Masood InsightMasood Insight

اے ہمارے رب ! ہمیں دنیا ہی میں دے دے کہنے والے انسان

اے ہمارے رب ! ہمیں دنیا ہی میں دے دے کہنے والے انسان

مُؤَلِّف : ڈاکٹر مسعود طارق
انسانوں میں سے کچھ ایسے ہیں جو کہتے ہیں اے ہمارے رب ! ہمیں دنیا ہی میں دے دے اور ایسے شخص کے لیے آخرت میں کوئی حصہ نہیں۔ (200-2)
ایسے لوگوں میں کونسی خامیاں ہوتی ہیں؟
یہ لوگ دنیا کی زندگی کا صرف ظاہری پہلو جانتے ہیں اور آخرت سے بالکل ہی غافل ہیں۔ (7-30) یقینا” یہ لوگ جلد حاصل ہو جانے والی دنیا سے محبت کرتے ہیں اور اپنے پیچھے ایک بھاری دن کو نظر انداز کیے دے رہے ہیں۔ (27-76) جو شخص دنیا کے فائدے کا ارادہ رکھتا ہو تو الله کے پاس تو دنیا کا فائدہ بھی ہے اور آخرت کا فائدہ بھی ہے اور الله سَمِيعًا بَصِير بھی ہے۔ (134-4) جو کوئی دنیا کی زندگی اور اس کی زینت کا ارادہ رکھتا ہے تو ہم ان کو ان کے اعمال کا اسی دنیا میں پورا پورا بدلہ دیتے ہیں اور ان کے ساتھ اس میں ذرا بھی کمی نہیں کی جاتی۔ (15-11) ہم نے ہی ان کے درمیان ان کی معیشت دنیا کی زندگی میں تقسیم کی ہے اور ان میں سے بعض کے بعض پر درجے بلند کیے ہیں تاکہ ان میں سے بعض بنائیں بعض کو اپنا خدمت گار اور تیرے رب کی رحمت خَيْر والی ہے اس سے جو یہ جمع کرتے ہیں۔ (32-43) یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے آخرت کے بدلے دنیا کی زندگی خرید لی ہے۔ لہٰذا نہ تو ان کے عذاب میں کمی کی جائے گی اور نہ ان کو کوئی مدد ملے گی۔ (86-2) یہ اس لیے کہ انہوں نے دنیا کی زندگی کو آخرت کے مقابلے میں پسند کرلیا اور یقینا” الله کافر لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔ (107-16)
ایسے لوگوں کو کیا کرنا چاہیے؟
ان سے کہو کیا ہم تمہیں خبر دیں جو اپنے عملوں کے لحاظ سے سب سے زیادہ خسارے میں ہیں؟(103-18) وہ کہ ضائع ہو گئی جن کی جدوجہد دنیا کی زندگی کے کاموں میں اور وہ سمجھتے رہے کہ وہ اچھے کام کر رہے ہیں۔ (104-18) یقینا” وہ لوگ جو ہم سے ملنے کی امید نہیں رکھتے اور دنیا کی زندگی پر راضی ہو گئے ہیں اور اسی پر مطمئن ہیں اور وہ لوگ جو ہماری آیات سے غافل ہیں۔ (7-10) کیا اُنہوں نے کبھی اپنے نفسوں پر غور و فکر نہیں کیا کہ الله نے آسمانوں کو اور زمین کو اور جو کچھ ان کے درمیان ہے حق کے ساتھ اور ایک مقرر وقت تک کے لیے پیدا کیا ہے اور واقعہ یہ ہے کہ انسانوں میں سے اکثر لوگ اپنے رب کے سامنے پیش ہونے کے قائل ہی نہیں ہیں۔ (8-30) جس شخص کا ارادہ دنیا کے فائدے کا ہے تو ہم یہیں اسے جلدی دے دیتے ہیں جو ہم چاہتے ہیں اور جس کے لیے ارادہ کرتے ہیں پھر ہم نے اس کے لیے جَهَنَّم ٹھہرا رکھی ہے۔ وہ اس میں راندہء درگاہ ہوکر برے حال سے داخل ہوگا۔ (18-17) اور جو کوئی آخرت کا ارادہ رکھتا ہو اور اس کے لیے کوشش کرے جو کوشش ضروری ہے اور وہ مومن بھی ہو پس یہ لوگ ہیں کہ ان کی کوشش مقبول ہے۔ (19-17)
