (4-97) فرشتے اور روح اس کے حضور چڑھ کر جاتے ہیں ایک ایسے دن میں جس کی مقدار پچاس ہزار سال ہے۔ (4-70)

سو صبر کرو صبر کرنا بہت اچھا ہے۔ (5-70) وہ اسے دور دیکھتے ہیں۔ (6-70) اور ہم اسے قریب دیکھ رہے ہیں۔ (7-70) ہم فرشتوں کو حق کے ساتھ نازل کیا کرتے ہیں پھر اس کے بعد کسی کو مناظرے کی اجازت نہیں دی جاتی۔ (8-15)

جب تمہارا رب فرشتوں کی طرف وحی کر رہا تھا کہ میں تمہارے ساتھ ہوں لہٰذا تم ان کو ثابت قدم رکھو جو ایمان والے ہیں۔ میں ابھی ان کے دلوں میں رعب ڈالے دیتا ہوں جو کفر والے ہیں۔ سو تم ان کی گردنوں پر ضرب لگاؤ اور ان کے جوڑ جوڑ پر ضرب لگاؤ۔ (12-8) یہ اس لیے کہ انہوں نے الله کے اور اس کے رسول کے ساتھ جھگڑا کیا اور جو الله کے اور اس کے رسول کے ساتھ جھگڑا کرتا ہے تو الله شَدِيدُ الْعِقَاب ہے۔ (13-8)

جب تم اپنے رب سے مدد کے لیے فریاد کر رہے تھے تو اس نے تم کو جواب دیا کہ میں تم کو فرشتوں میں سے ایک ہزار کے ساتھ مدد دوں گا جو ایک دوسرے کے پیچھے لگاتار آتے جائیں گے۔ (9-8) اور الله نے اس کو تمہارے لیے صرف بشارت بنایا تاکہ تمہارے دل اس سے مطمئن ہو جائیں ورنہ فتح تو الله کی طرف سے ہی ہے۔ الله الْعَزِيزِ الْحَكِيم ہے۔(10-8)

بلاشبہ الله نے جنگِ بدر میں بھی تمہاری مدد کی تھی حالانکہ اس وقت تم کمزور تھے سو الله سے ڈرو تاکہ تم شکر ادا کر سکو۔ (123-3) جب تم مومنوں سے کہہ رہے تھے کہ؛ کیا تمہارے لیے یہ کافی نہیں کہ تمہارا رب تم کو مدد دے فرشتوں میں سے تین ہزار کے ساتھ جو تمہارے لیے نازل کردیے جائیں؟ (124-3)

ہاں اگر تم صبر کرو اور تقویٰ اختیار کرو اور دشمن تم پر چاروں طرف سے آپہنچیں تو تمہارا رب تم کو مدد دے گا فرشتوں میں سے پانچ ہزار کے ساتھ جن پر نشان لگے ہوں گے۔ (125-3) اور الله نے اس کو تمہارے لیے صرف بشارت بنایا تاکہ تمہارے دل اس سے مطمئن ہو جائیں ورنہ فتح تو الله الْعَزِيزِ الْحَكِيم کی طرف سے ہی ہے۔(126-3)

الله ہی کے آگے سجدہ کرتے ہیں جو آسمانوں میں ہیں اور جو زمین میں ہیں جانداروں میں سے اور فرشتے بھی اور وہ تکبر نہیں کرتے۔(49-16) اور رعد بھی اور فرشتے بھی اس سے خوف کرتے ہوئے اس کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کرتے ہیں اور وہی بجلیاں بھیجتا ہے پھر جس پر چاہتا ہے ان کو گراتا ہے اور وہ الله کے بارے میں جھگڑا کرتے ہیں حالانکہ وہ بہت زیادہ قوت کا مالک ہے۔ (13-13)

الله کا اور اس کے فرشتوں کا اور اس کے رسولوں کا اور جبرئیل کا اور میکائیل کا جو دشمن ہو تو ایسے کافروں کا الله بھی دشمن ہے۔(98-2) ان لوگوں کی سزا یہ ہے کہ ان پر الله کی اور فرشتوں کی اور انسانوں کی سب کی لعنت ہو۔(87-3)

