
سید حیدر بخش حیدری فورٹ ولیم کالج کے منشیوں میں شامل تھے۔
تاریخ: 11 ستمبر 2025
اردو زبان کو 1800 عیسوی میں فورٹ ولیم کالج کلکتہ میں وجود میں لایا گیا۔ فورٹ ولیم کالج کے پرنسپل ڈاکٹر گلکرسٹ تھے۔ میر منشی میر امن دھلوی تھے۔ جبکہ سید حیدر بخش حیدری فورٹ ولیم کالج کے منشیوں میں شامل تھے۔
سید حیدر بخش حیدری کی ولادت کے متعلق کچھ وثوق سے نہیں کہا جاسکتا۔ بس اتنا معلوم ھے کہ دھلی میں پیدا ھوئے۔ فورٹ ولیم کالج کے مصنفین میں سے میر منشی میر امن دھلوی کے بعد جس مصنف کو زیادہ شہرت حاصل ھوئی۔ وہ سید حیدر بخش حیدری ھیں۔
دھلی کی بربادی کے زمانے میں سید حیدر بخش حیدری کے والد دھلی سے بنارس چلے گئے۔ فورٹ ولیم کالج کے لیے ھندوستانی منشیوں کا سن کر سید حیدر بخش حیدری ملازمت کے لیے کلکتہ گئے۔ ڈاکٹر گلکرسٹ تک رسائی کے لیے ایک ”قصہ مہر و ماہ“ بھی ساتھ لکھ کر گئے۔ گلکرسٹ نے کہانی کو پسند کیا اور اُن کو کالج میں بطور منشی مقرر کیا۔
سید حیدر بخش حیدری بارہ برس تک کالج سے منسلک رھے۔ 1823 میں بنارس میں انتقال کر گئے۔ فورٹ ولیم کالج کے تمام مصنفین میں سے سب سے زیادہ کتابیں لکھنے والے سید حیدر بخش حیدری ھیں۔ ان کی تصانیف کی تعداد دس کے قریب ھے؛
1۔ قصہ مہر و ماہ
2۔ قصہ لیلیٰ مجنوں
3۔ ھفت پیکر
4۔ تاریخ نادری
5۔ گلزار دانش
6۔ گلدستہ حیدری
7۔ گلشن ھند
8۔ آرائش محفل
9۔ طوطا کہانی
حیدر بخش حیدری کی شہرت کا سبب اُن کی دو کتابیں ”طوطا کہانی“ اور ”آرائش محفل” ھیں۔ یہ دونوں کتابیں داستان کی کتابیں ھیں جو جان گلکرسٹ کی فرمائش پر لکھی گئیں۔
”طوطا کہانی“ جس طرح کے نام سے ظاھر ھے کہ یہ کتاب مختلف کہانیوں کا ایک مجموعہ ھے۔ جس کی سب کہانیاں ایک طوطے کی زبانی بیان کی گئی ھیں۔ اس کتاب میں 35 کہانیاں ھیں۔
”طوطا کہانی“ میں بتایا گیا ھے کہ ایک عورت اپنے شوھر کی عدم موجودگی میں اپنے محبوب سے ملنے جانا چاھتی ھے۔ طوطا ھر روز اس کو ایک کہانی سنانا شروع کر دیتا ھے اور ھر روز باتوں باتوں میں صبح کر دیتا ھے اور وہ اپنے محبوب سے ملنے نہیں جا سکتی حتی کہ اس دوران اس کا شوھر آجاتا ھے۔
Leave a Reply