Masood InsightMasood Insight

الله سے اور ایمان والوں سے دھوکہ بازی کرنے والے انسان

الله سے اور ایمان والوں سے دھوکہ بازی کرنے والے انسان

مُؤَلِّف : ڈاکٹر مسعود طارق

انسانوں میں سے کچھ ایسے ہیں جو کہتے ہیں کہ ہم الله پر اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتے ہیں حالانکہ وہ ایمان نہیں رکھتے۔ (8-2) یہ الله سے اور ایمان والوں سے دھوکہ بازی کر رہے ہیں جبکہ نہیں دھوکا دے رہے مگر اپنے ہی نفس کو لیکن انہیں اس کا شعور نہیں۔ (9-2) ان کے دلوں میں ایک مرض ہے۔ لہٰذا الله نے ان کا مرض مزید بڑھا دیا اور اس جھوٹ کے سبب جو وہ بولتے ہیں ان کے لیے عَذَابٌ أَلِيم ہے۔ (10-2)

ایسے لوگوں میں کونسی خامیاں ہوتی ہیں؟

جب ان سے کہا جاتا ہے کہ زمین میں فساد برپا نہ کرو تو کہتے ہیں کہ ہم ہی تو اصلاح کرنے والے ہیں۔(11-2) خبردار ! حقیقت میں یہی لوگ فساد برپا کرنے والے ہیں لیکن انہیں شعور نہیں۔ (12-2) اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ ایمان لاؤ جس طرح اور لوگ ایمان لائے تو کہتے ہیں کہ کیا ہم ایمان لائیں جس طرح بیوقوف ایمان لائے؟ خبردار ! حقیقت میں یہی لوگ بیوقوف ہیں لیکن انہیں علم نہیں۔(13-2) اور جب ایمان والوں سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے اور جب علیحدگی میں اپنے شیطانوں سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں ہم تو تمہارے ہی ساتھ ہیں اصل میں ہم تو ان کے ساتھ محض مذاق کر رہے ہیں۔ (14-2) جبکہ الله ان سے مذاق کر رہا ہے کہ انہیں مہلت دیے جا رہا ہے کہ وہ اپنی سرکشی میں اندھوں کی طرح بھٹک رہے ہیں۔ (15-2) یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے ہدایت کے بدلے میں گمراہی خریدی ہے تو نہ تو ان کی تجارت ہی نے نفع دیا اور نہ وہ ہدایت پانے والے ہوئے۔ (16-2)

ایسے لوگوں کو کیا کرنا چاہیے؟

اے بنی آدم ! ہر عبادت کے مقام پر تم اپنی زینت سے آراستہ رہو اور کھاؤ اور پیؤ لیکن اسراف نہ کرو کہ الله اسراف کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ (31-7) کہو کہ میرے رب نے تو حرام کیا ہے تمام فحش کاموں کو خواہ ظاہر ہوں یا پوشیدہ اور گناہ کو اور حق کے بغیر زیادتی کرنے کو اور یہ کہ تم ان کو الله کا شریک بناؤ جس کی اس نے کوئی سند نازل نہیں کی اور یہ کہ کہو تم الله کے بارے میں ایسی باتیں جن کا تمہیں کچھ علم نہیں۔ (33-7) اور تم اپنی اولاد کو مفلسی کے ڈر سے قتل نہ کرنا۔ ہم انہیں بھی رزق دیتے ہیں اور تمہیں بھی۔ کچھ شک نہیں کہ ان کا قتل کرنا خِطْءً كَبِير ہے۔ (31-17) اور زنا کے قریب بھی نہ جانا کہ وہ فحش کام اور بری راہ ہے۔ (32-17) اور اس نفس کو قتل مت کرو سوائے حق کے جس کو قتل کرنا اللہ نے حرام کیا ہے اور جو مظلومانہ طور پر قتل کیا گیا ہو تو اس کے ولی کو ہم نے اختیار عطا کیا ہے سو چاہیے کہ وہ قتل کے معاملے میں حد سے نہ بڑھے۔ اس لیے کہ اس کی مدد کی گئی ہے۔ (33-17) اور یتیم کے مال کے قریب بھی نہ جانا مگر ایسے طریقے سے کہ جو احسن ہو یہاں تک کہ وہ اپنی جوانی کو پہنچ جائے اور عہد کو پورا کرو کہ عہد کے بارے میں جواب طلبی ہوگی۔ (34-17) اور جب کوئی چیز ناپ کر دینے لگو تو پیمانہ پورا بھرا کرو اور جب تول کر دو تو ترازو سیدھی رکھ کر تولا کرو۔ یہ طریقہ خَيْر والا ہے اور انجام کے لحاظ سے بھی احسن ہے۔ (35-17) اور ایسی بات کے پیچھے نہ لگو کہ جس کا تمہیں علم نہ ہو۔ بیشک کان اور آنکھ اور دل و دماغ ان سب کے بارے میں تم سے جواب طلبی ہوگی۔ (36-17) اور زمین پر اکڑ کر نہ چلو کہ تم نہ تو زمین کو پھاڑ سکتے ہو اور نہ پہاڑوں کی بلندی کو پہنچ سکتے ہو۔ (37-17) یہ سب سَيٍّئُه ہیں جو تمہارے رب کے نزدیک بہت ناپسندیدہ ہیں۔ (38-17) اور زمین میں اس کی اصلاح کے بعد فساد برپا نہ کرنا اور خوف اور امید کے ساتھ اس سے دعائیں مانگتے رہنا۔ بیشک الله کی رحمت مُحْسِنِين کے بہت قریب ہے۔ (56-7) اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! اپنے صدقات خرچ کا احسان جتا کر اور اذیت دے کر برباد نہ کردینا اس شخص کی طرح جو انسانوں کے دکھاوے کے لیے اپنا مال خرچ کرتا ہے اور الله پر اور آخرت کے دن پر ایمان نہیں رکھتا تو اس کی مثال ایسی ہے جیسے ایک چٹان ہو اس پر تھوڑی سی مٹی ہو اور اس پر زور کا مینہ برسے اور اسے صاف چٹان چھوڑ جائے۔ انہیں اپنی کمائی کا کچھ بھی صلہ حاصل نہیں ہوتا اور حق کا انکار کرنے والے لوگوں کو الله ہدایت نہیں دیتا۔ (264-2) اور ان لوگوں کی مثال جو اپنا مال الله کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے اپنے نفس کے پورے ثبات و قرار کے ساتھ خرچ کرتے ہیں ایسی ہے جیسے اونچی جگہ پر ایک باغ ہو اس پر زور کی بارش پڑے تو وہ دگنا پھل لائے اور اگر زور کی بارش نہ بھی پڑے تو ہلکی پھوار ہی کافی ہے اور الله تمہارے عملوں کو دیکھ رہا ہے۔ (265-2) بڑی بابرکت ہے وہ ذات جس کے ہاتھ میں بادشاہی ہے اور وہ ہر چیز پر پوری طرح قادر ہے۔ (1-67) اسی نے موت اور زندگی کو خلق کیا تاکہ تمہاری آزمائش کرے کہ تم میں سے کون أَحْسَن عمل کرتا ہے اور وہ الْعَزِيزُ الْغَفُور ہے۔ (2-67) جو شخص الله کے پاس واپس جانے کی امید رکھتا ہے تو اسے معلوم ہونا چاہیے الله کا مقرر کیا ہوا وقت ضرور آنے والا ہے اور وہ السَّمِيعُ الْعَلِيم ہے۔ (5-29)