ہم نے اس قرآن میں انسانوں کے لیے طرح طرح کی مثالیں بیان کی ہیں لیکن اکثر انسانوں نے ماننے سے انکار کردیا (89-17) اور کہتے ہیں کہ ہم تمہاری بات نہیں مانیں گے جب تک تم ہمارے لیے زمین سے چشمہ نہ بہا دو (90-17) یا تمہارے پاس کھجوروں اور انگوروں کے باغ ہوں جن کے بیچوں بیچ تم نہریں رواں کردو (91-17) یا تم آسمان کو ہمارے اوپر ٹکڑے ٹکڑے کرکے گرادو جیسا کہ تمہارا دعویٰ ہے یا تم الله کو اور فرشتوں کو ہمارے سامنے لے آؤ (92-17) یا تمہارے لیے سونے کا گھر ہو یا تم آسمان پر چڑھ جاؤ مگر ہم تیرے چڑھنے کو بھی نہ مانیں گے جب تک تم ہم پر ایک کتاب اتار کر نہ لے آؤ جسے ہم خود پڑھیں۔ کہو پاک ہے میرا رب ! کیا میں پیغام پہنچانے والے بشر کے سوا بھی کچھ ہوں؟ (93-17)

اس سے بڑا ظالم کون ہے جو الله پر جھوٹا بہتان باندھے یا یہ کہے کہ مجھ پر وحی آتی ہے جبکہ اس پر کوئی چیز بھی وحی نہ کی گئی ہو اور جو کہے کہ میں بھی نازل کروں گا اس کے مثل جو الله نے نازل کیا ہے اور کاش تم دیکھ سکو جب ظالم لوگ سکراتِ موت میں ڈبکیاں کھا رہے ہوتے ہیں اور فرشتے ہاتھ بڑھا رہے ہوتے ہیں کہ نکالو اپنی جانیں۔ آج تم کو عَذَابَ الْهُون دیا جائے گا اس کے پاداش میں جو تم الله کے بارے میں ناحق باتیں کہتے تھے اور تم اس کی آیتوں کے مقابلے میں تکبر کرتے تھے۔ (93-6)

کیا لوگ انتظار کر رہے ہیں کہ فرشتے ان کے پاس آجائیں یا تیرے رب کا امر آجائے؟ اسی طرح ان لوگوں نے بھی کیا تھا جو ان سے پہلے تھے اور الله نے ان پر ظلم نہیں کیا لیکن وہ خود اپنے نفسوں پر ظلم کرتے تھے۔ (33-16) اور جب ان کے پاس ہدایت آئی تو انسانوں کو ایمان لانے سے منع نہیں کیا سوائے ان کے اس قول نے کہ کیا اللہ نے بشر کو رسول بنا کر بھیجا ہے؟ (94-17) تم ہمارے پاس فرشتوں کو کیوں نہیں لے آتے اگر تم صادق لوگوں میں سے ہو۔ (7-15) کہو اگر زمین پر فرشتے اطمینان کے ساتھ چل پھر رہے ہوتے تو ہم ان کے لیے آسمان سے فرشتے کو رسول بنا کر نازل کرتے۔ (95-17)

یہ لوگ الله کی بڑی سخت سخت قسمیں کھاتے ہیں کہ اگر ان کے پاس کوئی نشانی آئے تو وہ اس پر ضرور ایمان لے آئیں گے۔ کہو کہ نشانیاں تو سب الله ہی کے اختیار میں ہیں اور تمہیں کیا معلوم ہے کہ وہ نشانیاں اگر آبھی جائیں تب بھی یہ ایمان نہ لائیں (109-6) اور ہم ان کے دلوں کو اور نگاہوں کو پھیر دیں اسی طرح جیسے یہ ان نشانیوں پر پہلی مرتبہ ایمان نہیں لائے تھے اور ہم ان کو چھوڑ دیں کہ اپنی سرکشی میں بھٹکتے رہیں (110-6) اور اگر ہم ان پر فرشتے بھی نازل کر دیتے اور ان سے مردے باتیں کرتے اور ان کے لیے ہر چیز ان کے سامنے جمع کر دیتے تب بھی یہ لوگ ایمان لانے والے نہ تھے مگر یہ کہ چاہتا الله لیکن ان میں اکثر جہالت کی باتیں کرتے ہیں۔ (111-6)