ایسے لوگوں کا حال و احوال کیا ہوتا ہے؟
ہم نے بہت سے جِن اور انسان جَهَنَّم ہی کے لیے پیدا کیے ہیں۔ ان کے دل تو ہیں مگر ان سے سوچنے سمجھنے کا کام نہیں لیتے اور ان کی آنکھیں تو ہیں مگر ان سے دیکھتے نہیں اور ان کے کان تو ہیں مگر وہ ان سے سنتے نہیں۔ یہ لوگ چارپایوں کی طرح ہیں بلکہ ان سے بھی زیادہ گمراہ ہیں۔ یہی لوگ ہیں جو غفلت میں پڑے ہوئے ہیں۔ (179-7) یہ اس لیے کہ انہوں نے دنیا کی زندگی کو آخرت کے مقابلے میں پسند کرلیا اور یقینا” الله ان لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا جو حق کا انکار کرتے ہیں۔ (107-16) تم کو ان کے مال اور اولاد تعجب میں نہ ڈال دیں۔ دراصل الله کا ارادہ ہے کہ ان چیزوں سے ان کو دنیا کی زندگی میں عذاب دے اور ان کی جان ایسی حالت میں نکلے کہ وہ کافر ہی ہوں۔ (55-9) اور اگر یہ نہ ہوتا کہ سب لوگ ایک ہی امت ہوجائیں گے تو ہم رحمٰن کے ساتھ کفر کرنے والوں کے لیے بنا دیتے ان کے گھروں کی چھتیں چاندی کی اور سیڑھیاں بھی جن پر وہ چڑھتے ہیں۔(33-43) اور ان کے گھروں کے دروازے اور وہ تخت بھی جن پر یہ تکیہ لگا کر بیٹھتے ہیں (34-43) سونے کے اور یہ سب کچھ صرف دنیا کی زندگی کا ساز و سامان ہے اور آخرت تیرے رب کے ہاں متقیوں کے لیے ہے۔ (35-43) یہی وہ لوگ ہیں کہ ان کے لیے آخرت میں سوائے آگ کے کچھ نہیں اور برباد ہوگیا وہ جو انہوں نے اس دنیا میں بنایا تھا اور ضائع ہو گیا وہ سب جو وہ کیا کرتے تھے۔ (16-11) بیشک وہ لوگ جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے انکے لیے ہم نے انکے اعمال خوش نما بنا دیئے ہیں۔ اسی لیے وہ بھٹکتے پھرتے ہیں۔ (4-27) یہی وہ لوگ ہیں جن کے لیے سُوءُ الْعَذَاب ہے اور یہی آخرت میں بھی خسارے میں رہنے والے ہوں گے۔ (5-27) یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے رب کی آیات اور اس کے سامنے جانے سے انکار کیا تو ان کے اعمال ضائع ہوگئے چنانچہ ہم قیامت کے دن ان کے اعمال کو کوئی وزن نہ دیں گے۔ (105-18) ان کو دنیا کی زندگی میں بھی عذاب ہے اور آخرت کا عذاب تو بہت زیادہ سخت ہوگا اور ان کو الله سے بچانے والا کوئی بھی نہیں ہوگا۔ (34-13)
ایسے لوگوں کا آخرت میں کیا انجام ہوگا؟
یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے آخرت کے بدلے دنیا کی زندگی خریدی لی ہے۔ لہٰذا نہ تو ان کے عذاب میں کمی کی جائے گی اور نہ ان کو کوئی مدد ملے گی۔ (86-2) یہی وہ لوگ ہیں کہ ٹھکانہ ان کا دوزخ ہے ان اعمال کے بدلہ میں جو وہ کماتے رہے۔ (8-10)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *