
کنارے پر رہ کر الله کی عبادت کرنے والے انسان
انسانوں میں سے کچھ ایسے ہیں جو کنارے پر رہ کر الله کی عبادت کرتے ہیں۔ پھر اگر ان کو کوئی خَيْرٌ پہنچے تو اس کی وجہ سے مطمئن ہوجاتے ہیں اور اگر انہیں کوئی فِتْنَة پہنچتا ہے تو اپنے منہ کے بل الٹا پھر جاتے ہیں۔ انہوں نے دنیا کا اور آخرت کا خسارہ کرلیا۔ یہی الْخُسْرَانُ الْمُبِين ہے۔ (11-22)
ایسے لوگوں میں کونسی خامیاں ہوتی ہیں؟
انسانوں کے لیے محبت ان کے نفس کی خواہشات کی عورتوں سے اور لڑکوں سے اور بڑے بڑے ڈھیروں سے سونے اور چاندی کے اور منتخب گھوڑوں سے اور مال مویشی سے اور کھیت کھلیان سے بڑی خوشنما بنادی گئی ہے۔ یہ سب دنیا کی زندگی کا ساز و سامان ہے اور الله کے پاس بہت اچھا ٹھکانا ہے۔ (14-3) خوب جان لو کہ دنیا کی زندگی محض کھیل اور تماشا اور بناؤ سنگھار اور ایک دوسرے پر فخر جتانا اور مال و اولاد میں ایک دوسرے سے بڑھ جانے کی کوشش کرنا ہے۔ (20-57) اور کسی نفس میں طاقت نہیں کہ الله کی اجازت کے بغیر مر جائے وقت معین لکھا ہوا ہے اور جو شخص دنیا کی کھیتی کا اردہ رکھتا ہو تو اس کو ہم دنیا میں سے دیتے ہیں اور جو شخص آخرت کی کھیتی کا اردہ رکھتا ہو تو اس کو ہم آخرت میں سے دیتے ہیں اور ہم اپنے شکر گزار بندوں کو بہت اچھا صلہ دیں گے۔ (145-3) تم لوگ ارادہ رکھتے ہو دنیا کے فائدے کا اور الله ارادہ رکھتا ہے آخرت کا اور الله عَزِيزٌ حَكِيم ہے۔ (67-8) اور وہی تو ہے جس نے تم کو زمین کا خلیفہ بنایا اور تم میں سےایک کو دوسرے پر درجات میں بلند کیا تاکہ تم کو اس میں سے آزمائے جو اس نے تم کو عطا کیا۔ تمہارا رب سزا دینے میں بہت تیز ہے اور وہ غَفُورٌ رَّحِيم بھی ہے۔ (165-6) کیا تم نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ یونہی چھوڑ دیے جاؤ گے حالانکہ الله نے ابھی ان لوگوں کو معلوم نہیں کیا جنہوں نے تم میں سے جدوجہد کی اور الله کے سوا اور اس کے رسول کے سوا اور مومنوں کے سوا اپنا جگری دوست نہیں بنایا اور الله کو خبر ہے جو عمل تم کرتے ہو۔ (16-9) واقعہ یہ ہے کہ ہم نے جو چیزیں زمین پر ہیں ان کو اس کے لیے زینت بنایا ہے تاکہ ہم لوگوں کو آزمائیں کہ ان میں سے کون احْسَن عمل کرتا ہے۔ (7-18) اور تم کو ہم ضرور آزمائش میں ڈالیں گے تاکہ ہم ان لوگوں کو معلوم کرلیں جو تم میں سے جدوجہد کرنے والے ہیں اور صبر کرنے والے ہیں اور تمہارے حالات کو جانچ لیں۔ (31-47) اور نہیں ہے یہ دنیا کی زندگی مگر کھیل اور تماشہ اور یقینا” آخرت کا گھر ہی حقیقی زندگی ہے۔ کاش ! یہ لوگ جانتے۔ (64-29)
ایسے لوگوں کو کیا کرنا چاہیے؟
اللہ ہی مالک ہے ہر اس چیز کا جو آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے تاکہ ان لوگوں کو جزا دے ان کے اعمال کی جنہوں نے برے کام کیے اور ان لوگوں کو مزید أحْسَن بدلہ دے جنہوں نے احسن کام کیے۔ (31-53) شیطان تمہیں مفلسی سے ڈراتا ہے اور فحاشی کے کاموں کی ترغیب دیتا ہے مگر الله تم سے اپنی مغفرت اور فضل کا وعدہ کرتا ہے اور الله وَاسِعٌ عَلِيم ہے۔ (268-2) اطاعت کرو الله کی اور اس کے رسول کی تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔ (132-3) سو جہاں تک تمہارے بس میں ہو الله سے ڈرتے رہو اور سنو اور اطاعت کرو اور خرچ کرو یہ تمہارے نفس کے لیے خَيْر والا ہے اور جو شخص شُحَّ نَفْس سے بچایا گیا تو وہی فلاح پانے والوں میں سے ہے۔ (16-64) الله کی عبادت کرو اور اس کا کسی کو بھی شریک نہ بناؤ اور والدین کے ساتھ اور میری قربت والے لوگوں اور یتیموں اور مسکینوں اور قربت والے ہمسائیوں اور اجنبی ہمسائیوں اور پاس بیٹھنے والوں اور مسافروں اور اپنے ماتحتوں کے ساتھ حسنِ سلوک کرو۔ بے شک الله ان لوگوں کو پسند نہیں کرتا جو خود پسند اور فخر جتانے والے ہوں۔ (36-4) جو خود بھی بخل کرتے ہیں اور لوگوں کو بھی بخل کرنے کی ترغیب دیتے ہیں اور اسے چھپاتے ہیں جو الله نے اپنے فضل سے ان کو عطا کیا ہے۔ ہم نے ایسے کافروں کے لیے عَذَابًا مُّهِين تیار کر رکھا ہے۔ (37-4) اور ان کے لیے بھی جو اپنا مال لوگوں کو دکھانے کی خاطر خرچ کرتے ہیں اور الله پر اور آخرت کے دن پر ایمان نہیں رکھتے اور جس کا ساتھی شیطان ہوگیا تو وہ بہت ہی برا ساتھی ہے۔ (38-4) کہہ دو کہ جو کچھ تم خرچ کرو گے والدین کے لیے اور قربت والے لوگوں کے لیے اور یتیموں کے لیے اور مسکینوں کے لیے اور مسافروں کے لیے وہ تمہارے لیے خَيْر کا کام ہے اور جو بھی خَيْر کا کام تم کرو گے تو الله کو اس کا علم ہے۔ (215-2) لیکن صدقات دراصل فقراء اور مساکین اور ان کے لیے کام کرنے والوں اور جن کے دل قابو کرنے ہوں اور گردنوں کے چھڑانے اور قرضداروں کی مدد کرنے اور الله کی راہ میں اور مسافروں کے لیے فرض ہیں اور الله عَلِيمٌ حَكِيم ہے۔ (60-9) اور قربت والے لوگوں کو ان کا حق دو اور مسکینوں کو بھی اور مسافروں کو بھی اور اسراف نہ کرو (26-17) کہ اسراف کرنے والے شیطانوں کے بھائی ہیں اور شیطان اپنے رب سے کفر کرنے والا ہے۔ (27-17) اور چاہیے کہ خوشحال شخص اپنی وسعت کے مطابق خرچ کرے اور جس شخص کو نپا تُلا رزق دیا گیا ہو تو وہ اس میں سے خرچ کرے جتنا الله نے اس کو عطا کیا ہے۔ اللہ کسی نفس پر اس سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا جتنا اس کو عطا کیا ہو۔ الله مشکل کے بعد آسانی کرے گا۔ (7-65) اگر تم الله کو قرضِ حسنہ دو گے تو وہ تمہارے لیے اسے بڑھاتا چلا جائے گا اور تم کو معاف کردے گا اور الله شَكُورٌ حَلِيم ہے۔ (17-64) پوشیدہ اور ظاہر کا جاننے والا الْعَزِيزُ الْحَكِيم ہے۔ (18-64) اگر تم اپنے رب کی رحمت کے انتظار میں ہو جس کی تمہیں امید ہو اور ان کی طرف توجہ نہ کرسکو تو ان سے نرمی کے ساتھ بات کیا کرو۔(28-17) اور نہ اپنا ہاتھ اپنی گردن کے ساتھ باندھ کر رکھو اور نہ اسے بالکل کھلا چھوڑ دو کہ پھر تم ملامت زدہ اور حسرت میں مبتلا ہوکر بیٹھ رہو۔ (29-17)
ایسے لوگوں کا حال و احوال کیا ہوتا ہے؟
ہم انسان کو جب اپنی رحمت کا مزہ چکھاتے ہیں تو اس سے خوش ہوجاتا ہے اور اگر اسے اس کے اپنے ہی کرتوتوں کے نتیجے میں کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو ایسی حالت میں انسان سب احسانوں کو بھول جاتا ہے۔ (48-42) ہم انسان کو جب نعمت دیتے ہیں تو منہ پھیر لیتا ہے اور پہلو پھیر کر چل دیتا ہے اور جب اسے کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو مایوس ہوجاتا ہے۔ (83-17) بلا شبہ انسان کم حوصلہ پیدا کیا گیا ہے۔ (19-70) جب اسے تکلیف پہنچتی ہے تو گھبرا جاتا ہے (20-70) اور جب خوشحالی حاصل ہوتی ہے تو بخیل بن جاتا ہے۔ (21-70) کچھ شک نہیں کہ انسان بڑا ظالم اور بڑا ناشکرا ہے۔ (34-14) بے شک انسان اپنے رب کا احسان ناشناس ہے۔ (6-100) اور بے شک اس حقیقت پر وہ خود گواہ ہے۔ (7-100) اور بے شک وہ مال سے شدید محبت کرنے والا ہے۔ (8-100)
ایسے لوگوں کا آخرت میں کیا انجام ہوگا؟
بے شک الله ذرا برابر بھی ظلم نہیں کرتا اور اگر نیکی ہو تو اس کو دوگنا چوگنا کردیتا ہے اور اپنے پاس سے بھی اجرِ عظیم دیتا ہے۔ (40-4) جو حَسَنَة ساتھ لے کر آئیں گے تو ان کو اس جیسا ہی دس گنا ملے گا اور جو سَيِّئَة ساتھ لے کر آئیں گے تو ان کو ویسا ہی بدلہ ملے گا اور کسی پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔ (160-6) چنانچہ جس نے سرکشی کی (37-79) اور دنیا کی زندگی کو ترجیح دی (38-79) تو اس کا ٹھکانہ جَهَنَّم ہی ہے۔ (39-79) جو شخص آخرت کی کھیتی کا اردہ رکھتا ہو تو ہم اس کے لیے اس کی کھیتی میں اضافہ کریں گے اور جو شخص دنیا کی کھیتی کا اردہ رکھتا ہو تو اس کو ہم دنیا میں سے دیتے ہیں مگر اسکے لیے آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہے۔ (20-42)
Leave a Reply