قریب ہے کہ آسمان اوپر کی طرف سے پھٹ پڑیں حالانکہ فرشتے اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کرتے رہتے ہیں اور ان کے لیے معافی مانگتے رہتے ہیں جو زمین میں ہیں۔ بیشک اللہ ہی الْغَفُورُ الرَّحِيم ہے (5-42) اور جن لوگوں نے اس کے سوا سرپرست بنا رکھے ہیں الله ان پر حَفِيظ ہے اور تم پر ان کی ذمہ داری نہیں ہے۔ (6-42) اور جس دن آسمان پھٹ جائے گا اور ایک بادل نمودار ہوگا اور فرشتے کثرت کے ساتھ نازل کئے جائیں گے (25-25) اس دن بادشاہی حق کے ساتھ رحمٰن کی ہوگی اور وہ دن کافروں پر بہت سخت ہوگا (26-25) اور جس دن ظالم اپنے ہاتھ چبائے گا اور کہے گا کہ کاش میں رسول کے ساتھ راہ پر لگ جاتا (27-25) ہائے میری بدبختی کاش میں نے فلاں شخص کو دوست نہ بنایا ہوتا (28-25) یقینا” اس نے مجھے نصیحت سے بہکا دیا اس کے بعد بھی کہ وہ میرے پاس آگئی تھی اور شیطان انسان کو ذلیل کرنے والا ہے۔ (29-25)

اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! اپنے نفس کو اور اپنے اہل و عیال کو اس آگ سے بچاؤ جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہیں اور اس پر تند خو اور سخت مزاج فرشتے ہیں جو اس حکم کے بجا لانے میں الله کی نافرمانی نہیں کرتے جو وہ انہیں دے اور وہ وہی فعل کرتے ہیں جس کا انہیں حکم دیا جاتا ہے۔ (6-66)

ہم نے دوزخ کے داروغے فرشتے ہی بنائے ہیں اور ہم نے ان کی تعداد کو ان کے لیے آزمائش بنایا ہے جو کافر ہیں تاکہ وہ لوگ جنہیں کتاب دی گئی تھی اس کا یقین کرلیں اور وہ لوگ جو ایمان لائے ہیں ان کا ایمان زیادہ ہو اور وہ لوگ جنہیں کتاب دی گئی تھی اور جو مومن ہیں غیر یقینی میں نہ رہیں اور وہ لوگ جن کے دلوں میں مرض ہے اور جو کافر ہیں وہ کہیں گے کہ؛ اس مثال سے الله کا ارادہ کیا ہے؟ اسی طرح الله جسے چاہتا ہے گمراہ کردیتا ہے اور جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے۔ اور تیرے رب کے لشکروں کو اس کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ اور یہ تو بشر کے لیے صرف ایک نصیحت ہے۔ (31-74)

کیا لوگ انتظار کر رہے ہیں کہ فرشتے ان کے پاس آجائیں یا تیرا رب آجائے یا تیرے رب کی کوئی نشانی آجائے؟ جس دن تیرے رب کی کوئی نشانی آ جائے گی تو کسی نفس کو اس کا ایمان لانا نفع نہ دے گا جو اس سے پہلے ایمان نہ لایا ہو اور اس نے اپنے ایمان کی حالت میں کوئی خَيْر والا کسب نہ کیا ہو۔ ان سے کہو کہ تم بھی انتظار کرو ہم بھی انتظار کرتے ہیں۔(158-6)

وہ لوگ جنہوں نے اپنے دین کو فرقہ فرقہ کردیا اور کئی گروہ بن گئے تمہیں ان سے کوئی واسطہ نہیں ہے ان کا معاملہ الله کے حوالے ہے سو وہی ان کو بتائے گا کہ وہ کیا فعل کرتے رہے۔ (159-6) ہم نے ہر ایک فرقے کے لیے ان کے اعمال کو خوشنما بنا دیا ہے۔ پھر ان سب کو اپنے رب کی طرف لوٹ کر جانا ہے تب وہ ان کو بتائے گا جو عمل وہ کیا کرتے تھے۔ (108-6) جس دن روح اور فرشتے صف باندھ کر کھڑے ہوں گے تو کوئی بول نہ سکے گا سوائے اس کے جسے رحمٰن اجازت دے اور وہ ٹھیک ٹھیک بات کہے۔ (38-78)