ایسے لوگوں کا حال و احوال کیا ہوتا ہے؟

ان کی مثال اس شخص کی سی ہے کہ جس نے روشنی کے لیے آگ جلائی پھر جب آگ نے اس کے گرد و نواح کو روشن کردیا تو الله نے ان کا نور سلب کرلیا اور ان کو اندھیروں میں چھوڑ دیا کہ کچھ نہیں دیکھ پاتے۔ (17-2) یہ بہرے ہیں گونگے ہیں اندھے ہیں لہٰذا سیدھے راستے کی طرف نہ لوٹیں گے۔ (18-2) یا پھر ان کی مثال ایسی ہے جیسے آسمانوں سے زور کی بارش ہو رہی ہے اس کے ساتھ اندھیری گھٹائیں ‘ کڑک اور چمک ہیں بسبب بجلی کی کڑک کے موت کے ڈر سے اپنی انگلیاں اپنے کانوں میں ٹھونسے لیتے ہیں اور الله کافروں کو ہر طرف سے گھیرے میں لیے ہوئے ہے۔ (19-2) قریب ہے کہ یہ بجلی ان کی بصارت اچک لے جائے جب ذرا بجلی چمکی تو اس کی روشنی میں چلنے لگتے ہیں اور جونہی ان پر اندھیرا چھا جاتا ہے تو کھڑے ہو جاتے ہیں حالانکہ اگر الله چاہتا تو ان کی سماعت اور بصارت ہی کو سلب کرلیتا۔ بیشک الله ہر چیز پر پوری طرح قادر ہے۔ (20-2) کیا انسانوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ وہ محض اتنا کہنے پر کہ ہم ایمان لے آئے چھوڑ دیے جائیں گے اور اُن کو آزمایا نہیں جائے گا؟ (2-29) حالانکہ ہم نے ان لوگوں کو بھی آزمایا تھا جو ان سے پہلے تھے سو الله ضرور معلوم کرکے رہے گا جو سچے ہیں اور ضرور معلوم کرکے رہے گا جو جھوٹے ہیں۔ (3-29) اور جو شخص جدوجہد کرتا ہے تو وہ اپنے نفس کے فائدے کے لیے جدوجہد کرتا ہے اور الله تو سارے عالمین کے بارے میں غنی ہے۔(6-29) وہ لوگ جو ایمان لائے اور صالح عمل کرتے رہے ہم ان کے سَيِّئَات کو اُن سے دور کردیں گے اور ان کو أَحْسَن بدلہ دیں گے ان کے عملوں کا جو وہ کرتے رہے۔ (7-29) کیا وہ لوگ جو سَيِّئَات والے عمل کرتے ہیں وہ سمجھے بیٹھے ہیں کہ وہ ہمارے قابو سے نکل جائیں گے؟ وہ بات جو وہ سمجھے بیٹھے ہیں بہت ہی بری ہے۔ (4-29)

ایسے لوگوں کا آخرت میں کیا انجام ہوگا؟

وہ لوگ جنہوں نے ایمان کے بدلے میں کفر خریدا وہ الله کا کچھ بھی نہیں بگاڑ رہے اور ان کے لیے عَذَابٌ أَلِيم ہے۔ (177-3) جو شخص ایمان لانے کے بعد الله کے ساتھ کفر کرے سوائے اس شخص کے جو مجبور کردیا گیا ہو اور اس کا دل ایمان کے ساتھ مطمئن ہو اس کے برعکس جس نے دل کی رضامندی سے کفر کو قبول کرلیا تو ایسے لوگوں پر الله کا غضب ہے اور ان کے لیے عَذَابٌ عَظِيم ہے۔ (106-16)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *