
بغیر علم کے الله کے بارے میں بحث کرنے والے انسان
انسانوں میں سے کچھ ایسے ہیں جو الله کے بارے میں بغیر علم کے بحث کرتے ہیں حالانکہ نہ انہیں ہدایت ملی ہے اور نہ انکے پاس روشن کتاب ہے۔ (8-22) اکڑائے ہوئے اپنی گردنوں کو تاکہ لوگوں کو الله کے راستے سے گمراہ کریں۔ ایسوں کے لیے دنیا میں رسوائی ہے اور قیامت کے دن ہم انہیں عَذَابَ الْحَرِيق چکھائیں گے۔ (9-22)
ایسے لوگوں میں کونسی خامیاں ہوتی ہیں؟
بہت سے لوگ دوسروں کو بغیر علم کے اپنے نفس کی خواہشات کی بنا پر گمراہ کرتے ہیں۔ بیشک تیرا رب ہی ان حد سے بڑھنے والوں کو خوب جانتا ہے۔ (119-6) بیشک الله نے آدم کو اور نوح کو اور آلِ ابراہیم کو اور آلِ عمران کو اہلِ عالم کے لیے منتخب کرلیا تھا۔ (33-3) نبیوں میں سے یہ وہ لوگ ہیں کہ الله نے ان پر انعام کیا جو آدم کی نسل میں سے تھے اور ان لوگوں میں سے جن کو ہم نے نوح کے ساتھ سوار کیا اور ابراہیم اور اسرائیل کی نسل میں سے اور ان لوگوں میں سے جن کو ہم نے ہدایت دی اور برگزیدہ کیا۔ جب انکے سامنے رحمٰن کی آیات پڑھی جاتی تھیں تو وہ روتے ہوئے سجدے میں گر جاتے تھے۔ (58-19) پھر ان کے بعد ایسے ناخلف لوگ جانشیں ہوئے جنہوں نےصلاۃ کو ضائع کردیا اور نفس کی خواہشات کی پیروی کی سو وہ اپنی گمراہی کے انجام کو پہنچیں گے۔ (59-19) کیا پھر غور کیا ہے تم نے اس شخص کے حال پر جس نے بنا لیا ہے اپنے نفس کی خواہشات کو اپنا معبود اور الله نے علم کے باوجود اس کو گمراہ کردیا ہے اور اسکے کانوں پر اور اسکے دل پر مہر لگا دی ہے اور اسکی آنکھوں پر پردہ ڈال دیا ہے۔ سو کون ہے جو الله کے گمراہ کر دینے کے بعد اسے ہدایت دے؟ کیا تم لوگ کوئی سبق نہیں لیتے؟ (23-45) یہ قیامت کے دن اپنے اعمال کے بوجھ پورے پورے اٹھائیں گے اور ان کے بوجھ میں سے بھی کچھ حصہ اٹھائیں گے جن کو یہ بغیر علم کے گمراہ کرتے ہیں۔ دیکھو تو کتنا برا ہے وہ بوجھ جو یہ اٹھا رہے ہیں۔ (25-16)
ایسے لوگوں کو کیا کرنا چاہیے؟
اگر تم ان لوگوں کی اکثر یت کا کہا مانو گے جو زمین پر آباد ہیں تو وہ تم کو اللہ کی راہ سے گمراہ کردیں گے۔ وہ صرف گمان کی پیروی کرتے ہیں اور وہ صرف قیاس آرائیاں کرنے والے ہیں۔ (116-6) بیشک الله اس کو ہدایت نہیں دیتا جو جھوٹ سے معاملات انجام دے۔ (28-40) یہ قرآن ایسی ہدایت دیتا ہے جو بہت ہی فائدہ والی ہے اور مومنوں کو بشارت دیتا ہے جو صالح عمل کرتے ہیں کہ اُن کے لیے بڑا اجر ہے۔ (9-17) ہم نے اس قرآن کو عربی میں نازل کیا ہے تاکہ تم سمجھ سکو۔ (2-12) اور ہم نے انسانوں کو سمجھانے کے لیے اس قرآن میں سب طرح کی مثالوں میں سے بیان کیا ہے تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں۔ (27-39) اور یہ قرآن ایسا نہیں کہ الله کے سوا کوئی اس کو اپنی طرف سے بنا لائے بلکہ یہ تو اس کی تصدیق ہے جو اس سے پہلے آچکا ہے اور الْكِتَاب کی تفصیل ہے اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ رَّبِّ الْعَالَمِين کی طرف سے ہے۔ (37-10) کہو ! اگر کہیں تمام جِن اور انسان مل کر اس بات کی کوشش کریں کہ اس قرآن کے مثل کوئی چیز لے آئیں تو وہ اس کے مثل نہ لاسکیں گے اگرچہ وہ سب ایک دوسرے کے مددگار بھی ہوجائیں۔ (88-17) اور ہم نے قرآن میں وہ کچھ نازل کیا ہے جو مومنوں کے لیے شفا ہے اور رحمت ہے اور ظالموں کے لیے سوائے خسارے کے اور کچھ بھی اضافہ نہیں کرتا۔ (82-17) اے بنی آدم ! جب تمہارے پاس رسول آئیں جو تمہیں میں سے ہوں گے تمہیں میری آیات پڑھ کر سنائیں تو جو شخص تقویٰ اختیار کرے گا اور اپنی اصلاح کرلے گا تو ان کے لیے کوئی خوف نہیں ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ (35-7) جس نے توبہ کی اور ایمان لایا اور صالح عمل کیے تو ایسے لوگ جنّت میں داخل ہوں گے اور ان کے ساتھ ذرا ظلم نہ کیا جائے گا۔ (60-19)
