
پنجاب کی تعلیمی اور سرکاری زبان پنجابی کردی جائے تو کیا ھوگا؟
تاریخ: 6 ستمبر 2025
پنجاب پر 650 سال تک فارسی مسلط رھی۔ آج پنجاب میں کہاں کہاں فارسی بولی اور سمجھی جاتی ھے؟
پنجاب کے شہروں ‘ قصبوں ‘ دیہاتوں ‘ زرعی کھیتوں ‘ کارخانوں ‘ بازاروں ‘ دکانوں ‘ بینکوں ‘ ڈاکخانوں ‘ عدالتوں ‘ تھانوں ‘ بس اڈوں ‘ ریلوے اسٹیشنوں ‘ ھوٹلوں میں پنجابی لوگ پنجابی زبان بولتے ھیں۔
لیکن پنجاب کی تعلیمی اور سرکاری زبان پنجابی نہیں بلکہ اردو ھے۔ پنجاب میں وفاقی ‘ صوبائی اور تعلیمی زبان کے طور پر سرکاری زبان اردو ھونے کی وجہ سے پنجابیوں کو اپنی دوسری زبان کے طور پر اردو بولنی پڑتی ھے۔
اگر پنجاب کے شہری علاقوں میں کوئی پنجابی اپنی دوسری زبان کے طور پر اردو بولتا ھے تو اس کا مطلب یہ نہیں ھے کہ؛
1۔ پنجابی ‘ پنجابی نہیں بول سکتا۔
2۔ پنجاب کے شہری علاقوں میں ھر پنجابی ‘ پنجابی کے علاوہ ثانوی زبان کے طور پر مزید ایک یا دو زبانیں بولنا بھی جانتا ھے۔
3۔ پنجاب میں اگر کوئی اپنی پہلی زبان کے طور پر پنجابی زبان بولنا نہیں جانتا ھے تو؛ وہ پنجاب کا رھائشی ھے لیکن پنجابی قوم کا فرد نہیں ھے۔
4۔ پنجاب میں پنجابی زبان کو روزی روٹی کے ساتھ جوڑ دیا جائے تو پھر؛ پنجاب میں صرف پنجابی ھی نہیں بلکہ یوپی ‘ سی پی کے گنگا جمنا کلچر والے اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر بھی پنجابی بولتے نظر آئیں گے۔
5۔ پنجاب کی تعلیمی اور سرکاری زبان پنجابی کردی جائے تو پھر؛ پنجاب میں سب صرف پنجابی زبان ھی بولتے نظر آئیں گے یا پھر International lingua franca ھونے کی وجہ سے انگریزی زبان استعمال ھوگی۔
Leave a Reply