
الله کے سوا دوسروں کو الله کا ہمسر بنانے والے انسان
انسانوں میں سے کچھ ایسے ہیں جو الله کے سوا دوسروں کو الله کا ہمسر بنا لیتے ہیں اور ان سے ایسی محبت کرتے ہیں جیسی محبت الله سے ہونی چاہیے۔ جبکہ ایمان والے تو شدت کے ساتھ الله سے ہی محبت کرتے ہیں۔ مگر کاش ! سوجھ جائے ان ظالم لوگوں کو جو بات عذاب کے وقت دیکھیں گے کہ بیشک ساری کی ساری قوت الله ہی کے پاس ہے اور یہ کہ بیشک الله عذاب دینے میں بہت سخت ہے۔ (165-2)
ایسے لوگوں میں کونسی خامیاں ہوتی ہیں؟
انہوں نے الله کے کچھ ہمسر گھڑ رکھے ہیں تاکہ وہ اللہ کے راستے سے بھٹکا دیں۔ کہہ دو کہ عیش کرلو کیونکہ آخرکار تمہارا انجام آگ ہی ہے۔ (30-14) یہ لوگ الله کی بڑی سخت سخت قسمیں کھاتے ہیں کہ اگر ان کے پاس کوئی نشانی آئے تو وہ اس پر ضرور ایمان لے آئیں گے۔ کہہ دو کہ نشانیاں تو سب الله ہی کے اختیار میں ہیں اور تمہیں کیا معلوم ہے کہ وہ نشانیاں اگر آبھی جائیں تب بھی یہ ایمان نہ لائیں۔ (109-6) اور ہم ان کے دلوں کو اور نگاہوں کو پھیر دیں اسی طرح جیسے یہ ان نشانیوں پر پہلی مرتبہ ایمان نہیں لائے تھے اور ہم ان کو چھوڑ دیں کہ اپنی سرکشی میں بھٹکتے رہیں۔ (110-6) اور اگر ہم ان پر فرشتے بھی نازل کر دیتے اور ان سے مردے باتیں کرتے اور ان کے لیے ہر چیز ان کے سامنے جمع کر دیتے تب بھی یہ لوگ ایمان لانے والے نہ تھے مگر یہ کہ چاہتا الله لیکن ان میں اکثر جہالت کی باتیں کرتے ہیں۔ (111-6) یہی ہے انتہا ان لوگوں کے علم کی۔ بیشک تیرا رب ہی ہے جو خوب جانتا ہے اسے جو اس کے راستے سے بھٹک گیا اور وہی خوب جانتا ہے اسے بھی جو سیدھے راستے پر ہے۔ (30-53)
ایسے لوگوں کو کیا کرنا چاہیے؟
جان لو ! خالص عبادت الله ہی کا حق ہے اور وہ لوگ جنہوں نے اس کے سوا دوسرے سرپرست بنا رکھے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم ان کی عبادت اس غرض سے کرتے ہیں تاکہ وہ ہمیں کسی درجہ میں اللہ کے قریب پہنچا دیں۔ بیشک الله ان کے درمیان ان باتوں کا فیصلہ کرے گا جن میں وہ اختلاف کر رہے ہیں۔ بیشک الله اس کو ہدایت نہیں دیتا جو حق کو چھوڑ کر جھوٹ کو اپنائے۔ (3-39) ان سے کہو کیا تم واقعی اس ذات کا انکار کرتے ہو جس نے زمین کو دو دن میں پیدا کیا اور تم اس کے ہمسر ٹھہراتے ہو۔ وہ تو سارے عالمین کا رب ہے۔ (9-41) الله نے خود اس بات کی گواہی دی کہ سوائے اس کے کوئی معبود نہیں ہے اور فرشتوں نے اور أُوْلُواْ الْعِلْم نے بھی اور وہی انصاف کے ساتھ قائم رکھنے والا ہے۔ سوائے اس کے کوئی معبود نہیں ہے اور وہ الْعَزِيزُ الْحَكِيم ہے۔ (18-3) اور اسی کے پاس غیب کی کنجیاں ہیں سوائے اس کے انہیں کوئی نہیں جانتا اور اسے علم ہے جو خشکی میں ہے اور جو سمندر میں ہے اور کوئی پتہ نہیں جھڑتا مگر وہ اس کے علم میں ہے اور زمین کے اندھیروں میں نہ کوئی دانہ اور نہ کوئی ہری اور نہ سوکھی چیز ہے مگر كِتَابٍ مُّبِين میں ہے۔ (59-6) اور وہی ہے جو رات کو تمہاری جان نکال لیتا ہے اور جانتا ہے وہ کام جو دن میں تم کرتے ہو پھر تمہیں دن میں اٹھا کھڑا کرتا ہے تاکہ زندگی کی معین مدت پوری ہو۔ پھر تمہیں اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے پھر وہ تمہیں بتادے گا جو عمل تم کرتے ہو۔ (60-6) اور وہ اپنے بندوں پر پوری طاقت رکھتا ہے اور تم پر نگرانی کرنے والے بھیجتا ہے۔ یہاں تک کہ جب تم میں سے کسی کی موت آجاتی ہے تو ہمارے فرشتے اس کی جان نکال لیتے ہیں اور وہ کسی طرح کی کوتاہی نہیں کرتے۔ (61-6) پھر سب لوگ الله کے پاس واپس بلائے جائیں گے جو ان کا حقیقی مالک ہے۔ خبردار ہوجاؤ ! فیصلے کے سارے اختیارات اسی کو حاصل ہیں اور وہ حساب لینے میں بہت تیز ہے۔ (62-6) کہو ! زمین میں سیر کرو پھر دیکھو کہ ان لوگوں کا کیا انجام ہوا جو لوگ تم سے پہلے تھے۔ ان میں سے اکثر مشرک ہی تھے۔ (42-30) کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جنہوں نے الله کی نعمتوں کو کفر سے بدل ڈالا اور اپنی قوم کو تباہی کے گھر میں لا اتارا (28-14) جَهَنَّم میں۔ وہ اس میں جھلسے جائیں گے اور وہ بدترین ٹھکانہ ہے۔ (29-14)
ایسے لوگوں کا حال و احوال کیا ہوتا ہے؟
کیا یہ کافر لوگ خیال کرتے ہیں کہ وہ میرے بندوں کو میرے سوا اپنا کارساز بنالیں گے؟ یقینا” ہم نے جَهَنَّم کو کافروں کے لیے سامانِ ضیافت بنا رکھا ہے۔ (102-18) یہ وہ لوگ ہیں کہ الله نے ان کے دلوں پر اور کانوں پر اور آنکھوں پر مہر لگادی ہے اور یہی لوگ ہیں جو غفلت میں ڈوبے ہوئے ہیں۔(108-16) لازما” یہی لوگ آخرت میں خسارے میں رہنے والے ہیں۔ (109-16) بلکہ یہ لوگ جو ظالم ہیں علم کے بغیر اپنے نفس کی خواہشات کی پیروی کر رہے ہیں سو اس کو کون ہدایت دے جسے الله نے گمراہ کردیا ہو اور ان کا کوئی مددگار بھی نہیں ہوسکتا۔ (29-30) پھر کیا حال ہوگا اس وقت جب فرشتے انکے مونہوں پر اور پیٹھوں پر مارتے ہوئے انکی جان نکالیں گے؟(27-47) یہ اس لیے ہوگا کہ انہوں نے اس کی پیروی کی ہے جو اللہ کو ناراض کرنے والا ہے اور انہوں نے اس کی رضا کا راستہ ناپسند کیا ہے۔ سو اللہ نے ان کے سب اعمال ضائع کردیے۔ (28-47) تم اس کی پیروی کیے جاؤ جو تم پر تمہارے رب کی طرف سے وحی کیا ہے سوائے اس کے کوئی معبود نہیں ہے اور مشرکوں سے کنارہ کرلو۔(106-6) اگر الله چاہتا تو یہ لوگ شرک نہ کرتے اور ہم نے تجھے ان پر نگہبان مقرر نہیں کیا اور نہ تم ان کے وکیل ہو۔ (107-6) اور جن لوگوں کو یہ الله کے سوا پکارتے ہیں انکی برائی نہ کرنا کہ یہ لوگ اپنی جہالت کی وجہ سے حد سے آگے بڑھ کر الله کی برائی کرنے لگیں۔ اس طرح ہم نے ہر ایک فرقے کے لیے ان کے اعمال کو خوشنما بنا دیا ہے۔ پھر ان سب کو اپنے رب کی طرف لوٹ کر جانا ہے تب وہ ان کو بتائے گا جو عمل وہ کیا کرتے تھے۔ (108-6)