ایسے لوگوں کا حال و احوال کیا ہوتا ہے؟
ہم نے اس قرآن میں انسانوں کے لیے طرح طرح کی مثالیں بیان کی ہیں لیکن اکثر انسانوں نے ماننے سے انکار کردیا۔ (89-17) اور کہتے ہیں کہ ہم تمہاری بات نہیں مانیں گے جب تک تم ہمارے لیے زمین سے چشمہ نہ بہا دو۔ (90-17) یا تمہارے پاس کھجوروں اور انگوروں کے باغ ہوں جن کے بیچوں بیچ تم نہریں رواں کردو (91-17) یا تم آسمان کو ہمارے اوپر ٹکڑے ٹکڑے کرکے گرادو جیسا کہ تمہارا دعویٰ ہے یا تم الله کو اور فرشتوں کو ہمارے سامنے لے آؤ۔ (92-17) یا تمہارے لیے سونے کا گھر ہو یا تم آسمان پر چڑھ جاؤ مگر ہم تیرے چڑھنے کو بھی نہ مانیں گے جب تک تم ہم پر ایک کتاب اتار کر نہ لے آؤ جسے ہم خود پڑھیں۔ کہو پاک ہے میرا رب ! کیا میں پیغام پہنچانے والے بشر کے سوا بھی کچھ ہوں؟ (93-17) کیا یہ لوگ قرآن میں غور نہیں کرتے؟ اگر یہ الله کے سوا کسی اور کی طرف سے ہوتا تو یہ اس میں بہت زیادہ اختلاف پاتے۔ (82-4) اور جب ان کے پاس ہدایت آئی تو انسانوں کو ایمان لانے سے منع نہیں کیا سوائے ان کے اس قول نے کہ کیا اللہ نے بشر کو رسول بنا کر بھیجا ہے؟ (94-17) کہو اگر زمین پر فرشتے اطمینان کے ساتھ چل پھر رہے ہوتے تو ہم اُن کے لیے آسمان سے فرشتے کو رسول بنا کر نازل کرتے۔ (95-17) کہو ! میرے اور تمہارے درمیان گواہی کے لیے الله ہی کافی ہے۔ وہ اپنے بندوں کے بارے میں خَبِيرًا بَصِير ہے۔ (96-17) اور جسے الله ہدایت دے سو وہی ہدایت پانے والا ہے اور جسے وہ گمراہ کردے تو تم اس کے لیے سوائے اس کے کوئی مددگار نہ پاؤ گے اور ہم انہیں قیامت کے دن اوندھے منہ اندھا کرکے اور گونگا کرکے اور بہرا کرکے گھیر کر لے آئیں گے اور ان کا ٹھکانہ جَهَنَّم ہوگا۔ جب اس کی آگ بجھنے کو ہوگی تو ہم اس کو اور زیادہ بھڑکا دیں گے۔ (97-17) ہر گز نہ بچا سکیں گے ان کے مال اور نہ ان کی اولاد انہیں الله سے ذرا بھی۔ یہ أَصْحَابُ النَّار ہیں جو اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ (17-58) یہ ان کی سزا ہے اس لیے کہ انہوں نے ہماری آیات سے کفر کیا تھا اور کہتے تھے کہ جب ہم ہڈیاں اور ریزہ ریزہ ہوجائیں گے تو کیا ازسرنو خلق کرکے دوبارہ اٹھائے جائیں گے؟ (98-17) کاش تم دیکھو جب فرشتے کافروں کی جانیں نکالتے ہیں اور ان کے چہروں پر اور کولہوں پر ضربیں لگاتے ہیں اور کہتے جاتے ہیں کہ اب مزہ چکھو عَذَابَ الْحَرِيق کا۔ (50-8) یہ اس وجہ سے ہے جو تم نے اپنے ہاتھوں سے آگے بھیجا تھا اور بیشک الله اپنے بندوں پر ظلم کرنے والا نہیں ہے۔ (51-8)
ایسے لوگوں کا آخرت میں کیا انجام ہوگا؟
جنہوں نے کفر کیا اور ہماری آیات کو اور آخرت کی پیشی کو جھٹلایا۔ وہ لوگ عذاب میں ہمیشہ مبتلا رہیں گے۔ (16-30) یہ دو فریق ہیں جن کے درمیان اپنے رب کے معاملے میں جھگڑا ہے سو وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا ان کے لیے آگ کے لباس تراشے جا چکے ہیں اور ان کے سروں کے اوپر سے کھولتا ہوا پانی ڈالا جائے گا۔ (19-22) اس سے تمام وہ چیزیں جو ان کے پیٹ کے اندر کی ہیں اور کھالیں بھی گل جائیں گی۔ (20-22) اور ان کے لیے لوہے کے ہتھوڑے ہوں گے۔ (21-22) جب بھی وہ اس میں سے نکلنے کا ارادہ کریں گے تو پھر اسی غم میں دھکیل دیے جائیں گے اور کہا جائے گا کہ چکھو مزہ عَذَابَ الْحَرِيق کا۔(22-22) یہ ان اعمال کا بدلہ ہے جو تیرے ہاتھوں نے آگے بھیجے تھے اور یقینا” الله اپنے بندوں پر ظلم کرنے والا نہیں ہے۔ (10-22)
Leave a Reply