جو الله سے کیے گئے عہد کو پورا کرتے ہیں اور میثاق کو نہیں توڑتے (20-13) اور جو اللہ کے اس حکم کو ملاتے ہیں جو اس نے ملانے کا دیا ہے اور اپنے رب سے ڈرتے رہتے ہیں اور سُوءُ الْحِسَاب کا خوف رکھتے ہیں۔ (21-13) اور جو اپنے رب کی خوشنودی حاصل کرنے کے واسطے صبر کرتے ہیں اور نماز قائم کرتے ہیں اور جو رزق ہم نے ان کو دیا ہے اس میں سے پوشیدہ اور اعلانیہ خرچ کرتے ہیں اور السَّيِّئَة کو الْحَسَنَة سے دور کرتے ہیں یہی وہ لوگ ہیں جن کے لیے آخرت کا گھر ہے۔ (22-13) ان کے ہمیشہ رہنے کے لیے جنت ہے جس میں وہ داخل ہوں گے اور وہ بھی جو ان کے آباؤ اجداد میں سے اور بیویوں میں سے اور اولاد میں سے صالح ہوں گے اور فرشتے سب دروازوں سے داخل ہوکر ان کے پاس آئیں گے (23-13) اور کہیں گے سَلاَمٌ عَلَيْكُم ! تم نے جو صبر کیا اس کی وجہ سے تم کو کیا خوب آخرت کا گھر ملا ہے۔ (24-13)

یہ وہ لوگ ہیں جن کی فرشتے اس حالت میں جان نکالتے ہیں کہ وہ پاک ہوتے ہیں۔ ان سے کہتے ہیں سَلامٌ عَلَيْكُم ! داخل ہو جاؤ جنت میں ان اعمال کے بدلے میں جو تم کیا کرتے تھے۔ (32-16) وہ انتہائی گھبراہٹ میں بھی غمگین نہ ہوں گے اور ان کو فرشتے لینے آئیں گے کہ یہ تمہارا وہ دن ہے جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا۔ (103-21)

وہ لوگ جو آخرت پر ایمان نہیں لاتے وہ فرشتوں کے نام عورتوں کے نام جیسے رکھتے ہیں۔ (27-53) حالانکہ انہیں اس کے بارے میں کچھ بھی علم نہیں ہے۔ وہ صرف گمان کی پیروی کرتے ہیں اور بلاشبہ حق کی جگہ گمان ذرا بھی کام نہیں دے سکتا۔ (28-53) اور انہوں نے فرشتوں کو عورتیں بنا دیا ہے جو کہ الله کے بندے ہیں۔ کیا یہ ان کی تخلیق کے گواہ ہیں؟ ان کی گواہی لکھ لی جائے گی اور ان سے پوچھا جائے گا۔ (19-43)

کیا تمہارے رب نے تم کو بیٹوں سے نوازا ہے اور اپنے لیے فرشتوں میں سے بیٹیاں اخذ کرلی ہیں؟ تم جو قول کرتے ہو وہ تم پر بہت بڑا قول ہے۔ (40-17) سو ان سے پوچھو کہ؛ کیا تیرے رب کے لیے بیٹیاں ہیں اور ان کے لیے بیٹے ہیں؟(149-37) کیا ہم نے فرشتوں کو عورتیں خلق کیا ہے اور یہ اس بات کے گواہ ہیں؟(150-37) یہ ان کی باطل باتوں میں سے ہے جو یہ کہتے ہیں (151-37) کہ الله کے اولاد ہے اور یہ جھوٹے ہیں۔ (152-37)

ہم نے نوح کو اس کی قوم کی طرف بھیجا تو اس نے کہا کہ؛ اے میری قوم ! الله کی عبادت کرو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں ہے۔ کیا تم ڈرتے نہیں ہو؟ (23-23) تو اس کی قوم میں سے ان سرداروں نے کہا جو کفر والے تھے کہ؛ یہ تو صرف تم ہی جیسا ایک بشر ہے۔ اس کا ارادہ ہے کہ تم پر فضیلت حاصل کرلے۔ اگر الله چاہتا تو فرشتوں کو نازل کرتا۔ ہم نے یہ بات اپنے اگلے اباؤ اجداد میں نہیں سنی۔ (24-23)

جو ہمارے سامنے پیش ہونے کا اندیشہ نہیں رکھتے وہ لوگ کہتے ہیں کہ ہم پر فرشتے کیوں نہ نازل کئے گئے یا ہم اپنے رب کو دیکھتے۔ درحقیقت یہ اپنے نفس میں تکبر کر رہے ہیں اور سرکشی کر رہے ہیں بہت بڑی سرکشی۔ (21-25) جب رسول ان کے پاس ان کے آگے سے اور ان کے پیچھے سے آئے کہ الله کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہمارا رب چاہتا تو فرشتے نازل کر دیتا لہٰذا جو تم کو دے کر بھیجا گیا ہے ہم اس کا انکار کرتے ہیں۔ (14-41)