ایسے لوگوں کا آخرت میں کیا انجام ہوگا؟
اللہ انہیں قیامت کے دن بھی ذلیل و خوار کرے گا اور کہے گا کہ میرے وہ شریک کہاں ہیں جن کے بارے میں تم جھگڑے کیا کرتے تھے؟ (27-16) اور بیشک تم ہمارے سامنے تن تنہا حاضر ہوگئے جیسے کہ ہم نے تم کو پہلی دفعہ پیدا کیا اور ہم نے تم کو جو کچھ دیا تھا تم اپنی پیٹھ پیچھے چھوڑ آئے اور ہم تمہارے ساتھ تمہارے سفارشی بھی نہیں دیکھتے جن کے متعلق تم زعم کرتے تھے کہ وہ تمہارے کام بنانے میں شریک ہیں۔ بیشک تمہارے آپس کے سب تعلقات منقطع ہوگئے اور تم سے وہ سب گم ہوگئے جن کا تم زعم کرتے تھے۔ (94-6) اور وہ لوگ جنہوں نے شرک کیا تھا جب اپنے ٹھہرائے ہوئے شریکوں کو دیکھیں گے تو کہیں گے کہ اے ہمارے رب ! یہی ہیں ہمارے وہ شرکاء جنہیں ہم تجھے چھوڑ کر پکارتے تھے تو وہ انہیں جواب دیں گے یقینا” تم بڑے جھوٹے ہو۔ (86-16) جب وہ جن کی پیروی کی گئی تھی بیزاری کا اظہار کریں گے ان سے جنہوں نے پیروی کی تھی اور عذاب کو دیکھ رہے ہوں گے اور ان کے تمام ذرائع اور وسائل منقطع ہو چکے ہوں گے۔(166-2) اور وہ جنہوں نے پیروی کی تھی کہیں گے کاش کہ ہوتا ہمارے لیے ایک موقع پھر سے دنیا میں جانے کا تو ہم بھی ان سے اسی طرح بیزاری کا اظہار کرتے جیسے انہوں نے ہم سے بیزاری ظاہر کی ہے۔ الله اس طرح ان کے اعمال کو ان کے لیے حسرت و پشیمانی بنا دکھائے گا اور وہ آگ سے ہرگز نہیں نکل سکیں گے۔ (167-2) اور کاش تم وہ سماں دیکھو جب ظالم لوگ اپنے رب کے سامنے کھڑے کیے جائیں گے۔ وہ ایک دوسرے پر الزام ڈال رہے ہوں گے۔ وہ لوگ جو کمزور سمجھے جاتے تھے ان لوگوں سے کہیں گے جو بڑے بنے ہوئے تھے کہ اگر تم نہ ہوتے تو ہم ضرور مومن ہوجاتے۔ (31-34) اور وہ لوگ جو بڑے بنے ہوئے تھے ان سے کہیں گے جو کمزور سمجھے جاتے تھے کہ کیا ہم نے زبردستی تم کو ہدایت سے روکا تھا اس کے بعد کہ وہ تمہارے پاس آگئی تھی؟ نہیں بلکہ تم ہی مجرم تھے۔ (32-34) اور وہ لوگ جو کمزور سمجھے جاتے تھے ان لوگوں سے کہیں گے جو بڑے بنے ہوئے تھے کہ نہیں بلکہ یہ تمہاری شب و روز کی سازشیں تھیں جب تم ہم سے کہتے تھے کہ ہم الله سے کفر کریں اور اس کا ہمسر ٹھہرائیں۔ اور جب وہ عذاب کو دیکھیں گے تو دل میں پچھتائیں گے اور جنہوں نے کفر کیا ہم ان لوگوں کی گردنوں میں طوق ڈال دیں گے۔ نہیں بدلا دیا جائے گا انہیں مگر اسی کا جو عمل وہ کرتے رہے۔ (33-34) اس دن بادشاہی حقیقتا” رحمٰن کی ہوگی اور وہ دن کافروں پر بہت سخت ہوگا۔ (26-25) اور جس دن ظالم اپنے ہاتھ چبائے گا اور کہے گا کہ کاش میں رسول کے ساتھ راہ پر لگ جاتا۔ (27-25) ہائے میری بدبختی کاش میں نے فلاں شخص کو دوست نہ بنایا ہوتا۔ (28-25) یقینا” اس نے مجھے نصیحت سے بہکا دیا اس کے بعد بھی کہ وہ میرے پاس آگئی تھی اور شیطان انسان کو ذلیل کرنے والا ہے۔ (29-25)
Leave a Reply