
الله کی راہ میں انسانوں کے ستانے کو اللہ کے عذاب کی مانند سمجھنے والے انسان
انسانوں میں سے کچھ ایسے ہیں جو کہتے ہیں کہ ہم الله پر ایمان لائے پھر جب انہیں الله کی راہ میں ستایا گیا تو وہ انسانوں کے ستانے کو الله کے عذاب کی مانند سمجھنے لگتے ہیں اور اگر تمہارے رب کی طرف سے مدد آ پہنچتی ہے تو کہتے ہیں کہ ہم تو تمہارے ہی ساتھ تھے۔ کیا اللہ کو پوری طرح ان باتوں کا علم نہیں ہے جو سب دنیا والوں کے سینوں میں ہیں؟ (10-29)
ایسے لوگوں میں کونسی خامیاں ہوتی ہیں؟
اے ایمان والو! تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ جب تم سے کہا گیا کہ نکلو الله کی راہ میں تو تم زمین سے چمٹ کر رہ گئے؟ کیا تم نے آخرت کے مقابلے میں دینا کی زندگی کو پسند کرلیا ہے؟ مگر یہ دنیا کی زندگی کا ساز و سامان تو آخرت کے مقابلے میں بہت ہی کم ہے۔ (38-9) تم اگر نہ نکلو گے تو الله تم کو عذاب دے گا عَذَابٌ أَلِيم اور تمہاری جگہ دوسری غیر قوم کو لے آئے گا اور تم اس کا کچھ بھی نہ بگاڑ سکو گے اور الله ہر چیز پر پوری قدرت رکھتا ہے۔ (39-9) تم اپنے مال کے اور اپنے نفس کے معاملوں میں ضرور آزمائے جاؤ گے اور تم ان لوگوں سے جنہیں تم سے پہلے کتاب دی گئی اور ان لوگوں سے بھی جو مشرک ہیں بہت سی تکلیف دینے والی باتیں ضرور سنو گے اور اگر تم نے صبر کیا اور تقویٰ اختیار کیا تو بیشک یہ بڑی ہمت کے کام ہیں۔(186-3) کہہ دو کہ اگر تمہارے باپ اور تمہارے بیٹے اور تمہارے بھائی اور تمہاری بیویاں اور تمہارے عزیز و اقارب اور وہ مال جو تم نے کمائے ہیں اور وہ تجارت جس کے بارے میں تمہیں ڈر ہے کہ وہ ماند پڑ جائے گی اور وہ مکانات جو تمہیں پسند ہیں تمہیں الله اور اس کے رسول سے اور الله کی راہ میں جدوجہد سے زیادہ محبوب ہیں تو انتظار کرو یہاں تک کہ الله اپنا حکم بھیجے اور الله فاسق لوگوں کو ہدایت نہیں دیا کرتا۔ (24-9) مال اور بیٹے تو دنیا کی زندگی کی زینت ہیں اور باقی رہ جانے والی نیکیاں ہی تیرے رب کے نزدیک ثواب کے لحاظ سے بہتر ہیں اور امید کے لحاظ سے بہتر ہیں۔(46-18) اور نہیں ہے یہ دنیا کی زندگی مگر کھیل اور تماشہ اور وہ آخرت کا گھر ہی بہتر ہے ان لوگوں کے لیے جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں۔ کیا تم سمجھتے نہیں؟ (32-6) یہ جو تمہیں چیزوں میں سے دیا گیا ہے یہ دنیا کی زندگی کا سامان ہے اور جو کچھ الله کے پاس ہے اس میں خَيْر بھی ہے اور قائم رہنے والا بھی ہے ان کے لیے جو ایمان لائے اور اپنے رب پر توکل کرتے ہیں۔(36-42) اور ان کے لیے جو بڑے بڑے گناہوں اور فحش کاموں سے بچتے ہیں اور جب انہیں غصہ آجائے تو وہ معاف کردیتے ہیں۔(37-42) اور ان کے لیے جو اپنے رب کا حکم قبول کرتے ہیں اورصلاۃ قائم کرتے ہیں اور اپنے کام آپس کے مشورے سے کرتے ہیں اور جو رزق ہم نے ان کو دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔ (38-42) اور ان کے لیے کہ جن کے ساتھ حق کے بغیر زیادتی کی جائے تو وہ بدلہ لیتے ہیں۔ (39-42) اور سَيِّئَة کا بدلہ تو اسی کی طرح کی سَيِّئَة ہے لیکن جو معاف کردے اور اصلاح کرے تو اس کا اجر الله کے ذمہ ہے۔ بلاشبہ وہ ظالموں کو پسند نہیں کرتا۔(40-42)
ایسے لوگوں کو کیا کرنا چاہیے؟
اے ایمان والو! اطاعت کرو الله کی اور اطاعت کرو اس کے رسول کی اور اپنے عملوں کو ضائع نہ ہونے دو۔ (33-47) حقیقت یہ ہے کہ تمہارا مال اور تمہاری اولاد تو آزمائش ہے اور الله کے پاس اجرِ عظیم ہے۔ (15-64) اور تم کو ہم ضرور آزمائیں گے کسی قدر خوف سے اور بھوک سے اور مال کے نقصان سے اور نفس کی خواہشوں کے پوارا نہ ہونے سے اور آمدنی کی کمی سے اور صبر کرنے والوں کو خوشخبری دو۔ (155-2) جو لوگ ایمان لائے اور ہجرت کی اور اپنے مال سے اور نفس سے اللہ کی راہ میں جدوجہد کی اور وہ لوگ جنہوں نے رہنے کے لیے جگہ دی اور ان کی مدد کی وہ لوگ آپس میں ایک دوسرے کے رفیق ہیں۔ (72-8) اور وہ لوگ جو کافر ہیں وہ آپس میں ایک دوسرے کے رفیق ہیں۔ اگر تم ہمارے احکام پر عمل نہ کرو گے تو زمین میں فتنہ برپا ہو جائے گا اور فَسَادٌ كَبِير مچے گا۔ (73-8) کیا تم نے حاجیوں کو پانی پلانا اور مسجد حرام کو آباد کرنا اس کے برابر بنا رکھا ہے جو الله پر اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے اور الله کی راہ میں جدوجہد کرتا ہے؟ یہ لوگ الله کے نزدیک برابر نہیں ہیں اور الله ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔ (19-9) مگرصلاۃ گزار (22-70) جو اپنی صلاۃ کی پابندی کرنے والے ہیں۔(23-70) اور وہ جن کے مال میں حصہ مقرر ہے (24-70) سائلین کا اور محروم لوگوں کا۔ (25-70) اور وہ جو روز جزا کو سچ سمجھتے ہیں۔ (26-70) اور وہ جو اپنے رب کے عذاب سے ڈرتے ہیں۔ (27-70) اور وہ جو اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرتے ہیں۔ (29-70) اور وہ جو اپنی امانتوں اور اپنے وعدوں کا پاس کرتے ہیں۔ (32-70) اور وہ جو اپنی شہادتوں پر قائم رہتے ہیں ۔(33-70) اور وہ جو اپنی صلاۃ کی حفاظت کرتے ہیں۔ (34-70) یہ لوگ ہیں جو جنّت میں عزت و اکرام کے ساتھ رہیں گے۔ (35-70) اے ایمان والو! تمہاری بیویوں اور اولاد میں سے بعض تمہارے دشمن ہیں سو تم ان سے خبردار رہو اور اگر معاف کردو اور درگزر کرو اور بخش دو تو بلاشبہ الله غَفُورٌ رَّحِيم ہے۔ (14-64) تمہارا دوست تو بس الله ہے اور اس کا رسول ہے اور وہ لوگ ہیں جو ایمان لائے جوصلاۃ قائم کرتے ہیں اور زکوٰۃ دیتے ہیں اور وہ رَاكِعُون ہیں۔ (55-5) اور وہ لوگ جو ایمان لائے اور جنہوں نے ہجرت کی اور جنہوں نے الله کی راہ میں جدوجہد کی اور وہ لوگ جنہوں نے ان کو پناہ دی اور ان کی مدد کی۔ یہی ہیں جو مومن ہونے کے حق دار ہیں۔ ان کے لیے مَغْفِرَة اور رِزْقٌ كَرِيم ہے۔ (74-8) اور وہ لوگ جو ان کے بعد ایمان لائے اور انہوں نے ہجرت کی اور جنہوں نے تمہارے ساتھ مل کر جدوجہد کی سو وہ بھی تم میں سے ہیں مگر خونی رشتہ دار اللہ کی کتاب کے مطابق آپس میں زیادہ حق دار ہیں۔ بلاشبہ الله کو ہر چیز کا علم ہے۔ (75-8) مومنوں کے لیے ان کے اپنے نفس پر نبی زیادہ حق دار ہے اور اس کی بیویاں اُن کی مائیں ہیں اور کتاب کے مطابق مومنوں اور مہاجروں کی نسبت خونی رشتہ دار آپس میں زیادہ حق دار ہیں سوائے اس کے کہ تم اپنے سرپرستوں کے ساتھ کوئی معروف فعل کرنا چاہو۔ یہ حکم کتاب میں لکھ دیا گیا ہے۔ (6-33)
ایسے لوگوں کا حال و احوال کیا ہوتا ہے؟
ہم انسان کو جب نعمت دیتے ہیں تو منہ پھیر لیتا ہے اور پہلو پھیر کر چل دیتا ہے اور جب اسے کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو پھر وہ لمبی لمبی دعائیں کرنے لگتا ہے۔ (51-41) الله کی اجازت کے بغیر کوئی مصیبت نہیں پہنچتی اور جو شخص الله پر ایمان لاتا ہے تو وہ اس کے دل کو ہدایت دیتا ہے اور الله کو ہر چیز کا علم ہے۔ (11-64) کوئی مصیبت زمین میں اور تمہارے اپنے نفس پر نہیں پڑتی مگر اس سے پہلے کہ ہم اسے پیدا کریں وہ ایک کتاب میں لکھی جاتی ہے۔ بلاشبہ یہ کام الله کے لیے بہت آسان ہے۔ 22-57) یہ اس لیے ہے تاکہ تم کسی نقصان پر غم نہ کھایا کرو اور جو وہ تم کو عطا کرے اس پر اترایا نہ کرو اور الله کسی خود پسند اور فخر جتانے والے کو پسند نہیں کرتا۔(23-57) اور تم کو جو کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو وہ تمہارے اپنے ہاتھوں کی کمائی ہوتی ہے اور وہ بہت سے قصور تو معاف ہی کردیتا ہے۔ (30-42) عصر کی قسم۔(1-103) یقینا” انسان خسارے میں ہے۔ (2-103) سوائے ان لوگوں کے جو ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے اور ایک دوسرے کو حق کی تاکید کرتے رہے اور ایک دوسرے کو صبر کی تاکید کرتے رہے۔ (3-103)
ایسے لوگوں کا آخرت میں کیا انجام ہوگا؟
جس نے اپنے رب کے سامنے پیشی کا خوف رکھا اور اپنے نفس کو خواہشات کی پیروی سے روکا (40-79) تو بیشک اس کا ٹھکانہ جنّت ہی ہے۔ (41-79)
Leave a Reply