
جس پر اپنے آباؤ اجداد کو پایا اس کی پیروی کرنے والے انسان
انسانوں میں سے کچھ ایسے ہیں جو الله کے بارے میں بغیر علم کے اور بغیر ہدایت کے اور بغیر روشنی دکھانے والی کتاب کے بحث کرتے ہیں۔ (20-31) اور جب اُن سے کہا جاتا ہے کہ اس کی پیروی کرو جو اللہ نے نازل کیا ہے تو وہ کہتے ہیں کہ نہیں بلکہ ہم اس کی پیروی کریں گے جس پر ہم نے اپنے آباؤ اجداد کو پایا۔ کیا پھر بھی اگر شیطان انہیں عَذَابِ السَّعِير کی طرف بلا رہا ہو؟ (21-31)
ایسے لوگوں میں کونسی خامیاں ہوتی ہیں؟
جو بھی رحمٰن کے ذکر سے غفلت برتتا ہے تو ہم اس پر شیطان مسلط کر دیتے ہیں پھر وہی اس کے ساتھی ہوتے ہیں۔ (36-43) اور یہ ان کو راہِ راست سے روکتے رہتے ہیں جبکہ وہ سمجھتے ہیں کہ ہم ٹھیک راستے پر ہیں۔ (37-43) ان میں سے اکثر صرف گمان کی پیروی کرتے ہیں۔ جبکہ گمان حق کی جگہ ذرا بھی کام نہیں دے سکتا۔ بیشک اللہ کو علم ہے جو فعل یہ کرتے ہیں۔ (36-10) جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اس کی پیروی کرو جو اللہ نے نازل کیا ہے تو کہتے ہیں نہیں بلکہ ہم تو اس کی پیروی کریں گے جس پر ہم نے اپنے آباؤ اجداد کو پایا۔ کیا پھر بھی کہ ان کے آباؤ اجداد ایسے ہوں جو نہ کچھ سمجھتے ہوں اور نہ سیدھے راستے پر ہوں؟ (170-2) بھلا وہ شخص جو اپنے رب کی صاف اور صریح ہدایت پر ہو ان کی طرح ہو سکتا ہے جن کے لیے ان کے برے عمل خوشنما بنا دیے گئے ہوں اور وہ اپنی خواہشات کی پیروی کر رہے ہوں؟ (14-47) بلاشبہ گمان حق کی جگہ ذرا بھی کام نہیں دے سکتا۔ (28-53)
ایسے لوگوں کو کیا کرنا چاہیے؟
اے انسانوں ! اپنے رب سے ڈرو اور اُس دن کا خوف کرو جب نہ کوئی باپ اپنے بیٹے کے کام آئے گا اور نہ اولاد اپنے باپ کے ذرا بھی کام آئے گی۔ بیشک الله کا وعدہ سچا ہے سو دنیا کی زندگی تمہیں دھوکے میں نہ ڈالے اور نہ الله کے بارے میں دھوکے میں ڈالنے والا تمہیں دھوکے میں ڈالے۔ (33-31) اور اپنے رب کی مغفرت کی طرف لپکو اور جنّت کی طرف بھی جس کا عرض آسمان اور زمین کے برابر ہے اور جو متقیوں کے لیے تیار کی گئی ہے۔ (133-3) اور یہ برکت والی کتاب ہم نے نازل کی ہے سو اس کی پیروی کرو اور تقویٰ اختیار کرو تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔ (155-6) اور جو دیکھ بھال کرے گا الله کی اور اس کے رسول کی اور ان کی جو ایمان لائے تو وہ بھی حِزْبَ اللّه میں سے ہے اور وہ غلبہ پانے والی ہے۔ (56-5) اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! اسلام میں پورے پورے داخل ہوجاؤ اور شیطان کے قدموں کے نشانوں کی پیروی نہ کرو۔ بیشک وہ تو تمہارا کھلا دشمن ہے۔ (208-2) وہ تو بس تم کو برائی کا اور فحاشی کا حکم دیتا ہے اور اس بات کا کہ تم الله کے بارے میں وہ باتیں کہو جن کے متعلق تمہیں علم نہیں۔ (169-2) لیکن الله گواہی دیتا ہے کہ جو کچھ اس نے تمہاری طرف نازل کیا ہے اس کو اپنے علم سے نازل کیا ہے اور فرشتے بھی گواہ ہیں۔ حالانکہ گواہ تو الله ہی کافی ہے۔ (166-4) پیروی کرو اس کی جو تم پر تمہارے رب کی طرف سے نازل کیا گیا ہے اور نہ پیروی کرو اپنے رب کو چھوڑ کر دوسرے سرپرستوں کی۔ مگر تم میں سے کم لوگ ہی نصیحت قبول کرتے ہیں۔ (3-7) جس نے توبہ کی اور صالح عمل کیے تو بیشک وہ الله کی طرف رجوع کرتا ہے جیسا کہ رجوع کرنا چاہیے۔ (71-25)
ایسے لوگوں کا حال و احوال کیا ہوتا ہے؟
یہ بدوی لوگ کہتے ہیں کہ ہم ایمان لے آئے۔ ان سے کہو کہ تم ایمان نہیں لائے بلکہ تم کہو کہ ہم اسلام میں داخل ہوئے ہیں اور ایمان ابھی تمہارے دلوں میں داخل نہیں ہوا ہے اور اگر تم الله کی اور اس کے رسول کی اطاعت کرو گے تو وہ تمہارے اعمال میں سے کچھ بھی کم نہیں کرے گا۔ بیشک الله غَفُورٌ رَّحِيم ہے۔ (14-49) ان سے کہو کہ؛ کیا تم الله کو اپنی دین داری جتلاتے ہو؟ حالانکہ الله کو علم ہے جو آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے اور الله تو ہر چیز کا علم رکھتا ہے۔ (16-49) یہ لوگ تم پر احسان جتاتے ہیں کہ یہ اسلام میں داخل ہوئے ہیں۔ ان سے کہو کہ؛ تم اپنے اسلام میں داخل ہونے کا مجھ پر احسان نہ جتاؤ۔ بلکہ الله تم پر احسان رکھتا ہے کہ اس نے تمہیں ایمان کی طرف ہدایت دی ہے اگر تم صادق لوگوں میں سے ہو۔ (17-49) الْمُؤْمِنُون تو وہ ہیں جو الله پر اور اس کے رسول پر ایمان لائے پھر انہوں نے کوئی شک نہ کیا اور اپنے مال سے اور اپنے نفس سے الله کی راہ میں جدوجہد کی۔ یہی صادق لوگوں میں سے ہیں۔ (15-49)
ایسے لوگوں کا آخرت میں کیا انجام ہوگا؟
جو حَسَنَة ساتھ لے کر آئیں گے تو ان کے لیے اس سے بہتر خَيْر ہے اور یہ لوگ اس دن کی گھبراہٹ سے محفوظ ہوں گے (89-27) اور جو سَيِّئَة ساتھ لے کر آئیں گے تو وہ اوندھے منہ دوزخ میں ڈالے جائیں گے۔ کہا جائے گا کہ تم کو ویسا ہی بدلہ مل رہا ہے جس طرح کے عمل تم کرتے تھے۔ (90-27)
Leave a Reply