ہم نے موسیٰ کو اپنی نشانیاں دے کر فرعون اور اس کے درباریوں کی طرف بھیجا تو اس نے کہا کہ میں رَبِّ الْعَالَمِين کا بھیجا ہوا رسول ہوں۔ (46-43) لیکن جب وہ ان کے پاس ہماری نشانیاں لایا تو وہ ان کا مذاق اڑانے لگے۔ (47-43) اور جو نشانی ہم ان کو دکھاتے تھے وہ پہلی سے بڑی ہوتی تھی اور ہم نے ان کو عذاب میں ڈال دیا تاکہ وہ اپنی روش سے باز آجائیں (48-43) اور وہ کہتے کہ اے جادوگر ! ہمارے لیے اپنے رب سے دعا کرو اس منصب کی بنا پر جو اس کی طرف سے تم کو حاصل ہے تو ہم ہدایت یاب ہو جائیں گے۔ (49-43) سو جب ہم ان سے عذاب کو ہٹا دیتے تو وہ اپنے عہد سے پھر جاتے۔ (50-43) اور فرعون نے اپنی قوم میں منادی کروا کر کہا کہ اے قوم ! کیا مصر پر اور ان نہروں پر جو نیچے سے بہہ رہی ہیں میری حکومت نہیں ہے؟ کیا تم دیکھتے نہیں؟ (51-43) بیشک میں بہتر ہوں اس سے جو حقیر ہے اور صاف گفتگو بھی نہیں کرسکتا۔ (52-43) آخر اس پر سونے کے کنگن کیوں نہ اُتارے گئے یا فرشتے اس کے ساتھ کیوں نہ آئے؟ (53-43) سو اس نے اپنی قوم کو بیوقوف بنایا اور وہ اس کے کہنے میں آگئے۔ وہ لوگ تھے ہی فاسق قوم۔ (54-43)

کیا تم نے بنی اسرائیل کے ان سرداروں کو نہیں دیکھا جنہوں نے موسیٰ کے بعد اپنے ایک نبی سے کہا کہ آپ ہمارے لیے ایک بادشاہ مقرر کردیں تاکہ ہم الله کی راہ میں جنگ کریں۔ نبی نے کہا کہ؛ کیا تم ایسا تو نہیں کروگے کہ تم پر جنگ کرنا لکھ دیا جائے تو تم جنگ نہ لڑو؟ وہ کہنے لگے کہ؛ بھلا ہم الله کی راہ میں جنگ کیوں نہ لڑیں گے؟ جبکہ ہمیں ہمارے وطن سے اور ہمارے بچوں سے باہر کردیا گیا ہے۔ لیکن جب ان پر جنگ کرنا لکھ دیا گیا تو ان میں سے چند اشخاص کے سوا سب پھر گئے اور الله کو ظالموں کے بارے میں معلوم ہے۔ (246-2) اور ان سے ان کے نبی نے کہا کہ؛ الله نے تم پر طالوت کو بادشاہ مقرر کیا ہے۔ وہ بولے کہ؛ وہ ہم پر بادشاہ کیونکر ہوسکتا ہے؟ جبکہ ہم اس سے زیادہ بادشاہی کے حقدار ہیں۔ کیونکہ اسے مالی صلاحیت نہیں دی گئی ہے۔ نبی نے کہا کہ؛ الله نے تم پر اسے منتخب کرلیا ہے اور اس کو علم میں فراوانی اور جسمانی طاقت زیادہ عطا کی ہے اور الله اپنا ملک جس کو چاہتا ہے عطا کرتا ہے اور اللہ وَاسِعٌ عَلِيم ہے۔ (247-2) اور ان کے نبی نے ان سے کہا کہ؛ اس کی بادشاہی کی نشانی یہ ہے کہ تمہارے پاس ایک صندوق آئے گا جس میں تمہارے رب کی طرف سے تسکین ہوگی اور کچھ بچی ہوئی چیزیں جو آلِ موسیٰ اور آلِ ہارون نے چھوڑی ہیں جسے فرشتے اٹھائے ہوئے ہوں گے۔ اگر تم مُّؤْمِنِين ہو تو اس میں تمہارے لیے ایک بڑی نشانی ہے۔ (248-2)

جب عمران کی بیوی نے کہا کہ اے میرے رب ! جو میرے پیٹ میں ہے میں اس کو تیری نذر کرتی ہوں اسے دنیا کے کاموں سے آزاد رکھوں گی سو مجھ سے قبول فرما۔ بیشک تو السَّمِيعُ الْعَلِيم ہے۔ (35-3) پھر جب اس کے ہاں بچہ پیدا ہوا تو بولی کہ اے میرے رب ! میرے ہاں تو لڑکی پیدا ہوئی ہے۔ جبکہ اللہ کو علم تھا کہ اس نے کیا جنا ہے۔ کوئی مرد عورت جیسا نہیں ہوتا اس لیے میں نے اس کا نام مریم رکھا ہے اور میں اسے اور اس کی اولاد کو الشَّيْطَانِ الرَّجِيم سے تیری پناہ میں دیتی ہوں۔ (36-3) سو اس کے رب نے اس کو قبول کرلیا اور قبول بھی احسن طریقے سے کیا اور اسے احسن انداز میں پروان چڑھایا اور زکریا کو اس کا کفیل بنا دیا۔ زکریا جب بھی محراب میں اس کے پاس جاتے تو اس کے پاس کھانے پینے کا سامان موجود پاتے۔ زکریا نے کہا اے مریم ! یہ تیرے پاس کہاں سے آتا ہے؟ وہ بولیں کہ یہ الله کے ہاں سے ہے۔ بیشک الله جسے چاہے بے حساب رزق دیتا ہے۔ (37-3) اس موقعہ پر زکریا نے اپنے رب سے دعا کی۔ کہا کہ اے میرے رب ! مجھے اپنے ہاں سے طیب اولاد عطا کر۔ بیشک تو دعا سننے والا ہے۔ (38-3) وہ ابھی محراب میں صلاۃ قائم کیے ہوئے تھا کہ فرشتوں نے اسے ندا دی کہ الله تم کو یحییٰ کی بشارت دیتا ہے جو اللہ کے کلمات کی تصدیق کرے گا اور سردار ہوگا اور پاک دامن ہوگا اور الصَّالِحِين میں سے نبی ہوگا۔(39-3) زکریا نے کہا اے میرے رب ! میرے ہاں لڑکا کیونکر پیدا ہوگا جبکہ میں بوڑھا ہوچکا ہوں اور میری بیوی بانجھ ہے؟ فرمایا الله اسی طرح فعل کرتا ہے جو وہ چاہتا ہے۔ (40-3)

جب فرشتوں نے کہا کہ اے مریم ! الله تم کو اپنی طرف سے ایک کلمہ کی بشارت دیتا ہے جس کا نام الْمَسِيحُ عِيسَى ابْنُ مَرْيَم ہوگا جو دنیا میں اور آخرت میں وجاہت والا اور الْمُقَرَّبِين میں سے ہوگا۔ (45-3) اور گہوارے میں بھی اور بڑی عمر میں بھی انسانوں سے گفتگو کرے گا اور الصَّالِحِين میں سے ہوگا۔ (46-3) مریم نے کہا کہ میرے رب ! میرے ہاں بچہ کیونکر ہوگا جبکہ کسی بشر نے مجھے ہاتھ تک نہیں لگایا۔ کہا کہ الله اسی طرح خلق کرتا ہے جو چاہتا ہے۔ جب وہ کسی کام کا فیصلہ کرلیتا ہے تو وہ اسے کہتا ہے کہ ہوجا تو وہ ہو جاتا ہے۔ (47-3) فرشتوں نے کہا کہ اے مریم ! الله نے تم کو منتخب کرلیا ہے اور تمہیں پاک کردیا ہے اور تم کو سارے جہان کی عورتوں پر منتخب کرلیا ہے۔ (42-3) اے مریم ! اپنے رب کی فرمانبرداری کرو اور سجدہ کرو اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرو۔ (43-3)

کسی بشر کو زیب نہیں دیتا کہ الله اسے کتاب اور حکمت اور نبوت دے تو وہ انسانوں سے کہے کہ الله کو چھوڑ کر تم میرے بندے بن جاؤ بلکہ وہ کہے گا کہ تم رب کے بندے بن جاؤ کیونکہ تم کتاب کی تعلیم لیتے ہو اور تم اس کا درس بھی دیتے ہو۔ (79-3) اور نہ وہ تم کو حکم دے گا کہ تم فرشتوں کو اور نبیوں کو اپنا رب بنالو۔ کیا وہ تم کو کفر کا حکم دے گا اس کے بعد کہ تم مسلمان ہو چکے ہو؟ (80-3)

مسیح کے لیے یہ بات ہرگز باعثِ عار نہیں کہ وہ الله کا بندہ ہو اور نہ مقرب فرشتوں کے لیے اور جس نے الله کی عبادت کرنے کو باعثِ عار سمجھا اور تکبر کیا تو ان سب کو اپنے پاس اکٹھا کرے گا۔ (172-4) اور جب مریم کے بیٹے کی مثال دی گئی تو تمہاری قوم کے لوگ اس سے چِلا اُٹھے (57-43) اور کہنے لگے کہ بھلا ہمارے معبود اچھے ہیں یا وہ؟ انہوں نے جو مثال بیان کی ہے تو صرف جھگڑنے کو۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ ہیں ہی جھگڑالو۔ (58-43) وہ تو ہمارا ایسا بندہ تھا جن پر ہم نے انعام کیا تھا اور اسے بنی اسرائیل کے لیے مثال بنایا تھا۔ (59-43) اور اگر ہم چاہتے تو تم ہی میں سے فرشتے بنا دیتے جو زمین میں خلیفہ ہوتے۔ (60-43)

جب تیرے رب نے فرشتوں سے کہا کہ میں مٹی سے بشر تخلیق کرنے والا ہوں (71-38) جب میں اسے مکمل کردوں اور اس میں اپنی روح میں سے پھونک دوں تو تم اسکے آگے سجدہ کرتے ہوئے مسجود ہو جانا۔ (72-38) سب کے سب فرشتوں نے سجدہ کیا (73-38) سوائے ابلیس کے۔ اس نے تکبر کیا اور کافروں میں سے ہوگیا۔ (74-38)

جب تیرے رب نے فرشتوں سے کہا کہ میں کھنکھناتے سڑے گارے سے بشر تخلیق کرنے والا ہوں (28-15) جب میں اسے مکمل کردوں اور اس میں اپنی روح میں سے پھونک دوں تو تم اسکے آگے سجدہ کرتے ہوئے مسجود ہو جانا (29-15) تو سب کے سب فرشتے مسجود ہو گئے (30-15) سوائے ابلیس کے۔ اس نے سجدہ کرنے والوں میں شامل ہونے سے انکار کر دیا۔ (31-15)

بیشک ہم نے تمہاری تخلیق کی پھر تمہاری شکل و صورت بنائی پھر فرشتوں سے ہم نے کہا تھا کہ آدم کو سجدہ کرو تو سب نے سجدہ کیا سوائے ابلیس کے۔ وہ سجدہ کرنے والوں میں شامل نہ تھا۔ (11-7)

جب تیرے رب نے فرشتوں سے کہا کہ میں زمین میں خلیفہ بنانے والا ہوں تو انہوں نے کہا کہ کیا تو زمین میں اس کو مقرر کرے گا جو اس میں فساد برپا کرے گا اور کشت و خون کرے گا جبکہ ہم حمد کے ساتھ تیری تسبیح کرتے ہیں اور تیری تقدیس کرتے ہیں۔ اللہ نے فرمایا کہ میں وہ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے۔ (30-2) اس نے آدم کو سب اسماء سکھائے پھر اس کو فرشتوں کے سامنے پیش کیا اور فرمایا کہ اگر تم سچے ہو تو مجھے یہ اسماء بتاؤ۔ (31-2) انہوں نے کہا کہ تو پاک ہے۔ ہمیں علم نہیں مگر اسی قدر جتنا تو نے ہمیں سکھایا۔ بیشک تو ہی الْعَلِيم اور الْحَكِيم ہے۔ (32-2) الله نے فرمایا کہ اے آدم ! تم ان کو یہ اسماء بتاؤ۔ پھر جب آدم نے ان کو یہ اسماء بتادیے تو اللہ نے فرمایا کہ کیا میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ بیشک میں ہی جانتا ہوں آسمانوں کے اور زمین کے سب راز اور جانتا ہوں جو تم ظاہر کرتے ہو اور وہ بھی جو تم پوشیدہ کرتے ہو۔ (33-2)

جب ہم نے فرشتوں سے کہا تھا کہ آدم کو سجدہ کرو تو سب نے سجدہ کیا سوائے ابلیس کے۔ اس نے انکار کیا اور تکبر کیا اور وہ تھا ہی کافروں میں سے۔ (34-2) جب ہم نے فرشتوں سے کہا تھا کہ آدم کو سجدہ کرو تو سب نے سجدہ کیا سوائے ابلیس کے۔ اس نے کہا کہ کیا میں سجدہ کروں اس کو جسے تونے مٹی سے تخلیق کیا ہے؟ (61-17) کہنے لگا کہ آپ اسے دیکھیں جس کو آپ نے مجھ پر فضیلت دی ہے؟ اگر يَوْمِ الْقِيَامَة تک مجھے مہلت دیں تو میں تھوڑے سے لوگوں کے سوا اسکی اولاد کو قابو میں کرلوں گا۔ (62-17) الله نے فرمایا ! جا۔ جو ان میں سے تیری پیروی کرے گا تو تمہاری جزا جہنم ہی ہوگی بھرپور جزا۔ (63-17) اور ان میں سے جس کو بہکا سکے اپنی آواز سے بہکاتا رہ اور ان پر اپنے سواروں اور پیادوں کو چڑھا کر لاتا رہ اور ان کے مال اور اولاد میں شریک ہوتا رہ اور ان سے وعدے کرتا رہ اور شیطان لوگوں سے صرف دھوکے کے وعدے کرتا ہے۔ (64-17) جو میرے بندے ہیں ان پر تیرا اختیار نہیں چلے گا اور ان کے لیے تیرے رب کا وکیل ہونا کافی ہے۔ (65-17)

جب ہم نے فرشتوں سے کہا تھا کہ آدم کو سجدہ کرو تو سب نے سجدہ کیا سوائے ابلیس کے۔ اس نے انکار کیا (116-20) تو ہم نے کہا تھا کہ اے آدم ! یہ تیرا اور تیری بیوی کا دشمن ہے سو تمہیں جنت سے نکلوا نہ دے اور تم مشقت میں پڑجاؤ۔ (117-20) جبکہ یہاں تم نہ بھوکے رہتے ہو نہ ننگے رہتے ہو (118-20) اور یہ بھی کہ یہاں تم نہ پیاسے رہتے ہو اور نہ دھوپ ستاتی ہے۔ (119-20) تو شیطان نے اس کو پھسلا دیا کہا کہ اے آدم ! کیا میں تمہیں ایسا درخت بتاؤں جس سے ہمیشہ رہنے والی اور کبھی زائل نہ ہونے والی سلطنت ملتی ہے۔ (120-20) تو انہوں نے اس میں سے کھا لیا تو ان کے سامنے ان کے ستر کھل گئے اور وہ اپنے آپ کو جنت کے پتوں سے ڈھانکنے لگے چونکہ آدم نے اپنے رب کی نافرمانی کی اس لیے بھٹک گیا۔ (121-20)

جب ہم نے فرشتوں سے کہا تھا کہ آدم کو سجدہ کرو تو سب نے سجدہ کیا سوائے ابلیس کے۔ وہ جِنّات میں سے تھا اس نے اپنے رب کے حکم کی نافرمانی کی۔ کیا تم اس کو اور اس کی نسل کو میرے سوا اپنا سرپرست بناتے ہو؟ حالانکہ وہ تمہارے دشمن ہیں۔ ظالموں کے لیے یہ بہت ہی برا بدل ہے۔ (50-18) بیشک وہ لوگ کہ جن کی فرشتے اس حال میں جان نکالیں گے کہ وہ اپنے نفسوں پر ظلم کر رہے تھے تو ان سے کہیں گے کہ تم کیا کرتے رہے؟ وہ کہیں گے کہ ہم اپنی سر زمین میں کمزور تھے۔ فرشتے کہیں گے کہ کیا الله کی زمین وسیع نہیں تھی کہ تم اس میں ہجرت کر جاتے۔ سو یہی وہ لوگ ہیں کہ ان کا ٹھکانہ جہنم ہے اور وہ بہت بری جگہ ہے۔ (97-4)

پھر کیا حال ہوگا اس وقت جب فرشتے ان کے چہروں پر اور ان کے کولہوں پر ضربیں لگاتے ہوئے انکی جان نکالیں گے۔ (27-47) یہ اس لیے ہوگا کہ انہوں نے اس کی پیروی کی جو اللہ کو ناراض کرنے والا ہے اور انہوں نے اس کی رضا کا راستہ ناپسند کیا۔ سو اللہ نے ان کے سب اعمال ضائع کردیے۔ (28-47) اور جس دن وہ ان سب کو جمع کرے گا تو فرشتوں سے کہے گا کہ؛ کیا یہ لوگ تمہاری عبادت کرتے تھے؟(40-34) وہ کہیں گے تو پاک ہے تو ہی ہمارا سرپرست ہے۔ ہمارا ان سے کیا تعلق؟ بلکہ یہ جِنّات کی عبادت کیا کرتے تھے۔ ان میں سے اکثر ان کا کہا مانا کرتے تھے۔ (41-34)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *